ایک غیرشاعرانہ بھدانٹر نامی قصبہ میں ایک ایسی شاعرانہ شخصیت نموپذیر ہوئی جس کی ہر ادا اور ہر لہجہ سے شاعری چھلکی پڑتی ہے ۔جس کے شاعرانہ ذوق میں شاعرانہ حسن جمال اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوتا ہے۔جس کی تحریریں و تقریریں دلکش حسن وجمال کا پیکر ہیں۔جو ادبی دنیا کا جادوگر اور شاعر انہ تابانیوں کی لطافت کا بادشاہ ہے۔جس کی تاروپود بھدانٹر جیسے قصبہ میں ہوئی جس کا شعری ذوق جمال گورکھپور میں ان کے والد کی نگرانی میں ابھرا اور جس کا عروج اعظم گڑھ کی شعری نشستوں میں ہوا۔یہ پرکشش شخصیت پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کی ہے جو بین الاقوامی سطح پر مشاعرہ نظامت کے ایک بے تاج بادشاہ بن کر رونما ہوئے اور اپنے احساس جمال سے عوام وخاص کے دلوں کو مزین کرکے حیات جاوداں اختیار کرگئے۔یہ ایک ایسی شخصیت ہے جس کے رقص شرر کے دریچوں سے جمال چھلکا پڑتا ہے۔ان دریچوں سے تذکرے حسن کی ردا میں لپٹے ہوئے سا منے آتے ہیں اور قاری کو جمالیات سے لطف اندوز کرجاتے ہیں۔ان کی غزلوں اور نظموں کا بھی عالم وہی ہے جو جمالیاتی ہجوم میں گھرا ہوا حزنیہ والمیہ پیرائے میں ماضی وحال سے پیوستہ اپنی جمالیاتی خوبیوں کے ساتھ فکری پہنائیوں میں لپٹا ہواذہنوں کو مترشح کردیتا ہے ۔ان کے یہاں مقفع ومسجع نثری تحریروں کے ساتھ شاعری میں بھی علم بیان وعلم بدیع کی پوری رعنائیاں موجود ہیں جو ان کے کلام کے حسن کو دوبالا کردیتی ہیں۔ان کی فکر میں بھی جمالیاتی پہلو نظر آتے ہیں۔ان کا انداز نظر بھی جمالیاتی لبادے کا محتاج نظر آتا ہے ۔ان کی تحریروں سے قارئین کو ان کے جمالیاتی ذوق کا احساس بخوبی ہوتا ہے جو ان کی فضا و ماحول میں رچی بسی تھی جو اتنا لطف آگیں ہے کہ قارئین اس سے تمام پہلووں سے محظوظ ہوسکتے ہیں۔ جما لیاتی پہلو ہم کسی بھی چیز میں تلاش کرسکتے ہیں چاہے وہ قدرتی مناظر ہوں یا فنون لطیفہ چاہے، وہ مناظرہوشربا ہوں یا دلربا ،چاہے وہ شفق کی خونی لالہ پیمائی ہو یا وہ طلوع ہوتے ہوئے شمس وقمر کی حسین دلربائی، کوئی آرٹ ہو یا کوئی شاعرانہ تحریر چاہے وہ کوئی المیہ مناظر ہوں یا طربیہ ،ہر شخص اپنے اپنے ذوق کے مطابق ایک حسن رکھتا ہے اور اپنی نظر کے مطابق ا س میں حسن و جمال کو تلاش کرسکتا ہے۔اس کی تصدیق پروفیسر شکیل الرحمان کی درج ذیل تحریر سے ہوتی ہے:۔
’’جمالیات کی اصطلاح نے یہ احساس عطا کیا ہے کہ جمالیات فنون لطیفہ کی روح ہے۔جمالیاتی فکرونظر،جمالیاتی نقطہ نگاہ، وجدان وعرفان،جمالیاتی شخصیت وشعور،جمالیاتی موضوع اور طرز ادا کے بغیرکسی فنکا کوئی تصور پیدا نہیں ہوسکتا۔ہر بڑے تخلیقی فن کار کا اپنا جمالیاتی نظام ہوتا ہے جو اپنی جمالیاتی روایات اور اپنے عہد کے جمالیاتی نظام سے گہرا تخلیقی رشتہ رکھتا ہے۔یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ ہر عہد کے جمالیاتی نظام سے کسی تخلیقی فنکار کا اپنا جمالیاتی نظام قائم ہوتا ہے۔حسن کا احساس ہی فن کی تخلیق کا باعث بنتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد جمالیاتی سطحوں پر عرفان عطا کرنااور مسرت سرمدی آشنا کرنا ہے،المیہ یا ٹریجڈی بھی اپنے حسن سے متاثر کرتی ہے بڑا فنکار اپنی جمالیاتی فکرونظر اور اپنے ’وژن ‘ہی سے ٹریجڈی کو حسن کاجلوہ دیتا ہے۔ہر اچھی اور بڑی تخلیق جمالیاتی ہوتی ہے۔معاشرتی،معاشی یا نفسیاتی نہیں ہوتی اگرچہ معاشرتی،معاشی اور نفسیاتی اقدار وعوامل کے تحرک ہی سے کوئی تجربہ تخیل کا جوہر بنتا ہے۔‘‘
(ادب اور جمالیاتـ،پروفیسرشکیلالرحمان)
جمالیاتی سلسلے میں کہا جاسکتا ہے کہ کائنات وافلاک کی صناعی میں حسین وجمیل اور خوبصورت چیزوں کی ظہور پذیری اور ان کی موجودگی سے حظ وانبساط ،حیات وکائنات کے حسن و جمال وآرائش وزیبائش کی اہمیت وافادیت کا علم ہی فلسفہ جمالیات ہے۔اس سے متعلق قدیم وجدید فلاسفوں نے متعدد تعریفیں بیان کی ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔جس سے اندازہ لگانے میں اس بات کی کوئی دشواری نہیں کہ ہندوستان ویونان میں جمالیات کا پیمانہ مختلف ہے۔ہندوستانی جمالیات کا علم سنسکرت ادب کے رس،النکار اور دھونی کے اصولوں سے لگایا جاسکتا ہے۔فرحت وانبساط ،حظ وجلال وجمال اور رس وآنند کی اصطلاحات جمالیات میں بنیادی و مقصدی حیثیت کے حامل ہیں۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جمالیاتی ذوق کے پروردہ ادیب یا تخلیق کا ر محض ان عناصر وعوامل کو مد نظر رکھتے ہیں جس سے وہ لطف اندوز ہوسکیں۔جمالیات فن برائے فن جیسے تصورات کی بنیاد پر وجود میں آئی یعنی جمالیات کلاسیکیت،جبریت اور مادیت کے خلاف وجود میں آیا تھا۔جمالیات کو پرکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ تمام فنون لطیفہ مخلوط ہوچکے تھے اس کا سب سے پہلے استعمال جرمن میں الگژنڈر نے۱۷۳۵میں کیا اور پھر جمالیاتی تحریر کی قدروقیمت کا تعین کرنے کے لیے جمالیاتی تنقید وجود میں آئی۔بقول سلیم شہزاد:۔
’’جمالیاتی تنقید بنیادی طور پر ادب میں لفظی ومعنوی ،موسیقیت اور نغمگی،طرز اظہار میںنظم وترتیب ،داخلی اور خارجی آہنگ اور نظم یا افسانے وغیرہ سے مسرت وانبساط کے حصول کو پیش نظر رکھتی ہے۔‘‘ (hamariweb.com (
مذکورہ پیرائے کے مطابق دیکھا جائے تو متعدد ادیبوں نے جمالیات سے متعلق خامہ فرسائی کی ہے۔مرزا رسوا کے یہاں بھی حسن تناسب وتوازن کا نام ہے۔ یہ محض کسی شئی یا عناصر کے اجزاء میں ہی نہیں ہوتا بلکہ دیکھنے والے کی شخصیت اور عناصر کے درمیان بھی ہوتا ہے۔اس طرح سے حسن ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے جو ایک طرف ان عناصر میں بھی ہوتا ہے جس کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور دوسری طرف شاہد یعنی دیکھنے والے کی نظر میں بھی ہوتا ہے۔اس طرح سے حسن داخلی اور خارجی دونوں شئے ہے۔یعنی حسن تو بذات خود حسین ہے ہی دیکھنے والے کی نظر بھی اسے حسین بناتی ہے۔اس طرح ہ ملک زادہ منظور کی شخصیت اور ان کی تحریر وتقریر کا جائزہ لیں تو ان کے یہاں حسن ہی حسن موجود ہے۔جو کبھی رقص شرر کی چلمن سے ظاہر ہوتا ہے تو کبھی شہر سخن کے دریچوں سے اپنی جلوہ سامانیاں بکھیرتا ہے تو کبھی شہر ستم سے حسن جمال کی ستم گری کرتا ہوا جلوہ ا فروز ہوتا ہے۔
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نہ صرف ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے بلکہ وہ علمی حلقوں میں ایک ناقد ،ادیب افسانہ نگار،ناول نگار،انشائیہ نگار تذکرہ نویس اور ایک شاعر کی حیثیت سے بھی اہم مقام رکھتے تھے اور ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے عالمگیر سطح پر مشہور ومعروف تھے۔مشاعرے کی مقبولیت کا سہرہ ناظم مشاعرہ کے سر ہوتا ہے جو عبارت،اشارت،طرز ادا اور حسن ادا سے سامعین کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے کیوں کہ مشاعرے میں ہرقسم کے لوگ ہوتے ہیں۔اور سبھی کو اپنی حدود میں مقید کرنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے۔اگر ناظم مشاعرہ حاضر جوابی اور جادوئے صوتی رکھتا ہو تو یہ کام آسان ہوجاتا ہے اور یہی خوبی موصوف کے اندر بدرجہ اتم موجود تھی۔وہ اپنی ادبی رعنائی سے مملو پرلطف جملوں سے مشاعرے میں ایک حسین شعری فضا پیدا کردیتے تھے اور اپنی حاضر جوابی سے سامعین کو ساکت ہونے پر مجبور کردیتے تھے۔ایک مشاعرے میں وہ احمد فراز کو اس طرح دعوت سخن دیتے ہیں جبکہ وہ نازنیوں کے مابین گھرے ہوئے تھے:۔
ــ’’میں جناباحمدفرازسےدرخواست کرتاہوں کہ وہ اب کوئےیارسےنکل کرفرازدارتک آجائیں۔‘‘
اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی ادبی چاشنی سے لبریز ادائے تکلمی میں ادبیت بھی تھی اور حس جمالیات بھی۔لوگوں کے اذہان میں یہ سوال ابھر سکتا ہے کہ کیا صرف ملک زادہ منظور احمد کے یہاں ہی جمالیاتی حسن کا وجود ہے؟ایسا بالکل بھی نہیں ہے ہر بڑے فنکار کے یہاں جمالیاتی حسن پایا جاتا ہے مگر کسی کسی کے یہاں جمالیاتی حسن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔کسی کسی کے یہاں ادا میں بھی حسن وجمال ہوتا ہے اس کا ذوق اور حس بھی جمالیات سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اس کے طرز تکلم میں بھی حسن کی جلوہ آرائیاں نظر آجاتی ہیں ۔یہ تمام چیزیں ملک زادہ منظور کے یہاں موجود ہیں جس سے قاری محظوظ تو ہوتا ہی ہے سامعین بھی جمالیات سمعیات سے محظوظ ہوئے بنا نہیں رہ سکتے۔غرض یہ کہ ان کی طرز تحریر ،طرز ادا اور طرز تکلم سبھی جمالیات سے لبریز ہیں ۔شہر سخن میں ایک جگہ شاہجہاں بانو یاد کا تعارف کچھ اس انداز دلربائی سے کرتے ہیں:۔
’’غزل اگر غزل سنائے،ساز اگر ساز بجائے ،حسن اگر آئینہ دیکھے توخواہ مخواہ دماغ پر ایک تاثرچھاجاتا ہے۔یہی حال ان کا بھی ہے،وہ ان کی گل پیرہنی ،ان کے پڑھنے کا انداز،معانی ومطالب سے ان کے حرکات وسکنات کی ہم آہنگی،فن موسیقی میں مہارت کی بنیاد پر ان کے ترنم کا زیروبم،ان کے لہجہ کا سوزوگداز پھر اس کے بعد سہل ممتنع سے پر ان کی سادہ وپرکار غزلیںان تمام چیزوں نے مل کر ان کی شخصیت کو ابھاراہے۔‘‘
حسن کے اس طرح تعارف سے وہ حسن بذات خودنگاہوں کے سامنے اس طرح ایستادہ ہوجاتا ہے جس طرح سنیما کے پردے پر فلم اور ان کی عبارت کی نغمگی اور لفظیات کے دروبست سے قارئین محظوظ ہوئے بنا نہیں رہ سکتے۔ ان کی تحریریں بذات خود ایک ساز کے مانند ہیں جس کو جتنا چھیڑا جائے وہ اتنے ہی سر پیدا کرے ۔ایک ایسا مضراب ہے جو ذہنوںمیں منتقل ہوکر انھیںان کے تاروں کو رقص وموسیقی سے ہم آہنگ کرکے ایک وجد طاری کردیتا ہے۔ان کی لفظیاتی عبارت ایک حسن ہے ایک مرصع سازی ہے ،ایک ایسا چراغاں ہے جو قاری کو اپنے ہالے میں مقید کرلیتا ہے۔ان کی تحریروں کے بارے میں مولانا محسن عثمانی ندوی رقمطراز ہیں:۔
’’اچھی اردو لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے یہ موتی پرونے کا،ہیرے تراشنے کا،گل کترنے کا،لفظوں سے چراغاں کرنے کا،جملوںکا آتش بازی کرنے کا،مضمون کے تاج مین کوہ نور آویزاں کرنے کا ،اور مرصع کاری کا ہنر ہے۔اور کوہ نور کی بازیابی کی طرح ادب بھی ایک عسیرالحصول چیز ہے۔ملک زادہ منظور احمد کی کتابیں زبان و بیان کی رنگینی اور شیرینی دلکشی اور دلربائی شگفتگی اور نغمگی،فنکاری اور پرکاری کی وجہ سے تخلیقی ادب کا بہترین نمونہ ہیں۔‘‘
وہ تاریخ میں ایم،اے کرنے اور ریلوے کی ملازمت کے زمانے میں اپنا فرائض منصبی ادا کرنے کے بعد شام کے وقت ریلوے ریسٹ ہاوس کے وسیع وعریض میدان میں افسانے لکھا کرتے اور اپنا ناول لکھا کرتے۔اپنا ’’ناول دیوار دبستان پر‘‘کے نام سے ۱۹۴۹سے ۱۹۵۱کےدرمیان تحریر کیا جو اس وقت کے معروف دارہ ’’مکتبہ کلیاں‘‘ سے ’’کالج گرل‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔یہ ناول ایک قسم کی آپ بیتی ہے۔اس کی تحریری فضا کی عکاسی کچھ یوں کرتے ہیں کہ قاری بھی خود کو اس ماحول کا حصہ سمجھنے لگتا ہے اور قدرتی مناظر کی خوبصورت ضوفشانیاں اس پر بھی ضیابار ہونے لگتی ہیں:۔
’’راتوں کو ریلوے ریسٹ ہائوس کے وسیع وعریض میدان میںیوکلپٹس کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر افسانے لکھتا یا اپنا ناول ’’دیودار دبستان پر‘‘مکمل کرتا۔چاند آسماں سے ضیاباریاں کرتادالان سے چھن چھن کر آتی ہوئی بجلی کی روشنی میں تحریر کا سلسلہ جاری رہتا۔‘‘ (رقص شررص:۸۳)
ملک زادہ منظور احمد کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے لفظ تازہ اور حسن اسلوب سے الفاظ کے ایسے موتی پروتے ہیں کہ ان کی نثر میں بھی نظم کا گمان ہوتا ہے اور ان کی یہی منثور شعر گوئی حسن الفاظ کے پیکر میں ملبوس اپنے دلکش وشگفتہ موسیقیت سے ہم آہنگ ہوکرقاری کے ذہنوں میں ردم پیدا کردیتی ہے اور پھر ان کے درد مند قلوب کو کیف ونشاط سے معمور کردیتی ہے۔
مرزااحسان احمد جو ایک باوقار شاعرہونے کے ساتھ ساتھ ایک وکیل بھی تھے،جن کا ایک مجموعہ کلام’’پیام کیف ‘‘بھی شائع ہوچکاہے اور جنھوں نے جگر مرادآبادی کے ایک مجموعہ کلام پر مقدمہ بھی لکھا ہے۔جن کا شمارایک خاموش فطرت انسان اور اضمحلالی کیفیت رکھنے والی شخصیت میں تھا ۔ان کے بارے میں شہر سخن میں الفاظ کے ترنم اس طرح بکھیرتے ہیں:۔
’’اپنے ہی نافہ کی خوشبو سے مست،اپنے ہی جلوئوں میں بے خود وسرشار ،انھوں نے حریم شہر یار کی ساری راحتیں کسی کے نشاط درد پر نثار کر رکھی ہیں ۔خلوت میں اپنے تصورات کے فیض سے انھیں جلوت میسر ہوئی ہوتوہوئی ہو مگر میں نے محسوس کیا ہے کہ جلوت میں ان کی تنہائی اور بڑھ جاتی ہے۔لوگ سوتے میں خواب دیکھتے ہیں مگر مرزا صاحب ان لوگوں میں ہیں جو یقینا عالم بیداری میں خواب دیکھتے ہیں۔کچھ یادین کچھ آنسو۔شاید یہی ان کا سرمایہ زندگی ہے۔‘‘(رقص شرر،ص۱۰۷)
ان کے تحریری اسلوب اور جمالیاتی احساس کا کمال ہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی کی افسردگی اور خاموشی کو بھی اپنے خوبصورت الفاظ کے پیرائے میں اپنی جمالیاتی فکرونظر سے ایک ایسا ہالہ تیار کردیتے ہیں کہ اس کی روشنی قاری کے ذہنوں میں داخل ہوکر اس کو ایک تازگی اور ایک قسم کی ضو عطا کرجاتی ہے۔ان کے الفاظ وتراکیب کی یہ منثوری اصطلاح کبھی قاری کے ذہنوں کو بیدار کردیتی ہے۔ کبھی وہ اس کی موسیقیت میں کھو جاتا ہے تو کبھی اس کی طلسماتی فضا اس پر حاوی ہوجاتی ہے کبھی الفاظ کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے تو کبھی اس کے اوپر ان کے جمالیاتی عناصر کی ضیاباریاں ہونے لگتی ہیں جس کی روشنی میں ان شخصیات کا ہیولی قاری کو چونکنے پر مجبور کردیتا ہے۔مثال کے طور پر شاہجہاں بانو یاد دہلوی کی جمالیاتی شخصیت وشعور کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ان کے پیکر حسن کی جستجو تلاش کے فراق میں سرگرداں ہونا پڑے:۔
’’اشعار کو جب وہ دست حنائی میںبیاض لے کر،انگلی میں برقی قمقموں کی زد پرجگمگاتی ہوئی انگوٹھی پہن کر،کچھ جاگی اور کچھ سوئی ہوئی شرمگیں نگاہوں کے ساتھ ایک ہلکی سی زیر لب مسکراہٹ کے سہارے پڑھتی تھیں تو ان کے اشعار سامعین کے دلوں پر قیامت بن کر نازل ہوتے تھے ۔اور وہ واہ واہ سبحان اللہ کہنے پرمجبور ہوجاتے تھے۔‘‘(رقص شررص:۲۱۶)
جس طرح ان کی منثور عبارتیں حسن وجمال کا مرقع ہیں اسی طرح ان کی نظمیں بھی جمالیاتی پیکر میں لپٹی ہوئی ہیں۔وہ صحرا، زنداں، طوق، سلاسل ، زہر اور دار ورسن جیسے الفاظ اپنی شاعری میں برت کر اس کو حسن عطا کردیتے ہیں۔ان الفاظ کی سختی سے ہر خاص وعام آشنا ہے مگر ملک زادہ صاحب کی خوبی یہ ہے کہ اس کی سختی میں بھی جمالیات کے پہلو نمایاں کردیے ہیں۔درج ذیل شعر میں دو نکات کی عکاسی ہوتی ہے۔اول تو حب الوطنی اور دوم عشق مجازی۔وہ جس عہد میں تھے انتہائی منتشر تھا۔ہر طرف مقتل کا سا عالم تھا۔وطن عزیز کے لیے ہر ظلم برداشت کر رہے تھے۔انھیں زدوکوب کیا جارہا تھا ۔ان کے یہ سارے مظالم اس شعر میں سماگئے ہیں۔اگر عشق مجازی کے پہلو سے اس کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔طرح طرح کی مشکلات آتی ہیں۔اس میں بہت سے پہلو پوشیدہ نظر آتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ شعر ہمیں آتش نمرودکی یاد دلاتا ہے۔سقراط کا زہر کاپیالہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔مختلف مجاہدان وطن کی سولی یاد آجاتی ہے ۔مختلف بادشاہ، ادیب وفنکار کے لیے تیار کیا گیا زنداں کی یاددلاتا ہے۔غرض یہ کہ اس میں سارے ایسے الفاظ ہیں جو سختیوں کو یاد دلاتے ہیں مگر دوسرا مصرع ان ساری سختیوں کو نرمی میں بدل دیتا ہے۔اور حسن وجمال کی ساری کیفیات اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ان کے سارے اشعار جمالیاتی لبادے میں ملفوف ہیں۔
صحرا زنداں طوق سلاسل آتش زہر اور دارورسن
کیا کیا ہم نے دے رکھے ہیں آپ کے احسانات کے نام
اب بھی بھر سکتے ہیں مے خانے کے سب جام وسبو
میرا بھیگا ہوا دامن جو نچوڑا جائے
حد نظر تک صرف دھواں تھا برق پہ کیوں الزام رکھیں
آتش گل سے باغ جلا ہو ایسا بھی ہوسکتا ہے
عرض طلب پر اس کی چپ سے ظاہر ہے انکار مگر
شاید وہ کچھ سوچ رہا ہو ایسا بھی ہوسکتا ہے
خواب کا رشتہ حقیقت سے نہ جوڑا جائے
آئینہ ہے اسے پتھر سے نہ توڑا جائے
دل کا ہر قطرہ خوں رنگ حنا سے مانگو
خوں بہا دوستوں قاتل کی ادا سے مانگو
مجموعی طور پر ان کے منثور عبارتوں اور اشعار سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ان کی فطرت میں جمالیاتی حس کا عنصر عروج پر تھا۔اس لیے ان کے اندازتکلم ،انداز تحریر میں جمالیاتی حسن بھی اپنے انتہا پر نظر آتا ہے۔ان کے یہاں المیہ جمالیات کا عنصر بھی پایا جاتا ہے اور طربیہ بھی ۔نظامتی طرز ادا میں بھی شاعرانہ جمالیات کے عناصر دخیل ہیں تو شخصیاتی پیکر اندازی کے گرد بھی جمالیات کا ہالہ پایا جاتا ہے۔غرض یہ کہ ان کی تحریریں جمالیات سے لبریز عوام وخاص دونوں کے لیے نشاط و سرور اور کیف وآگیں مہیا کرانے کی صلاحیت سے مملو ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

