غالبا 2011کا کوئی دن تھا اور مغرب کے بعد کا وقت ،میں اس وقت دیوبند میں طالب علم تھا۔ ایک انجانے نمبر سے فون آیا،علیک سلیک و احوال پرسی کے بعد دوسری طرف سے بتایاگیا کہ میں عبدالقادر شمس بول رہا ہوں روزنامہ راشٹریہ سہارا سے،تمھارا ایک مضمون آیا ہے،اسے کہیں اور مت بھیجنا،ہفت روزہ ’’عالمی سہارا‘‘ میں شائع کیا جارہا ہے۔ یہ زندگی کا پہلا موقع تھا جب میری تحریر کسی اخبار یا اخباری میگزین میں شائع ہونے والی تھی اور اس کی خبر خود اخبار کے دفتر سے مل رہی تھی،میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔ یہ نقطۂ آغاز تھا قدم قدم پر حوصلہ افزائی کرنے والے ڈاکٹر عبدالقادر شمس سے میرے تعلقات کا۔ میرا وہ مضمون اور دیوبند کی نسبت ان سے تعارف کا سبب بنی اور پھران سے ارتباط و التفات کی پختگی میں کئی اور بھی حوالےشامل ہوتے گئے۔
اس کے سال بھر بعد میں نے دارالعلوم دیوبند کی صحافتی خدمات پر ایک تحقیقی کام شروع کیا،جس میں ان کا خاص تعاون شامل رہا۔ دیوبند کے فضلا جو ملک کے مختلف اخبارات میں سرگرمِ عمل ہیں ،ان میں سے بہتوں تک رسائی عبدالقادر صاحب کے ذریعے ہی ہوئی۔ 2014میں جب دیوبند سے دہلی آیا،تو ان سے رابطہ اور بھی مضبوط ہوگیا۔ ان کی حوصلہ افزائیوں سے قلمی سفر بھی طے ہوتا رہا اور جب تک عالمی سہارا جاری رہا،ہفتہ دوہفتے کے وقفے سے اس میں میرے مضامین وہ مسلسل شائع کرتے رہے، روزنامہ سہارا میں کئی خاص موقعوں پر مجھ سے لکھوایا۔ ان کے واسطے سے کئی دوسرے علمی و تحریری کام بھی کرنے کے موقعے ملے۔ ان کی خاص خوبی یہ تھی کہ نوجوانوں اور نئی نسل کے لکھنے والوں کی بے پناہ حوصلہ افزائی کرتے تھے اور ذاتی دلچسپی لے کر ان سے لکھواتے اور نئے نئے موضوعات کی طرف رہنمائی کرتے تھے۔ ان کا یہ ایسا وصف تھا جو موجودہ دور کے زیادہ تر اکابر میں بھی ناپید ہے۔ نئی نسل کے باصلاحیت اور قابل لوگوں کو دل سے ہمت دلاتے اور جہاں بھی موقع ہوتا انھیں آگے بڑھانے کی کوشش کرتے۔ باصلاحیت نوجوانوں کی اخلاقی، فکری،مادی ہر قسم کی مدد کرتے تھے۔ روزنامہ سہارا اورعالمی سہارا میں رہتے ہوئے انھوں نے دسیوں نوجوانوں کی قلمی و صحافتی حوصلہ افزائی کی اور ان کے مسلسل ہمت بڑھانے کی وجہ سے ہم جیسے کئی لوگ مستقل اس راہ پر لگ گئے۔ ان کے دماغ میں ہر وقت مختلف قسم کے سیکڑوں آئیڈیاز گردش کرتے رہتے تھے اور وہ انھیں روبعمل لانے کے لیے بے تاب رہتے ۔
وہ دیوبند کے فاضل بھی تھے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی بھی ،سو ان کے تعلقات اور سرگرمیوں کا دائرہ دونوں سمتوں میں پھیلا ہوا تھا۔ وہ بہ یک وقت ہندوستان کے چوٹی کے علماے کرام کے مقرب اور معتمد لوگوں میں شامل تھے اور ساتھ ہی ملک کے دسیوں دانشوران،اسکالرز اور پروفیسر حضرات سے بھی ان کے روابط بہت خاص تھے۔ پھر تعلقات کو نباہنے اور برتنے کا ان کا اپنا سٹائل تھا،وہ اس فن میں طاق تھے۔ ان کی خوش مزاجی،اپنائیت،بے پناہ لگاؤ اور دل نکال کر رکھ دینے والا سلوک انھیں بہت جلد لوگوں سے قریب کردیتا تھا۔ ان سے پہلی بار مل کر ہی ایسا لگتا کہ برسوں کی شناسائی ہے۔ وہ ٹوٹ کر ملتے اور دل میں سما جاتے۔ بسااوقات کسی وجہ سے تعلقات میں اگر کھٹاس بھی پیدا ہوجاتی،تو وہ اپنے من موہنے انداز سے اسے بہت جلد دور کردیتے اور حسبِ معمول دل کی گرویدگی برقرار رہتی۔
انھوں نے کم عمر میں ہی بڑی کامیابیاں حاصل کیں ۔ 1972کی ان کی پیدایش تھی،دیوبند سے فارغ ہونے کے بعد جدید درس گاہوں سے بھی استفادہ کرتے رہے،الشمس ملیہ کالج سے بی اے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایم اے اور اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور جے این یو سے صحافت کا کورس کیا۔ مرکزی دینی و ملی اداروں سے گہری وابستگی رکھی اور عملی زندگی کے آغاز میں ہی انھیں ہندوستان کے معروف و رجال ساز عالم وفقیہ و مفکر قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی نگرانی و سرپرستی میں کام کرنے کا موقع ملا۔ جس کی وجہ سے ان کی فکر مستقیم تھی اور سوچ کا زاویہ کجی سے پاک تھا،اس کا اظہار ان کی تحریروں میں بھی ہوتا تھا اور ان کے رویوں اور اخلاق میں بھی۔ 1992میں ملی کونسل کی تاسیس کے بعد ابتدا میں اس کی بہار شاخ میں سرگرم رہے اور پٹنہ سے ’’ملی کارواں‘‘(1995-1998) نکالا،اس کے بعد’’ملی اتحاد‘‘دہلی کے اسسٹنٹ ایڈیٹربنائے گئے،جہاں 1998سے 2003 تک مصروفِ خدمات رہے ۔ مولانا اسرارالحق قاسمیؒ اس رسالے کے مدیر تھے۔ قاضی صاحب کے انتقال کے بعد اس رسالے کا خاص نمبر نکالا،جو بہت مقبول ہوا۔ غالباً انھوں نے اس کا ایک مشاہیرِ بہار نمبر بھی نکالا تھا،وہ بھی بہت وقیع شمارہ تھا۔ 2003میں روزنامہ سہارا سے وابستہ ہوئے اور وہاں گوناگوں قابلیتوں کی بدولت اپنا وقار و اعتبار قائم کرلیا۔ ان کی متعدد کتابیں بھی منظر عام پر آئیں ۔ کئی سال قبل مولانا بدرالحسن قاسمی کے شخصیات پر لکھے گئے مضامین کو ’’چند نامور‘‘کے نام سے مرتب کیا ،دوسال قبل شخصیات کے حوالے سے لکھے گئے اپنے مضامین کا مجموعہ’’جن سے روشن ہے کائنات‘‘کے نام سے شائع کیا،پچھلے دنوں ایک کتاب مولانا ظریف احمد ندوی کی زندگی اور سماجی خدمات کے حوالے سے مرتب کی تھی۔ ایک کتابچہ مولانا محمد یونس جونپوری، سابق شیخ الحدیث مظاہرعلوم سہارنپور کی زندگی پر مرتب کیا،ان کے علاوہ بھی انھوں نے کئی کتابیں،کتابچے مرتب کیے یا ان کی ترتیب و تالیف میں شریک رہے۔ روزنامہ سہارا ،عالمی سہارا اور دیگر اخبارات و رسائل میں جو ان کے سیاسی و سماجی مضامین شائع ہوئے ہیں ،ان سے کئی کتابیں تیار ہو سکتی ہیں۔
ان کا وطنی تعلق بہار کے ضلع ارریا سے تھا،جہاں کے مسلمان من حیث المجموع تعلیمی و معاشی پسماندگی کے شکار ہیں۔ عبدالقادر صاحب نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیتوں کے ساتھ اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کی بھی فکر کی اور دعوۃ القرآن ٹرسٹ قائم کرکے وہاں ایک دینی تعلیمی ادارے کے علاوہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعے کمپیوٹر سینٹر اور اردو و عربی ڈپلوما وغیرہ کے سینٹرز بھی قائم کروائے۔ وہ اپنی بے پناہ صحافتی مصروفیات کے ساتھ سماجی ،ملی و تعلیمی سرگرمیوں میں بھی مشغول رہتے تھے۔ ہم ان کی ایکٹیوٹیز دیکھ کر کبھی حیرت کرتے اور کبھی رشک ۔ دوتین سال قبل رات ایک بجےآفس سے لوٹتے ہوئے زبردست سڑک حادثےسے دوچار ہوگئے تھے اوراس کے نتیجے میں کئی ماہ صاحبِ فراش رہے،مجھے لگتا تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح ایکٹیو نہیں رہ سکیں گے،مگر آٹھ نو ماہ بعد ان کی وہی چستی و مستعدی لوٹ آئی اورکچھ دن تو عصا کے سہارے چلتے رہے،پھر بغیر عصا کے چلنے لگے،فریکچر والے پاؤں میں تھوڑی لنگڑاہٹ تھی،مگراپنی قوتِ ارادی،خود اعتمادی اورمہم جویانہ طبیعت کی بدولت وہ اسے اپنی سرگرمیوں کی راہ میں آڑے نہیں آنے دیتے تھے۔
آخری بار ان سے بقرعید کے دن بات ہوئی تھی ۔ دو ہفتے قبل ان کی طبیعت خراب ہونے کے خبر سنی تو ابتداءاًسچویشن کے اس حد تک سنگین ہونے کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا،پھر روزبروز حالت ناگفتہ بہ ہونے اور ایک ہسپتال سے دوسرے میں منتقل ہونے کی خبریں آتی رہیں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ان کے بہت سے متعلقین سخت تشویش میں مبتلا تھے،بالآخر ایسی خبر آگئی جس کے لیے کوئی بھی تیار نہ تھا۔ موت و حیات قدرت کے ایک اٹل نظام کا حصہ ہے اور جس کے لیے جتنی زندگی مقدر ہے،وہ اس سے ایک لمحہ زائد جی نہیں سکتا،مگر اس قسم کے بعض حادثات بظاہر غیر متوقع محسوس ہوتے اور دل دماغ کو بے پناہ متاثر کرتے ہیں۔ جب سے شمس صاحب کے انتقال کی خبر سنی ہے ذہن پر عجیب سی بے چینی طاری ہے۔ میراہی نہیں،ان کے تقریباً سبھی جاننے والوں کا یہی حال ہے۔ اللہ پاک ان کی مغفرتِ کاملہ فرمائے،ان کی تمام تر کوتاہیوں سے درگذر فرمائے اور پسماندگان کو صبرِجمیل عطا فرمائے۔(آمین)


1 comment
شمس صاحب نے دیوبند سے قبل نگینہ ضلع بجنور کے مدرسہ قاسمیہ عربیہ سے تعلیم حاصل کی تھی