’اسطور‘در اصل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی سخنِ باطل، بناوٹی بات، روایتی قصہ، فرضی و پر اسرارحکایت اور افسانہ وغیرہ کے ہیں۔ابتداً یہ لفظ انھیں معانی میں یعنی عام قصے ، کہانیاں اور حکایات وغیرہ کے لیے استعمال ہوتا تھا لیکن بعد میں یہ دیوی دیوتاؤں کے قصے اور کہانیوں کے لیے نہ صرف مستعمل ہونے لگا بلکہ انھیں کے ساتھ مختص بھی ہو گیا اور صرف انھیں قصے ، کہانیوں کو اسطور کہاجانے لگا جن میں دیوی دیوتاؤں ، راکشوں اور ما فوق فطری عناصرشامل ہیں۔ہندی میں اس کے لیے دیو مالااور انگریزی میں مِتھ جیسے الفاظ مستعمل ہیں۔اسطور کیا ہے اور اس کے لغوی و اصطلاحی معنی و مفاہیم کیا ہیں اس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:
’’اسطور یا مِتھ یونانی زبان کے لفظ مائی تھوس سے ماخوذ ہے جس کا لغوی مفہوم ہے’وہ بات جو زبان سے ادا کی جائے‘ یعنی کوئی قصہ یا کہانی۔ابتدا ً اسطور کا یہی تصور رائج تھا لیکن بعد ازاں کہانی کی تخصیص کر دی گئی یوں کہ اسطور اس کہانی کا نا م پایا جو دیوتاؤں کے کارناموں سے متعلق تھی یا ان شخصیتوں کی نمائندہ تھیں۔‘‘(۱)
وزیر آغا کے اس اقتباس سے جہاں ایک طرف اسطور کی وضاحت ہوتی ہے وہیں دوسری طرف ان کی اس رائے سے اختلاف کی گنجائشیں بھی نکلتی ہیں۔بلکہ Barry Powellجیسے ماہرین نے تو یہ کہتے ہوئے کہ Myth،ماخوذ ہےMuthosسے نہ کہ Mythosسے اختلاف سے ایک قدم آگے بڑھ کر سرے سے اس تصور کی ہی تردید کر دی ہے ۔ لیکن یہاں اس اختلافی بحث کی گنجائش نہیں،بہر حال متذکرہ بالا اقتباس سے واضح ہوگیا کہ اسطور کے معنی قصہ و کہانی کے ہیں۔ابتداً اس سے مرادعام قصے اور کہانیاں لی جاتی تھیں، پھربعد میں علمی و ادبی اور تہذیبی حلقے میں اسطور یا اساطیر کا استعمال ان قصے اور کہانیوں کے لیے ہونے لگا جو لوگوںکے مذہبی اعتقادات سے متعلق ہوتی ہیں،جو مافوق فطری اور مقدس اشخاص یا دیوی دیوتاؤں کے کارناموں سے ماخوذہوتی ہیں۔
دنیا کی ہر قوم کے پاس اپنی علیحدہ علیحدہ تہذیب و ثقافت موجودہیں اور چونکہ اساطیر کا رشتہ تہذیب و ثقافت سے بہت گہر ا ہوتا ہے اسی لیے دنیا بھر میں مختلف اساطیر مثلاً یونانی اساطیر، رومن اساطیر ، مصری اساطیر، چینی اساطیر، جاپانی اساطیر، بدھ اساطیر، اسلامی اساطیر اور ہندو اساطیر وغیرہ بھی موجود ہیں ۔اسطور سے اگر دیوی دیوتاؤں کی کہانیاں مراد لی جاتی ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس سے مراد صرف وہی واقعات اور کہانیاں ہوتی ہیں جن کا تعلق دیوی دیوتاؤں، جن و شیاطین اور مافوق فطری عناصر وغیرہ سے ہو بلکہ اس کے بر خلاف اس میں ہر طرح کے قصے و کہانیاں ،واقعات و حادثات اور فرمودات و بیانات شامل ہیں۔مشہور ماہر جمالیات شکیل الرحمان لکھتے ہیں:
’’اساطیر اور اساطیری قصوں کہانیوں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سچائی بھی سامنے آجاتی ہے کہ تمام اسطوری قصے صرف دیوی دیوتاؤں سے تعلق نہیں رکھتے۔ ایڈی پس(Oedipus)کی مثال سامنے ہے جسے سگمنڈ فرائیڈ نے اپنا محبوب ہیرو بنا رکھا ہے۔کئی یونانی اسطوری قصوں کے کردار دیوی دیوتانہیں ہیں۔‘‘(۲)
جس طرح دنیا کی ہر قوم میں ان کی تہذیب وثقافت اور ایمان و اعتقادات سے متعلق اپنی اپنی دساتیر موجود ہیں اسی طرح دنیا کے جتنے بھی فنون لطیفہ اور ادب پارے ہیں ان میں بھی اس کے حوالے موجود ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ دیگر زبان و ادب کی طرح اردو زبان و ادب کا دامن بھی ان سے پہلو تہی نہیں بلکہ اگر بغور دیکھا جائے تو عالمی تو نہیں مگر خود ہندوستان کی بہت سی زبان و ادب سے کہیں زیادہ اردو زبان و ادب اساطیری حوالوں سے پُر ثروت اور مالا مال نظر آتا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ اس پر جس طرح کا کام ہونا چاہئے تھا وہ اب تک سامنے نہیں آسکا۔ کیونکہ اردو زبان وادب کا شعری سرمایہ ہو یا نثری ہر ایک میں اساطیر کا چلن عام رہا ہے۔ اردو شعرا کے یہاں تو عہد قدیم سے ہی اپنی تخلیقات میں اساطیر یا دیو مالاؤں سے استفادہ کا رجحان ملتاہے۔اردو کی پہلی کتاب ’ مثنوی کدم راؤ پدم راؤ ‘ میں بھی اس کی متعد مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ بعد کی شاعری میںتو اساطیری حوالوں کا ایک انبار نظر آتا ہے۔ جنوبی ہند کے شعرا میں قلی قطب شاہ، نصرتی، ولی ،سراج وغیرہ کے علاوہ خود شمالی ہند کے متعدد شعرا مثلاآبرو، فائز،حاتم،شاکر ناجی،مرزا سودا،انشاء،نظیر، نسیم ، واجد علی شاہ ،محسن کاکوروی،سرور، اکبر،حالی، حسرت، چکبست، اقبال ، فراق ، جوش ، میراجی وغیرہ کی شاعری میں متعدد اساطیری تلاش کیے جا سکتے ہیں ۔
شاعری کی طرح اردو نثر پاروں میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔اردو کی قدیم نثری داستانوں میں تو اس کی ایک وسیع دنیا آباد نظر آتی ہے۔ڈارامے میں اندر سبھا، رام لیلا، کرشن لیلا تو اس کی اہم مثالیں تصور کی جاتی ہیں۔ نثری اصناف میں صرف داستان یا ڈرامے ہی نہیں بلکہ اردو فکشن بھی اساطیری حوالوں سے مالا مال نظر آتاہے۔ اردو فکشن میں بھی ناولوں کے مقابلے افسانوں میں اس کا رنگ گہر ا نظر آتا ہے۔کرشن چندر ، دیوندر ستیارتھی، بلونت سنگھ، انتظار حسین، قرۃالعین حیدر، جوگندر پال ، بلراج مین را، سریندر پرکاش، کماپاشی ، قمر احسن ، سلام بن رزاق وغیرہ کے علاوہ موجودہ عہد کے بھی بہت سے ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں میں اساطیری عمل دخل نظر آتا ہے ۔یوں تو ان تمام فکشن نگاروں کو اپنے فکر وفن کے اعتبار سے ہمارے ادب میں بڑی اہمیت و وقعت حاصل ہے مگر ان میں بھی انتظار حسین کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے۔ لیکن اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ اردو ادب کی تاریخ میں ان کی شناخت جہاں ایک افسانہ نگار، ایک ناول نگار اور ایک ڈراما نگار کی ہے وہیں وہ ایک قابل قدر مترجم ،نکتہ داں نقاد ، مقبول عام کالم نویس اور مشہور صحافی بھی ہیں بلکہ فکشن نگاروں کے اس کہکشاں میں ان کی بنیادی شناخت کی وجہ ان کا منفرد بیانیہ اور اچھوتا اسلوب ہے۔ اور ان کا یہی وہ اسلوب و بیان ہے جس نے جہاں ان کو فکشن نگاروں میں ایک پہچان دلائی وہیں اس سے اردو افسانہ کے دامن میں وسعت بھی پیدا ہوئی۔ گوپی چند نارنگ اپنے ایک مضمون میں رقمطراز ہیں :
’’ انتظار حسین اس عہد کے اہم ترین افسانہ نگاروں میں سے ہیں۔ اپنے پُر تاثیر تمثیلی اسلوب کے ذریعے انھوں نے اردو افسانے کو نئے فنی اور معنیاتی امکانات سے آشنا کرایا ہے اور اردو افسانے کا رشتہ بیک وقت داستان، حکایت، مذہبی روایتوں ، قدیم اساطیر اور دیو مالا سے ملادیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ناول اور افسانے کی مغربی ہیئتوں کی بہ نسبت داستانی انداز ہمارے اجتماعی لاشعور اور مزاج کا کہیں زیادہ ساتھ دیتا ہے۔ داستانوں کی فضا کو انھوں نے نئے احساس اور نئی آگہی کے ساتھ کچھ اس طرح برتا ہے کہ افسانے میں ایک نیا فلسفیانہ مزاج ، اور ایک نئی اساطیری وداستانی جہت سامنے آگئی ہے۔ ‘‘(۳)
انتظار حسین کے افسانوں کا یہی وہ فلسفیانہ مزاج اور نیا اسا طیری و داستانی بیانیہ ہے جو انھیں نہ صرف اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں سے ممتاز بناتا ہے بلکہ اس سے ان کے افسانوں میں کتھا کاری کی صفت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔انتظار حسین کا یہی بیانیہ اور اسلوب فنی اعتبار سے اردو افسانے کو رومانو یت سے روحانیت کے دائرے میں لے آتا ہے اورانتظار حسین کے اس رویے سے فکشن اور فرد و سماج کے مابین ایک خاص ربط و ضبط پید ا ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے گوپی چند بارنگ ایک جگہ رقمطراز ہیں:
’’ عہد نامہء قدیم و اساطیر و جاتک اور دیو مالا کی مدد سے ان کو استعاروں ، علامتوں اور حکایتوں کا ایسا خزانہ ہاتھ آگیا ہے جس سے وہ پیچیدہ پیچیدہ خیال اور باریک سے باریک احساس کو سہولت کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔ان کے اسلوب میں ایسی سادگی اور تازگی ہے جس کی کوئی نظیر اس سے پہلے اردو میں نہیں ملتی۔ برصغیر میں کہانی کی روایت کتھا کی روایت ہے۔ داستان نے بھی اس لحاظ سے اسی روایت کو آگے بڑھایا تھا کہ وہ سننے سنانے کی چیز ہے۔ اس کے برخلاف بیسویں صدی میں افسانے کا سارا ارتقا ایک تحریری صنف کا ارتقا ہے۔ یہ لکھے اور پڑھے جانے کی چیز ہو کر رہ گیا تھا۔ انتظار حسین نے باصرہ کے ساتھ سامعہ کو پھر سے بیدار کیا ہے، اور کہانی کی روایت میں سننے اور سنائے جانے والی صنف کے لطف کا از سرنو اضافہ کیا ہے۔ یہ صرف داستان کے اسلوب ہی کی تجدید نہیں بلکہ کتھا کی ہزاروں سال پرانی روایت کی تجدید بھی ہے۔‘‘(۴)
انتظار حسین کی بیشتر کہانیوںمیں اسطور کا یہ بیانیہ اور کتھا کا لطف موجود ہے۔ یوں تو انتظار حسین کے پانچ ناول اور تین ڈراموں کے علاوہ دس افسانوی مجموعے دستیاب ہیں۔ان کے ابتدائی دور کے افسانے روایتی اندازکے تھے۔ گلی گوچے( 1951ء)اور کنکری (1957) کے افسانے اس حوالے سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ مگران کے یہاں ایک نیا رنگ اس دیکھائی دیتا ہے جب ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ’ آخری آدمی‘‘ سامنے آتا ہے۔یہ مجموعہ اگرچہ 1967ء میں پہلی بار منظر عام پر آیا تھا لیکن انتظار حسین نے 1960ء سے قبل سے بھی نئی کہانیاں لکھنی شروع کردی تھیں۔ یہ اور بات ہے کہ آخری آدمی میں اپنے تخلیقی اظہار کے لیے ان کے یہاں اساطیرعمل بھر پور طریقے سے سامنے آیا ۔خود افسانہ’آخری آدمی ‘ ،جس نام سے جیسا کہ ابھی ذکر ہوا ایک مکمل مجموعہ ہے ، انتظار حسین کے اسطوری بیانیہ کا سب سے اہم اور قابلِ ذکر نمونہ ہے۔
افسانہ’ آخری آدمی ‘ میں جیسا کہ یہ ہمارے بی۔اے اور ایم ۔اے وغیرہ کے نصابوں میںشامل ہے اور ہم میں سے اکثر و بیشتر واقف ہیں کہ اس میں قرآن پاک اور اس عہد نامہ عتیق کی فضا ہے۔یہ وہ کہانی ہے جو سورہ اعراف آیت نمبر 163تا آیت نمبر 166 میں بالتفصیل موجود ہے اور اسی کا اجمالی ذکر سورہ بقرہ کی آیت نمبر 65میں ’’ ولقدعلمتم الدین اعتدو منکم فی السبت فقلنا لھم کونو ا قردۃخاسئین‘‘ جیسے پیرائے میں بیان ہوئی ہے۔اس کہانی میںان انسانوں کے بندر بن جانے کا حال بیان ہوا ہے جو تمام تر ممانعتوں کے باوجود سبت یعنی سنیچر کے روز مچھلیاں پکڑنے کاکام کرتے تھے اور اپنے حرص وہوس کے جذبے کی تسکین کرتے تھے۔ لالچ، خوف،غصہ، وسوسہ وغیرہ جیسے منفی جذبات کے باعث وہ برتر انسانی سطح سے بدتر ہی نہیں بلکہ حیوانی سطح پر اتر گئے تھے۔کہانی کی ابتدا الیاسف سے ہوتی ہے جو کہ اس قریے کا آخری آدمی تھااور جس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں اگر وہ آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہے تو آدمی ہی کی جون میں مرے گا ۔اس کے لیے اس نے آخری دم تک بہترے کوششیں بھی کیں مگر بالآخر:
’’بھاگتے بھاگتے تلوے اس کے دکھنے لگے او ر چپٹے ہونے لگے اور کمر اس کی درد کرنے لگی اور وہ بھاگتا رہا اور کمر کا در د بڑھتا گیااور اسے یوں معلوم ہوا کہ اس کی ریڈھ کی ہڈی دوہری ہوا چاہتی ہے اور وہ دفعتاً جھکا اوربے ساختہ اپنی ہتھیلیاںزمین پر ٹکا دیں۔الیاسف نے جھک کر ہتھیلیاں زمین پر ٹکا دیں اور بنت الاخضر کو سونگھتا ہوا چاروںطرف پیروں کے بل تیر کے موافق چلا۔‘‘ (۵)
اس طرح لاکھ کوششوں کے باوجود بھی قریے کا آخری آدمی یعنی الیاسف بھی بندر بن جاتا ہے۔ اس کے بندر بن جانے کے دوا سباب تھے پہلاذاتی اور دوسرا معاشرتی۔ذاتی سبب یہ ہے کہ الیاسف نے اللہ کے ساتھ مکر کیا۔ کہانی کے یہ الفاظ ملاحظہ ہوں:
ــ’’سمندر سے فاصلے پر ایک گڑھا کھودااور نالی کھود کر اُسے سمندر سے ملا یا اور سبت کے دن مچھلیاں سطحِ آب پر آئیں تو تیرتی ہوئی نالی کی راہ گڑھے میں نکل گئیں اور سبت کے دوسرے دن الیاسف نے اس گڑھے سے بہت سی مچھلیاں پکڑلیں۔‘‘(۶)
معاشرتی اسباب کچھ اس طرح بیان ہوئے ہیں:
’’الیاسف کے تئیں لفظوں کی قدر جاتی رہی کہ اب وہ اس کے اور اس کے ہم جنسوں کے درمیان رشتہ نہیںرہے تھے اور اس کا اس نے افسوس کیا۔الیاسف نے افسوس کیااپنے ہم جنسوں پر ، اپنے آپ پراور لفظ پر۔افسوس ہے ان پربوجہ اس کے کہ وہ لفظ سے محروم ہو گئے ۔ افسوس ہے مجھ پر کہ بوجہ اس کے کہ لفظ میرے ہاتھوںمیں خالی برتن کی مثال رہ گیا ۔ اور سوچو توآج بڑے افسوس کا دن ہے کہ لفظ مرگیا۔‘‘(۷)
چونکہ لالچ اور مکر داخلی طور پراور لفظوں کی موت خارجی طور پر روحانی زوال اور معاشرتی رشتون کی شکست و ریخت کی علامت ہے اور انتظار حسین کے نزدیک ان دونوں لفظوں کا مطلب ایک ہی ہے ۔ افسانہ نگار ہمیں بتاتا ہے :
’’ اس شخص نے جو انھیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کرتا تھایہ کہا کہ بندر تو تمہارے درمیان موجود ہیں مگر یہ کہ تم دیکھتے نہیں۔‘‘ (۸)
اس طرح افسانہ ’’آخری آدمی ‘‘ میں ہوس کاری اور لفظ کی موت انسانوں کو معاشرتی اور تہذیبی سطح سے بندروں کی حیوانی سطح پر اتار دیتی ہے۔ آخری آدمی کی طرح ’’زرد کتا‘‘ بھی انتظار حسین کا ایک اہم افسانہ ہے بلکہ اس کا شمار ان کی شاہکار کہانیوں میں ہوتا ہے۔اس میں بھی عہد وسطیٰ کے بزرگان ِدین کے ملفوظا ت اور داستانوی زبان کا نہایت ہی حسین اور کامیاب استعمال موجودہے۔افسانے کی شروعات اس طرح ہوتی ہے:
’’ایک چیز لومڑی کا بچہ ایسی اس کے منہ سے نکل پڑی۔ اس نے اسے دیکھا اور پاؤں کے نیچے ڈال کر روندنے لگا مگر وہ جتنا روندتا تھا اتنا وہ بچہ بڑا ہوتا جاتا تھا۔‘‘(۹)
اس افسانے میں انسانی نفس یعنی نفس امارہ لومڑی کی شکل میں آدمی کی ذات سے باہر آتا ہے۔ اسے جتنا دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اتنا ہی وہ موٹا ہوتاجاتا ہے۔ زرد کتا بھی بقول باقر رضوی انسانی نفس کی خارجی صورت ہے کہ اسے بھگانے اور نکالنے کی کوشش کیجئے تو دامن میں چھپ کر غائب ہو جاتا ہے۔گوپی چند نارنگ لومڑی کے بچے یعنی نفس امارہ پرروشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ یہ لومڑی کا بچہ انسانی نفس ہے۔ تاہم نفس سے مراد صرف نفس نہیں ہے بلکہ انسانی جبلتوں کا وہ سارا نظام ہے جو انسان کو مسلسل ایک کشمکش سے دو چار رکھتا ہے۔ ــ اور جب کسی فرد یا معاشرے میں نفس کا عمل دخل حد اعتدا ل سے تجاوز کر جاتا ہے، تو فرد یا معاشرہ شدید روحانی اور اخلاقی بحران سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ‘ ‘(۱۰)
کہانی ’زرد کتا‘ میں بھی ہمارے اسلاف اور بزرگان ِ دین کے ملفوظات کی زبان میں حرص و ہوس کے باعث روحانی انطاط کی سرگزشت بیان کی گئی ہے۔اس کہانی کی تکنیک میں انتظار حسین نے مکالموں اور حکایتوں کواس سلیقے اور ہنر مندی سے ایک دوسرے کے ساتھ پیش کیا ہے کہ اس سے نہ صرف ایک جدت پیدا ہوگئی ہے بلکہ یہ قاری کو کہانی ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھنے پر مجبور بھی کرتی ہے۔انتظار حسین کی اس کہانی کا مرکزی خیال آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’میں یہ سن کر عرض پرداز ہوا ۔’ یا شیخ زرد کتا کیا ہے؟‘فرمایا:
’زرد کتا تیرا نفس ہے۔‘ میں نے پوچھا:
’یا شیخ نفس کیا ہے؟‘ فرمایا:
’نفس طمع ِدنیا ہے۔‘ میں نے سوال کیا:
’یا شیخ طمع دنیا کیا ہے؟‘ فرمایا:
’طمعِ دنیا پستی ہے۔‘ میں نے استفسار کیا:
’یا شیخ پستی کیا ہے؟‘ فرمایا:
’پستی علم کا فقدان ہے۔‘ میں ملتجی ہوا:
’یاشیخ علم کا فقدان کیا ہے ؟ ‘ فرمایا:
’دانشمندوں کی بہتات۔‘ میں نے کہا:
’یا شیخ تفسیر کی جائے ۔‘ آپ نے تفسیر بصورت حکایت فرمائی۔‘‘(۱۱)
چنانچہ یہ تفسیر بصورت حکایت فرمائی گئی اور وہ حکایت ایک بادشاہ اور وزیر کی تھی۔پھر اس حکایت کی تفسیر و توضیح میں دوسری حکایتیں بھی آتی ہیں ۔ لیکن اس کا جو مرکزی خیال ہے اور اس سے افسانہ نگارہمارے سماج اور معاشرہ کے جس نکتے کی طرف اشارہ کرتاہے وہ در اصل ہمارامعاشرتی انحطاط و زوال ہی ہے۔سجاد باقر رضوی مجموعہ آخری آدمی کے مجموعے میں لکھتے ہیں:
’’ اس مرکزی خیال کو اس افسانہ میں انفرادی و معاشرتی دونوں حوالوں سے پیش کیا گیا ہے۔چھوٹی چھوٹی حکایتوں اور واقعات کو جوڑ کر کہانی کا پورا ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے ۔ ’’آخری آدمی ‘‘کی طرح اس کہانی میں بھی پورے معاشرتی انحطاط میں ایک شخص کے روحانی انحطاط کو دکھایا گیا ہے۔بدی ایک وبا کی طرح تیزی سے پھیلتی ہے جس میں فرد اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ، اسی بدی کا شکار ہو جاتا ہے جس سے وہ بچ نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔’’زرد کتا‘‘یعنی نفس امارہ پوری روحانی زندگی کے لیے ایک چیلنج ہے۔لیکن اس کہانی کا آخری آدمی اپنے نفس امار ہ کے ساتھ کشمکش جاری رکھتا ہے اور بالآخر خدا سے پناہ مانگتا ہے ’’بارِ الہاآرام دے ، آرام دے، آرام دے‘‘اور اس طرح وہ غیبی امداد کے بھروسے آدمی کی جون میں ہی رہتا ہے۔زرد کتا نفس امارہ کے حوالے سے فرد کی روحانی زندگی کے انحطاط کی کہانی ہے مگریہی بات معاشرتی انحطاط کی وجہ بن جاتی ہے۔ نفس کادوزخ بھرنے والے’’ا ٓخری آدمی ‘‘ بندر بن جاتے ہیں اور اس کہانی میں وہ سماعت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔روحانی طو ر پر انحطاط پذیر معاشرے میں صاحبِ کلام منہ پر تالا ڈال دیتے ہیں اور زندہ انسان سماعت سے محروم ہو جاتے ہیں۔‘‘(۱۲)
اس طرح لفظ مرجاتے ہیں اور لفظوں کی موت سے نہ صرف ان کی اہمیت کم ہو جاتی ہے بلکہ زندگی کی معنویت بھی ختم ہو جاتی ہے اور مردے زندوں سے بہتر اور کار آمد ہو جاتے ہیں۔ کہانی کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’وہ ( سید علی الجزائری ) قبرستان میں گئے اورمنبر چڑھ کر ایک بلیغ خطبہ دیا۔ اس کا عجیب اثر ہوا قبروں سے درود کی صدا بلند ہوئی ۔تب سید علی الجزائری نے آبادی کی طرف رخ کرکے گلو گیر آواز میں کہا: اے شہر تجھ پر خدا کی رحمت ہوتیرے جیتے لوگ بہرے ہو گئے اور تیرے مردوں کو سماعت مل گئی۔ ‘‘(۱۳)
یقینا جب انسان اپنے اوصافِ انسانیت کھو دے یعنی جب جیتے سماعت سے محروم ہو جائیں ، لفظ بے معنی و بے مراد اور کھو کھلے ہو جائیں اور زندگی کی حقیقت و معنویت ختم ہو جائے تو ایسی صورت میں انسان اپنی انسانیت کی سطح سے گر جاتے ہیں۔
آخری آدمی اور زرد کتا کے علاوہ کشتی ،زمران، کانا دجال ، شرم الحرم ، وہ جو دیوار نہ چاٹ سکے وغیرہ انتظار حسین کے ایسے افسانے ہیں جن میں انھوں نے اسطوری بیانیے سے بھر پور کام لیا ہے بلکہ ا ن میںتو بعض کہانیاں ایسی بھی ہیں جو اپنے نام یا عنوان سے ہی واضح ہیں کہ وہ کس کہانی، داستان یا حکایات و واقعات سے ماخود و مستعار ہیں۔ان تمام کہانیوں میں بھی افسانہ آخری آدمی اور زرد کتا کی طرح بزر گان دین کی ملفوظات اور حکایات و اقعات سے نہ صرف کام لیا گیاہے بلکہ ان میں بھی مکالموں کی تکنیک کا فنکارانہ استعمال بھی موجود ہے۔افسانہ ’’ کشتی‘‘ میں انتظار حسین نے اساطیر کے استعمال کی جومہارت اور فنی چابکدستی کا ثبوت فراہم کیا ہے اس کی مثال کم ہی فنکاروں کے یہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔اس کہانی میں افسانہ نگار نے بڑی خوبصورتی سے نہ صرف قدیم سامی و اسلامی اور ہندوستانی اساطیری روایتوں کا استعمال کیا ہے بلکہ ان قدیم اساطیری فکرو عمل اور روایات کو جدید فکر سے موازنہ کر کے ان میں ایک نئی تعبیر بھی پیدا کی ہے۔گوپی چند نارنگ اس افسانے کے حوالے سے رقمطراز ہیں:
’’ اس دور کی بہترین تمثیلی کہانی بہر حال ’’ کشتی ‘‘ ہے۔ اس میں قدیم سامی و اسلامی روایتوں اور ہندوستانی دیو مالائی حکایتوں کو تخلیقی طور پر مربوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ افسانوی تکنیک کا ایسا تجربہ ہے جس کی کوئی مثال اس سے پہلے اردو میں نہیں ملتی۔’’کشتی ‘‘ میں مسئلہ نسلِ انسانی کی تباہی و بربادی اور اس کی بقا Survivalکا ہے۔اس کی ایک جہت ہنگامی مقامی بھی ہو سکتی ہے اور ایک دائمی آفاقی بھی۔یہ دنیا جب ظلم و ستم سے بھر جاتی ہے تو تباہی و بربادی کا دور آتا ہے اور ہرچیز نیست و نابود ہو جاتی ہے۔ اس کا ذکر تمام مذہبی روایتوں میں آیا ہے، خواہ قہرِ الٰہی کی صورت میں ہو، آفاتِ ارضی و سماوی کی صورت میں، یا طوفان و سیلابِ بلا کی صورت میں۔مدتوں تک پیڑ پودے، جن و انس سب تہہ آب غرق ہو جاتے ہیں، کسی آبادی کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا، لیکن خدا ابھی اپنی تخلیق سے مایوس نہیں، اور اس طرح انسان کو ایک موقع اور مل جاتا ہے۔ ’’کشتی‘‘ میں نہ صرف قرآن پاک بلکہ عہد نامہ ء قدیم ، توریت اور ویدوں ، پرانوں اور شاستروں سب کی مذہبی اور اساطیری روایتوں سے مدد لی گئی ہے اور بقائے انسانی کے بارے میں بنیادی سوالات قائم کیے گئے ہیں۔‘‘(۱۴)
متذکرہ بالا افسانوں کی علاوہ زمران ، کانا دجال، اور شرم الحرم، کچھوے، دوسرا گناہ، پتے اور وہ جو دیوار نہ چاٹ سکے وغیرہ میں بھی انتظار حسین کے یہاں اساطیری روایات سے عمل دخل ملتا ہے۔ان میں بھی انھوں نے بڑی فن کاری اور خوش اسلوبی کے ساتھ نہ صرف عہد نامہ قدیم ، انجیل، قصص الانبیاء ، ہندو دیومالا، بودھ جاتیکائیں، قرآن پاک، داستانوں اور صوفیا کرام کے ملفوظات سے نہ صرف استفادہ کیا ہے بلکہ ان کے ذریعے انھوں نے انسان اورمعاشرے کے روحانی و اخلاقی زوال ، انسانی خود غرضی ، ریاکاری اور نفس پرستی کو اجاکر کیا ہے۔
اس طرح انتظار حسین نے اپنے افسانوں اور کہیں کہیں اپنے ناولوں میں بھی اساطیر ی بیانیہ سے کام لیتے ہوئے انسان کو اس کے فرایض یاددلایا ہے اور تطہیر ذات کی طرف مائل کیا ہے۔اس حوالے سے انتظار حسین نے اپنی کہانیوں میں اساطیر کا جس قدر موزوں ، مناسب اور بھر پور استعمال کیا ہے اس کی نظیر شاید ہی کسی اوراردو و غیر اردو کہانی کارو فکشن نگار اور شاعر و ادیب کے یہاں نظر آتی ہو۔اردو فکشن نگاروں میں انتظار حسین سے قبل بیدی کے افسانوں میں اساطیری حوالے بکثرت ملتے ہیں لیکن ان کے یہاں ہندو اساطیر کا غلبہ ہے اور وہ اساطیر کا استعمال محض افسانوں میں گہری معنویت پیدا کرنے کے لیے کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے برخلاف انتظار حسین کے یہاں عام اساطیر کا بھر پور اور متوازن استعمال نظر آتا ہے۔انتظار حسین کے افسانوں کی یہی وہ خصوصیات اور اسطوری بیانیہ ہے جو انھیں اردو کے دیگر فکشن نگاروں سے ممیز و ممتاز بناتے ہیں اور اس کی بدولت اسطوری اد ب میں ان کا نام ہمیشہ نمایاں رہے گا۔
حواشی:
۱۔ وزیر آغا۔تخلیقی عمل ، علی گڑھ بک ڈپو، ۱۹۷۵ء ص : ۳۹
۲۔ شکیل الرحمن۔اساطیر کی جمالیات، نرالی دنیا پبلی کیشنز، ۲۰۰۹ ، ص: ۱۲
۳۔ گوپی چند نارنگ۔انتظار حسین کا فن متحرک ذہن کا سیال سفر، مشمولہ عالمی اردو ادب (نند کشور وکرم )دہلی، ۲۰۱۶،ص:۲۶۹
۴۔ ایضاً، ص:۲۶۹
۵۔ انتظار حسین۔ آخری آدمی۔ ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ، ۱۹۹۳، ص:۲۸
۶۔ ایضاً، ص:۲۶۔۲۷
۷۔ ایضاً، ص:۲۴۔۲۵
۸۔ ایضاً، ص:۲۱
۹۔ انتظار حسین۔ افسانہ’’ زرد کتا‘‘ مشمولہ مجموعہ آخری آدمی۔ ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ، ۱۹۹۳، ص:۲۹
۱۰۔ گوپی چند نارنگ۔انتظار حسین کا فن متحرک ذہن کا سیال سفر، مشمولہ عالمی اردو ادب (نند کشور وکرم )دہلی، ۲۰۱۶،ص:۲۷۷
۱۱۔ انتظار حسین۔ افسانہ’’ زرد کتا‘‘ مشمولہ مجموعہ آخری آدمی۔ ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ، ۱۹۹۳، ص:۳۲
۱۲۔ ایضاً، مقدمہ، ص:۱۵
۱۳۔ انتظار حسین۔ افسانہ’’ زرد کتا‘‘ مشمولہ مجموعہ آخری آدمی۔ ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ، ۱۹۹۳، ص۳۱
۱۴۔ گوپی چند نارنگ۔انتظار حسین کا فن متحرک ذہن کا سیال سفر، مشمولہ عالمی اردو ادب (نند کشور وکرم )دہلی، ۲۰۱۶،ص:۳۰۷
Mobile No: 9911589715,
E-mail: arziyadi@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

