Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

غالب: بطورِ افترائی صغیری بیانیہ- محمد مقیم

by adbimiras ستمبر 6, 2020
by adbimiras ستمبر 6, 2020 0 comment

جب ہم ’’افترائی صغیری بیانیہ‘‘ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ سوال لامحالہ پیدا ہونا چاہیے کہ صغیری بیانیہ کی افترائی کے علاوہ بھی اور قسمیں ہوں گی۔ صغیری بیانیہ کی دیگر قسموں کے علاوہ خود صغیری بیانیہ کیا چیز ہے؟ صغیری بیانیہ ہے تو کبیری بیانیہ بھی ہوگا، اور پھر ان سب اصطلاحوں میں بیانیہ سے کیا مراد ہے؟ یا بیانیہ کیا ہے؟ یہ مسئلہ ہماری ادبی تنقید میں بالخصوص فکشن کے حوالے سے خاصا موضوع بحث رہا ہے۔ سردست بیانیہ کے حوالے سے کی گئی تکنیکی گفتگو سے ہمیں کوئی سروکار نہیں، البتہ ایک سادہ سی تعریف کی روشنی میں بیانیہ، فکر کی حیثیت سے ہرجگہ اور ہر چیز میں موجود ہے جو، معنی سازی اور معنی کی ترسیل کا مخصوص طریقہ ہے۔ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والی نمائندگی کو بیانیہ اس وقت کہا جائے گا جب اس میں دو بنیادی اور لازمی خصوصیات ایک قسم کا ماخذ اور ایک قسم کی زمانی ساخت موجود ہو۔ ]۱[ موضوع کے تعلق سے کبیری بیانیہ کی تفہیم زیادہ ضروری ہے۔ کبیری بیانیے کو یورپی، مغربی اور استعماری بیانیہ سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں کہ پس نوآبادیاتی ادبی تہذیبوں میں جو سوال سب سے زیادہ پوچھا اور سمجھا جاتا ہے وہ ’’واقعیت‘‘ یا ’’واقعاتی رنگ‘‘ سے متعلق ہوتا ہے۔ یعنی کسی ادب پارے کے بارے میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ ’’کیا یہ سچ ہے؟‘‘۔ ]۲[

سچ، حقیقت، واقعیت اور صداقت کی علویت یہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں دیتی کہ ادب پاروں کے بارے میں یہ سوال کتنا بامعنی ہے؟ یا یہ کہ اس سوال کے علاوہ کچھ اور سوال بھی ہوسکتے ہیں جو کسی ادبی تہذیب میں فن پاروں کے لیے زیادہ وسیع المشرب اور بامعنی ہوسکتے ہیں۔ ان باتوں کی تفصیل میرا موضوع نہیں لہٰذا میں مطلب کی بات پر آتا ہوں۔ ’’کیا یہ سچ ہے؟‘‘ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال اصولِ شعر کم اور کبیری بیانیہ زیادہ ہے۔ کیوں کہ ہماری ادبی تہذیب میں ادب پاروں کی تخلیق کے حوالے سے یہ سوال رائج ہی نہیں تھا، لہٰذا جب اس اصول کا اطلاق ہمارے ادب پاروں پر کیا گیا تو سارا کا سارا ادبی سرمایہ لچر اور پوچ نظر آنے لگا جو کہ اس کبیری بیانیے کا ہدف تھا۔ کیوں کہ کبیری بیانیے منصفانہ اور یکساں طور پر نافذ کرنے کے لیے نہیں خلق کیے جاتے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کبیری بیانیے ایسی پالیسی کے حامل ہوتے ہیں جن کا معیار دوہرا ہوتا ہے اور یہ ’’حاکم و محکوم؍ہم اور وہ‘‘ کے فرق کو قائم کرنے کے لیے وضع کیے جاتے ہیں۔ کبیری بیانیے اپنی تشکیل کے دوران علم یا معلومات کی استنادی حیثیت سے کوئی غرض نہیں رکھتے۔ مثلاً لارڈ کرومر مصر کے سماجی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ رائے قائم کرتا ہے کہ ایک سماجی نظام کے طور پر اسلام کی مکمل ناکامی کا پہلا اور اہم ترین سبب عورتوں کی تذلیل ہے۔ ]۳[ اس طرح پس نوآبادیاتی تہذیب میں سفید فاموں کی بالادستی کو مستحکم کرنے کے لیے نوآبادیات نے تانیثی فکر کو ہتھیا لیا۔ ورنہ یہی لارڈ کرومر انگلینڈ میں عورتوں کے حق رائے دہی کے خلاف مردوں کی لیگ کا بانی اور رکن تھا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ استعماری بیانیے کی قوت مخالف نظریے کی حامل فکر کو بھی اپنی ہم زبان بنالیتی ہے۔ اسی لیے لیلیٰ احمد نے تانیثی تصورات کو نوآبادکاروں کی دوسری ماما کا نام دیا ہے۔ ]۴[

کبیری بیانیوں کی وجہ سے جو کشمکش، بے چینی، بے یقینی اور دو جذبی رجحان کی نوآبادیاتی صورت حال پیدا ہوئی، اس نے مرکز آشنا صغیری بیانیوں کو تحریک دی۔ صغیری بیانیے دو نمائندہ گروہوں نے تشکیل دیے۔ ایک کا رجحان اصلاح پسند تھا اور دوسرے کا احیا پسند۔ اصلاح پسند صغیری بیانیے کی مثال مسلمانوں میں سرسید سے دی جاسکتی ہے۔ جن کا خیال یہ تھا کہ ہم اپنی مادری زبان تک کو بھول جائیں اور تمام مشرقی علوم کو نسیاً منسیاً کردیں۔ ]۵[ احیاپسند رجحان کی مثال اکبر الہ آبادی سے دی جاسکتی ہے۔ صغیری بیانیوں سے جہاں تک غالب کا تعلق ہے، تو اس حوالے سے ہمارے پاس سب سے واضح اور نمایاں تحریری ثبوت غالب کی کتاب ’’دستنبو‘‘ ہے۔ دستنبو فارسی دساتیر کی زبان میں لکھی گئی اور ۱۸۵۸ میں مطبع مفید خلائق، آگرہ سے پہلی بار شائع ہوئی۔ اس کتاب کی مانگ زیادہ تر پنجاب اور صاحبان انگریز کے بیچ رہی۔ جبکہ بقیہ ہندوستان بالخصوص پورب میں نامقبول قرار پائی۔ اس امر کے واقع ہونے کا غالب کو بھی احساس تھا۔ کبیری بیانیے کی تعبیر و تشریح کے طور پر ’’دستنبو‘‘ کا مطالعہ تین حصوں پر منحصر ہے۔

۱۔ صغیری بیانیہ

۲۔ حاکم سے وفاداری کا حلف نتیجتاً افترائی صغیری بیانیہ

۳۔ ذاتی مقصد براری یعنی، خطاب، خلعت اور پنشن کا حصول

ہم جانتے ہیں کہ یورپ بہ طور کبیری بیانیے نے دو طرح کے بیانیوں کو تحریک دی۔ ان بیانیوں کا عمومی رجحان اصلاح پسندی اور احیا پسندی تھا۔ ان میں ایک قسم کی کشمکش، بے چینی اور دو جذبی میلان پایا جاتا ہے۔ برصغیر کے حوالے سے اپنی مخصوص شناخت والا صغیری بیانیہ ’’دستنبو‘‘ میں مفقود ہے۔ اس مسئلہ پر مزید گفتگو کرنے سے پہلے دستنبو کے چند بیانیوں پر نظر ڈالنا بہتر ہوگا، غالب لکھتے ہیں:

جب یہ مسلّم ہے کہ آسمان کی گردش حکمِ خدا کے تابع ہے، تو پھر آسمان جو کچھ دے، ہم اس کو ظلم نہیں کہہ سکتے۔  ]۶[

———————

آسمان کی گردش چکی کی رفتار کی مانند ہے۔ تم جانتے ہو چکّی کو چلانے والا کوئی ہے، پھر تم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ آسمان کو گردش میں رکھنے والا بھی کوئی ہے۔  ]۷[

———————

درحقیقت ہر کسی چیز کا فنا ہونا، محض کسی دوسری چیز کے وجود کا سبب بنتا ہے بے شک جو کچھ آرام و تکلیف اور بلندی و پستی (خدا کی طرف سے) انسان کو ملتی ہیں، اس کے لیے وہ سب فائدے اور بہبودی کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ ]۸[

———————

زہرہ اور مشتری کو نفع رسانی اور مریخ اور زحل کو نقصان رسانی کی (تھوڑی بہت) دستگاہ اگر ہے تو ہو، ایک صاحب علم و عرفان (بخوبی) جانتا پہچانتا ہے کہ فلاکت و برکت (درحقیقت) کس کی طرف سے ہیں۔ ستارے ایک حاکمِ عادل کے نوکر ہیں اور (اس) عدالت کے نوکر کبھی دائرۂ انصاف سے باہر نہیں ہوتے۔ طبعاً اور عادتاً مل جل کر کام کرنے اور کام بنانے کے سوا ان کا اور کوئی کام نہیں۔ اگر (ان میں سے) ایک نے سخت گیری (کے وسیلے) سے (بگڑتے) کاموں کو بنانا چاہا اور دوسرے نے نرمی کے ساتھ (زندگی کی) ہنگامہ آئی روا رکھی، تو یہ سب کچھ (دنیا کو) بنانے سنوارنے کے لیے ہے، تشدد اور بھول چوک نہیں   ؎

مطرب جب ساز کے تاروں پر ضرب لگاتا ہے، تو اس کا کیا مقصد ہوتا ہے، یہ ظاہر ہے۔ مسرت، غم کے پردے میں چھپی ہوئی ہے، دھوبی کپڑے کو غصے سے پتھر پر نہیں مارتا۔

دراصل ایک چیز کا کالعدم ہونا، محض دوسری چیز کو وجود بخشنے کے لیے ہے۔  ]۹[

ان بیانات کو پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں کہ غالب کے یہاں اصلاح پسندی اور احیا پسندی پر مبنی دو جذبی رجحان نہیں پایا جاتا جو کہ برصغیر میں تشکیل پانے والے صغیری بیانیوں کا امتیازی تشخص ہے۔ اصلاح پسندی اپنی تفاعلی حالت میں خاص قسم کے تجدد کی طرف مائل ہوتی ہے اور دستنبو میں یہ عنصر بھی نہیں ہے۔ البتہ اصلاح پسندی اور غالب کے بیانات میں ایک قدر مشترک ضرور ہے جو ’’یورپ بہ طور مرکز‘‘ کی شکل میں منتج ہوتی ہے۔ دراصل غالب نے اپنے بیانیاتی متن کو فکری سطح پر کمال ہوشیاری سے ترتیب دیا تھا۔ مندرجہ بالا اقتباس کو محض صغیری بیانیے نہیں سمجھنا چاہیے، یہ ایک ہوشیار شخص کا عمل ذہن سازی ہے۔ یہ استعماری کبیری بیانیوں کی صدائے بازگشت ہے۔ یہ وہی باتیں ہیں جو میکس مولر، مل، ولیم بینٹک اور میکالے وغیرہ نے کہی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ غالبؔ نے مشرقی تصورات و اقدار کے پردے میں گمراہ کُن طریقے سے پیش کیا ہے۔ اپنے استنباط کو جواز و اساس فراہم کرنے کے لیے غالب  ایران پر عرب قبضے کی یاد دہانی کراتے ہوئے لکھتے ہیں:

عربوں کے تازیانے سے جو زخم لگے تھے، مبارک مذہب (اسلام) کی خوبیاں ان زخموں کا مرہم بن گئیں۔ ۰۰۰ اہلِ ایران نے آتش پرستی سے منہ موڑ کر خدا پرستی کا راستہ دیکھا، لیکن ہندوستان والے منصف حاکموں (انگریزوں) کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر درندہ صفت انسان کے دام میں گرفتار ہوگئے۔ ]۱۰[

اپنے ان خیالات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے غالب کچھ ایسے واقعات کا ذکر کرتے ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آنکھوں دیکھی رقم کررہے ہیں۔ اس دعوے کا واضح عندیہ یہی ہے کہ غالب جو کچھ لکھ رہے ہیں وہ صداقت پر مبنی ہے۔ غالب کے اس دعوے پر شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے البتہ ان واقعات کے بیان میں وہ عنصر بھی پوشیدہ ہے جسے میں نے افترائی صغیری بیانیے کا نام دیا ہے۔ چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے:

میں جانتا ہوں کہ اس یلغار میں عام حکم یہ ہے کہ جو شخص اظہار اطاعت کرے اس کو قتل نہ کیا جائے، مال چھین لیا جائے اور جو شخص مقابلہ کرے، مال کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی بھی چھین لی جائے۔ مقتولین کے متعلق یہ خیال ہے کہ انہوں نے یقینا اطاعت نہیں کی، اسی وجہ سے ان کو قتل کردیا گیا۔ مشہور بھی یہی ہے کہ عموماً سامان لوٹ لیتے ہیں قتل نہیں کرتے۔ بہت کم ایسا ہوا ہے اور وہ بھی صرف دو تین کوچوں میں کہ پہلے قتل کردیا پھر سامان لوٹ لیا (البتہ) بوڑھوں، عورتوں اور بچّوں کا قتل روا نہیں رکھا۔  ]۱۱[

———————

بے چاری عورتوں اور گہوارے میں کھیلتے ہوئے بچوں کو قتل کیا (حالانکہ) سب جانتے ہیں کہ اپنے آقا سے بے وفائی کرنا گناہ ہے (اس کے مقابلے میں) ان انگریزوں کو دیکھو کہ جب دشمنی (کا بدلہ لینے) کے لیے لڑنے اُٹھے اور گناہگاروں کو سزا دینے کے لیے لشکر آراستہ کیا، چونکہ (وہ) شہر والوں سے بھی برہم تھے، تو موقع تو اس کا تھا کہ (شہر پر) قابض ہونے کے بعد کتّے بلّی (تک کو) زندہ نہ چھوڑتے۔ ]۱۲[

———————

افسوس وہ انصاف سکھانے والے پیکرِ علم و حکمت، خوش اخلاق و نیک نام حاکم! اور صد افسوس وہ پری چہرہ نازک بدن خواتین جن کے چہرے چاند (کی طرح چمکتے تھے) اور جن کے بدن کچّی چاندی کی طرح (دمکتے) تھے! حیف وہ بچّے جنہوں نے دنیا ابھی (اچھی طرح) دیکھی بھی نہیں تھی، جن کے ہنس مُکھ چہرے گلاب و لالہ کے پھولوں کو شرماتے تھے اور جن کی خوش رفتاری کے سامنے کبک اور ہرن کی رفتار بد نما معلوم ہوتی تھی، یہ سب ایک دم قتل و خون کے بھنور میں پھنس کر (بحر فنا میں) ڈوب گئے۔ ]۱۳[

ظاہر ہے مجاہدین آزادی سے جو زیادتیاں ہوئیں انھیں لکھنے والے غالب پہلے اور واحد شخص نہیں ہیں۔ غالب سے پہلے ایسے علما جنھوں نے انگریزوں کے خلاف جنگ کو جہاد قرار دیا تھا اور ۱۸۵۷ کے وقوعے کی اخلاقی حمایت کی تھی، ہندوستانیوں کی منتقمانہ اور منافرانہ کاروائیوں کو دیکھتے ہوئے اسے بلوا اور فساد قرار دے کر خود کو عملی اور فکری طور پر الگ کرلیا۔ مجاہدین آزادی سے سرزد ہونے والی زیادتیوں کو ظلم و جور سے تعبیر کرنے کے باوجود کسی نے غالب کی طرح ہندوستانیوں کو بھیڑیے، نمک حرام اور آقا کش نہیں کہا۔ اس کتاب کے تیسرے جزو کے بیانات کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ غالب نے اس متن کو ذاتی منفعت کے حصول کے لیے ترتیب دیا تھا جو خطاب، خلعت اور پنشن کی آرزو پر مبنی ہے۔ ان بیانات سے غالب کی ذہنی اور قلبی وابستگی نہیں تھی۔ شاید اسی لیے غالب نے اسے ایک ایسی ناقابل فہم زبان میں تحریر کیا جو عوام تو کیا خواص بھی مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر تھے۔

غالب کے یہ صغیری بیانیے انگریزوں کے لیے زیادہ سود مند ہوسکتے تھے اگر اصلاح یا احیا کی طرف مائل ہوتے۔ کیوں کہ انگریزوں کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ وہ ہندوستان کی آزادی میں زیادہ دنوں تک مانع نہیں رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا وہ آزادی کی تحریکوں کو ایسی راہ پر ڈالنا چاہتے تھے جس سے نہ صرف ہم اور وہ کا فرق قائم رہے بلکہ اس فرق کے ساتھ ہندوستان سے ان کا تعلق طویل مدتی ہو۔ نوآباد کار صرف انقلابی جوش کے ذریعے وجود میں آنے والے سیاسی انقلاب اور اس کے بھیانک اثرات سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ وہ تاریخ پر دسترس حاصل کر کے علم کو اپنے اقتدار کی مظبوطی کے لیے بطور وسیلہ استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ظاہر ہے اس حوالے سے دستنبو ان کے کسی کام کی نہیں تھی۔ ممکن ہے استعماریت کو اس سے کچھ جزوی فائدہ پہنچے ہوں لیکن وہ دور رس ثمرات نہیں ملتے جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غالب اس کتاب کے ذریعے بھی مقصد براری میں ناکام رہتے ہیں۔ دستنبو استعماریت کی آواز سے آواز ملانے اور اس سے ایفاے عہد رکھنے کے باوجود استعماری استحکام میں وہ کردار ادا نہیں کرتی جو اصلاحی اور احیائی صغیری بیانیے کرتے ہیں، شاید اسی لیے یہ کتاب مابعد نوآبادیاتی مطالعے کی توجہ بھی حاصل نہیں کرسکی۔ یوں بھی اس تعلق سے غالب کی ذہنی اور قلبی وابستگی کا حقیقی تعین خطوط کی روشنی میں ہی کیا جاسکتا ہے۔

 

حوالے:

۱۔ نیر، ناصر عباس، ۲۰۱۳، یورپ بطور کبیری بیانیہ، مشمولہ: مابعد نوآبادیات اردو کے تناظر میں، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، پہلی اشاعت، ص: ۵۸

۲۔ فاروقی، شمس الرحمن، ۲۰۱۱، نوآبادیاتی شعریات اور ہم، مشمولہ: دانش، ش: ۷، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، ۲۰۱۰-۲۰۱۱، ص: ۷

۳۔ احمد، لیلیٰ، ۲۰۱۱،  حجاب سے متعلق ایک ڈسکورس، مترجمہ: ارجمند آرا، مشمولہ: دانش، ش: ۷، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، ۲۰۱۰-۲۰۱۱، ص: ۱۳۹

۴۔ ——-، ص: ۱۳۹ تا ۱۴۱

۵۔ نیر، ناصر عباس، ص: ۷۲

۶۔ غالب، مرزا اسداللہ خان، دستنبو، مترجم، شریف حسین قاسمی، غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی، ص: ۷۵

۷۔ ایضاً، ص: ۷۵

۸۔ ایضاً، ص: ۷۴

۹۔ غالب، مرزا اسداللہ خان، دستنبو، مترجم: مخمور سعیدی، قومی کونسل براے فروغ اردو زبان، ص: ؟

۱۰۔ غالب، ترجمہ: شریف حسین قاسمی، ص: ۷۷

۱۱۔ ایضاً، ص: ۱۰۴-۱۰۵

۱۲۔ ایضاً، ص: ۱۰۵

۱۳۔ ایضاً، ص: ۸۱-۸۲

محمد مقیم

شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ

        نئی دہلی

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مرزا غالب۔ ڈاکٹر رضی الدین عقیل
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں