مولانا صدر الدین اصلاحی کے افکار کا تنقیدی مطالعہ- مبصر: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
دو برس ہوئے، عزیزی محمد اسامہ کو ”برصغیر ہندوپاک میں فکر اسلامی کے شارح: مولانا صدر الدین اصلاحی – ایک مطالعہ“ کے عنوان پر شعبہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ ہوئی تھی۔اسی وقت سے شائقین کا تقاضا تھا کہ اسے کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔خوشی کی بات ہے کہ اس کا ایک باب، جو مولانا مرحوم کے افکار کے تنقیدی مطالعہ پر تھا، زیرِ نظر کتاب کی صورت میں طبع ہوگیا ہے۔
اس کتاب کی اشاعت ”مولانا صدر الدین اصلاحی:بعض فکری جہات کا مطالعہ“ کے نام سے ہوئی ہے۔اس میں مولانا اصلاحی کے ان افکار کا مطالعہ کیا گیا ہے:(1) اقامتِ دین کا تصور (2)دین کا حقیقی تصور (3)حقیقتِ نفاق (4)صحابہ کرام کی طرف نسبتِ جاہلیت (5)اسلام کا تصوّرِ جہاد (6) تصوّرِ خلافت (7) نظمِ اجتماعی کی بحالی کا طریقہ (8) قرآن مجید کی ترتیب (9) جمہوریت اور تحریک اسلامی۔ مصنف نے مولانا کی کتابوں کے اقتباسات سے ان کے افکار کو مدلّل کیا ہے، دیگر اہلِ علم نے ان پر جو تنقیدیں کی ہیں انہیں نقل کیا ہے اور کہیں کہیں ان کا محاکمہ بھی کیا ہے۔خوبی کی بات یہ ہے کہ مصنف کا قلم پوری کتاب میں غیر جانب دار رہا ہے اور انھوں نے قلم کی متانت اور سنجیدگی کو برقرار رکھا ہے۔
عزیزی ڈاکٹر محمد اسامہ، شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گیسٹ فیکلٹی ہیں۔خود ان کے بیان کے مطابق انہوں نے 25 سے زائد قومی و بین الاقوامی علمی مذاکروں میں شرکت کی ہے اور 76 مضامین اور تبصرے ملک و بیرون ملک کے مؤقر رسائل و جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔مجھے یاد نہیں کہ میں نے تھیسس لکھنے کے دوران میں ان کا کتنا تعاون کیا تھا؟ لیکن انہوں نے اپنے مقدمے جن لوگوں کے لیے تشکر کا اظہار کیا ہے اور جن لوگوں سے انٹرویو لیے ہیں، دونوں میں میرا نام شامل ہے،اس پر ان کا شکریہ تو بنتا ہے۔
یہ کتاب”منشورات پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز“نامی اشاعتی ادارہ نے بہت اہتمام سے شائع کی ہے۔صفحات:94،قیمت:150 روپے (پیپر بیک) 250 روپے (مجلد)

