چند مشہور مفسرین اور ان کی تفسیریں/ ڈاکٹر محمد تحسین زماں-نوشاد منظر
ڈاکٹر محمد تحسین زماں کا تعلق بہار کے مونگیر ضلع سے ہے مگر انہوں نے اپنی پوری تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے حاصل کی ہے. انہوں نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز سے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے تو دوسری جانب بی ایڈ اور ایم ایڈ کی سند بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حاصل کی ہے. فی الوقت وہ شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر (کنٹریکٹ) کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں.
زیر تبصرہ کتاب ” چند مشہور مفسرین اور ان کی تفسیریں ” ڈاکٹر محمد تحسین زماں کی تنقیدی کتاب ہے.
قرآن مجید اللہ تبارک تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو متقی اور پرہیز گاروں کے لیے ہدایت کی راہ ہموار کرتی ہے. گرچہ اللہ کی اس کتاب کو مسلمانوں تک محدود رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اللہ نے قرآن کو پوری دنیا کے لیے دستور بنا کر پیش کیا ہے. یہی نہیں بلاغت و فصاحت میں بھی اس کتاب کے مد مقابل کوئی دوسری کتاب نہیں یہ بات مسلمان ہونے کے ناطے یا جذبات میں کہی گئی بات نہیں بلکہ جو لوگ تاریخ کے علم سے واقف ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ عہد نبوی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم میں بھی مخالفین کا ایک طبقہ جو عربی زبان کی باریکیوں سے واقف تھا وہ اس بات کا اعتراف کرتا تھا کہ قرآن فصاحت و بلاغت کا اعلی ترین نمونہ ہے. جہاں تک قرآن میں پیش کردہ احکامات کا تعلق ہے تو بقول پروفیسر اقتدار محمد خان ” اس میں بہت سے احکام واضح اور کھلے الفاظ میں ہیں تو بعض باتیں کنایے اور استعارے کے پردے میں مذکور ہیں اور بہت سے احکام میں ابہام ہے”
کسی بھی فن پارے کی تشریح و تعبیر کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے تاکہ اس میں پیش کردہ مواد کی نہ صرف وضاحت کر دی جائے بلکہ بین السطور جو مسائل ہوتے ہیں اس کو بھی قارئین پر روشن کردیا جائے. لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے پہلے قرآن مجید کی تفسیر خود اللہ کے رسول صلعم نے پیش کی ان کے بعد صحابی رسول اور پھر تابعین کے بعد ایک سلسلہ قائم ہوا جو آج بھی جاری ہے. تفسیرکے لغوی معنی ظاہر کرنا کھول کر بیان کرنا ہے اصطلاحی معنوں میں قرآن کریم کے کسی لفظ کی تشریح و توضیح کو تفسیر کہتے ہیں. گویا قرآن مجید کے احکامات، مطالب و معانی اور اسرار و حکم کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کا نام تفسیر ہے.
زیر نظر کتاب کو ڈاکٹر محمد تحسین زماں نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے. کتاب کا پہلا باب ” علم تفسیر اور اس کا ارتقا” ہے. اس باب میں مصنف نے قرآن، تفسیر کے لغوی معنی، تفسیر کا ارتقا، علم تفسیر کی اہمیت و ضرورت، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے جیسے عنوانات قائم کیے ہیں. مصنف نے قرآن اور اس کی خصوصیات کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ تفسیر کے ارتقا اور اس کی اہمیت پر تفصیل سے گفتگو کی ہے. تفسیر کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ ‘تفسیر کا فائدہ یاد دہانی، عبرت آموزی اور عقائد و عبادات و معاملات اور اخلاق میں الہی ہدایات کا معلوم کرنا ہے تاکہ فرد اور معاشرہ دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو.’
کتاب کا دوسرا باب. عربی مفسرین اور ان کی تفسیریں’ ہے. اس ضمن میں انہوں نے سات عربی مفسرین کی خدمات کا جائزہ لیا ہے. جن مفسرین پر مصنف نے گفتگو کی ہے ان میں ابن جریر طبری، فخر الدین رازی، زمخشری، ابن کثیر، جلال الدین سیوطی، جلال الدین المحلی، بیضاوی کے نام شام ہیں کتاب کا تیسرا باب’ اردو مفسرین اور ان کی تفسیریں’ ہے. اس باب میں بھی سات مفسرین سرسید احمد خان، ابو الکلام آزاد، ابو الاعلی مودودی، امین احسن اصلاحی، مفتی محمد شفیع، اشرف علی تھانوی اور پیر محمد کرم شاہ ازہری کے نام شامل ہیں.
تحسین زماں نے نہایت اہم کام انجام دیا ہے، یہ کتاب نہ صرف تفسیر بلکہ مفسرین کا بھی جائزہ پیش کرتی ہے. محمد تحسین زماں نے عربی اور اردو کے اہم مفسرین کا عرق ریزی سے مطالعہ کیا ہے. میں ان کے اس اہم کام پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب اہل علم حضرات کی نظر میں اپنا مقام حاصل کرے گی.
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

