مولانا آزاد کی صحافتی زندگی کا آغاز بہت کم عمری میں ہی ہوگیا تھا جب ان کی عمر صرف گیارہ سال ہی تھی ۔ممبئی کے مشہور گلدستہ ’’ارمغان فرخ‘‘ میں جب ان کی پہلی غزل چھپی تو اس وقت ان کے ذہن میں گلدستہ نکالنے کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے ۱۸۹۹ ء میں ’’نیرنگ عالم‘‘ ایک رسالہ جاری کیا جو صرف آٹھ ماہ جاری رہا اور پھر بند ہوگیا۔ پہلا اخبار جو ہفتہ وار تھا اور جسے مولانا نے ایڈٹ کیا تھا ’’المصباح‘‘ تھا یہ 1900 کے اواخر کی بات ہے اور اس وقت مولانا کی عمر صرف بارہ سال تھی ایڈیٹر کی حیثیت سے ’’ المصباح‘‘ نقش اول تھا۔ اس اخبار میں ایک صفحہ علمی مضامین کا تھا، ایک صفحہ تاریخ اور سوانح عمری کے لیے تھا۔ امام غزالی، نیوٹن اور مسئلہ کشش ثقل وغیرہ کے متعلق مولانا کے مضامین سامنے آئے۔ چند ماہ کے بعد یہ بھی بند ہو گیا۔اس کے بعد ’’مخزن‘‘ میں جو عبدالقادر کی ادارت میں نکل رہا تھا بعض مضامین لکھے۔ ’’احسن الاخبار‘‘ کی ترتیب کی ذمہ داری لی۔ ’’تحفہ احمدیہ‘‘ میں معاونت کے فرائض انجام دیے۔ ’’ایڈورڈ گزٹ‘ کی ترتیب کی ذمہ داری قبول کی ۔منشی نوبت رائے نظر نے اپنے گلدستہ ’خدنگ نظر‘‘ جو لکھنؤ سے نکلتا تھا، اس کے حصہ نثر کی ایڈیٹری کی ذمہ داری سونپی ۔اس کے علاوہ ملک کے معروف رسائل اور اخبارات میں مولانا کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ ان تحریروں کی اشاعت نے اہل علم کو نہ صرف ان کی طرف متوجہ کردیا تھا بلکہ آزادکی مدیرانہ صلاحیتوں کے معترف ہونے لگے تھے۔ ماہناموں اور اخباروں سے تعلق نے ان میں صحافت سے گہرا لگاؤ پیدا کردیا اور اب وہ ایک مستقل، ادبی، علمی، اخلاقی، تاریخی، معاشرتی اور سائنٹفک ماہنامہ نکالنے کی فکر کرنے لگے۔ مولانا آزاد خود رقم طراز ہیں:
’’۔۔۔۔اس کے بعد اس سے بلند ترمقام یہ تھا کہ کسی اخبار یا رسالے کے ایڈیٹر ہوں‘‘۔
(آزاد کی کہانی صفحہ۲۷۵۔ ۲۷۴)
چنانچہ جلد ہی وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور صرف پندرہ سال کی عمر میں انہوں نے ماہنامہ’’ لسان الصدق‘‘ جاری کرکے اپنی دیرینہ خواہش کی تکمیل کی۔اس کا پہلا شمارہ ۲۰ نومبر ۱۹۰۳ کو ہادی پریس کلکتہ سے شائع ہوا۔ لسان الصدق کے پہلے شمارے سے ہی مولانا آزاد کے انداز فکر، قوم و ملت کی خدمت کا جذبہ ناقدانہ نظر اور پراعتماد انداز فکر کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ رسالہ کم عمری اور حالت علالت میں جاری ہوا تھا اس کے باوجود اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور معاصرین نے تعریفی ریویو لکھے۔مولانا آزاد نے خود اپنے دوسرے شمارے (دسمبر ۱۹۰۳ میں لکھا ہے کہ:
’’گذشتہ پرچہ جو بالکل حالت علالت کی تحریرات کا نتیجہ تھا، ہمیں بڑی مسرت ہے، کہ خلاف توقع بہت مقبول ہوا اور ہمارے علم دوست اور نکتہ سنج احباب نے اسے نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا۔‘‘
اس سلسلہ میں عبدالرزاق ملیح آبادی کا بیان ملاحظہ ہو:
’’جب یہ رسالہ ریویو کے لیے معاصرین کے پاس پہونچا تو بہت ہی تعریفی ریویو کیے گئے علی الخصوص مخزن وغیرہ سربرآوردہ رسائل نے‘‘۔
(عبدالرزاق ملیح آبادی:آزاد کی کہانی خود آزادکی زبانی، صفحہ303-304، حالیؔ پبلشنگ ہاؤس۔دہلی ۱۹۵۸
’’لسان الصدق‘‘ کے مقاصد اربعہ پر نظر ڈالیے تو یقین نہیں آتا کہ اس کم عمری میں اس قدر ذہن پختگی اور علمی بصیرت و دیت ہوگئی تھی۔مقاصد اربعہ تھے۔
(۱) سوشل ریفارم : یعنی مسلمانوں کی معاشرت اور رسومات کی اصلاح کرنی
(۲) ترقی اردو: یعنی اردو زبان کی علمی اور ادبی ترقی کی کوشش کرنی
(۳) تنقید: یعنی ملک کی مشہور تصنیفوں اور اخباروں پر منصفانہ ریویو کرنا۔
(۴) علمی مذاق کی اشاعت بالخصوص بنگالہ میں۔
ان مقاصد اربعہ کی وضاحت تفصیل کے ساتھ پہلے شمارے میں کی گئی ہے۔ شمارے کے پہلے صفحہ کے نصف حصہ پر مولانا آزد کی یہ عبارت درج ہے:
’’الصدق ینجیٰ والکذب یھلک‘‘ لسان الصدق کا دستور العمل ہے۔اس کا فرض ہے کہ یہ قوم کو کذب سے بچائے اور راستی پر لائے ۔جب اس کا فرض منصبی صرف حق گوئی قرار دیا گیا تو اس کی امید قوم کو اس سے نہیں رکھنی چاہیے کہ یہ انہیں ایسے ترانے سنائے گا جو نہایت شیریں معلوم ہوں گے۔سچی بات ہمیشہ کڑوی معلوم ہوتی ہے۔ پھر سچائی کی زبان ، کیوں کر شیریں معلوم ہوگی۔ یہ ہمیشہ تم کو کڑوی کسیلی باتیں سنائے گا جو اگرچہ تمہیں ناگوار معلوم ہوں گی۔لیکن اس زمانے کو دورنہ سمجھو جبکہ صدق کا ینجیٰ ہونا اور کذب کا مہلک ہونا تم پر ظاہر ہوجائے گا۔‘‘
(لسان الصدق، مرتب عبدالقوی وسنوی، ص۱۹،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ۲۰۱۱)
لسان الصدق کا دستور العمل اور اس کے مقاصد پر غور کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ کیا جاسکے۔ مقاصد کے دائرے میں سچائی اور راست بازی کو لسان الصدق کی روح قرار دیا گیا۔ پہلے شمارے کے آخری حصہ پر مولانا آزاد نے ایک بارپھر دہرایاکہ:
’’اس رسالے کا موٹو الصدق ینجی والکذب یھلک ہے۔ اور یہ ہمیشہ سچائی کو پسند کرے گا اور اپنے سچے بہی خواہوں کی زبان سے اپنے عیوب کو سن کر اس کی اصلاح میں کوشش کرتا رہے گا۔‘‘
لسان الصدق کی تحریروںسے مولانا آزاد کے ابتدائی مزاج، ناقدانہ نظر اور ان کی صلاحیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ’’حیات جاوید‘‘ پر تنقیدی مضمون پر اعتراض کا جواب اور انڈین نیشنل کانگریس کے تعلق سے ان کی دلچسپی کا اندازہ اس کے ہونے والے بتیسویں اجلاس کی خبر سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ دارالسلطنت ہند میں اک عمدہ اردو پر یس کی کمی، انجمن حمایت اسلام لاہور، ترقی اردو، ولایتی اور دیسی الفاظ، المعتزلہ، محمڈن ایجوکیشنل کا نفرنس علاقہ ممبئی اور مرحوم سرسید احمد خاں، مبادلہ سنیں اور لسان الصدق، ترقی اردو نمبر ۲، ۱ انجمن ترقی اردو وغیرہ مولانا آزاد کے اہم مضامین ہیں۔ یہ وہ ابتدائی نقوش ہیں جنہوں نے مولانا آزاد کو نہ صرف ادبی بلکہ علمی اور مذہبی حیثیت سے ملک کے سامنے پیش کیا۔ اس کے لکھنے والوں میں محمد یوسف رنجور عظیم آبادی، ابوالنصر آہ دہلوی، شمس العلما مولانا شبلی، رضا علی و حشت، سید محمد سعید بلگرامی، محسن الملک، ایس ایم شفیع اور مولوی صادق حسین اثیم دہلوی وغیرہ نئے اور پرانے دونوں طرح کے قلم کاروں کے نام قابل ذکر ہیں۔
۱۹۰۴کے اگست اور ستمبر کے شمارے میں اعلان کیا گیا کہ جنوری سے لسان الصدق کے مقاصد میں ایک مقصد اور بڑھایاجائے گا اور وہ ہے ’’اصلاح خیالات‘‘ اور اس کی تشریح مولانا آزاد نے ان الفاظ میں کی:
’’اس کا مفہوم صرف اتنا ہے کہ قدم میں مذہبی، اخلاقی، تاریخی اور علمی غلط فہمیاں طبیعت ثانی ہوکر پھیل گئی ہیں ان کو مختلف دلائل اور مختلف علمی ذرائع سے دور کرنے کی کوشش کرنا، خیالات میں صلاحیت پیدا کرکے تاریکی سے نکالنا اور روشنی کا عادی بنانا تاکہ آئندہ نسلیں ان کمزوریوں سے محفوظ رہیں اور آنے والا زمانہ تو ہمات کی تاریکی سے پاک صاف ہوجائے۔‘‘
اس کے علاوہ جنوری سے ہی ’’مشاہیر الشرق‘‘ کا سلسلہ بھی شروع کرنے کا اعلان ہوا نیز ترتیب مضامین کی صورتوں پر بھی توجہ دی گئی۔
عبدالقوی دسنوی کو سب سے پہلے لسان الصدق کے مضامین مرتب کرکے شائع کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ انہوں نے پہلے ۱۹۶۷ میں جولائی۱۹۰۴ تک کے آٹھ شمارے شائع کیے۔اس کی ترتیب کے بارے میں وہ رقمطراز ہیں:
’’ گذشتہ چند سالوں میں بعض ایسے مضامین نظر سے گذرے جن سے خیال پیدا ہوا کہ اس رسالے کے متعلق بہت کم لوگوں کوصحیح واقفیت حاصل ہے۔ بعض حضرات اس کی صحیح تاریخ اجرا اور زمانے سے بھی واقف نہیں ہیں اور محض قیاس آرائی اورسنی سنائی باتوں پر بھروسہ کرکے اس رسالے سے متعلق اظہار خیال کردیتے ہیں۔ چنانچہ خیال ہوا کہ اس کے وہ مضامین جو مولانا آزاد کے تحریر کردہ ہیں ترتیب دے کر شائع کردیے جائیں تاکہ مولانا کی تحریر وں سے دلچسپی رکھنے والے ان کے اس زمانہ کے انداز تحریر اور فکر و خیال سے آگاہی حاصل کرسکیں‘‘۔
کئی سالوں کی کوشش کے بعد لسان الصدق کے باقی چار شمارے ابو سلمان شاہ جہاں پوری سے ان کو ستیاب ہوئے اور انہوں نے ۱۹۸۸ میں ’’ماہوارلسان الصدق‘‘‘ کے نام سے دوبارہ اس کو شائع کیااور انیس سال کے بعد یہ کام مکمل صورت میں عوام الناس کے سامنے آسکا۔ ماہوار لسان الصدق میں جلد نمبر اول نومبر ۱۹۰۳ سے اپریل مئی ۱۹۰۵ تک کے کل تیرہ شمارے یعنی ۱۹۰۳ میں نومبر اور دسمبر کے دو شمارے ، ۱۹۰۴ میں جنوری، فروری، مارچ، اپریل، مئی، جون ، جولائی ، اگست، ستمبر کے کل نو نمبر اور ۱۹۰۵ میں دو نمبر اپریل اور مئی کے شائع ہوئے۔اس کے بعد اس کا کوئی شمارہ دستیاب نہیں ہوسکا۔ اس ضمن میں ’’سیاحت ہند‘‘ میں حافظ عبدالرحمن صاحب امرتسری نے لکھا ہے کہ:
’’آج سے کچھ دنوں بیشتر ایک رسالہ’’ لسان الصدق‘‘ مولوی ابوالکلام محی الدین آزاد دہلوی کے زیر اہتمام نکلتا تھا مسلمانوں کی اصلاح معاشرت اور اسلامی علوم پر اکثر لطیف بحثیں اس میں ہوا کرتی تھیں، آزاد صاحب اگرچہ نوجوان ہیں، مگر ان کی تحریریں پرزور اور تقریریں بہت دلچسپ ہوتی تھیں۔ ممبئی کو نقل مکان کرنے سے یہ رسالہ اب بند ہو گیا ہے۔‘‘
(عبدالرحمن امرتسری، سیاحت ہند، ص: ۳۳۴-۱۹۰۹)
عبدالقوی دسنوی نے آخر میں دو ضمیمے اصول زندگی (معاشرانہ زندگی) کے عنوان سے شامل کیا ہے۔ اس طرح عبدالقوی دسنوی نے ماہوار لسان الصدق شائع کرکے لسان الصدق کی نایاب کاپیوں کو عام قاری تک پہنچادیا۔
لسان الصدق کے جاری کرنے کا زمانہ وہ ہے جب مولانا آزاد ، سر سید اور حالی وغیرہ سے کافی متاثر تھے۔ مولانا کے اسلوب کے بارے میں بعض لوگوں نے یہ رائے دی کہ انہوں نے اردو نثر کی فطری ساگی کو مجروح و مضروب کیا جو سرسید و حالی سے چلی تھی وار اس طرح انہوں نے اردو کی افادیت کو دھچکا پہنچایا۔ لیکن لسان الصدق کے مطالعہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا اسلوب نہایت سادہ اور پراثر ہے ان میں فارسیت یا عربیت کا غلبہ نہیں ہے۔ وہ مجموعی طور پر سادگی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ جملوں کی ساخت ، الفاظ کی تراش خراش، لب ولہجہ اور انداز سب سے سرسید اور ان کے رفقاء کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ ان کا تجرباتی دور تھا اور ابھی ان کی انفرادیت نے اپنے اصل خدوخال نہیں نکالے تھے ۔بہرحال مجموعی حیثیت سے یہ ماہنامہ نہ صرف مفید ہے بلکہ ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کی معاونت کرتا ہے اور سیاسی بصیرت کے اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
عبدالقوی دسنوی کی رائے ’’لسان الصدق‘‘ کے متعلق ملاحظہ ہو:
’’مجموعی حیثیت سے یہ ماہنامہ ہر لحاظ سے نہایت مفید تھا۔ اس نے اپنی مختصر عمر میں اہل علم کو اپنی طرف متوجہ کردیا تھا اور مولانا آزاد کا قدرداں بنا دیا تھا۔ اس کے مشمولات کسی نوعمر کی کوششوں کا ’نتیجہ نہیں معلوم ہوتے بلکہ کسی تجربہ کار مدیر‘ سن رسیدہ قلمکار اور سنجیدہ ہمدرد قوم کی فکر اور دلچسپی کا حاصل معلوم ہوتی ہیں۔ آزاد نے اس جریدہ میں کوئی چیز دوسرے درجہ کی نہیں شامل کی اور نہ محض رسالہ شائع کرنے اور مدیر بننے کی کوشش میں اس کی اشاعت سے دلچسپی لی۔۔۔معاشرے کے مختلف طبقوں میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔‘‘
(حیات ابوالکلازاد:عبدالقوی دسنوی ص:۱۹۶ موڈرن پبلشنگ ہائوس،نئی دہلی،۲۰۰۰)
’’لسان الصدق‘‘ کی اشاعت پر مولوی محمد یوسف جعفری رنجور عظیم آبادی نے جو تاریخی اشاعت قلمبند کی تھی وہ حسب ذیل ہے۔
رہے گی قوم نہ گم کردۂ رہے مقصود
کہ فضل حق سے ہوا رہنما لسان الصدق
خدا نے چاہا تو اب قوم کا ہے بیڑا پار
کہ اس کی کشتی کا ہے نا خدا لسان الصدق
وبا جو قوم میں پھیلی ہے جہل و غفلت کی
ہے اس کے حق میں مجرب دوا لسان الصدق
جہاں تک اس کی کرے قوم قدر وہ کم ہے
کہ واقعی ہے درِبے بہا، لسان الصدق
جو ہاتھ حضرتِ آزادؔ سا ایڈیٹر آئے
نہ کیوں ہو ملک میں شہرہ تیرا لسان الصدق
ہوئی جو سالِ اشاعت کی فکر دل بولا
کس آب و تاب سے شائع ہوا لسان الصدق
(لسان الصدق: جلد۱، نمبر۱، مرتب عبدالقوی دسنوی، ص ۲۸، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، ۲۰۱۱)
نوٹ: مضمون نگار نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی ہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

