انسان فطرتاً تنوع پسند واقع ہوا ہے۔ وہ مستقل ایک مقام پر رہتے ہوئے اکتاہٹ اور بے چینی محسوس کرنے لگتا ہے۔ یکسانیت سے گریزاں فطرت اسے نقل مکانی پر اکساتی ہے اور مسافت طے کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی آمادگی سفر کا نقطۂ آغاز ہے اور مسافت طے کرنے کے اسی عمل کو سفر کہتے ہیں۔ اس بات کو سمجھ لینے کے بعد جب ہم سفر کا تصور کرتے ہیں تو ایک ایسے متحرک انسان کی شبیہ ذہن میں ابھرتی ہے جو اپنا گھر بار، اہل و عیال، عزیز و اقارب دوست احباب اور درو دیوار سے جدا ہو کر انجان راہوں پر گامزن ہوتا ہے۔ جس کی مانوس دنیا، غیرمانوس اور اجنبی ماحول میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ سارے کا سارا منظرنامہ بدل جاتا ہے۔ اجنبی فضا اور ان دیکھے مناظر ایک نئے طرز احساس کی اساس فراہم کرتے ہیں۔ فضا اور ماحول کی اجنبیت سے سفر میں تجسس اور تحیر خیزی کا عنصر شامل ہوجاتا ہے۔ یہی تحیّر خیزی مہم جو افراد کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہے۔ ان کے دلوں کو گرماتی اور حوصلوں میں بلندی پیدا کرتی ہے۔ یہاں نئی دنیا کو دیکھنے اور نئے معلومات حاصل کرنے کا شوق انھیں گھروں سے نکال کر راہ کی صعوبیتں برداشت کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ آج کا سفر نسبتاً آسان تر ہے لیکن قدیم زمانے میں یہ عمل خاصا دشوار گزار اور بعض حالات میں جان و مال کو خطرات میں ڈالنے والاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب نے مسافر کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیا ہے اور مسافر وں کو مختلف رعایتوں سے نوازا ہے۔
اسلام نے صوم و صلوٰۃ جیسے فرائض میں بھی مسافر کے لیے نرمی برتی ہے۔ اور نے سفر کو کامیابی کی کنجی قرار دیا ہے۔ ’سفر وسیلۂ ظفر‘ کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نے ’سیروفی الارض‘ کے ذریعے انسان کے عزم سفر کی زبردست حوصلہ افزائی کی ہے۔حضرت آدم کے سفراولیں سے نبیٔ آخرالزماں کے سفرہجرت تک بہت سے پیغمبروں نے اپنے اسفار کو حصول مقاصد اور تبلیغ دین کا ذریعہ بنایا اور کامیاں حاصل کیں۔ قرآن کریم میں حضرت نوحؑ ،حضرت یوسفؑ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے جلیل القدر انبیائے کرام کے حالات سفر موجود ہیں۔ مذاہب عالم کی سفر پسندی کی بڑی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ سفر ہی ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو جسمانی اور ذہنی طور سے متحرک اور بیدار رکھتا ہے اور یہی بیداری انسان کو مکمل انسان بناتی ہے سفر کے وسیلے سے انسان کی شخصیت میں ہوائوں کی پاکیزگی اور لطافت ، پھولوں کاحسن او نفاست عقابوں کا حوصلہ اور بلندپروازی، پہاڑوں کی بلندی اور عظمت ،سمندروں کی گہرائی اوروسعت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نگاہ میں بلندی ، سخن میں تازگی، روح میں بالیدگی، قلب میںکشادگی ، خود اعتمادی ، وسیع القلبی ، کشادہ نظری اور اولوالعزمی کے وہ جوہر پیداہوجاتے ہیں جو کسی اور ذریعہ سے پیدا ہونا ممکن نہیں۔ ان تمام خصوصیات سے متصف ہوکرجب مسافر یاسیاح اپنا سفر نامہ لکھتا ہے اور اپنے تجربت و مشاہدات میں دوسروں کو شریک کرتا ہے تو اپنے اس عمل کے ساتھ دوسروں سے افضل ہوجاتا ہے۔
سفرنامہ ایک قدیم اور بیانیہ صنف ادب ہے جسے اس کی داخلی معنویت کے پہلو بہ پہلو سفرنامہ نگار کا اسلوب نگارش مزید پرکشش ، اورجاذب توجہ بناتا ہے۔ تکنیک کے لحاظ سے سفرنامہ نگار، دوران سفر یا سفر سے واپسی پر اپنے خطوں یادداشتوں ،ڈائریوں یا روزناموں کی مدد سے جو واقعات ترتیب دے کررقم کرتا ہے وہ سفرنامہ ہے۔ سفرنامے کا تمام تر مواد گرد و پیش میں بکھرے ہوئے مناظر و مظاہر اور تجربات و مشاہدات سے اخذ کیا جاتا ہے۔ سفر نامہ نگار محض ایک بے جان کیمرے کی آنکھ نہیں، دل ، دماغ اور زبان بھی رکھتا ہے۔ اس لیے وہ ہر شے سے متاثر ہوتا اور اپنے جذبات و تاثرات کا برملا اظہار بھی کرتا ہے۔ اس پر ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔
( اسے بھی پڑھیئے اردو تلفظ : مسائل ومباحث-ڈاکٹر یوسف رامپوری )
سفرنامے کے ادب کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ اس تاریخ کا سراغ لگاتے ہوئے ہم اس عہد تک جانکلتے ہیں جہاں سیاحوں اور مسافروں کی سفر بیتیاں اور ان کے بیان کردہ زبانی قصے سفرناموں کے لیے راہ ہموار کرر ہے تھے۔ یہ قصے بیشترمبالغہ آمیز ہوتے ان میں اکثر واقعات مسخ شدہ اور حقائق ناقابل یقین ہوا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہی قصے کہانیاں سفری داستانوں کی شکل اختیار کرنے لگے۔ سفرناموں میں سب سے پہلے بحری سفر کے واقعات روزنامچوں اور گائڈ بکوں کے انداز میں لکھے گئے یہ روزنامچے بحری سفر سے متعلق حصول معلومات کا بہتر ذریعہ ثابت ہوئے۔ قدیم داستانوں میں کہانی در کہانی اور بات میں بات پیدا کرنے کی تکنیک مختلف سیاحوں کے تجربات کو یکجا کر کے دیکھنے کے شوق کا نتیجہ ہے۔ اس شوق کا ایک دلچسپ اور فطری پہلو یہ نکلتا ہے کہ ایک سچی بات بھی جب دس بیس زبانوں سے ہو کر گزرتی ہے تو اس کی ہیئت بالکل تبدیل ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر کوہ قاف کی پریاں مشہور ہیں۔ قدیم زمانے میں آذربائی جان، ازبکستان، تاجکستان، کرغزیا قزاقستان جیسے سلسلہ کوہستان قاف کی حسین دوشیزاؤں کو کسی سیاح نے دیکھا اور ان کے حسن و جمال کی تعریف وو توصیف بیان کی اور اپنی بات میں زور پیدا کرنے کی غرض سے انھیں پریوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کچھ مبالغے سے بھی کام لے لیا۔ کسی دوسرے نے تشبیہ کو استعارہ بنا دیا، یہاں تک کہ وہ حسین و جمیل لڑکیاں کوہ قاف کی پریاں بن گئیں جو لوگوں کو اڑا کر لے جایا کرتی ہیں۔ یہی کہانیاں داستانوں کی زینت بنیں۔ قوت متخیلہ نے پریوں کی رعایت سے ان کے پرلگادئیے۔ اسی طرح خوف ناک شکل و شباہت والے انسان پریوں کی بالکل ضد یعنی دیو، اور پہاڑوں جیسے ان کے پیکر تراشنے شروع کیے اس وقت سے آج تک سفرناموں اور داستانوں کا سفر جاری ہے۔
سفر نامے کے مقاصد اور موضوعات میں بڑی وسعت اور رنگا رنگی ہوتی ہے۔ سفرنامہ نگار جہاں جاتا ہے جن ملکوں کی سیر کرتا ہے وہاں کی تہذیب، ثقافت، تاریخ ، جغرافیہ، رسم و رواج ، سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی حالات کا جائزہ لے کر انھیں دوسروں سے واقف کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی اسی کوشش نے سفرناموں کو اس قابل بنایا ہے کہ ان سے تاریخی اور جغرافیائی مواد حاصل کیا جاسکے اور خصوصاًتاریخ کی ترتیب میں مقامات ، واقعات ، سانحات ، حادثات اوراسما وغیرہ کی صحت اور تصدیق ہوسکے۔ یہ سارے مقاصد اہم ہیں اور ان سے سفرناموں کی معنویت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی خیال سے محققین نے قدیم سفرناموں کا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے تاکہ ان کی قدامت سے ان میں شامل مواد کی قدامت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ مغربی محققین یونانی سیاح ہیروڈوٹس (Herodotus)کو سب سے پہلا سفرنامہ نگار مانتے ہیں۔ یہ شخص بابائے تاریخ کہلاتا ہے اور اسی کو بابائے سفرنامہ کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ یہ سفرنامہ نگار حالات سفر سے زیادہ ان کے ایسے نتائج بیان کرتا ہے جو جغرافیہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ دنیا کے سب سے پہلے سفرنامہ نگار میگستھنیز کا تعلق بھی یونان ہی سے ہے اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس کا سفرنامہ Indica(سفرنامۂ ہند) ہندوستان کے سفری حالات پر مشتمل ہے۔
میگستھنیز ۳۰۳ قبل مسیح میں بہ عہد چندر گپت موریہ ہندوستان آیا تھا اور ہندوستان کے اس وقت کے پایۂ تخت پاٹلی پتر (پٹنہ) میں کئی سال مقیم رہا۔ وہ ایک جہاں دیدہ دانشور تھا۔ اس نے ہندوستان کو بہت نزدیک سے دیکھا۔ یہاں کی تہذیب اور طرز معاشرت کا بغور مطالعہ کیا اور اسی کے ساتھ ہندوستان اور یونان کے تہذیبی اور سفارتی رشتوں کو مضبوط کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
میگستھنیز کا سفرنامہ چندر گپت موریہ کے عہد کا تاریخی ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ یہ چوتھی صدی قبل مسیح کا ایسا آئینہ ہے جس میں ہندوستان کے سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی، تہذیبی، علمی ثقافتی اور اقتصادی حالات کے نقوش گہرے اور صاف نظر آتے ہیں۔
چندر گپت موریہ کا عہد ہندوستاتی تہذیب کا سنہری دور تھا اس دور میں کئی ممالک سے ہندوستان کے سفارتی روابط استوار ہوچکے تھے۔پرانوں ، اپنشدوں کی تاثیر اور علوم و فنون کی ترقی نے علم و ادب کے شیدائیوں اور حقیقت کے متلاشیوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا۔ اس دور میں ہندوستان نے کافی ترقی کی تھی۔ سیاسی اور سماجی طور پر برہمن واد سب سے افضل تھا لیکن جین مت اور بدھ مت کے پیروکاروں نے برہمن واد کے خلاف اپنا رد عمل شروع کردیا تھا جو آہستہ آہستہ زور پکڑتا گیا۔ یہاں تک کہ پانچویں صدی عیسوی میں جب چینی راہب فاہیان ہندوستان آیاتو ہندوستان میں بدھ مت کی عمل داری قائم ہوچکی تھی۔
فاہیان بدھ مت سے بہت متاثر تھا ۔ وہ بدھ مت کے قدیم مراکز کپل وستو، پاٹلی پتر ، ویشالی اور کشی نگر وغیرہ کی تلاش میں ہندوستان آیا تھا۔ اس کے مقاصد میں بدھ مت کی تعلیم حاصل کرنا بھی تھا۔ فاہیان کے دور سیاحت میں ہندوستان پر راجہ بکرماجیت کی حکومت تھی، رعایا خوش حال اور پر امن زندگی بسر کر رہی تھی۔ فاہیان نے اپنی کتاب ’بدھ مت کے حالات‘ میں تمام باتوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور راجہ بکرما جیت کی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے راجا کو نرم دل، مشفق اور مہربان بتایا ہے۔ رعایا کے ساتھ اس کے رحم دلی، سخاوت اور حسن سلوک کی بے حد تعریف کی ہے۔ غریبوں کے علاج کے لیے ہسپتالوں کا اچھا انتظام تھا حصول انصاف آسان تھا، شراب نوشی اور گوشت خوری کا رواج نہیں تھا۔ فاہیان کے مشاہدے کے مطابق بدھ مت عام لوگوں کا مذہب تھا لیکن اس پر برہمن واد دوبارہ غلبہ حاصل کررہا تھا۔ مورخین نے اس دور کی تاریخ مرتب کرتے وقت، فاہیان کے اس سفرنامے سے استفادہ کیا ہے۔
سفرناموں میں ہندوستانی تہذیب و تاریخ کے نقوش:
(ہیون سانگ کے حوالے سے)
مہاتما بدھ ہندوستان میں پیدا ہوئے اور یہیںانھوں نے بدھ مت کا پرچار کیا۔ ایک زمانے میں اس مذہب نے بڑی ترقی کی تھی ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ہندوستان پر صدیوں اس کا غلبہ رہے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ برہمن واد نے جس کی جڑیںہندوستان میں بہت گہری رہی ہیں پھر سر ابھارنا شروع کردیا اور رفتہ رفتہ اتنی طاقت حاصل کرلی کہ بدھ مت کو اپنے گھر سے نکل کر پردیس میں پناہ لینی پڑی۔ مشرق میں چین اور جاپان نے بدھ ازم کا استقبال کیا اور اس کی بڑی پذیرائی کی گئی۔ چین اور جاپان میں اس کے ماننے والوں کی تعداد روز افزوں بڑھتی گئی مگر چوں کہ مہاتمابدھ کی جائے پیدائش یعنی ہندوستان ، بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے عقیدت کا مقام تھا اس لیے بے شمار غیر ملکی بھکشو اور سیاح ہندوستان آنے لگے۔ دوسرے ملکوں کے لیے ہندوستان پہلے بھی کچھ کم پرکشش نہ تھا اب اس میں تقدس کا اضافہ ہوگیا۔ ان غیر ملکی زائرین میں ایک چینی سیاح ہیون سانگ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
ہیون سانگ نے ہرش وردھن کے عہد میں ۶۳۰ء سے ۶۴۵ء تک پندرہ سال کا طویل عرصہ ہندوستان میں گزارا اور پورے ملک کادورہ کیا اس نے اپنے سفرنامے (ہیون سانگ کا سفر ہندوستان) میں رعایا کو خو ش حال مطمئن اور راجہ کو خوش انتظام بتایا ہے۔فاہیان کی طرح ہیون سانگ کا مقصد سفر بھی حق کی تلاش تھا۔ وہ بدھ مت کی تعلیمات کے بارے میں اپنے ملک چین کی کتابوں سے مطمئن نہیں تھا۔ اس لیے اس نے ہندوستانی علما سے علم حاصل کرنے اور بنیادی ماخذ کو بہ چشم خود دیکھنے اور ان کا مطالعہ کرنے کی غرض سے اتنا طویل سفر کیا۔ چین سے ہندوستان تک کا یہ سفر اس قدر دشوار گزار تھا کہ کوئی غیرمعمولی قوت ارادی رکھنے والا اور اپنے مذہب سے حد درجہ محبت اور عقیدت رکھنے والا شخص ہی اس سفر کا ارادہ کرسکتا تھا اور ہیون سانگ ایسا ہی تھا۔ وہ پندرہ سال تک ہندوستان میں رہا اور سفر نامہ لکھ کر اس عہد کے ہندوستان کی تہذیب و تاریخ کا مستند مواد فراہم کیا۔ ہیون سانگ بدھ مت کا ایک بڑا عالم تھا اور اس حیثیت سے خاصی شہرت بھی حاصل کرچکا تھا۔ اس کے سفر کا آغاز ۶۳۰ء میں ایک خواب دیکھ کر ہوتا ہے۔ اس خواب میںہیون سانگ نے وسیع سمندر کے بیچوں بیچ ایک پہاڑ کو دیکھا جو سونے چاندی کا بنا ہوا ہے۔ ہیون سانگ نے اس پہاڑ پر چڑھنا چاہا لہریں بہت تیز تھیں مگر اس نے بے خوف ہو کر ان لہروں پرقدم رکھدیا۔ اچانک ایک پتھر اس کے قدموں کے نیچے آگیا پھر وہ غائب ہوگیا اور اگلے قدم کے لیے سامنے آیا۔ اب اس کے ہر اگلے قدم کے لیے پتھر موجود تھا۔ اس طرح وہ پہاڑ کے قریب پہنچ گیا پھر ایک تیزہوا اسے اڑا کر پہاڑ کی چوٹی پر لے گئی۔ ہیون سانگ اس خواب کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اس نے اس خواب کو گوتم بدھ کی سرزمین ہندوستان کے سفر کے لیے نیک فال تصور کیا۔ سفر کی تیاری کرنے کے بعد فوراً ہی چین کی اس وقت کی راجدھانی ’چانگ آن‘ سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ان دنوں چین میں ایسے قانون نافذ تھے جن سے ملک کے باہر جانے میں رکاوٹ پیدا ہوتی تھی مگر اس کا ارادہ ناقابل شکست تھا۔ مثال کے طور پر جب ایک خیر خواہ بوڑھے تجربہ کار بھکشو نے اس سے کہا کہ مغرب کے راستے پر پیچ اور پرخطر ہیں اس لیے آپ کا تنہا جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ آپ اپنی جان سے نہ کھیلیں تو ہیون سانگ نے قسم کھائی کہ ’’چین واپس نہیں جاؤں گا۔ خواہ اس کے لیے راستے میں مر ہی کیوں نہ جائوں۔ ‘‘ اور دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ’طرفان‘ کے حکمراں نے اس کو خوش آمدید کہا اور اپنے محل میں ٹھہرنے کی دعوت دی۔ بادشاہ نے ہیون سانگ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہیروں سے مرصع چوکی پر بٹھایا اور کہا ’’میں نے جب سے آپ کا نام سنا ہے مارے خوشی کے سو نہیں سکا ہوں اور نہ کچھ کھایا پیا ہے۔ میرے اہل خانہ بھی آپ کے استقبال کے لیے ابھی تک جاگ رہے ہیں۔ ‘‘ پھر بادشاہ نے ہیون سانگ سے اپنے دل کی بات کہی کہ آپ یہاں سے کہیں نہ جائیے اور طرفان میں بدھ مندر کے صدر بن جائیے۔ ہیون سانگ نے صاف انکار کردیا او کہا ’’مجھے بدھ صوفیوں کی تلاش میں ہندوستان ضرور جانا ہے تاکہ مشرق کے لوگ بھی اس معلومات سے فیض یاب ہوسکیں۔‘‘ بادشاہ کو انکار پسند نہ آیا۔ اس نے کہا ’’سُن لنگ پہاڑ اپنی جگہ سے گرسکتا ہے مگر میرا حکم نہیں ٹل سکتا۔‘‘ ہیون سانگ نے جواب دیا ’’اور میرا ارادہ بھی نہیں بدل سکتا۔‘‘ اس طرح بادشاہ اور ہیون سانگ کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔ پہلے تو بادشاہ نے اسے لالچ دیا اس پر بھی راضی نہ ہوا تو دھمکی دی:
’’میرے پاس دوسرا راستہ بھی ہے تم سمجھتے ہو تم یہاں سے نکل جائو گے۔ میں تمھیں طاقت کے بل پر روک سکتا ہوں اور تمہارے ملک واپس بھیج سکتا ہوں۔ تمہارے حق میں یہی بہتر ہے کہ میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘
ہیون سانگ نے جواب دیا ’’بادشاہ سلامت‘‘ آپ کاحکم صرف میرے جسم پر چل سکتا ہے۔ میرے عزم اور ارادے کو نہیں چھوسکتا۔‘‘
ہیون سانگ نے قسم کھائی کہ جب تک بادشاہ اسے جانے کی اجازت نہیں دے گا تب تک وہ نہ کھانا کھائے گا اور نہ ہی پانی پئے گا۔ تین دن گزرجانے کے بعد وہ بہت کمزور ہوگیا۔ چوتھے دن بادشاہ خود ہیون سانگ کے پاس آیا اور شرمندگی سے سرجھکا کر بولا محترم آپ جہاں چاہیں جاسکتے ہیں ۔ براہ کرم کچھ کھا لیجیے۔ ہیون سانگ نے اپنا برت توڑدیا بادشاہ نے گزارش کی کہ بس آپ ایک ماہ کے لیے اپنا سفرملتوی کردیں اور ہندوستان سے واپسی میں بھی ایک بار اس سلطنت میں قیام کریں۔ بھکشو نے بادشاہ کی یہ دنوں باتیں مان لیں ۔ بادشاہ نے اس کو تحفے کے طور پر سواونس سونا، تیس ہزار چاندی کے سکے اور پانچ سو تھان ساٹن اور ریشمی کپڑے کے دئیے۔ دوسری ریاست کی سرحد تک پہنچانے کے لیے ایک فوجی دستہ ہمراہ کیا جس میں تیس گھوڑے ، چوبیس نوکر اور ایک بڑا افسر شامل تھا۔ اسی طرح ایک اور موقع پر مغربی ترک قبیلے کے ایک خان نے اسے یہ کہتے ہوئے روکنے کی کوشش کی کہ :
’’ہندوستان ایک گرم ملک ہے۔ وہاں کا دسواں مہینہ اتنا ہی گرم ہوتا ہے جتنا ہمارا پانچواں مہینہ ۔ آپ وہاں کی گرمی برداشت نہیں کرسکیں گے۔ وہاں کے لوگوں کا رنگ کالا ہوتا ہے اور وہ آدھے ننگے رہتے ہیں۔ وہ لوگ تہذیب و تربیت سے عاری ہیں۔ لیکن ہیون سانگ نہیں مانا۔‘‘
اسی قسم کی سخت رکاوٹو سے گزر تے ہوئے ہیون سانگ بلخ اور بامیان میں داخل ہوا۔ یہاں بدھ کے ماننے والے بہت تھے۔ راجہ کنشک نے انھیں بدھ مت سے روشناس کرایا تھا۔ یہاں بدھ کی بہت سی یادگاریں مثلاً پانی کا برتن، جھاڑو، ایک دانت جو پیلااور ایک انچ لمبا تھا، موجود تھیں ہر سال مہاتما بدھ کے جشن کے موقع پر ہزاروں پجاری اور عوام ان کی زیارت کرتے تھے۔
افغانستان سے کشمیر ہوتا ہواہیون سانگ ہندوستان پہنچا اوروہاں کے شہروں کا جائزہ لیا۔ ایک جگہ لکھتا ہے:
’’دکانیں شارع عام پر بنی ہوئی ہیں۔ لوگوں کے مکان سڑک کے کنارے پر ہیں۔ قصائیوں، مچھیروں ، بھنگیوں اور جلادوں کے مکان مخصوص طرز کے بنے ہوئے ہیں۔ انھیں شہر سے باہر رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ انھیں آبادی سے چھپ کر گزرنا پڑتا ہے۔‘‘
آگے لکھتا ہے:
’’گھروں کے فرش گائے کے گوبر سے لپے ہوئے ہیں ان پر موسم کے پھول بکھرے ہوئے ہیں۔‘‘
اس جائزے سے ہندوستانیوں کی بود و باش اورتہذیب و ثقافت کا حال معلوم ہوتا ہے۔ ہیون سانگ نے ہندوستانیوں کے لباس کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اس کا مشاہدہ یہ ہے :
’’لوگ بغیر سلے کپڑے پہنتے ہیں۔ کمر کے گرد ایک کپڑا بندھا ہوتا ہے جس کا ایک سرا ایک کندھے پر پڑا رہتا ہے۔ دوسرا کندھا خالی رہتا ہے۔ عورتیں ڈھیلا لباس پہنتی ہیں۔ شمالی ہند میں موسم ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگ کسے ہوئے کپڑے پہنتے ہں۔ جوتوں کا رواج کم ہے۔ بیشتر لوگ ننگے پیر چلتے ہیں۔ لوگ اپنے دانتوں پر پیلا یا لال رنگ چڑھاتے ہیں۔‘‘
اہل کشمیر کے بارے میں ہیون سانگ کی رائے اچھی نہیں ہے۔ اس نے وہاں کی زمین کی تعریف تو خوب کی ہے مگر بعد میں لکھا ہے:
’’کشمیر سات ہزار (۱۴۰۰ میل) کے رقبے میں پھیلاہوا ہے۔ اس کے چاروں طرف بلند و بالا اور ڈھلوان پہاڑ ہیں۔ کھیتی کے اعتبار سے بہت اپجائو ہے اور اچھی تعداد میں پھل، گھوڑوں کا چارہ، جڑی بوٹیاں وغیرہ پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں کے لوگ گرم اور سوتی کپڑوں کا استعمال کرتے ہیں۔ دیکھنے میں پرکشش مگر مکار اور فریبی ہوتے ہیں اور وہ پڑھنے لکھنے کے بھی شوقین ہیں۔‘‘
ہیون سانگ جالندھر اور کلو ہوتے ہوئے متھرا پہنچا جہاں وہ ہرش وردھن کی سلطنت میں داخل ہوا۔ ہرش کی راجدھانی قنوج کی اس نے خوب تعریف کی اور ہرش وردھن کے بارے میں لکھا:
’’ہرش وقت کا پابند اور کامیاب حاکم ہے۔ وہ اپنے ملک کے انتظامی کاموں میں مصروف رہتا ہے اور کبھی کبھی تو سونا اور کھانا بھی ترک کردیتا ہے۔ ہرش نے کسی بھی جانور کو مارنے اور گوشت کھانے پر پابندی لگا رکھی تھی اور خود اس پر عمل کرتا تھا۔‘‘
ہیون سانگ اگر اپنے سفرنامے میں دھن کا پکا ارادے کا اٹل عقیدے کا پختہ دکھائی دیتا ہے تو باریک بیں، مردم شناس ، انصاف پسند اور بے لاگ باتیں کرنے والا شخص بھی نظرا ٓتا ہے۔ دوران سفرہیون سانگ بنارس بھی گیا اور وہاں کے لوگوں کو اس کے بے انتہا دولت مند، نیک دل، رحم دل اور پڑھنے لکھنے میں دلچسپی رکھنے والا پایا۔ اس کے نزدیک ہوا معتدل اور درخت پھل دار ہیں۔ لکھتا ہے:
’’وہاں سو کے قریب مندر تھے لیکن شیو کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ کچھ لوگ سرمنڈا لیتے ہیں اور کچھ سر پر چوٹی رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ ننگے رہتے ہیں اور راکھ کو اپنے جسم پر مل لیتے ہیں۔ مذہبی ریت رواج کی سختی سے پابندی کرتے ہیں اور اس عارضی دنیا کو بدکاریوں سے نجات دلانے میں کوشاں ہیں۔‘‘
ہیون سانگ جب بنارس سے سارناتھ پہنچا جہاں بدھ نے دھرم کی تبلیغ کی تھی تو اس نے ایک ایسی خانقاہ دیکھی جس کی بالکنی اورہال ایک قطار میں ہیں اور نہایت فن کارانہ طور پر بنے ہوئے ہیں یہاں بدھ دھرم کے تقریباً پندرہ سو مبلغ رہتے ہیں۔ اس کے وسیع آنگن میں ایک مندر ہے جس کی اونچائی ایک سو فٹ ہے۔ یہ صحن آم کے درخت سے سجا ہوا ہے۔ اس عمار ت کی بنیادیں اور سیڑھیاں پتھر کی ہیں اور مینار اور طاق اینٹوں کے چاروں طرف سیکڑوں کی تعداد میں سلسلہ وار طاق بنائے گئے ہیں اور ہر طاق میں سونے کی بنی ہوئی بدھ کی موتی رکھی ہوئی ہے۔ ان مورتیوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویامہاتما بدھ خود ہی تبلیغ کر رہے ہیں۔
مگدھ میں ایک مقام بودھ گیا ہے جہاں پیپل کے پیڑ کے نیچے بدھ کو گیان حاصل ہوا تھا۔ بدھ کے زمانے میں اس پیڑ کی لمبائی سو فٹ سے کم نہ تھی لیکن ایک ظالم راجہ نے اس کو کٹوا دیا اور اس کی لمبائی پچاس فٹ رہ گئی۔
ہیون سانگ نے مختلف علاقوں کے لوگوں پر جو تبصرے کیے ہیں وہ اس جہاں دیدہ شخص کی ذہانت کا ثبوت فراہم کرتے ہی۔ اڑیسہ کے باشندوں کے بارے میں لکھا ہے ’’یہاں کے لوگ تشدد پسند، لمبے قد اور کالے رنگ کے ہیں‘‘ ۔ کالنگا کے بارے میں کہتا ہے ’’یہاں کے لوگ بدمزاج اور سرکش ہیں لیکن دل کے نیک اور عقیدے کے مضبوط ہوتے ہیں اور کھل کر باتیں کرتے ہیں۔ دراوڑ کے بارے میں لکھتا ہے۔ ’’یہاں کے لوگ ہمت والے اور قابل بھروسہ ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں‘‘۔ مہاراشٹرین کے بارے میں لکھتا ہے ۔ ’’یہاں کے لوگ خود دار ، جنگجو ، ممنون فطرت اور انتقام پسند ہیں۔‘‘ اس نے یہ بھی لکھا ہے ’’جب ایک جنرل لڑائی ہار جاتا ہے تو نہ اسے کوئی سزا دی جاتی نہ تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔ بس اسے اپنا فوجی لباس اتار کر عورت کا لباس زیب تن کرنا پڑتا ہے جواس کے لیے شرم اوردکھ کا باعث ہوتا ہے۔ اس بے عزتی سے بچنے کے لیے عموماً یہ فوجی خودکشی کرلیتا ہے۔
ہیون سانگ جب نالندہ پہنچتا ہے اور وہاں کی عالی شان خانقاہوں کو دیکھتا ہے توبہت خوش ہوتا ہے اور نالندہ کے بارے میںلکھتا ہے:
’’یہاں کے بھکشو لائق اور پڑھے لکھے ہیں۔ خانقاہوں کے قوانین بہت سخت ہیں لیکن سب ہی بھکشوئوں کو ان پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ صبح سے رات تک وہ علمی بحث و مباحثہ یا مذاکرے میں مشغول رہتے ہیں جو ان اور بوڑھے سب اگر کوئی باہر کا آدمی بحث میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کرتا ہے تو چوکیدار اس سے کچھ سوال پوچھتا ہے اور وہ صحیح جواب نہیں دیتا تو اسے بحث میں شرکت کی اجازت نہیں ملتی کیوں کہ بحث میں حصہ لینے کے لیے نئی اور پرانی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہوتا ہے۔‘‘
نالندہ میں اپنے مذہب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعدہیون سانگ نے چین واپسی کا ارادہ کیا ہی تھا آسام کے راجہ کمار نے اسے اپنے ہاں مدعو کیا اس کے دوبار انکار کرنے پر کمار نے دھمکی دی کہ اگر وہ آسام نہیں آیا تو نالندہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ مجبوراً وہ وہاں پہنچا اور راجا کمار نے اس کی بڑی آؤ بھگت کی۔ اسی دوران راجہ ہرش فوجی مہم سے واپس آیا تو اسے معلوم ہوا کہ بھکشو کمار کا مہمان ہے اس نے کمار کو پیغام بھیجا کہ بھکشو کو فوراً اس کے دربار میں بھیج دیا جائے ۔ کمار نے جواب میں کہلا بھیجا کہ وہ میرا سر لے سکتا ہے لیکن بھکشو کو نہیں ’’لیکن اپنی غلطی کااحساس ہوتے ہی خود بھکشو کو لے کرہرش کے پاس پہنچا اور اس سے معافی مانگی۔ ہرش وردھن نے ہیون سانگ کی غیرمعمولی خاطر تواضع کی۔ اس کے استقبال کے لیے خود اس کے پاس گیا اور نہایت ادب و احترام سے اپنے ساتھ لایا۔ ہیون سانگ کا یہ سفرنامہ غیر معمولی واقعات کا نگار خانہ ہے۔ اس میں راہ کی دشواریوں میں سیاح کی حوصلہ مندی ، قوت ارادی اور خوش بختی اپنی جگہ ہے اس کے علاوہ اس نے ہندوستان کو جس طرح دیکھا، سمجھا اور اس پر رائے زنی کی ہے وہ ہماری تاریخ اور تہذیب کا بہت بڑا سرمایہ ہے۔ اس عہد کی بہت سی چیزیں جواب ناپید ہوچکی ہیں ، اس سفر نامے نے ان سے بھی روشناس کرادیا۔ ہمارے مورخین کو اس کے توسط سے یقینا تاریخ کی بہت سی گم شدہ کڑیوں کو جوڑنے کا موقع ملا ہوگا۔ ہماری تہذیب کے نقوش اس میں بہت گہرے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ان تہذیبی روایات اور طرز حیات کی کچھ قدیم شکلیں کسی نہ کسی طو رپر آج بھی بعض علاقوں میں نظر آجاتی ہیں مثلاً عورتوں اور مردوں کا لباس اور گوبر سے گھر لیپنے کا طریقہ آج بھی کئی جگہ رائج ہے۔ گوبر کو اسلام نے ناپاک قرار دیا ہے لیکن ہندوستان کے علاقوں میں پاک و ناپاک اور حرام و حلال کا یہ فرق بھی نظر نہیں آتا۔ میں نے کئی مسلمانوں کے گھروں کو بچشم خود گوبر سے لیپتے ہوئے دیکھا ہے۔ کیا ہم ابھی تک ۶۳۰ء میں ہیں؟
نوٹ: مضمون نگار دہلی اردو اکادمی کے سابق وائس چیرمین اور شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے سابق صدر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

