ایک
The voyage of discovery lies not in finding new landscapes, but in having new eyes—
-Marcel Proust
ذہن، جسم اور روح کی تثلیث سے تشکیل شدہ یہ تخلیقی اظہار ہے جو کہ آفاقی روح سے مکالمے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔ اسی تثلیث کی وحدت، خارج اور داخل کی ہم آہنگی سے ترتیب دیا گیا یہ ایک ایسا تخلیقی نظام ہے جس میں بدھا مائنڈ کی مراقباتی کیفیت مستور ہے۔
یہ نظمیہ تفاعل، انسانی وجود کے کثیر ابعادی مزاج و ماہیت، حیاتیاتی، شعوری ارتقاء کی اظہاری تعبیر ہے۔ حیات و کائنات کے تعلق سے جن بنیادی سچائیوں کا عرفان گوتم بدھ کو ہوا تھا، وہی سچائیاں اس تخلیقی تفاعل کے چار کھونٹ ہیں۔
ستیہ پال آنند کا وجدانی ذہن کثیر ابعادی ہے۔ متنوع سماجی سیاسی رویوں کے ادراک اور کثیر تہذیبی، لسانی معاشرے سے آگہی نے ان کی نظر میں کشود اور دل میں کشاد پیدا کردی ہے اور چشم باطن (inward eye) اور طلعت دروں بھی عطا کیا ہے: چشم دل وا ہو، تو ہے تقدیر عالم بے حجاب (اقبال)
آتش افروز روحانی ادراک سے معمور آنند کی شعری سائیکی کی تشکیل میں قدیم اساطیر بودھی، مذہبی علاقائی روایات و ادبیات کا دخل ہے۔ وہ مختلف تہذیبی لسانی عناصر کے ارتباط و امتزاج سے تخلیقی تشکیل کا عمل انجام دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی تخلیق میں غیرمنجمد سیال نامیاتی امتزاجی لہریں ملتی ہیں۔
آنند کے یہاں تنوع ہے اور یہ تنوع لسان، تہذیب، تاریخ، سیاست اور سماج کو بھی محیط ہے۔ فرسودہ، پیش پا افتادہ موضوعات سے اجتناب، قدیم موضوعات کی معنیاتی تقلیب یا نئی معنیاتی جہت اور کیفیت کا انتخاب ان کا انفراد اور اختصاص ہے۔ وہ عموماً معمولہ اور مانوس موضوعات کے بجائے اَن چھوئے موضوعات کو اپناتے ہیں۔ مگر مروجہ موضوعاتی نظموں میں بھی فکر و اسلوب کا کنوارپن برقرار رہتا ہے۔ فراق کی زبان میں کہیں تو ’’ہے بیاہتا پر روپ ابھی کنوارا ہے۔‘‘
آنند کے تخلیقی حافظے میں بہت سی قدیم ثقافتیں اور تخلیقی لوح میں قدیم روایتیں بھی کندہ ہیں۔ ان کے تخلیقی نظام کے اکسراتی مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں وہ تحت الشعوری رو کارفرما ہے جو شعور اور لاشعور کا ملتقیٰ ہے اور انہی کے تعامل ان کی اس تخلیق میں تجلی ہے۔
دو
God fills the universe just as the soul fills the body of man. -Talmud
ستیہ پال آنند کی نظموں کا محور و مطاف وجودیاتی ہے۔ انہوں نے انسان کے طلسمی وجود کے جمالیاتی، اخلاقی اور مذہبی منازل و مقامات کا تخلیقی اکتشاف کیا ہے اور وجود کی بنیادی ساخت، تشکیلی عوامل، محرکات، مہیجات اور وجود کے داخلی، خارجی منظرنامے کی تعبیرات پیش کی ہیں۔ ان کی نظمیں اسرارِ وجود کی غماز اور کشائندہ ہیں۔
انسانی وجود جس کا ایک قطرہ بھی بحر بیکراں ہے، اس بحر بیکراں کی ماہیت، مدرکات، ممکنات اور مخفیات کا پورا منظرنامہ اس شاعری میں روشن ہے۔ انہوں نے انسانی وجود کی سالمیت اور شکست و ریخت، حرکی، منفعل ذہنی، جسمانی، جذباتی روحانی کیفیات کو اپنی نظموں میں پیش کیا ہے۔ حیات اور کائنات کے تعلق سے ان کا نقطۂ نظر طبیعی بھی ہے اور مابعد الطبیعی بھی۔
وجود کوئی تجریدی اکائی نہیں بلکہ ایک جوہر ہے۔ ستیہ پال آنند نے انسانی حیات اور کائنات کے مختلف اشکال و صور میں اسی جوہر وحدت کی تلاش کی ہے۔ یہی oneness ان کی وجودی شاعری کا فکری prism ہے۔ انہوں نے اپنے سیلف کو cosmic سیلف سے مربوط کرکے دیکھا ہے اور انسانی وجود کے مختلف مراحل اور منازل کے سلسلے میں ان تمام فلسفوں سے اکتسابِ نور کیا ہے جو فلسفے، وجود کی ماہیت کے ادراک میں معاون ہوتے ہیں۔
وجود کی شناخت بہت اہم مسئلہ رہا ہے اور ستیہ پال آنند نے اسی غیرجامد، موج مفطر وجود کی شناخت کی معرفت کے لیے مختلف قدیم روایتوں سے استفادہ کیا ہے۔ اور ان روایات کی روشنی میں انسانی وجود کی ماہیت کا عرفان حاصل کیا ہے۔ انہوں نے وجود کے سب سے بڑے اسرار یعنی موت کا اکتشاف کرلیا ہے جو کہ بنیادی موتف کی شکل میں ان کی نظموں میں بھی موجود ہے۔ انہوں نے زندگی کو اس کی کلیت کے آئینے میں دیکھا ہے، اس لیے ان کی نظموں میں مرگ مرموز ہے۔ موت ہی زندگی کا عروج ہے اور موت کے تجربے سے ہی زندگی کے تمام تجربے مربوط ہیں، موت سے ہی زندگی کی کلیت روشن ہوتی ہے۔ موت سے قبل اور مابعد کی کیفیت کے تعلق سے لکھی گئی نظمیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں وجود کی سریت کا ادراک ہے۔
ستیہ پال آنند کی وجودی فکر کی تفہیم ان کی نظم ’’تین دل‘‘ سے ہوسکتی ہے۔ جس میں Fragmented Existence کا بیان ہے۔ ’’تین دل‘‘ Divided self کی اظہاری تعبیر ہے۔ ایک ہی وجود مختلف سطحوں پہ جیتا ہے۔ مختلف خانوں اور حصوں میں بٹے ہوئے انسان کے اصل وجود کی شناخت ایک معمہ ہے۔ یہاں وجود کی عدم کشفیت کا تیقن ہے۔ اِس لیے تخلیق کار وجود کو ایک رمزیاتی مظہر کے طور پر دیکھتا ہے۔
وجود کی یہی متغایر تعبیریں ان کی اور نظموں میں بھی نمایاں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وجود مستقل بالذات نہیں بلکہ قائم بالغیر ہے۔ وجود کا کردار عارضی اور غیر حتمی ہے اور یہ نظریہ صریحی طور پر بودھی فکر سے مستفاد ہے۔ تتھاگت سیریز کی نظمیں ’’ہست و نیست ‘‘، ’’فنکار تھک گیا‘‘، ’’سنجیدگی ایک چھپکلی سی‘‘، ’’کوئی کل ہے نہ فردا ہے‘‘ کا شمار اسی نوع کی نظموں میں ہوسکتا ہے۔
’’ہست اور نیست‘‘ میں جہاں بدھ کے فلسفۂ زیست سے استفادہ کرتے ہوئے خدا کو بھی ایک مفروضہ اور theory قرار دیا گیا ہے اور اس کی ہستی سے انکار کیا گیا وہیں ’’فنکار تھک گیا‘‘ میں انسانی وجود کے تعینات کے حوالے سے گویا قرآن کریم کی اِس آیت کی تفسیر بیان کی گئی ہے ’’ما خلقنا السموت والارض وما بینہما الا بالحق واجل مسمّٰی‘‘ یہ نظم اس بات کا اشاریہ ہے کہ انسانی وجود تعینات سے ماوراء نہیں ہے۔ وہ حادث ہے اور ممکن الوجود ہے، واجب الوجود نہیں۔ زندگی کے آغاز اور اختتام کے درمیان جو وقفہ ہے یہی انسان کا اجل مسمیّٰ ہے۔
ستیہ پال آنند نے انسانی وجود کی تمجید، ترفیع اور تفضیل سے متعلق مختلف نظموں میں اشارے کیے ہیں۔ یہ نظمیں قرآنی آیت کی تخلیقی تفسیر ہیں: ’’وسخر لکم اللیل والنہار، والشمس والقمر والنجوم مسخرات بامرہ‘‘— ’’ان کا سجدہ غلط نہیں تھا‘‘ یہ نظم انسان کی قوت تسخیر اور ان کے ذوقِ جستجو کا غماز ہے۔ وہی اشارے وہی علائم ہیں جو اقبال نے استعمال کیے ہیں:
خاکیم و تند سیر مثال ستارہ ایم
در نیلگوں یمے بہ تلاش کنارہ یم
(اقبال)
اس نظم میں ستاروں سے آگے کے جہاں کی خبر اور ایک نئے عالم کی جستجو اور عظمت آدم کا بیان اور ساتھ ہی سائنس اور ٹکنالوجی کے ناز و تبختر پر طنز ہے:
مجھے یقیں ہے/ کہ جن نئی منزلوں پہ اس کی/ نگاہ اٹکی ہوئی ہے، وہ تو/ شروع ہستی سے اس کی رہ میں بچھی ہوئی تھیں/کہ اس کا یہ فرض منصبی تو/ اسے ودیعت کیا گیا تھا/ کہ/ اس نے تو ’سائبر خلا‘ کو عبور کرکے/ پرانا وعدہ نبھا دیاہے/ تمام کرّو بیاں کو آخر جتا دیا ہے/ کہ ان کا سجدہ غلط نہیں تھا!
’’چلو آؤ اپنی کنڈلنی جگائیں‘‘ بھی اسی نوع کی نظم ہے۔ جو ستیہ پال آنند کے تخلیقی مزاج کی تفہیم کے باب میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے:
چلو ’’حال‘‘ میں آئیں/ ڈوبیں سمادھی میں/ آؤ چلیں/ کاسۂ سر میں ’’روشن کمل‘‘ سے بہت دور/ نیچے ہی نیچے/ اترتے چلیں/ استخوانی تہہ پشت تک/ اپنے ’’سولر پلیکسس‘‘ کی تہہ میں/ اترتے چلیں سات چکروں کی سیڑھی/ (بتاتے ہیں یوگی— یہاں سات ابواب ہیں/ جن کو کھولیں، تو آخر/ ہمیں جو ہریت کا مخزن/ دہکتی ہوئی ایک بھٹی ملے گی)/ یہی ہے وہ خوابیدہ سورج/ شعاؤں کا منبع/ ہماری کنڈلنی/ دہکتے ہوئے آگ کے سانپ جیسی!
یہ نظم گویا بوئے گل کا سراغ دیتی ہے۔ ستیہ پال آنند کے فکر و فن کی عقدہ کشا ہے۔ اس میں جس الوہی توانائی اور پرم چیتن کی طرف اشارہ ہے، وہی انسانی وجود کی معراج ہے۔ ستیہ پال آنند نے اس میں متصوفانہ سریت کو بروئے کار لاتے ہوئے اس سہج یوگ کی طرف اشارہ کیا ہے جو نہ صرف غیرمعمولی حسی ادراک میں اضافہ کرتا ہے بلکہ الوہی توانائی سے انسانی وجود کا رشتہ جوڑتا ہے۔ کنڈلنی جگانے کا تصور نہایت قدیم ہے۔ شنکر اچاریہ، کبیر، سنت گیانیشور اور گرونانک کے ڈسکورس میں بھی کنڈلنی کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ کنڈلنی الوہی توانائی ہے۔ جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی ترتیب و تنظیم اور ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ یہ کنڈلنی سات چکروں کے بنیادی عناصر کے انجذاب کے بعد جاگتی ہے۔ زمین، آگ، پانی ہوا، روشنی اور دیگر عناصر کے جذب کرنے کے بعد توانائی کے سات مراکز تک انسان کی رسائی ہوتی ہے۔ کنڈلنی جگانے کا مطلب ذہن و بدن کے مسائل کا حل اور مسرت کا حصول ہے۔ یہ کنڈلنی شیو و شکتی کی زرخیزی اور وجودی وحدت کی طرف بھی اشارہ کناں ہے۔ اِس نظم کے حوالے سے ستیہ پال آنند کی شاعری میں اس سہسرر کی تلاش کی جاسکتی ہے جو ان کی پوری تخلیقی سریت میں موجود ہے اور جس کی وجہ سے ان کی تخلیق اور ان کے اظہار میں اجتماعی شعور اور وحدت کا عنصر اور عکس نظر آتا ہے۔ یہی سہسرر ان کی تخلیقی فکر کا شناس نامہ ہے۔
انسانی ارتقاء اور وجودی معراج کی تفہیم ان کی نظم ’’نطشے، برگساں اور اقبال‘‘ سے بھی ہوتی ہے کہ انسانی وجود کے ارتقاء میں تحرک کے عنصر اور فعلیت کو نطشے برگساں نے نظرانداز کردیا تھا مگر اقبال نے اس تحرک کو تلاش کیا اور ارتقائی وجود کو ایک نئی معنویت عطا کی۔ مکالماتی انداز کی اس نظم میں اسی تحرک کی طرف اشارہ ہے جس نے ’مرد کامل‘ کو جنم دیا۔
ستیہ پال آنند نے وجود انسانی کے عروج کے ساتھ ساتھ وجود کے زوال کی بھی تصویر پیش کی ہے۔ انسانی وجود کی تقلیبی ماہیت کا ادراک ان کی کئی نظموں سے ہوتا ہے۔
’’پچاس تیرہ اٹھارہ اکیس ساٹھ بارہ‘‘ انسانی شناخت کے بحرانی المیے پر محیط ہے۔ digital ٹریجڈی نے انسان سے اس کا نام و نسب، شجرہ اور اس کی شناخت چھین لی ہے۔ وہ اعداد میں محصور ہوکر رہ گیا ہے۔ اذیت زدگان کی طرح ا ب وہ اپنے نام سے نہیں بلکہ عدد سے پہچانا جاتا ہے۔ نئے یگ میں انسان کی شناخت کی گم شدگی مفکروں اور دانشوروں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ قبر کے کتبے پر عدد کا کندہ کیا جانا بھی انسانی شناخت کے بحران کے المیے کا شدید ترین اظہار ہے۔ برقیاتی ٹکنالوجی نے صورتِ حال یکسر بدل دی ہے اور انسان کو شناخت کے بحران سے دوچار کردیا ہے۔ یہ نظم اِسی ماڈرن مین کے بحران سے عبارت ہے:
وہ اک عدد ہے/ شماریاتی نظام میں صرف ایک نمبر/ پچاس تیرہ اٹھارہ اکیس ساٹھ بارہ/ ۵۰-۱۳-۱۸-۲۱-۶۰-۱۲/ اسے یہ بچپن میں حفظ کروا دیا گیا تھا/ کہ ملک کا برقیاتی سسٹم حروف ابجد نہیں سمجھتا
وہ مرگیا ہے/ تو قبر پر ایک سادہ تختی پہ یہ عدد ہی کھدے ہوئے ہیں/ ۵۰-۱۳-۱۸-۲۱-۶۰-۱۲
’’مجھ کو اپنے نام سے چڑ ہے‘‘ یہ بھی جدید انسان کے بحران سے متعلق ہے۔ اس میں مابعد جدید سماج کی صورتِ حال اور کرائسس کی تصویر ہے۔ اپنی ذات، اپنی شناخت سے بیزاری اور نفور ایک فراری رویہ ہے جس میں آج کے عہد کا انسان گرفتار ہے۔
وجود کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ انحطاط بھی ایک تدویری عمل ہے اور اس تقلیب سے مفر نہیں۔ ستیہ پال آنند نے وجود کے مثبت محرکات اور منفیات دونوں کی تصویریں دکھائی ہیں۔
’’راہ مری کھوٹی مت کر‘‘ اسی نوع کی نظم ہے۔ یہ فلسفۂ خیر و شر پر محیط ہے۔ انسان کے وجود سے خیر و شر دونوں ہی وابستہ ہیں۔ کبھی خیر حاوی توکبھی شر غالب۔ دونوں ہم زاد ہیں جو انسانی وجود کو اچھے اور برے کے خانوں میں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ انسانی وجود میں دونوں متضاد قطبین کا اجتماع ہے۔’شر‘ شریان میں ہے تو ’خیر‘ بھی لہو میں ہے۔ شر اور خیر کی کشمکش اور تصادم سے ہی انسانی وجود عبارت ہے۔ اس میں تضاد کی تکنیک سے انسانی وجود کی حقیقت کا اکتشاف کیا گیا ہے۔
ستیہ پال آنند نے وجود کی تفہیم عصری تناظر میں بھی کی ہے۔ وجود کے عصری عرفان سے متعلق جو نظمیں ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وجود کی بحرانی صورت حال کا انہیں احساس ہے اور یہ وجود کائناتی ہے، کسی منطقے یا علاقے تک محدود نہیں۔اس میں آفاقی وجود کی پوری تعبیر ملتی ہے۔ اس تعلق سے ان کی نظم ’’زخم زخم ہے میرا چہرہ‘‘ قابل ذکر ہے، جس میں انہوں نے انسانی وجود کی آفاقیت کے حوالے سے اس کرب کا اظہار کیا ہے جو انسان کا مقدر ہے۔ نظم میں ایک مربوط اور مسلسل کرب یا ارتباطی کرب کی تفصیل ہے جو انسانی وجود پہ چپکا ہوا ہے۔ وہ انسانی وجود جو انفس و آفاق پر محیط ہے۔ یہ ذات کی توسیع کا ایک تصور ہے۔ اپنی ذات میں پوری کائنات کو محسوس کرنا یہی ویدانت کا تصورِ حیات ہے۔
’’آخر جیت ہوئی تو کس کی‘‘ یہ بھی نئے انسان کے کرائسس سے متعلق ہے۔ یہ مظلومیت کا نوحہ ہے۔ یہ مقتدرہ کے باطل شعور اور آئیڈیالوجی کے خلاف احتجاج ہے۔ ستیہ پال آنند کی شاعری میں مہذب احتجاج کی رو روشن ہے۔ یہ میشیل فوکو کے اس تصور کی عکس گری ہے کہ مقتدر طبقہ ہی ہمیشہ فتح یاب ہوتا ہے اور شکست نچلے محکوم طبقات کا مقدر ہوتی ہے۔
’’میرا انگوٹھا کہاں لگے گا‘‘ اس میں بھی انسانی وجود کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں جبریت کی تعبیر ہے۔ انسانی وجود کی خودمختاریت، خودمکتفیت پر سوالیہ نشان ہے۔ جبریت اور لزوم کے تعلق سے مفکرین کی مختلف رائیں ہیں۔ مگر اقبال نے انسان کو تقدیر شکن کہا ہے، تقدیر کا زندانی نہیں۔ ستیہ پال آنند کی یہ نظم انسانی وجود کے جبری پہلو کو آشکار کرتی ہے کہ انسان تو جبر کے زنداں میں ہے۔ اس کی اسیری، اس کی ناخواندگی، عدم آگہی، اس کی خودسپردگی یہ سب چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ انسان ظلوم و جہول و ذلول ہے۔
انسانی وجود اور کائنات میں کوئی دوئی نہیں ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے مربوط اور متلازم ہیں۔ وجود میں ہی کائنات مخفی ہے اور اس مظہریاتی دنیا (Phenomenal World) کا وجود انسان سے ہی قائم ہے اور اسی وجود سے کائنات میں تحرک و تلون ہے۔ انسان، کائنات اکبر (Macrocosm) ہے تو مظہری دنیا، کائناتِ اصغر (Micrososm)۔ ستیہ پال آنند نے کائنات کو انسانی وجودی تناظر میں دیکھا ہے۔ کائنات کی حقیقت اور ماہیت سے متعلق ان کی نظموں میں اس آفاقی کائنات کی تصویر ملتی ہے جو انسانی وجود کی وحدت اور اس کے پھیلاؤ کا اشاریہ ہے۔
’’کال چکر‘‘ ایسی ہی نظم ہے جس میں تکوین کائنات کا بیان ہے۔ زندگی کے قدیم فلسفہ اور جدید حیاتیاتی فکر کے ارتباط و اشتراک پردال ہے۔ یہ زندگی کے دور و تسلسل کا اشاریہ بھی ہے:
ننھی چنگاری یقینا جانتی ہے/ نسل کی تشکیل اور تکمیل کے ازلی عمل میں/ اس کے ’ڈی این اے‘ میں لکھا/ ایک رقعہ ان گنت صدیوں سے چلتا آرہا ہے/ اور اس رقعے میں مخفی/ اگلی نسلوں کے تشخص کے ضوابط/ ’’جینیاتی کوڈ‘ کے اعراب/ یعنی دستخط بھی/ ان گنت صدیوں سے چلتے آرہے ہیں
’’متھن اور یین ین‘‘ کائنات کی سریت، رمزیت اور انسانی وجود کی کشفیت کا غماز ہے۔ ’’خواب آلود تنہائی‘‘ سے کائناتی وحدت کی طرف اشارہ ہے۔
تفہیم کائنات کا ایک اور زاویہ ان کی نظم ’’پیڑ پرسوت کی‘‘ میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ نظم کاسمولوجیکل ارتقاء سے متعلق ہے۔ ’’پیڑپرسوت کی‘‘ میں سمندر کی پریگننسی ایک اچھوتی فکر ہے۔ سمندر کا اسقاطِ حمل ہوجائے تو کائنات میں تباہی آسکتی ہے جب کہ استقرار حمل کائنات کی تجمیل کا ذریعہ ہے۔ ایک ہی شئے کے دو متضاد متخالف متبادل ہیں۔ تخریب اور تعمیر دونوں صورتیں ایک ہی شئے میں مضمر ہیں۔ سمندر نے کتنے زلزلوں کو اپنی کوکھ میں سما رکھا ہے صرف کائنات کے تحفظ کے لیے مگر انسان قدرت کے اِس نظام سے ناواقف ہے اور اغماض برت رہا ہے۔ جب کہ انسانی ذہنوں میں جو زلزلے ہیں وہ فوراً باہر نکل پڑتے ہیں اور بحر و بر میں فساد پھیل جاتا ہے۔ سمندر کی ہمہ آسائی، ضبط و تحمل اور ایثار و ممتا کو بہت ہی خوبصورتی سے نظمیہ پیکر میں ڈھالا گیا ہے۔
یادوں کی بازیافت بھی نظم کا موضوع رہی ہے۔ یونگ کے نظریے سے دیکھا جائے تو لاشعوری کیفیات کا اظہار بھی ناگزیر ہے اور لاشعوری تجربوں کا اظہار یادوں کی بازیافت سے ہی ممکن ہے۔ ستیہ پال آنند کے ہاں یادوں کی بازآفرینی سے متعلق کئی نظمیں ہیں۔ ایسی نظموں میں زماں و مکاں کی تقلیب اور ماضی سے ہم رشتگی کا منظرنامہ اس طور پہ روشن ہوتا ہے کہ اپنی زندگی کے آئینے میں وقت کا ادراک کرنے سے ابہام، اہمال کا خدشہ نہیں رہتا۔ حیات و کائنات کی تفہیم کا ایک طریقہ کار اپنی ذات میں ڈوب کر اپنی زندگی میں منعکس مدوجزر کو محسوس کرنا بھی ہے۔ ستیہ پال آنند نے حیات و کائنات کو اپنی ذات کے زاویے سے بھی دیکھا ہے۔ کچھ نظمیں اس نوع کی ہیں جن میں سوانحی عناصر اور یادوں کی بازیافت ہے۔ ان میں ’’دے ژاوُو‘‘، ستیہ چت آنند‘‘، ’’مارچ اور دسمبر‘‘ شامل ہیں۔
’’ستیہ، چت، آنند‘‘ سوانحی اشارے کے ساتھ مابعد الطبعیاتی اظہار کا خوبصورت نمونہ ہے۔ ویدانت کے ایشور پراپتی کے فلسفے کو نظم کا محور اور موضوعِ مرکز بنایا گیا ہے۔ نظم کی مابعدالطبعیاتی جہت نے اس نظم کو ارتفاعی صورت عطا کردی ہے۔
’’مارچ اور دسمبر‘‘ بھی سوانحی عناصر اور رومانویت سے مملو ہے۔ مارچ اور دسمبرکی رمزیاتی کیفیت کو رومانی حسیت کے دھاگوں میں پرو کر نظم کو ایک نئی معنویت عطا کی گئی ہے۔ عنوان تقویم سے شروع ہوکر غیرتقویمی دھند میں کھوکر اپنی تمام حسی کیفیات کا ادراک کرانے میں کامیاب ہے۔
وجود کے وسیع تر تناظرات میں ستیہ پال آنند کی نظموں کی تفہیم کی جائے تو محسوس ہوگا کہ وجود سے جڑے ہوئے تمام تر مسائل کو انہوں نے تخلیقی تناظر میں دانش نورا نی سے دیکھا ہے۔ انہوں نے وجودی تلازمات کی تخلیقی تعبیر پیش کی ہے اور مادّی تاریخی، سماجی ثقافتی وجود اور مسائل کا تخلیقی سطح پہ ادراک کیا ہے۔ وجود کے مختلف اطراف و اکناف کا احاطہ کرنے میں ستیہ پال آنند نے کسی طرح کے تعین یا اذعان سے کام نہیں لیا بلکہ وجود کی تہیں جس طورپہ منکشف ہوتی گئیں، تخلیق میں ڈھلتی گئیں کہ وجود ایک کثیر پہلوی معروض ہے اور اس کی تفہیم مختلف زاویوں سے ہی ممکن ہے۔
ستیہ پال آنند کا poetic conciet بھی صاف شفاف ہے اور فلسفیانہ ادراک و تصور بھی۔ یہ کسی انتشار زدہ ذہن کا اظہار نہیں ہے بلکہ حیات و کائنات کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کے بعد جو معروضی شکل ابھرکر سامنے آئی ہے، نظمیں اس معروضی حقیقت کا اظہار ہیں۔
ستیہ پال آ نند نے اپنی ذات اور باطن سے بھی مکالمہ کیا ہے۔ یہ دراصل باطنی کشمکش اور اندرونی تناؤ کا اظہار ہے جس سے ہر ذی نفس گزرتا ہے۔ پرشن کے وسیلے سے اپنی ذات کی تہہ میں ڈوب کر معرفت حقائق کا یہ بھی ایک وسیلہ ہے۔
تین
To the mean person the myth means little, to the noble person much. -Carlyle
ستیہ پال آنند کی نظموں میں اساطیری اور ریاضیاتی (بہ معنی معروضی) دونوں زاویہ ہائے فکر کا وصال ہے۔
اساطیری اظہارات سے نئے معنیاتی نظام کی تشکیل کا عمل بے حد پیچیدہ اور پرپیچ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ان کی نظموں میں اساطیری حسیت روشن ہے۔ پرانے اساطیر کیesoteric meaningکا اکتشاف، اس کی تخلیقی تقلیب و تحویل اور عصری صورتِ حال سے انطباق، یہ ان کی اسطور آفرینی کا اختصاص ہے۔
ستیہ پال آنند اساطیر، علائم کو نئی معنیاتی لفظیاتی جہت عطا کرتے ہیں اور ان علائم سے عصر کا چہرہ بھی روشن ہوتا ہے، ماقبل اور مابعد کا بھی۔ یہی علائم آفاقی ہیں اور ان کی معنویت کسی بھی عہد میں مجروح اور شکستہ نہیں ہوتی۔
’’ایک پینٹنگ کو دیکھ کر‘‘ میں اسطوری جہت ہے۔ اس میں شِو کو زرخیزی اور افزائش کی علامت بتایا گیا ہے اور یہ کہ شِو لنگ قوت حیات کا رمزی استعارہ ہے اور اس کی موت نے سلسلہ افزائش کو منقطع کردیا ہے۔ یہاں بنجر زمین اور مردہ پیڑ کے تلازمات سے حیات و موت کی رمزیت کو آشکار کیاگیا ہے۔
"Stigmata” میں صلیب کی نئی معنویت، عصر حاضر کی انسانی صورتِ حال سے ارتباط کی صورت میں ظاہر ہے یعنی وہ عمل مکرر بار بار مختلف شکلوں میں دہرایا جارہا ہے۔ اس عمل کے تسلسل نے انسانی زندگی کو زنجیر عذاب یا صلیب پہ لٹکا دیا ہے۔ یہ صلیب کے نئے معنیاتی نظام یا نشان کی تشکیل کا تخلیقی عمل ہے۔
ستیہ پال آنند نے یونانی اساطیر کا بھی تخلیقی استعمال کیا ہے اور ان اساطیر کو ایک نئے زاویے سے دیکھا ہے۔ ایڈپس کی اسطوری معنویت کو اور توسع دیتے ہوئے انہوں نے ایک نئی کیفیت اور احساس کا ادراک کیا ہے۔ اس یونانی اسطور میں بہت بڑا رمز بھی مضمر ہے۔ ایڈپس نے اعترافِ جرم میں اپنی آنکھیں تو پھوڑ لیں مگر ذہن کی آنکھیں پھوڑنا مشکل ہے۔ دراصل یہی مجرمانہ ذہنیت ناقابل تنسیخ ہے جو اِس طرح کی صورتِ حال کو جنم دیتی ہے۔ آنند نے ایڈپس کے اسطور کو ایک نیا فکریاتی لمس اور ارتعاش عطا کیا ہے:
مجرم آنکھیں پھوٹ گئیں— اچھا ہے، لیکن/ آنکھوں کے تو دو ہی کٹورے چھلک رہے تھے/ یادوں کے لاکھوں شیشے ہیں!
اب چوبی تابوت کے اندر/ (آڈیپس صدیوں سے ایک ہی سوچ میں گم ہے)/ ذہن کی آنکھیں کیسے پھوڑوں؟/ ان مجرم یادوں کے شیشے کیسے توڑوں؟
’’گیلاتیا سے کون بچے گا‘‘ یہ نظم بھی یونانی اسطور سے مستنبط و مستخرج ہے۔ جس کی معنویت آج بھی روشن ہے۔ اسطور میں جو نقطۂ رمز یا رمزِ مخفی ہے، فن کار نے اس رمز کی گتھیاں سلجھا دی ہیں کہ پتھر میں جان ڈالی جاسکتی ہے، روح نہیں۔ اس میں ایک روحانی بعد ہے اور شکست خواب کا احساس بھی۔ مغایرت کا تصور بھی ہے۔ یہ نظم اسطوری معنویت کے اعتبار سے پاور فل اور نئے زاویے کی زائیدہ ہے۔ اس میں عورت کا روایتی مظلوم کردار جابر کردار میں بدل جاتا ہے۔ کرداری تقلیب ہی اس نظم کا معنیاتی حسن ہے:
لیکن، لوگو! صدیوں سے اس عورت ذات کے ہاتھوں/ بے چارے مردوں پر/ کیا بیتی ہے؟/ میری کہانی سے کچھ سیکھو!/ میں پگمیلین، اک بے چارہ!/ تم سب پگمیلین، بے چارے!!
’’کہا اس نے، کہا میں نے‘‘ مکالماتی تکنیک میں آدم و حوا کی علامت اور اس کے تلازمات کے حوالے سے انسانی وجود کی نفسی کیفیت کا ادراک نامہ ہے۔
’’گیارہواں طاعون‘‘ میں ایک مصری اسطور کے حوالے سے نئی معنیاتی اور فکری صورتِ حال تشکیل دی گئی ہے۔ یہ نظم فیوچراسٹک وژن اور تخلیقی پیش آگاہی پر مبنی ہے۔ گیارہواں طاعون کائنات کے انہدام اور خاتمے کا اشاریہ ہے۔ اسے اندر کی آنکھیں ہی محسوس کررہی ہیں:
مصر کے دس طاعون تو عشر عشیر نہیں تھے/ اس طاعون کا/ جس کو میری اندھی آنکھیں/ اپنے کالے پر پھیلائے/ اڑتا آتا دیکھ رہی ہیں!
"Adam’s Apple” آدم اور سیب کی علامت کا شاعری میںبہت زیادہ استعمال رہا ہے۔ خروجِ آدم یا ہبوطِ آدم سے جڑی ہوئی کئی داستانیں ہیں۔ ہر داستان میں تحیر و استعجاب کی کیفیت بھی ہے۔ سیب ہی وہ شجر ممنوعہ ہے جس نے آج بھی انسان کا دامن نہیں چھوڑا۔ انسان کے دامن پاک کو آلودہ کرنا ہی سیب کا شعار ٹھہرا۔ آدم کے appleکا اپلیکیشن آج کی صورتِ حال پر بھی ہوتا ہے۔
چار
اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر
(اقبال)
ستیہ پال آنند nativismکے قائل ہیں۔ مرکز جو شعریات کے استیلا کے خلاف آواز اٹھانا بھی فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ ان کے یہاں مقامیت پر اصرار اور لا مرکزیت پر ارتکاز ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ علائم اور استعارات جو بیرونی ہیں، ان کے استمرارِ استعمال پر انہیں اعتراض ہے۔ اپنی لوک روایتوں سے اغماض اور اجتناب پر بھی انہیں حیرت ہوتی ہے۔ دراصل اپنی زمین کی تہذیبی ثقافتی قدروں سے ان کا گہرا ارتباط و انسلاک ہے اس لیے ان کی نظموں میں ہندوستانی علائم اور اساطیر کا استعمال ملتا ہے اور وہ ان فراموش کردہ اساطیری علامتی کرداروں کو اپنی نظم میں زندہ و تابندہ کرتے ہیں جنہیں اردو ادبیات میں اہمیت نہیں دی گئی ہے۔ انہیں فارسی تراکیب، تلمیحات یا فارسی سے مستعار فکریات سے بھی احتراز ہے۔
میں خوابوں خیالوں کا دریوزہ گر‘‘، ’’بھولا بسرا دیس‘‘، ’’ہم غریب پورب کے ساکن‘‘ اور ’’قصہ ویپنگ ولو کا‘‘ کا اعماق سے مطالعہ کیا جائے تو ستیہ پال کے تفکیری منہج اور ذہنی ساخت کا اندازہ ہوجائے گا۔ ان کی سائیکی میں اپنی ثقافتی، تہذیبی قدروں اور روایتوں کا بڑا احترام ملتا ہے۔
’’میں خوابوں خیالوں کا دریوزہ گر‘‘ میں انہوں نے مقامی، ثقافتی، لسانی ساختیے اور خلقیے کی طرف اشارہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ مابعد جدید نقطۂ نظر سے یہ خیال بالکل صحیح ہے کہ اپنی مقامی تہذیبی اقدار کو ادبیات میں ترجیحی حیثیت حاصل ہونی چاہیے اور یوں بھی مابعد جدید نے مہابیانیہ کو مسترد کردیا ہے۔ اس کا کسی بڑی فلسفیانہ روایت پر یقین نہیں ہے۔ چھوٹے بیانئے پر ہی مابعد جدیدیت کا اصرار ہے کیونکہ چھوٹا بیانیہ ادب اور آرٹ کی آزادی اور تخلیقیت کا ضامن ہے۔ آنند کی اس بات میں کافی وزن ہے کہ اگر ہمارے پاس استعارات، علامات، تشبیہات، اساطیر موجود ہیں تو انہیں استعمال کرنا چاہیے۔ یہ نظم Archaic سے انحراف کا مظہر ہے۔ روایتی، شعری اور موضوعی طریقۂ کار سے انحراف کرتے ہوئے شاعر نے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے۔ دریوزہ گر ایک ہی در کا اسیر نہیں ہوتا۔ خیال کی سطح پر دیکھا جائے تو اردو شاعری کا اپنا اثاثہ کیا ہے۔ فارسی سے مستعار اور مغرب کی دریوزہ گری، یہ آج کی ادبی تخلیقی صورت حال، غزلیہ لفظیات اور اس کی مرکزی شعریات پر گہرا طنز ہے:
میں اردو کا شاعر/ خیالوں کا، خوابوں کا دریوزہ گر، اب/ اجازت کا طالب ہوں/ ملائے رومی سے، درویش شیراز سے— اے بزرگو/ مجھے اب مرے حال پر چھوڑدو/ میں نئے دور کی اسی صدی میں تمہاری/ ’غزل گفتنی‘ کے سبھی استعاروں/ ’سبو‘، ’جام‘، ’ساغر‘، ’لب لعل‘، ’ابروئے خمدار‘، ’یار طرحدار‘، جیسے/ اشاروں، کنایوں کی اس بزم سے رخصتی چاہتا ہوں!
’’بھولا بسرا دیس انگلستان‘‘ مغرب کے اقداری انہدام، ثقافتی نشانیات کے استرداد اور اس کی مضحکہ خیزی کے اثبات سے عبارت ہے۔ یہ orient کو other سمجھنے والے مغربی نظام اشرافیت اور افضلیت پر نشتر ہے۔ مغرب کے کلچرل زوال، ثقافتی، سیاسی ساخت کی شکست پر یہ ایسی نظم ہے جو مغرب کے دروں اور بطوں کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ مغرب کے تہذیبی، ثقافتی تشخص کی گم شدگی کا بیانیہ ہے۔ تابناک اور تاریک کے تضاد سے حال اور ماضی کے خمیر سے ایک تصویر گوندھی گئی ہے۔ یہ صرف انگلستان کی سیاسی، تاریخی قوت کے انہدام اور موت کا مژدہ نہیں ہے بلکہ اسے فسانۂ ماضی قرار دے کر حال کے تحرک اور فعالیت سے منقطع ملک بتایا گیا ہے۔ انگلستان کے عروج کے زوال کی ایک کریہہ تصویر ہے:
یہ ولایت وہ نہیں ہے/ جس پہ سورج آج تک ڈوبا نہیں تھا/ اب تو اک تاریک تہہ خانہ ہے، جس میں/ ٹوٹی پھوٹی کرسیاں، صوفے پڑے ہیں/ ہینگروں پر/ کچھ پرانے کوٹ، ہیٹ اور ٹائیاں ہیں/ اور کچھ پارینہ فوجی وردیاں/ فنگس لگے میڈل ٹنگے ہیں/ کرم خوردہ کمپنی سرکار کے چرمی رجسٹر/ دھول کی چادر میں لپٹے سورہے ہیں/ مکڑیاں بھی/ خود کشیدہ، گرد میں ملبوس/ جالوں میں پھنسی/ پچھلی صدی کے خواب بنتی مرچکی ہیں!
’’ہم غریب پورب کے ساکن‘‘ اپنے کلچر اور ثقافت کی زائیدہ یہ text میر تقی میر کے شعری متن کی نظمیہ تقلیب ہے۔ مگر یہ جزوی ہے، نظم کے باطن میں جو آتش پنہاں ہے، اس آتش کا اپنی مٹی سے گہرا رشتہ ہے۔ مغربی طرزِ فکر ان کی نسلی برتری، ان کے اَنا اور غرور کے لیے ایک آئینہ بھی ہے۔ اس میں زبردست طنزیاتی تاثر ہے کہ اپنی مجرمانہ شناخت کو چھپاکر دوسروں کی شناخت کو مجروح اور مسخ کرنا یہ اقدار کے منافی عمل ہے۔ یہ جہاں اپنی تہذیبی جڑوں سے وابستگی کی مظہر ہے وہیں مغرب کے احساسِ برتری پر زبردست طنز بھی ہے:
… یہ تو سوچو/ تم بھی کل تک پردیسی تھے/ یورپ سے نووارد، بے گھر/ آوارہ، بے ملک، مہاجر/ سات سمندر پار کی اس دھرتی کے تٹ پر/ ایسے ہی آکر اترے تھے/ جیسے ہم ہیں/ تم جلاد، لٹیرے، غاصب/ اپنی بندوقوں کے بل پر/ جبراً، قہراً/ اس دھرتی پر قابض ہوکر/ اس کے مالک بن بیٹھے ہو!
ہم پردیسی لوگ جیالے/ اگلی تہذیبوں کے پالے/ حلم و تحمل کے داعی ہیں/ امن و اخوت کے راہی ہیں/ ہم سے کیا پوچھو ہو/ پچھم کی ساکن گوری نسلوں کے برتر لوگو/ ہم بے گھر، پورب کے ساکن/ ہم سے کیا کلام ہے تم کو؟/ ہم کو ٹھٹھا، ٹھول مٹھول سے/ پھبتی کس کر یوں مت دیکھو!
’’قصہ وینپگ ولّو کا اور میرا‘‘ یہ نظم جڑوں کی تلاش سے عبارت ہے کہ اپنی ثقافتی، سماجی جڑوں کے ساتھ جڑا ہوا انسان ہی بلندی سے ہم کنار ہوتا ہے۔ جو اپنی جڑوں کو کھو دیتا ہے اس کی شخصیت اور ذات زوال پذیر ہوجاتی ہے۔
پانچ
…Every text takes shape as a mosaic of citations, every text is the absorption and trasformation of other text.
-Julia Kristeva
ستیہ پال آنند کی نظموں میں بین المتونیت کا تخلیقی رویہ بھی نمایاں ہے۔ ان کے تخلیقی متن کا رشتہ، ماقبل کے متن سے بھی ہے۔ سابقہ متن کی اساس پر بھی کچھ متون کی تشکیل ہوئی ہے۔ یہ متن لوک روایت، دیومالا، حکایت و قصص سے مستفاد ہے۔ گویا اس طور پر ان کا تہذیبی، ثقافتی رشتہ وسیع تر روایتوں سے استوار اور مربوط ہے۔
مابعد جدیدیت کے بین المتونیت کے نظریے سے دیکھا جائے تو ماقبل متن پہ متن کی تشکیل کا یہ عمل مابعد جدید طرزِ اظہار کہلائے گا۔
’’انتقام‘‘ ن۔م۔ راشد کے متن کی موضوعاتی اور معنیاتی توسیع ہی نہیں بلکہ اس متن سے فکری انحراف بھی ہے۔ ن۔م۔ راشد کی مشہور نظم ’انتقام‘ کے خلاف ایک فکری ردِّعمل بھی ہے۔ نظم کے کلائمیکس نے فکری انحراف کی صورت واضح کردی ہے اور یہی انحراف اس نظم کو بامعنی، باوقار اور مختلف بناتا ہے:
اور میں جو اس ارادے سے گیا تھا/ جامعہ کے ہوسٹل میں اس کے کمرے میں/ کہ شاید ’’رات بھر‘‘ میں/ ’’اپنے ہونٹوں سے‘‘ برابر صبح تک لیتا رہوں گا/ ’’اس سے ارباب وطن کی بے بسی کا انتقام‘‘/ وہ ’’برہنہ جسم‘‘ وہ ’’چہرہ‘‘ وہ ’’خدوخال‘‘ سب کچھ/ بن چھوئے ہی لوٹ آیا تھا کہ میرے ملک اب آزاد تھے/ اور یہ مکافاتی طریقہ/ مجھ کو بودا اور بچکانہ لگا تھا!
’’آدھا بھائی جاگ رہا ہے‘‘ یہ بھی بین المتونی نظریے سے پڑھی جانے والی نظم ہے۔ اس کا متن بھی پہلے سے موجود ہے۔ بس لفظ اور معانی کی تھوڑی سی تقلیب ہوئی ہے۔
’’مجھے نہ کر وداع‘‘ ن۔م۔ راشد سے فکری انحراف کی مظہر اس نظم میں ن۔م۔ راشد کی فکری جہتوں کا تعاقب کیا گیا ہے اور ان سے الگ فکری متن کی تشکیل کی گئی ہے۔ یعنی سوچ کے زاویوں کے تخالفات اور تناقضات کو واضح کیا گیا ہے:
آخرش!/ میں پوچھتا ہوں، ذات من/ خدا کو کیوں برا کہیں؟/ یہ سوچ کر کہ اس نے اہل غرب کو/ عنانِ کل کا اختیار دے دیا/ یہ فرض کیوں کریں /کہ نیتشے کی بات عین حسب حال تھی
’’کل کا نستعلیق بچہ‘‘ بھی بین المتونی نظم ہے، یہ ہانس اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی سے ماخوذ ہے، اس میں جھوٹ اور سچ کی تقلیب کے عمل میں مقتدرہ کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ جھوٹ اور سچ کی تشکیل تو مقتدرہ کرتی ہے۔ میشیل فوکو کا کہنا ہے کہ تہذیب، شرافت اور معقولیت کے تمام پیمانے طاقت کے ڈسکورس سے پیدا ہوتے اور قائم رکھے جاتے ہیں۔
چھ
A linguistic sign is not a link between a thing a and a name, but between a concept and a sound pattern. -Soussere
ستیہ پال آنند، آگاہ فرد ہیں۔ انہیں سماجی، معاشرتی تغیرات کا علم و عرفان ہے اور گلوبلائزیشن اور نیٹ ورک سوسائٹی کے مضرات سے بھی آگہی ہے۔ بدلتی قدروں نے جس طرح انسانی شناخت کو بحران سے دوچار کیا ہے اسی طرح لفظ، لسان اور حرف کی حرمت پربھی اس کی یلغار جاری ہے۔ نئے نظام کی وجہ سے لسانی شکست و ریخت کا بدبختانہ عمل بھی شروع ہوا ہے۔ کیا ایسی صورت میں لفظ زندہ رہیں گے، ان میں وہ تاب و توانائی برقرار رہے گی یا بدلتے زمانے کے ساتھ حرف و معنی کا رشتہ بھی تبدیل ہوجائے گا؟ شاعر ایسے سوالات سے بے خبر نہیں ہے۔ نظموں میں اس سے آگہی کے ثبوت موجود ہیں۔
ستیہ پال آنند نے تخلیق کے لسانی نظام اور ترسیل و ابلاغ کے مسائل پر تخلیقی نگاہ سے سوچا ہے۔ انہوں نے زبان کے عمل اور حرکیت پر بھی تخْلیقی سطح پر اس طرح سوچا ہے جس طرح فلسفہ لسان کے ماہرین ہسرل، اور سوسیرسوچتے رہے ہیں۔ مگر ایک تخلیق کار کا زاویہ نگاہ مختلف ہوتا ہے اور وہ زبان کی تحدید کے بجائے توسیع پر ارتکاز کرتا ہے۔ لفظ مرکزیت نظام اور التوائے معنی کے تصور اور مختلف لسانی تعمّلات کے حوالے سے ستیہ پال آنند کی جو سوچ نظموں میں منعکس ہوئی ہے وہ مختلف ہے۔
’’الفاظ— ایک استغاثہ‘‘ اس نظم میں لسانی قضیے کو دو کرداروں کی جرح کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ دونوں کی فکر میں منطقی اثباتیت ہے اور دونوں ہی اپنی فکر کے محور پر صحیح ہیں۔ ایک ثالث کے ذریعے تنازع فعلان کے لسانی قضیے کا تدارک اور تصفیہ کیا گیا ہے۔ فلسفۂ لسان اور آج کے لسانی معرکے کو ایک تخلیق کار نے اپنے تناظر میں دیکھا ہے اور صورتِ حال واضح کردی ہے کہ دونوں صورتیں غلط ہیں۔ دونوں میں تصنع اور افراط و تفریط ہے جبکہ لسان میں رسان اور توازن کی ضرورت ہے:
الف: میں الفاظ کا بخیہ گر ہوں— مجھے/ اچھا لگتا ہے حرف و سخن کا توازن/ مقفیٰ، مسجع، وہ الفاظ جن سے/ ترنم کی چشمک، تغزل کا جادو/ سریلی، مدھر نغمگی پھوٹتی ہو
ب: مجھے کیا پڑی ہے/ کہ لفظوں کی جادوگری کے فلیتے/ ہوا میں اڑاؤں؟/ مسجع عبارت/ صدائے مقفیٰ تو کاریگری ہے / تماشا ہے سرکس کا، بازیگری ہے/ مجھے اچھی لگتی ہے /اندر کے قلزم کی گہرائیوں میں/ بسی اپنے لاصوت ’میں‘ کی سیاحت/ وہ خاموشیاں جن میں الفاظ سے ماورا/ ایسے معنی کی پرتیں نہاں ہیں/ جنہیں جاننے کے لیے/ ڈوبنا شرط ہے، میرے بھائی!
ث: کہیں کچھ تصنع ہے دونوں میں، بھائی/ خموشی غلط ہے/ مگر حرف و صوت و ندا کا/ تصنع بھی مکر و ریا ہے!
’’کتاب میری نہ بھول جائیں‘‘ آج کے صارفی سماج میں ’لفظ‘ اور ’حرف‘ کی حرمت کے خاتمے اور اس کے تئیں تقلیل کے رویے پر ایک طنز بھی ہے۔ یہ علم کی تصغیریت کا نوحہ ہے۔
سات
The wise man ever studiously avoids extremes is speech and act, himself, and when others press to extremes in heated speach he passesing in quiet answering not.
-Upanishads
نظم کا موضوعاتی، اظہاری دائرہ اور سانچہ لامحدود ہے۔ یہ کسی بھی صنف کے حریم و حدود میں داخل ہوکر ایک نئی ساخت کا تعین کرسکتی ہے۔ نظموں میں غزلیہ رمزیت، ایمائیت بھی ہوسکتی ہے اور کہانیوں کی طرح پلاٹ کردار بھی اور مثنوی کی محاکات اور منظر نگاری بھی۔ گویا یہ ایک حصار شکن ہیئت ہے اور یہ کسی طرح کی حدبندی کو قبول نہیں کرتی۔ ستیہ پال آنند نے بھی ہیئت کے مختلف اور متنوع تجربے کیے ہیں۔ نظم میں ان کا لہجہ کہیں استفہامیہ ہے تو کہیں حکائی، کہیں مکالماتی۔ دیوارِ نوشتہ، کرٹین کال کے بعد، بہم رضائے خودکشی جیسی نظموں میں انہوں نے استفہامیہ انداز اختیار کیا ہے تو بعض نظموں میں حکائی انداز۔ان کے یہاں ن۔م۔ راشد کی بلند آہنگی نہیں بلکہ اخترالایمان کا دھیما پن ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی زبان میں کہیں تو ستیہ پال آنند کی شاعری میں شمع کی خاموشی اور سوزش ہے، قمری و بلبل کی آوارگی و شورش نہیں۔ یہ شاعری شعلوں کی طرح بھڑکتی نہیں بلکہ تنور کی طرح اندر ہی اندر سلگتی رہتی ہے۔
ستیہ پال آنند کے اسلوب میں طنز بھی نمایاں ہے۔ ’’میرا انگوٹھا کہاں لگے گا‘‘ اور ’’کل کا نستعلیق بچہ‘‘ میں طنزیہ اسلوب نمایاں ہے۔ انہوں نے تضاد کی تکنیک سے بھی کام نکالا ہے۔ ’’کالاجادو‘‘ میں رنگ کی افتراقیت اور استبعادی طریق کار نے ان کی تخلیق کو ندرت اور جدت عطا کی ہے۔
نظامِ افکار اور نظام اظہار دونوں اعتبار سے ستیہ پال آنند کے یہاں تجدد اور تطور کی شکلیں ہویدا ہیں۔ یہ موضوعی، لسانی حدبندی سے ماوراء اور طے شدہ موضوعات سے منحرف شاعری ہے۔ ان کی نظمیں موضوع و مواد، ہیئت و اسلوب کے اعتبار سے نہایت کامیاب ہیں۔ ان کی نظموں میں تہہ داری، کہانیوں کا تفاعل، استعاراتی جہت، ایجاز برقرار ہے۔ ان کی نظم میں موسیقیت ہے اور نظم کا آہنگ نثر سے متمائز و متغایر ہے۔ ایک ہی نظم میں معنی کے کئی امکانات موجود ہیں اور یہی کثیر معنیاتی امکان ان کی نظموں کو ارتفاعی جہت عطا کرتا ہے۔ نظم کسی ایک معنی پرمرتکز نہیں۔ امکانی مفاہیم کے کئی در وا اور کئی باب مفتوح ہیں، یہ قاری کی ذہنی سطح پر منحصر ہے کہ معانی کو کس طرح محسوس یا منکشف کرتا ہے۔
تخلیق کار مختلف ابعاد اور زاویوں سے تخلیقی تصویر میں رنگ بھرتا ہے اور یہی Riot of colours تخلیق کو جاذبیت، دل کشی اور حسن عطا کرتا ہے۔ ان کی نظمیں کسی ایک فریم یا حریم فکر میں قید نہیں ہیں۔ یہ نظمیں نئے فکری، نفسی منطقے کی نظمیں ہیں۔ یہ نئے پلانیٹ کی شاعری ہے۔ اس سیارے کی شاعری جس کی جستجو جاری ہے۔
]ستیہ پال آنند کی شاعری کے مطالعے کے دوران سانحہ یہ ہوا کہ ذہن کا ایک حصہ ہی متحرک رہا، باقی حصوں پر عالمی واقعات کی وحشت اور دہشت طاری رہی۔ اس کثیر الابعاد نظمیہ شاعری کا ذہن کے کلی تحرک کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو تخلیق کی بہت سی طرفیں کھل سکتی ہیں۔ تخلیق میں مستور، معنیات اور مفاہیم کا اکتشاف اب اہل نظر کا کام ہے [——
نوٹ: مضمون نگار اردو کے اہم ناقد ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

