ضلع بجنور اترپردیش کے شمال مغرب میں ہندوستان کے مہمان پاسبان ہمالیہ کے میدانی یعنی ترائی کے علاقہ میں واقع ہے اور قدرت نے اسے اپنے خزانوں سے ایسی فراوانی کے ساتھ مالامال کیا ہے کہ اس کی زمین گل وگلزار اورزرخیزہی نہیں بلکہ مردم خیزبھی ہے۔ زندگی کے قریب قریب تمام اہم شعبوں میں اس سرزمین کے فرزندان ارجمندنے اپنی بے لوث لیاقت اوراخلاص سے گوشہ زندگی کو ایساآراستہ کیا ہے کہ دیکھنے والے کی زبان خودبول اٹھتی ہے’’یہ خلدبریں ارمانوں کی‘‘۔
آیئے ہم بھی چند منٹ اس گلستان کی مختلف النوع پر بہارکیاریوں کے نظارہ سے لطف اندوز ہوں۔ ضلع کو مغرب میں پوترگنگا نے اپنی فیض رساں روانی سے آبیارکیاہے اور اس کے مشرق میں رام گنگا بہتی ہے۔ قدرت نے اس کے باشندوں کے لیے ایسی سازگار آب وہوافراہم کی ہے کہ جس میں وہ امن وامان کے ساتھ سانس لے سکیں اورقدرت کے خزانوں سے فیض یاب ہوکراپنی جنس،انسانیت اورکل مخلوق خداکی خدمت میں زندگی صرف کرسکیں۔
نگینہ،نجیب آباد میں سردموسم میں درجۂ حرارت صفرتک گرجاتا ہے اور گرمی ان دونوں جگہوںمیں ۴۰درجہ سے کم ہی رہتی ہے۔بارش اس قدر کافی ہوتی ہے کہ ضلع کی پیداوار میں چاول کی کاشت اچھی مقد ار میں ہے۔زمین کی رخیزی گندم،چاول اورخاص کر گنے کی اچھی پیداوار سے ثابت ہے ۔ شکرکی پیداوارمیں صوبٔہ اترپردیش کے ضلعوں میں یہ صفحہ اول میں ہے۔ چینی کی اس وقت۹ملیں ہیں اورکم ازکم ۲اورقائم ہونے والی ہیں۔ کریشروں کی تعداد۴۰ سے زیادہ رہ چکی ہے۔نگینہ کی تحصیل میں جوچاول پیدا ہوتاہے اس کی اعلیٰ قسم،ہنس راج نہایت خوشبوداراورلمباہے اورباسمتی سے ٹکر لیتاہے اور شہروں کے بازاروں میں باسمتی کے نام سے بکتاہے۔قصبہ نگینہ اور بڑھا پورکے درمیان، بڑھاپور کے دکنی کنارے پرایک دریا بہتاہے جس کانام سونا ندی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے آغوش سے ریت اٹھاکرچھان لیں تواس میں سے سونے کے ذرات ملتے ہیں جوبلاشبہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پہاڑکی طرف سے جس سمت سے دریا بہتا آرہا ہے
وہاںسونے کی کان موجودہو۔متعلقہ محکمہ اس کی تحقیقات کرے تویہ ملک کی بڑی خدمت ہوگی۔
جس سرزمین کایہ رنگ ہو،وہاں کے باشندے جس قدربھی زیرک ، ہوشیاراور فنکارہوںتوکیا تعجب کامقام ہے۔ چنانچہ ضلع صنعت کاروں کی مہارت کا یہ عالم رہا ہے کہ نگینہ میں آبنوس کی لکڑی پرنقش ونگارکی صنعت نے یہ صورت اختیار کی کہ میزیں، کرسیاں، سنگاردان، طرح طرح کے ڈبے اورہاتھ میں لینے کی چھڑیاںاوردیگر مصنوعات ایسی تیارکیں کہ ملکہ وکٹوریہ نے بذاتِ خودان کی فرمائش کی اوروہ پیلس کی زینت بن گئیں۔ یہی صنعت آبنوس کے بجائے آج روزوڈاورشیشم میںبدل گئی ہے۔ ڈبے، عورتوں کے کڑے ،بندے اورزیوراورمیزیںوغیرہ اس قدر تعدادمیں بنتے ہیں کہ مستقل ان کا ایکسپورٹ امریکہ، افریقہ،یورپ اورمڈل ایسٹ کوہوتا ہے، اس وقت کئی کروڑ سالانہ کی ایکسپورٹ ہے اور نگینہ سے نکل کریہ تجارت نجیب آباد،دھام پور اور دوسرے قصبوں تک پہنچ گئی ہے۔
انسان کی ز ینت کا سب سے پہلاسامان لباس ہے۔ اس کی رنگینی اورخوبصورتی پر یہاں کے باشندوںکی کافی توجہ رہی ہے۔ انصاریوں نے اپنے کرگھوںپرنگینہ، نہٹوراورآس پاس کے گاؤں میں ایسے کپڑے بنے کے جس کااستعمال فرانس ،امریکہ،برطانیہ اورتمام ممالک میں ہے۔ پہنّے کے کپڑے، گدوں کی ٹیپسٹری اور پردوں کاکپڑا لاجواب بناجانے لگا،جو ادھر مدت سے سوت کی قلت اورمہنگائی کے سبب روبہ زوال رہا، مگر صنعت اپنی جگہ موجود ہے۔ چھپائی،رنگائی اور ڈیزائن کا کام بھی اعلیٰ سے اعلیٰ پیمانے پر رہا ہے۔
نگینہ کے لوہارایسے دستکاررہے ہیں کہ ایک شخص عبداللہ نامی ریوالور اور بندوق سب بنا سکتاتھا۔کمشنروں کی بندوقوں اورریوالوروں کی ایسی مرمت کی کہ کبھی مالک یہ نہ پہچان سکا کہ مرمت کہاں ہوئی ہے۔موجودہ عہد صنعتی ترقی میں یہاں کے باشندے ترقی کی راہ پرگامزن ہیں اورضلع میں پیپرملیں،سیڈ ملیں، اسٹیل ملیں جگہ جگہ قائم ہورہی ہیں ۔ نجیب آباد میں پلائی وڈ کی فیکٹری بھی ہے،انڈین آئل کا ڈپو بھی اور آل انڈیاریڈیوبھی ہے۔
اہالیانِ بجنوراگر اپنی لامثال جدوجہدسے انگریزوں کی غلامی سے آزادنہ ہوتے تو اس کے باشندے ہرگزقابلِ ذکرنہ ہوتے۔ چنانچہ آج اگرضلع کے لوگ آزادی سے سرشارز ندگی بسر کر رہے ہیں تواس کا سہراہمارے مجاہدین آزادی کے سر ہے۔ جن میںسب سے اول تین نام ہمارے لئے زندہ جاوید ہیں۔ دو نورپورکے رہنے والے پروین سنگھ اوررکھی سنگھ۔۔۔۔اورتیسرے باسٹہ کے امام الدین انصاری ہیں۔ان تینوںملک کی آزادی کے متوالوں کوانگریزی حکومت نے گولیوں سے چھلنی کرادیا۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کانام تاریخ میںآب زر سے لکھارہے گا کہ وطن کی آزای کے لئے۷سال جیل میں گزارے اور48۔1947میں دہلی میں ا نسانی زندگی قائم رکھنے کے لئے ایسی جدوجہد کی کہ انسانیت ان کی ہمیشہ ممنون احسان رہے گی۔ ہندوستان کا دستور اساسی بنانے میں ان کا حصہ ہے۔ وہ مرکزی دستورسازاسمبلی کے ممبرتھے اورتین ٹرم پارلیمینٹ کے ممبر رہے۔اور جمعیت العلمأہند کے جنرل سکریٹری رہے۔ مولوی عبدالطیف بجنوری پنڈت جواہر لال نہروکے ساتھ دہرہ دون جیل میں رہے۔حافظ محمدابراہیم اور ان کے صاحب زادے عتیق الرحمن مرحوم نے فتح گڑھ،مرادآباداوربجنور کی جیلوںمیں قید کاٹی۔
آصف علی بیرسٹرجو سیوہارہ کے رہنے والے تھے جواہر لال نہرو کے ساتھ احمد نگر جیل میں تھے۔نیمی سرن،رتن لال جین، بہاری لال،گووندسہائے اور سینکڑوں ہزاروں ان کے ساتھیوں نے وطن کے لئے قربانیاں دیں اوروطن کو آزادکرایا۔ آزادکرانے کے بعد دوسراکام وطن کو سنوارنا،آزادی کو قائم رکھنا اورقوم کی تعمیرتھی۔ تعمیرکے بغیرتو کوئی بھی سر زمین جنگل ہی نظرآتی ہے۔
حافظ محمد ابراہیم مرحوم نہایت لائق وکیل تھے، جنھوں نے ۱۴سال یوپی میں اورپانچ سال مرکزی حکومت میںوزارت کی اوردو سال پنجاب کے گورنررہے۔ انھوں نے اپنی اعلیٰ لیاقت اوربے لوث خدمت کے ذریعہ ضلع بجنورکو گل وگلزاراورچمنستان جنت نشاں بنادیاکہ بجنورآج سچ مچ ارمانوںکی خلدبریں بنا ہواہے۔ انسان کی بنیادی ضرورت ہوا،پانی،روشنی اورصاف ستھری سڑکیں ہیں۔ حافظ صاحب نے پورے ضلع میں ٹیوب ویل لگوائے اور سڑکوں سے چپہ چپہ کو آراستہ کیا۔ کالاگڑھ کا ڈیم بنوایا جو اب اترانچل میں ہے۔ گاؤں گاؤں بجلی پہنچوائی اورپورے پردیش میں خاص طورپرمشرقی اضلاع میں اس پر کافی رشک رہا۔موصوف کو پدم بھوشن کا خطاب ملا۔
بجنور ضلع کے دوسرے سپوت راجہ جوالہ پرساد تھے جن کو انگریزوں نے پہلا آبپاشی کاچیف انجینئر بنایا۔ انھوں نے بھی ضلع کی بڑی خدمت کی۔ان کے بیٹے شری دھرم ویرآئی سی ایس تھے مرکزی حکومت میں کیبنیٹ سکریٹری رہے۔ انھوں نے بنگلہ دیش سے آئے شرنارتھیوں کی آبادکاری میں بڑاکام کیادھرم ویرصاحب نے بجنورمیں ایک گرلس کالج اورایک لڑکوں کاکالج قائم کیا۔ان کے بھائی ستیہ ویر نے ایک انجینٔرکالج قائم کیا۔
بجنور کی ترقی میں جین خاندان کا بھی نمایاں حصہ ہے۔نجیب آباد کے شریانس پرساد جین اور شانتی پرساد جین دونوں بھائی ہندوستان کے بڑے صنعت کارتھے۔ ان کے کتنے ہی ملکوں میں صنعت کارخانے اورسیمنٹ فیکٹریاںہیں۔ بینٹ کول مین کی کمیٹی انہی دو بھائیوں نے خریدی اور ٹائمزآف انڈیا اورنوبھارت ٹائمز کے یہی لوگ مالک ہیں۔شانتی پرساد جین ڈالمیا کے داماد تھے انھوں نے نجیب آباد میں دو ڈگری کالج قائم کئے اورپدم شری کا ایوارڈ پایا۔راجیندرکمار جین بجنور کے ایک متمول گھرانے کے فرزند تھے۔انھوں نے بھارت بینک کی بنیاد ڈالی۔وہ دہلی میںفلور مل کے مالک تھے۔ ۱۹۶۰ میں انھوں نے وردھمان ڈگری کالج قائم کیا۔ شانتی پرساد جین کے بیٹے اشوک کمار جین انڈین چیمبر آف کامرس کے پرسیڈینٹ تھے انھوں نے ہسپتال کھلوائے او ر ٹائم ریسرچ فاؤنڈیشن اور نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل سوشل سائنس ریسرچ اینڈ ایجوکیشن سینٹر قائم کئے۔
فتح چند شرما ساہتیہ سمیلن کے سیکریٹری اورنو بھارت ٹائمز کے ایڈیٹرتھے۔ڈاکٹرآتما رام چاندپورکے رہنے والے نیشنل فیزیکل لیباریٹری کے ڈائریکٹررہے اور سی ایس آئی آرکے ڈائریکٹر جنرل رہے ۔سیدآل عمران آئی۔سی۔ایس جنگ بلقان میں ڈاکٹرانصاری کے ہمراہ طبی مشن لے کرترکی گئے تھے ۔ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری بہت بڑے ادیب تھے۔اوربھوپال میں ڈائریکٹر تعلیمات تھے۔ غالب پر ان کی کتاب لازوال ہے ۔ قرۃالعین حیدربھی جو اردو کی اعلیٰ ادیب اور ناول نگار ہیں۔ ناول’’آگ کا دریا‘‘ان کا شاہکارناول ہے۔ صدیقہ بیگم سیوہاروی افسانہ نویس، دشینت کمارنوادہ تحصیل بجنورکے ڈرامہ نگا،ر ناول نگاراور شاعر تھے۔ قاضی سجاد حسین کرت پوری نے مثنوی اوردیوان حافظ کا ترجمہ کیا۔ شمس العلماڈپٹی نذیر احمد اردو کے بڑے نثر نگار تسلیم کیے گئے ہیں وہ ریہڑکے رہنے والے تھے۔ڈاکٹر وحید الدین ملک جو دو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر بھی رہے، محمدقاسم صدیقی سیوہاروی سابق وائس چانسلرجامعہ اردو علی گڑھ جو اردو ادب کے بڑے ادیب بھی ہیں،پروفیسر گیان چنداور پروفیسر خورشید الاسلام جو دونوں غالب کے نقاد،سب ضلع بجنور کے رہنے والے ہیں ۔اگرضلع بجنورایک گلشن پُربہار تھاتو میر تقی میرؔکے وقت میں قائمؔ چاندپوری اس کے زمزمہ سنج تھے۔ نہالؔ سیوہاروی اردو کے ایک بڑے شاعر تھے۔جگرؔ مرادآبادی کے بارے میں یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ انھوں نے شاعری نگینہ میں ہی رہ کر سیکھی جب وہ جوان تھے اورمیونسپلٹی نگینہ میں ملازم تھے۔ پرکاش چند مونسؔ سیوہارہ کے رہنے والے تھے۔داغؔ دہلوی کے شاگردرہے نہایت عمدہ شاعر رہے۔ موجودہ عہد میں ضلع میں کم از کم بیس خوش کلام شاعر ہیں جن میں رفعت ؔسروش اورہلال ؔسیوہاروی تمام بیرون ممالک میں شریک ہوئے رفعتؔ سروش نے قریب قریب ہر ادارے سے انعام حاصل کیا ہے۔ نگینہ کے محمد عرفان ؔروما نی بڑے ادیب، غالبؔ کے نقاد اوراعلیٰ شاعر ہیں۔ان کے علاوہ اطہرؔ شکیل نگینوی، شجاع الدین قمرؔسیوہاروی، ابرارؔحسین کرت پوری،افسر ؔبجنوری،فاخرؔادیب، معین شادابؔ، شکیلؔ جمالی، عبدالغفاردانشؔ،اسد ؔرضا، بینا ؔنہٹوری اور ،ڈاکٹر احتشام، تشنہ نگینوی،ڈاکٹرداؤدملتانی اور ڈاکٹرعمران ساغر کے نغموں سے فضائیں گونجتی ہیں۔
معاشرہ میں بیماری کے علاج کاانتظام نہ ہو توسماج کابرا حال ہوجائے۔ضلع بجنور میں اچھے سے اچھے حکیم اورڈاکٹر رہے۔بجنور کے حکیم رحیم اللہ بڑے حازق طبیب تھے۔حکیم اجمل خاں دہلی والے اپنے مریض ان کے پاس بھیجتے تھے۔سیوہارہ کے حکیم صلاح الدین مرحوم بھی بہت ماہر طبیب تھے۔حکیم عبداللہ مرحوم نگینوی حکیم اجمل خاں کے سکریٹری بھی رہے۔نندن وید مشہوروید تھے ڈاکٹرحنیف بیگ ہارٹ سرجن منڈاور کے، ڈاکٹر انل وج، نگینہ کے، ڈاکٹرمحسن ولی صدر جمہوریہ کے فزیشین بجنور کے تھے اور ڈاکٹرراج ویرسنگھ ہارٹ اسپیشلسٹ نہٹور کے تھے۔
فلم کے دائرہ میں بجنور کے مشہورہندوستانی فلم ڈائریکٹرپرکاش مہراکا نام کون نہیں جانتا۔پر ان کے ساتھ نگینہ کے این۔ کے۔ سنگھ فلم ڈائریکٹر رہے۔ چمن لال شرماہاکی کے نامور کھلاڑی تھے۔
نوجوان طبقہ سے بھی کچھ نام زبان پر آنے ضروری ہیں۔ جن میں ڈاکٹر محمد اطہر نگینوی کو یونیسکو کا’’ینگ سائنٹسٹ‘‘کا ایوارڈ ملا، وہ کولمبیا یونیورسٹی میں کینسر ریسرچ کر رہے ہیں۔ نہٹور کے سلمان سمیع امریکہ میں تجارت کرتے ہیں بلینیر ہیں۔ڈاکٹر انیس عالم سرائے حبیب چاند پور کے کیلیفورنیہ یونیورسٹی میں کینسر ریسرچ کررہے ہیں۔نگینہ کے حفیظ الرحمن ابراہیم ٹہری کے ایسوی ایسٹ ڈائریکٹر، انرجی ایکسپرٹ ہیں اور مشہورعالم بوسٹن یونیورسٹی امریکہ سے۶جلدوں میں مطبوعہ انرجی انسائکلوپیڈیا میں ہندوستان کی انرجی پر ان کا مقالہ شامل کیا گیا ہے۔
معاشرے کے حقوق کی حفاظت ایک طرف، اور عدالتوں کی رہنمائی ایک طرف ازبس ضروری ہے اور یہ خدمت کسی سوسائٹی کے وکلا ہی انجام دے سکتے ہیں۔سرتیج بہادر سپرو،آصف علی بیرسٹر،حافظ محمد ابراہیم، وشوامتر،شانتی بھوشن ضلع بجنور کے بہت ممتازاورلائق وکیل تھے۔سید ضرار حیدرنہٹوری لائق و کیل تھے ہائی کورٹ کے جج بنے۔
کسی قوم کی حفاظت ایک حد تک فوج کے زمہ بھی ہے کرنل ظفر علی وارثی آرمی ہیڈکواٹر دہلی میں آرڈینینس برانچ کے ڈائریکٹرایڈمنسٹریشن تھے ان کی بہادری پر ان کوسینا میڈل سے نوازا گیاتھا۔یہ بجنور کے رہنے والے تھے۔
’’باشندگان ضلع بجنورزندہ باد،پائندہ باد‘‘
نوٹ: مضمون نگار این سی پی یو ایل سے وابستہ ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

