Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

غالب شناس : کمال احمد صدیقی- ڈاکٹر شفیع ایوب

by adbimiras اکتوبر 12, 2020
by adbimiras اکتوبر 12, 2020 0 comment

کمال احمد صدیقی کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔وہ ایک کامیاب براڈکاسٹر، ممتاز شاعر، افسانہ نگار، انشا پرداز، ماہر عُروض، ناقد اور محقق تھے۔ بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں ان کی نظموں کا خوب شہرہ ہوا۔ اپنی قدامت پرستی کے لئے مشہور لکھنو میں رہ کر انھوں نے آزاد نظم میں اتنے  کامیاب تجربے کئے تھے کہ میرا جی اور ن ۔م۔راشد کے ساتھ ان کا نام لیا جانے لگا۔قیوم نظر، یوسف ظفر، ضیاء جالندھری، مخمور جالندھری اور مختار صدیقی جیسے معاصرین کی طرح کمال احمد صدیقی بھی تجربہ پسند تھے۔ ذہنی اور جذباتی طور پر حلقہ اربابِ ذوق کے قریب تھے۔ ان کی آزاد نظموں میں موضوعات کا تنوع اور نئے پن کی جستجو بہت ہے۔ ان کی نظمیں ’’ساقی‘‘،’’ رفتار‘‘ اور’’ ادب لطیف ‘‘جیسے رسائل میں شائع ہونے لگیں۔ نظموں کا مجموعہ ’’ بادبان اور دوسری نظمیں ‘‘ کے عنوان سے حلقہ ارباب ذوق ، لکھنو کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ ان کی شاعری کی بھرپور پذیرائی ہو رہی تھی۔ نظموں کے علاوہ ان کی غزل گوئی نے بھی اہلِ نظر کو متاثر کیا۔

ایک دل ہے کہ اُجڑ جائے توبستا ہی نہیں

ایک بت خانہ ہے اُجڑے تو حرم ہوتا ہے۔

یا

کچھ لوگ جو  خاموش ہیں یہ سوچ  رہے ہیں

سچ بولیں گے جب سچ کے ذرا دام بڑھیں گے۔

یا

بات کرتا ہے بہ ظاہر بڑی سادہ سی کمال

جو سخن ور ہیں وہی اس کے سخن تک پہنچے ۔

جیسے کچھ بہت اچھے اشعار کمال احمد صدیقی نے اردو شاعری کو دیئے۔ لیکن وہ مضطرب تھے کہ کچھ اور چاہئے وسعت میرے بیاں کے لئے۔ پروفیسر عتیق اللہ ان کی اس بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

کمال احمد صدیقی اپنے معاصرین میں سب سے مختلف دھج رکھتے تھے۔ شاعری سےادبی سفر کا آغاز کیا اور عرصہ دراز تک صرف اور صرف شاعر کی حیثیت ہی سے پہچانے گئےاور اس پہچان پر قائم و قانع بھی رہے۔ طبیعت کی بے چینی کو کیا نام دیجئے چپکے بیٹھنا نہیں آیا ۔

اچھے خاصے شاعر تھے ۔ پالا بدلا اور تحقیق جیسے خشک اور محنت طلب اور صبر آزما میدان کی راہ لی۔‘‘

( پروفیسر عتیق اللہ : ایک ستارہ جو بحر نیلگوں میں ڈوب گیا، ماہنامہ اردو دنیا ، فروری ۲۰۱۴ )

دراصل کمال احمد صدیقی کی اسی اضطرابی کیفیت کے صدقے میں کچھ بہت اہم تحریریں منظر عام پہ آ سکیں۔ بطور براڈ کاسٹر ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات کے حوالے سے ان کی بہت اہم کتاب ’’ ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں ترسیل و ابلاغ کی زبان ‘‘  منظر عام پہ آئی۔ آپ کی ایک شناخت ماہر لسانیات کی بھی ہے۔ اردو زبان کے آغاز و ارتقاء کے حوالے سے آپ کی بہت اہم تحریریں موجود ہیں۔’’ مقدمہ زبان اردو‘‘ ایک ایسی ہی اہم کتاب ہے ، جس کا انتساب منشی پریم چند، فراق گورکھپوری، آنند نرائن ملا، جسٹس مارکنڈے کاٹجو، جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر، گوپی چند نارنگ اور پریت پال سنگھ بیتاب کے نام ہے۔ اس کتاب کا دیباچہ مشہور کمیونسٹ لیڈر کامریڈ ہر کشن سنگھ سرجیت نے لکھا ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف اردو زبان کے آغاز و ارتقا ء سے بحث کی گئی ہے بلکہ اردو کے تمام مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ آزاد ہندوستان میں اردو کی بقاء اور ترویج و ترقی کی راہ میں جتنی رکاوٹیں پیدا کی گئیں، ان کا منصفانہ جائزہ اس کتاب میں موجود ہے۔ کمال احمد صدیقی ماہر عروض کی حیثیت سے بھی خاصی شہرت رکھتے تھے۔عروض کے حوالے سے ہر بحث میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے تھے۔ ’’ آہنگ اور عُروض ‘‘ آپ کی بہت اہم کتاب ہے۔ جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوکر مقبول خاص و عام کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔

کمال احمد صدیقی نے مرزا غالب پہ جو اہم کام کئے ہیں اس کی بنا پہ غالب شناسی کے باب میں بھی ان کا نام بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ خواجہ الطاف حسین حالی، علی حیدر نظم طبا طبائی، حسرت موہانی، سید احتشام حسین، مسعود حسن رضوی ادیب، قاضی عبد الودود،  مولانا امتیاز علی خان عرشی، مالک رام، کالی داس گپتا رضا، شمس الرحمٰن فاروقی،  پروفیسر شمیم حنفی،پروفیسر محمد حسن، پروفیسرقاضی افضال حسین، پروفیسر قاضی جمال حسین جیسے اہم ماہر ین غالبیات کی فہرست میں کمال احمد صدیقی کا نام بھی شامل ہے۔ تحقیق و تدوین کی طرف انھوں نے توجہ کی تو غالب کے املا، لغت اور مخطوطہ شناسی میں انھیں لطف آنے لگا۔ سید مظفر حسین برنی لکھتے ہیں :

۱۹۶۹ میں ، جب سارے ملک میں جشن ِ غالب منایا گیا ، تو حکومتِ کشمیر نے بھگوان سہائے ) گورنر ) کی سرپرستی اور غلام محمد صادق ( وزیر اعلیٰ ) کی صدارت میں ریاستی یادگار ِ غالب کمیٹی قائم کی، اور کمال صاحب کو اس کا سیکریٹری مقرر کیا ۔ اسی زمانے میں ایک مخطوطہ بھوپال سےبرآمد کیا گیا ، جسے دیوانِ غالب بخطِ غالب بتایا گیا۔ اس پر کمال صاحب نے کام کیا، ایک ایک حرف کو پرکھا اور کتاب  ’’ بیاض ِ غالب : تحقیقی جائزہ ‘‘ لکھی ، جو پروفیسر محمد حسن کے الفاظ میں’’ اب تک کی سب سے اہم تحقیقی کتاب‘‘ ہے،اس میں انھوں نے نہ صرف اندرونی شہادتوں سے مخطوطہ پرکھنے کا طریقہ کار واضح کیا ، بلکہ غالب کے شعر کی پرکھ کے بھی اعلیٰ نمونے پیش کئے ہیں ‘‘

( سید مظفر حسین برنی : پیش لفظ، غالب کی شناخت ،غالب انسٹی ٹیوٹ ، دہلی،۱۹۹۷)

کمال احمد صدیقی کی دو اہم کتابیں ’’ بیاضِ غالب : تحقیقی جائزہ ‘‘ اور ’’ غالب کی شناخت ‘‘ غالبیات کے باب میں اضافہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ’’بیاضِ غالب : تحقیقی جائزہ ‘‘ پہلی مرتبہ ادارہ مطالعات غالب، سری نگر ، کشمیر سے شائع ہوئی، جبکہ ’’ غالب کی شناخت ‘‘ کی اشاعت ۱۹۹۷میں غالب انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی سے ہوئی۔سید مظفر حسین برنی نے بھوپال سے مخطوطہ برامد ہونے کے جس واقعے کا ذکر کیا ہے، وہ جب نسخہ عرشی زادہ کے نام سے منظر عام پہ آیا تو کمال احمد صدیقی نے اسے ایک جعلی نسخہ قرار دیا۔ ’’ ایک جعلی نسخہ ‘‘ کے عنوان سے ایک بھرپور مضمون ان کی کتاب ’’ غالب کی شناخت ‘‘ میں شامل ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ نسخہ عرشیِ ثانی جسے دیوانِ غالب اردو ، نسخہ عرشی نقشِ ثانی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، اس کا مرتب کون ہے ؟ کمال احمد صدیقی شواہد پیش کرتے ہیں کہ مرتب مولانا امتیاز علی خان عرشی نہیں ہو سکتے، بلکہ یہ اکبر علی خاں عرشی زادہ کا کام ہے۔ کمال احمد صدیقی نے جب اس نسخے کو جعلی نسخہ قرار دیا تو مشہور محقق مالک رام نے مضامین لکھ کر اس مخطوطے کو غالب کی خود نوشت بیاض تسلیم کرتے ہوئے اسے میرزا کے اردو کلام کا سب سے پرانا مخطوطہ قرار دیا۔ پھر تو مولانا عرشی اور عرشی زادہ کے ساتھ ساتھ مالک رام بھی کمال احمد صدیقی کے نشانے پہ آ گئے۔ کمال صاحب بڑی بے باکی سے لکھتے ہیں:

’’ مالک رام کا شمار اس عہد کے مقتدِر غالب شناسوں میں ہوتا ہے۔ لیکن وہ نسخہ جو  ۱۹۶۹ میں دریافت کیا گیا، اس کے سلسلے میں موصوف کا رویّہ علمی یا تحقیقی نہیں، بلکہ ایک فریق کے وکیل کا ہے، اورایسے وکیل کا جس نے نہ کوئی شہادت پیش کی ، نہ کوئی تجزیہ کیا ، نہ کوئی استدلال پیش کیا ، اور نہ کوئی صفائی پیش کی۔ ‘‘

کمال احمد صدیقی یہیں نہیں ٹھہرتے ، وہ مالک رام کی طرفداری پہ طنز کرتے ہیں۔لہجے کی تلخی کا اندازہ ان کے اس اقتباس سے ہوگا۔

’’ ایک ایسے مخطوطے کو کھرا مال ظاہر کرنے کے لئے ، جس کے مستند ہونے پر انھیں شبہ کرنا چاہئے      تھا، مالک رام نے زبان کے سلسلے میں معمولی احتیاط بھی روا نہ رکھی۔ محقق کی زبان بھی وہی ہوتی ہے، جو تھوک اور پرچون کے بیوپاریوں کی ۔ لیکن زبان کے برتنے میں تھوڑا فرق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بیو پاری تو اپنا مال بیچنے کے لئے یہ کہہ سکتا ہے کہ جناب یہ جانگیہ سب سے بہترین ہے۔

مالک رام نے بھی یہ لکھ کر کہ ’’ اس وقت تک جتنے نسخے دریافت ہوئے ہیں ، یہ ان میں سب سےقدیم ترین ہے ، ایک مشکوک نسخے کو بیچنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘

( کمال احمد صدیقی : غالب کی شناخت ، ص ۱۳۳ )

کمال احمد صدیقی خلوت پسند نہیں ، مجلسی آدمی تھے۔ ادبی مجالس میں پورے جوش و خروش سے حصہ لیتے۔ بحث جب تک چل سکے چلے۔ بحث سے گھبراتے نہیں، اور بھاگتے بھی نہیں ۔ جن موضوعات پر ان کی گہری نظر نہیں تھی ان پر بھی فیصلہ کن گفتگو کے عادی تھے۔ مطالعہ وسیع تھا اور یادداشت بھی اچھی تھی اس لئے ادبی مجالس میں اپنی علمیت کا بھرم قائم رکھتے ۔ ایسے مجلسی شخص سے تحقیقی کام کی توقع نہیں کی جاتی ہے۔ لیکن کمال صاحب تو کمال صاحب تھے۔ مجلسی بحث و تکرار اور تحقیقی کاوشوں کے درمیان تال میل بٹھانا کوئی کمال احمد صدیقی سے سیکھے۔ جس زمانے میں وہ اپنی کتاب ’ بیاض غالب : تحقیقی جائزہ ‘  پر کام کر رہے تھے، ان کے پاس وسائل نہیں تھے۔ بغرض ملازمت وہ کشمیر میں سکونت پذیر تھے۔ وہاں ان کے پاس بہت سی کتابیں نہیں تھیں۔ وہ ای میل ، وہاٹس ایپ اور آن لائن کا زمانہ نہیں تھا کہ اک آن میں مطلوبہ کتابیں یا دیگر مواد حاضر ہو جائے۔ لیکن کمال احمد صدیقی نے اپنی لگن اور محنت سے بہت سی کتابیں جمع کیں۔ اور بھرپور مطالعے کے بعد بیاض غالب پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ وہ لکھتے ہیں :

’’ غالب کے جتنے مطبوعہ نسخے مل سکے ، میں نے ان کا تقابلی مطالعہ کیا۔جناب امتیاز علی عرشی اور جناب مالک رام صاحب کے مرتب کئے ہوئے     نسخے زیادہ درست پائے۔ لیکن ان میں بھی کچھ غلطیاں جگہ پا گئی ہیں اور یہ غلطیاں اختلافِ نسخ کی وجہ سے نہیں ہیں۔ مالک رام صاحب نے املا چونکہ موجودہ اسلوب کے مطابق لکھا ہے اس لئے جہاں جہاں ’یاں ‘ کے بجائے’ یہاں ‘لکھا ہے، وہ بہت گراں گزرتا ہے۔ ‘‘

(کمال احمد صدیقی : بیاض غالب : تحقیقی جائزہ ،  ص ۹ )

مالک رام صاحب کا بھرپور احترام کرتے ہوئے کمال احمد صدیقی نے ان کی اس روش کو بار بار ناقابل قبول قرار دیا ہے، جہاں وہ کلام غالب کا املا موجودہ اسلوب کے مطابق لکھتے ہیں ۔ سچ بات یہ ہے کہ بعض مقامات پہ مصرعے بحر سے خارج ہو جاتے ہیں۔ شعر وزن میں نہ ہو تو پھر اس سے زیادہ قابل اعتراض بات اور کیا ہو سکتی ہے ؟ مثال کے طور پہ غالب کا یہ شعر ہے :

لکھا کرے کوئی احکامِ طالعِ مولود

کسے خبر ہے ،کہ وہاں جنبش ِ قلم کیا ہے

کمال صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ اگر اس شعر میں ’’وہاں ‘‘ کو ’واں ‘کے وزن پر نہ پڑھا جائے تو شعر نا موزوں ہو جاتا ہے۔ مالک رام نے فٹ نوٹ بھی نہیں لکھا ہے کہ وضاحت ہو جائے کہ کسی نسخے میں ’واں ‘بھی استعمال ہوا ہے یا نہیں۔ چونکہ غالب ’’واں ‘‘ اور ’’وہاں ‘‘  دونوں لکھتے تھے۔ مثال کے طور پہ غالب کا شعر ہے :

ہم وہاں ہیں ، جہاں سے ہم کو بھی

کچھ   ہماری   خبر  نہیں  آتی

ایسے بے شمار مقامات ہیں جہاں کمال احمد صدیقی نے مالک رام کی گرفت کی ہے۔کمال احمد صدیقی نے ایک ایسے محقق کے طور پہ اپنی پہچان بنائی جو فیصلہ سنانے کے انداز میں گفتگو کرے۔ کمال صاحب کی طبیعت میں ضد بھی بہت تھی۔ جس بات پہ اَڑتے تھے اسے منوانے کی بھرپور کوشش کرتے۔ شواہد جمع کرتے، دلائل پیش کرتے اور دو ٹوک فیصلہ سنا دیتے۔ ’’ایک جعلی نسخہ ‘‘ والے معاملے میں ایک حد تک کمال صاحب نے مولانا امتیاز علی خاں عرشی کو بخش دیا تھا۔ نشانے پہ عرشی زادہ تھے اور ان کی حمایت کرنے پہ مالک رام کو بھی انھوں نے نشانے پہ رکھا۔ لیکن عرشی صاحب کو بھی کب تک بخشتے ؟ اپنے اسی مضمون میں لکھتے ہیں :

’’ مالک رام اور امتیاز علی خاں عرشی ، دونوں نے غالب پر لکھتے وقت خطوط غالب سےبھرپور استفادہ کیا ہے۔ مولانا عرشی تو مکاتیب غالب کے مرتب بھی ہیں ۔ ان کی نظر میں یہ باتیں ضرور ہونگی، اور وہ ایک ایسے نسخے کو کھرا ہونے کی سند نہیں دے سکتے تھے۔  دیباچےمیں جو عبارت مولانا عرشی سے منسوب کی گئی ہے ، وہ الحاقی ہے۔ اور اگر بہ فرضِ محال یہ مولاناعرشی کی تحریر ہے ، تو مالک رام کی تحریر کی طرح قابلِ قبول نہیں۔ ‘‘

( کمال احمد صدیقی : غالب کی شناخت ، ص ۱۳۶ )

کمال احمد صدیقی نے ’مخطوطہ شناسی ‘ اور’ مخطوطے کی پرکھ ‘کے عنوان سے دو بے حد اہم مضامین لکھ کر غالبیات کے حوالے سے کام کرنے والے ریسرچ اسکالرس کی راہ آسان کر دی ہے۔ چونکہ مخطوطہ شناسی ایک علمی اور تکنیکی معاملہ ہے، اس لئے اسکے اصول وضوابط سے بھرپور آگہی کے بغیر کلام غالب کی تدوین کا کام مزید گمرہی کا سبب بنے گا۔ ’عہدِ غالب کا فکری پس منظر ‘ اور  ’’ موازنہ ذوق و غالب ‘‘ جیسے مضامین لکھ کر کمال احمد صدیقی نے نہ صرف کلامِ غالب بلکہ عہدِ غالب کے شعری امتیازات سے بحث کی ہے۔ ’’ غالب اور لغت ‘‘ اور ’’ آہنگ ‘‘ جیسے Thought Provoking  مضامین بھی ان کی کتاب ’’ غالب کی شناخت ‘‘ میں شامل ہیں۔ غالب اور عہدِ غالب کے حوالے سے اپنی ان تمام تحریروں کی روشنی میں کمال احمد صدیقی غالب شناسوں میں ممتاز نظر آتے ہیں۔

 

                     ڈاکٹر شفیع ایوب

       ہندوستانی زبانوں کا مرکز،

       جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ،  نئی دہلی۔

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثغالب شناسیغزل فہمیکمال احمد صدیقیمرزا غالب
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
غالب کی فارسی مثنوی’ چراغ دیر‘ :اردو ناقدین کی نظر میں- ڈاکٹر سلمان فیصل
اگلی پوسٹ
پُرانوں کی اہمیت- پروفیسر گوپی چند نارنگ

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں