مخطوطات دراصل ہماری اسلامی تہذیبی وراثت کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہیں کیونکہ قدیم مخطوطات کسی بھی ملک کی تہذیب اور ثقافت ان کے رسوم و رواج قوانین لسانی ادبی اور صنعتی زندگی کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔ یہ بیش بہا ذخائر پرانے نادر، تاریخی واقعات اور ادبی و سماجی زندگی کے عکاس ہیں ۔جو کہ ملک و قوم اور حالات زمانہ کے تغیر و تبدل اور کمال و زوال کا ایک عمدہ خاکہ پیش کرتے ہیں۔ ہماری تہذیبی ثقافت کے شواہد مخطوطات، دستاویزات اور نادر کتب کی شکل میں ملک کے گوشے گوشے میں واقع مختلف قومی کتاب خانوں، مساجد خانقاہوں مندروں مٹھوں گرودواروں، قومی و ریاستی آرکائیوز اعلی تعلیمی مراکز تحقیق و تفتیش سے متعلق اداروں اور ذاتی ذخیروں میں محفوظ ہیں۔
اگرچہ قومی مشن برائے مخطوطات کے تحت ایک حالیہ جائزے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہندوستان میں کم ازکم پچاس لاکھ مخطوطات موجود ہیں جن میں پچاس ہزار مخطوطات تو صرف علم طب پر ہی مشتمل ہیں۔ اس کے علاوہ مزید سینتیس ہزار نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ تین ریاستوں کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے پاس چھ لاکھ پچاس ہزار مخطوطات موجود ہیں۔
قومی آرکائیوز نئی دہلی کے پاس بھی مخطوطات کا اچھا خاصا ذخیرہ ہے جس کا کیٹلاگ شائع ہوچکا ہے۔ یہاں شاہ جہاں کے عہد کا ایک انتہائی نایاب شاہنامہ فردوسی کا مصور نسخہ بھی موجود ہے۔ اسے محمد جعفر شیرازی نے۱۶۵۳ء میں نقل کیا تھا۔ اس مصحف میں بیس خوبصورت تصاویر چھپی ہیں اور یہ خوشنما نستعلیق میں تحریر کیا گیا ہے۔ اسی رزمیہ نظم میں قدیم ایران کی تاریخی واقعات ،حکایات بادشاہوں اور جنگ ناموں کا ذکر ملتا ہے۔ مخطوطات جوکہ بذریعہ عطیہ یا خرید یہاں حاصل کیے گئے ہیں تقریباً۲۰۰ہیں، جبکہ فورٹ ولیم کالج کلیکشن کے مخطوطات کی تعداد ۱۹۹ ہے۔ جس میں نادر و نایاب مخطوطات شامل ہیں اس میں تفاسیرقرآن پاک، مجموعہ احادیث، فتاویٰ، مہابھارت کا رزنامہ کے نام سے فارسی ترجمہ’’دبستان مذاہب ‘‘کا ایک عمدہ نسخہ، مجموعہ ہاے لغات، تذکرۃ الشعرا، کلیات سعدی، اکبر نامہ، آئین اکبری، تواریخ کشمیر، اور علاج الخیل وغیرہ نادرنسخے ہیں۔
اگرچہ اردو مخطوطات کی ہندوستان کے سرکاری و نجی ذخائر اور عجائب گھروں میں کوئی کمی نہیں ہے مگر ان کی حالت کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ ان میں سے اکثر ذخائر اگرچہ کافی اچھی حالت میں ہیں مگر پھر بھی بے شمار ذخائر خستہ حالت میں ہیں جن کی مرمت و بحالی کی سخت ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہند نے قومی مشن برائے مخطوطات قائم کیا ہے جس کا اولین مقصد منتشر مخطوطات کی شناخت اور ان کی فہرست سازی کرنا ہے، ساتھ ہی ان کی بربادی کو روکنے کے لئے دفاعی تدبیر کے طور پر ڈیجیٹل محافظہ عطا کرنا ہے۔ یہ ایسے تمام نادر کامیاب یا نایاب مخطوطات کو استفادہ عام کے لیے کم ازکم مائیکروفلم کی شکل میں محفوظ کیا جا سکے، اور ضرورت ہو تو ان کی بحالی کے لئے سائنسی طریقہ کار کے مطابق مرمت بھی کی جا سکے۔
اگرچہ ہندوستان میں مختلف زبانوں میں مخطوطات کی کمی نہیں ہے لیکن ہمارے پیش نظر اس وقت اردو کے مخطوطات ہیں ،جن کو مختلف خطرات درپیش ہیں۔ مثلاً فضائی آلودگی، روشنی کے اثرات، گرد کے اثرات، درجۂ حرارت اور رطوبت کے اثرات، کیڑوں اور دیمک سے خطرات، قدرتی آفات مثلاً آگ زنی، زلزلہ سیلاب وغیرہ، انسانی لا پرواہی ،اور جنگ و انقلابات کی وجہ سے تباہی، اور اچھی روشنائی کا استعمال نہ ہونا وغیرہ وغیرہ…
ماہرین مخطوطات نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا اور کہا کہ عربی فارسی اور اردو مخطوطات نہ صرف ملک کا عظیم قومی سرمایہ ہیں بلکہ مشترکہ وراثت کے ناقابل تردید ثبوت بھی ہیں۔ ہندوستان میں بہت سارے اردو عربی فارسی کے ناد ر و نایاب مخطوطات مختلف مدارس، مساجد اور خانقاہوں میں موجود ہیں، جنہیں سامنے لانے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ اس مشترکہ وراثت کی معلومات ہو سکے۔ نیز اس کو باقی رکھنے اور عروج بخشنے کے لئے ضروری ہے کہ مخطوطات کی تدوین کی جائے۔ اور آج کی نسل کو مخطوطات سے روشناس کرایا جائے۔ اسی کے ضمن میں چند ایسے مخطوطات کا ذکر کر رہا ہوں جو کہ ہماری ہندوستانی تہذیبی لسانی اور مشترکہ وراثت کی پرزور عکاسی کرتا ہے۔ دہلی کے ’’ہردیال پبلک لائبریری میں ایک نسخہ ’’رسک پریا‘‘ ہے۔ جس کا داخلہ نمبر۳۹۹ہے۔ موضوع داستان، اس کے مؤلف کیشو داس پنڈت ہیں۔ خوشخط نستعلیق ۱۱۴۱ھ ،مؤلف کے ہاتھ کا لکھا ہوا یہ نسخہ ہے ،جس کے اوراق ۱۰۵ہیں۔ یہ کتاب ہندو مذہب کی مشہور کتاب ’’نظم پریا‘‘ کا اردو زبان میں ترجمہ ہے۔ نسخہ کو مؤلف نے نواب اعتماد الدولہ کے عہد میں لکھی خالص ہندوی زبان میں لکھی گئی ہے۔ دوسرا نسخہ (جوگ باسسٹ: یوگ بششٹھ‘‘) اس کے مؤلف: پنڈت ابھینندن کشمیری ہیں، اور کاتب ہنومان پرساد تاریخ کتابت ۱۹۰۰ء، خوشخط نستعلیق ۲۸۲ اوراق پر مشتمل یہ نسخہ بھی سری بالمیکی جی کی تقریباٍ ۶۳ ہزار اشلوک کو چھ ہزار اشلوک میں مختصر طور پر بیان کیا ہے۔
ایک نسخہ رامائن بالمیک (جس کا داخلہ نمبر ۴۰۰) کا ہے جسے تلسی داس نے تالیف کیا ہے۔ یہ کتاب ہندو مذہب بصورت بیانیہ نظم کی صورت میں ہے خوشخط نستعلیق ۲۴۸اوراق پر مشتمل ہے۔ در اصل یہ ہندی ترجمہ ہے جو کہ اردو رسم الخط میں لکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بہت سارے ایسے ملفوظات و مخطوطات ہمارے اسلاف اور بزرگوں کی ایسی وراثت ہے جس میں ہماری تہذیبی، علمی، دینی وراثت اور ہماری تاریخ پوشیدہ ہے۔ جس کی حفاظت ہم سب کا اولین فرض ہے، طبقات ناصری، تاریخ فیروز شاہی، تزک بابری، آئینہ اکبری، دبستان مذاہب، گلزار کشمیر، شقہ فیض، یہ سب ہندوستانی تاریخ پر مشتمل کتابیں ہماری وراثت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر چہ اس میں اسلامی تاریخ کا بھی عنصر پایا جاتا ہے۔ شعریات میں، دیوان میر تقی میر، قصائدات مصحفی، کلیات، انشاء ، دیوان ریختی وغیرہ –
اس سلسلے میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اسلاف کی ان خطی نشانیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ ہندوستان میں نہ جانے کتنے کتب خانے ہیں سرکاری و نیم سرکاری، ذاتی و اشاعتی سب کی ایک جامع فہرست بنے تاکہ ریسرچ اسکالر اور محقق کا کام مزید آسان ہوجائے، اور ہماری خطی میراث گم ہونے سے بچ جائے کیونکہ ہر قوم کی شخصیت ان کی گزشتہ تاریخ سے متعین ہوتی ہے۔ جن قوموں کو روشن ماضی میں عظیم شخصیتیں میسر ہیں، وہ ثقافت وہنر سے نوع بشر کو نوازتی ہیں، بلکہ غیر فانی خدمات انجام دیتی ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ اپنے روشن ماضی سے اپنی زندگی سنوارے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ صرف گذشتہ پر ہی اس کی زندگی کا انحصار ہو، بلکہ ماضی سے روشن مستقبل کے لئے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ اس خاطر ماضی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ نہایت لازمی ہے کہ ہم اپنے ماضی کی وراثتوں کی اہمیت کو سمجھیں، عظیم دانشمندوں اور فن کاروں کے خدمات کی قیمت کا اندازہ کریں، انہیں نئی زندگی بخشنے اور روشن کرنے کی جدو جہد کریں تب ہی مقصد تخلیق کا حق ادا ہو سکتا ہے۔ فنون لطیفہ عموماً اور خطاطی خصوصاً ہماری زندگی، تاریخ و ثقافت اور ہمارے درخشاں ماضی کی میراث ہیں۔
ڈاکٹر عرفان رضا
مادھو پور سلطانپو، سیتامڑھی بہار
Email Id: iraza3819@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

