ہندوستان کی تاریخ میں اُنیسویں صدی کا عہد سیاسی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ عہد اُردو شعر و ادب کے تعلق سے بھی تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ یہ پورا دور سیاسی ،سماجی ،ادبی او ر معاشرتی سطح پر تغیر و تبدل کا رہا ہے ۔اس زمانے میں ہندوستان کی سیاست میں کئی بڑی تبدیلیاں آئیں اور انقلاب کا سامنا بھی ہوا ۔اس زمانے میں مفکرین ،دانشوران ،اُدبا و شعرا اور سماجی مصلح بھی پوری توانائی سے ملک و قوم کی خدمت انجام دے رہے تھے ۔ ان سبھوں کا طریقۂ کار مختلف تھا ۔ سماج او رمعاشرے کے بارے میں اُن سبھوں کی سوچ بھی مختلف تھی ۔ اکابرین ،علما، اُدبا،شعرا ،سیاسی رہنمائوں کی ایک کہکشاں اُس زمانے میں تھی جو ہندوستا ن میں انگریز حکومت کی بڑھتی طاقت کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے ۔یہ حضرات مضامین ، کتابوں ، اخبارات اور تخلیقات میں اپنے خیالات و افکار کو پیش کر رہے تھے ۔ہندوستانی عوام منتشر و پریشان حال اور بہادر شاہ ظفر بے بس و مجبور تھے ۔ہندوستانی عوام کے دلوں میں انگریز حکومت کے خلاف غم و غصہ بھرا پڑا تھا ۔ اسی کا نتیجہ انقلاب اٹھارہ سو ستاون بھی تھا ، جس میں ہندوستانیوں کو بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کو انگریزوں کے ظلم و جبر اور عتاب کا شکار ہونا پڑا۔ پورا معاشرہ بکھرا بکھرا، بے بس و لاچار تھا ۔ اُسی بے بسی کی ایک تصویر ملاحظہ ہو کہ جب میرٹھ سے انقلابی بہادر شاہ ظفر کے پاس آئے اور اُن سے انقلاب کی بات کہی تو اُنھوں نے کیا کہا :
’’سنو بھائی! مجھے بادشاہ کون کہتا ہے، میں تو فقیر ہوں۔ ایک تکیہ بنائے ہوئے اپنی اولاد کو لیے بیٹھا ہوں۔ یہ بادشاہت تو بادشاہوں کے ہمراہ گئی۔ میرے باپ دادا بادشاہ تھے جن کے قبضے میں ہندوستان تھا۔ سلطنت تو برسوں پہلے میرے گھر سے جاچکی تھی۔ میرے جدو آباء کے نوکر چاکر اپنے خداوندان نعمت کی اطاعت سے جداگانہ رئیس بن بیٹھے۔ میرے باپ دادا کے قبضے سے ملک نکل گیا۔ قوت لایموت کو محتاج ہوگئے۔ میں تو ایک گوشہ نشین آدمی ہوں۔ مجھے ستانے کیوں آئے ہو۔ میرے پاس خزانہ نہیں کہ میں تم کو تنخواہ دوں گا۔ میرے پاس فوج نہیں کہ میں تمھاری امداد کروںگا۔ میرے پاس ملک نہیں کہ تحصیل کرکے تمھیں نوکر رکھوں گا۔ میں کچھ نہیں کرسکتا ہوں۔ مجھ سے کسی طرح توقع استطاعت کی نہ رکھو۔‘‘ ۱؎
ایسی بے بسی ،مجبوری اور لاچاری ہندوستانی عوام کا مقدر تھی ۔ ایسے ہی وقت میں سر سیّد احمد خاں نے ملک و قوم کی اصلاح اور ترقی کا خواب دیکھا اور اس کا بیڑہ اُٹھایا ۔ سر سیّد احمد خاں کو تاریخ سے غیر معمولی دلچسپی تھی ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اُن کا پسندیدہ ذوق اور شوق تصنیف و تالیف تھا ۔ میں سر سیّد احمد خاں کے پورے علمی ، ادبی ،تعلیمی ، سماجی اور معاشرتی خدمات کو دیکھتا ہوں تو مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ بھلا ایک زندگی میں اس قدربیک وقت کئی عظیم کارنامے کوئی انسان کیسے انجام دے سکتا ہے ؟ سر کاری ملازمت ،سماجی اصلاح، تصنیف و تالیف ، محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا قیام اور اُس کے تعلق سے دیگر معاملات ،یہ سب کیسے ممکن ہوا ؟ اُس زمانے میں اُن کی مخالفت اور اُن پر کفر کے عائد کیے فتوے سے بھی ہم سبھی واقف ہیں۔ اِن حالات میں سر سیّد نے تاریخ نگاری کے جو کارنامے انجام دیے ،اُن وجوہ کو بھی تلاش کرنا لازم ہے۔ جامِ جم، سلسلتہ الملوک ، آئینِ اکبری ، تاریخ بجنور ، تاریخ سر کشی ٔ ضلع بجنور ، اسباب بغاوت ہند ، تاریخ ِفیروز شاہی ، توزکِ جہانگیری، آثار الصنادید ، وغیرہ اُن کے غیر معمولی علمی و تاریخی کارنامے ہیں۔
سر سیّد نے تیس صفحات پر مشتمل جام ِ جم(۱۸۴۰ء) میں امیر تیمور صاحب قراں سے بہادر شاہ ظفر تک پینتالیس مغل بادشاہوں کے حالات جدول کی شکل میں پیش کیے ہیں ۔ اُنھوں نے اس کے مختلف خانے بنائے ہیں اور اُن خانوں میں نام ِپدر، نام ِمادر، قوم ، سالِ ولادت، محلِ جلوس، عمر بہ وقتِ جلوس ، سالِ جلوس ، تاریخ جلوس ، مدتِ سلطنت ، مدتِ عمر ، سالِ وفات ، تاریخ وفات، لقب بعد ِوفات، مدفن ، کیفیت وغیرہ رقم کیے ہیں۔اِس کتاب سے سر سیّد کی تاریخ سے غیر معمولی دلچسپی اور شغف کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔اُسی طرح’’ سلسلتہ الملوک‘‘(۱۸۵۲ء) میں سر سیّد نے دِلّی کے اُن راجاؤں اور بادشاہوں کی فہرست مرتّب کی ہے ،جنھوں نے گذشتہ پانچ ہزار سال میں ہندوستان پر حکومت کی تھی ۔ اِس فہرست میں دو سو حکمرانوں کے نام درج ہیں جن میں پہلا نام راجا یودھیشٹر اور آخری نام ملکۂ وِکٹوریہ کا ہے۔ اُنہتر صفحات پر مشتمل اِس کتاب کو سر سیّد نے بعد میں ترمیم کر کے ’’آثار الصنادید ‘‘ کے ۱۸۵۴ ء کے ایڈیشن میں بھی شایع کر دیا تھا ۔ یہ کتاب بھی سر سیّد کا غیر معمولی تاریخی کار نامہ ہے۔ اُسی طرح سے ’’آئینِ اکبری ‘‘ (۵۶۔۱۸۵۵ء)سر سیّد کا وہ کارنامہ ہے جس سے اُن کی ہندوستان کی تاریخ سے حد درجہ دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اِس کتاب کا اُنھوں نے متعدد نسخوں کی مدد سے تنقیدی ایڈیشن تیار کیا ، بہت سے مصّوروں سے تصویریں کھینچوا کر شامل کیں اور اس کتاب میں شامل عربی ، فارسی ، ترکی ، سنسکرت اور ہندی کے وہ الفاظ جو عام فہم نہیں تھے ، اُن الفاظ کی تشریح کی ۔ سکّوں ، پھلدار اور پھولدار درختوں، ہتھیاروں، زیوروں اور مختلف ساز و سامان کی تصویریں بھی شامل کیں اور اُس زمانے کے اوزان اور سکّوں کی تفصیل بھی اپنے زمانے کے سکّوں اور اوزان کی مطابقت سے درج کیں اور کتاب کے آخر میں مولانا امام بخش صہبائی کی تقریظ شامل کی مگر سر سیّد نے غالب سے جو تقریظ لکھوائی تھی ،جو اڑتیس اشعار پر مشتمل تھی ،اُسے شامل نہیں کیا ۔ اس کے شامل نہیں کیے جانے کے کئی اسباب تھے ۔پہلی اور بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ تقریظ سر سیّد کے مزاج کے عین مطابق نہیں تھی اور اُس کے چند اشعار سر سیّد کو پسند نہیں آئے ۔ مگر یہ تو کہنا ہی پڑتا ہے کہ جس دقت طلبی ، جگر کاوی اور دلسوزی کے ساتھ سر سیّد نے یہ علمی و تاریخی کارنامہ انجام دیا ،اس کی داد دینا لازمی ہے۔ اُسی طرح جب سر سیّد بجنور میں مستقل امین کے عہدے پر تھے تو اُنھیں یہ معلوم ہوا کے حکومت تین اضلاع کی تاریخ لکھوانا چاہتی ہے اور کسی مورّخ کا انتظام نہیں ہوا ۔ یہ کام سر سیّد کے مزاج کے عین مطابق تھا لہذا اُنھوں نے اس کام کو کرنے کی حامی بھر لی اور یہ کام مکمل کیا ۔
سر سیّد کا ایک اہم تاریخی کارنامہ ’’تاریخ سر کشی ٔ ضلع بجنور ‘‘ (۱۸۵۸ء)ہے جو اُن کی سیاسی بصیرت پر بھی دال ہے۔ اِس ضمن میں سر سیّد کی دور اندیشی ،سیاسی فہم و بصیرت ،دانش و فراست او ر اُن کے نظریے سے اتفاق و اختلاف پر میں گفتگو نہیں کرنا چاہتا ۔ اِس سلسلے میں بے شمار مضامین و نظریات مو جود ہیں ۔ سر سیّد کی تاریخی اور نفسیاتی فہم کے تعلق سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن اُنھوں نے جو دیباچے میں لکھا ہے اُسے درج کرنا میں اس لیے لازم سمجھتا ہوں کہ اس سے سر سیّد کی تاریخ کے تئیں سنجیدگی ، متانت اور ایمانداری کی جھلک کو محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’الٰہی تو مجھ کو توفیق دے کہ یہ تاریخ میری پوری ہو اور صحیح بات اس میں لکھنے کی ہدایت کر کیونکہ طرف داری کی تاریخ لکھنی ایسی بے ایمانی کی بات ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ رہتا ہے۔ اس کا وبال قیامت تک مصنف کی گردن پر ہوتا ہے۔ اس تاریخ میں جو کچھ لکھا گیا ہے بہت سا اس میں میری آنکھوں کا دیکھا اور بہت سا اپنے ہاتھ کا کیا ہوا، اور اس کے سوا جو کچھ لکھا ہے وہ نہایت تحقیقات سے اور بہت صحیح اور نہایت ہی سچ لکھا ہے۔‘‘ ۲؎
سر سیّد اچھی طرح واقف تھے کہ تاریخ نگاری فکشن نویسی نہیں ہے۔ فکشن سے تاریخی مواد تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن تاریخ لکھنا مختلف عمل ہے۔ اُسی طرح سر سیّد اس سے بھی واقف تھے کہ تاریخ نگاری شاعری نہیں ۔ شاعری میں مبالغہ جائز ہے ۔ تخیّلی نقشے کو صفحۂ قرطاس پر رقم کرنا اور اپنی فکر و سوچ کو شعری جامہ پہنایا جا سکتا ہے ۔عصری حالات ،معاملات ،زندگی کی کشاکش ،داخلی جذبات کی واردات اور خارجی مسائل و مصائب کو شعری قالب میں ڈھالا جا سکتا ہے مگر تاریخ نگاری کا تقاضہ کچھ اور ہے جس میں سچّائی ، ایمانداری، حق گوئی ، بے باکی اور غیر جانب داری کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی لیے سر سیّد نے وہ سب کچھ لکھااور بقول حالی :
’’اس کتاب میں غدر کے زمانے کے حالات جو ضلع بجنور سے متعلق تھے بلا رو رعایت اور بے کم و کاست لکھے گئے ہیں جن مسلمانوں نے باوجود متواتر فہمائشوں اور نصیحتوں اور تمام نشیب و فراز سمجھانے کے اور باوجود گورنمنٹ کے احسانات کے سرکار سے بے وفائی کی تھی اور اس سے مقابلے کے ساتھ پیش آئے تھے ان کے حالات جوں کے توںبیان کردیے ہیں اور ان لوگوں پر بغاوت کا الزام عائد نہیں ہوتا تھا اس کی بھی تفصیل لکھ دی ہے۔‘‘ ۳؎
سر سیّد احمد خاں کی یہ کتاب موضوع بحث رہی اور لفظ سر کشی سے بھی بحث کی گئی ۔ لیکن اس کتاب میں سر سیّد نے سر کشی ٔ بجنور کے اسباب کے علاوہ اُس عہد کے بجنور کے سماجی حالات، حکام کے احکامات ، اہم شخصیت کے بیانات ، خطوط، شہنشاہی فرامین وغیرہ بھی قلم بند کیے ہیں ۔ سر سیّد نے اس کتاب میں بجنور کے باشندوں کی عام زندگی ،زبان و بیان ، لب و لہجہ کا بھی بیان کیا ہے۔ اُنھوں نے نواب محمود علی خاں ، انگریز افسران اور ضلع کے دیگر اہم اشخاص و افسران کے روّیوں کو بھی پیش کیا ہے جس سے اُس عہد کے بجنور کی جیتی جاگتی تصویر نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔ میں اس بحث سے فی الحال گریز کرنا چاہتا ہوں کہ سیاسی و سماجی اور تاریخی اعتبار سے سر سیّد کا نظریہ کس حد تک دُرست تھا ؟ میرے سامنے سر سیّد کی تاریخ نویسی اور اُن کی تاریخ سے دلچسپی ہی موضوع بحث ہے اور یہ بات بلاتردد کہی جا سکتی ہے کہ یہ کتاب سر سید کا اہم تاریخی کارنامہ ہے۔
سر سیّد کی تاریخ نگاری اور سیاسی فہم و بصیرت کے تعلق سے جس کتاب کو بڑی اہمیت حاصل ہوئی وہ ’’اسبابِ بغاوتِ ہند‘‘(۱۸۵۹ء) ہے۔ سر سیّد نے اس کتاب میں کو شش کی کہ انگریز حکومت کے دل سے مسلمانوں کے خلاف جو بد گمانی پیدا ہو گئی ہے اُسے دور کی جائے ۔ یہ کتاب اُس وقت مکمل ہوئی کہ جب وہ بجنور سے صدرالصدور ہو کر مراد آباد آئے ۔ یہ کتا ب سر سیّد کی فہم و فراست ،سیاسی تدبّر ، قوم کے لوگوں سے حد درجہ محبت اور انگریزوں کو نئی فکر کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کو عیاں کرتی ہے۔ اِس کتاب کے تعلق سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن اتنا تو طے ہے کہ اُس وقت سر سیّد نے جس ہمّت و حوصلے ،ذہانت و تدبّر اور دور اندیشی سے کام لیا ،اُن کا حوصلہ بے نظیر ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اُن کے دوستوں نے اس کتاب کی اشاعت سے دور رہنے کا مشورہ دیا ،مگر سر سیّد تو یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ہندوستانی انگریزوں کے جان و مال کے دشمن نہیں ہیں بلکہ انگریزوں کی جانب سے کچھ ایسے ظلم و جبر اور تشدّد کے واقعات رو نما ہوئے جس نے ہندوستانیو ں کو انگریزوں سے بد ظن کر دیا ۔ میں اس بحث سے گریز کرتا ہوں کہ سر سیّد کا زاویۂ نظر کس حد تک دُرُست تھا ؟ اور اس سے ہندوستانیوں با لخصوص مسلمانوں کو کس حد تک فائدہ پہنچا۔ میں تو صرف اس نکتے پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں کہ سر سیّد نے تدبّر و استد لال کے ساتھ ایک ایسی کتاب لکھی جس کی حیثیت تاریخی ہے۔
سر سیّد کی اہم علمی ،ادبی اور تاریخی کارناموں میں ’’تاریخ فیروز شاہی ‘‘ (۱۸۶۲ء) کی تدوین بھی ہے۔ سر سیّد نے غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کی میٹنگ منعقدہ مورخہ ۹، جنوری ۱۹۶۲ء میں فرمایا تھا :
’’بے شک ایشیا میں بڑے بڑے مصنف گزرے اور اُنھو ں نے تاریخ کی کتابیں بھی تصنیف کیں لیکن جن لوگوں نے ان تاریخوں کو دیکھا ہے… ان میں کچھ نہیں ہے بجز فقرہ بندی اور عبارت آرائی کے۔ ان میں کچھ نہیں ہے بجز تعریف اور خوشامدان بادشاہوں کی جن سے بہ سبب حکومت شخصیہ کے ہر ایک مصنف کو اپنی جان و مال کا اندیشہ تھا۔ تمام خرابیاں جو کسی بادشاہ کی سلطنت میں تھیں اس وقت کے مصنف اپنی جان و مال کے اندیشے سے اس کو نہیں لکھ سکتے تھے… ان کی تصنیفوں میں اس بات کا کافی ذکر نہیں پایا جاتا کہ کس زمانہ میں کس کس علم اور فن نے اور کس کس طرح پر ترقی پائی۔ کس کس طرح چھوٹی چھوٹی قوموں نے علم و ہنر میں ترقی اور نام آوری حاصل کی۔ قومیں گھٹتی گئیں یہاں تک کہ برباد ہوگئیں۔‘‘۴؎
سر سیّد کو اس بات کا احساس تھا کہ تاریخ نگاری کے ساتھ ہمارے مورّخین اور مصنفین انصاف نہیں کر سکے اور ان مصنفین نے ہمیشہ حکومت وقت کی تعریفیں ہی لکھیں ، اسی لیے سر سیّد نے تاریخ نگاری کے لیے وہ طریقۂ کار استعمال کیا جو مغرب میں رائج تھا ۔ کتابوں کی تدوین کے لیے بھی اُنھوں نے معیار ، حقیقت اور صداقت کو اہمیت دی اور اسی لیے اُنھوں نے ضیاء الدین برنی کی ’’تاریخ فیروز شاہی ‘‘ کی تدوین کا منصوبہ بنایا اور اس میں بھی تحقیق کے مغرب کے جدید طریقۂ کار کو ملحوظ رکھا ۔اِس ضمن میں معروف تاریخ داں پروفیسر اقتدار حسین صدیقی لکھتے ہیں:
’’سرسید ضیاء الدین برنی کی تاریخ فیروز شاہی کو فارسی تاریخوں میں منفرد اور اعلیٰ معیار کی تاریخ تصور کرتے تھے۔ اسی وجہ سے انھو ں نے اس کی تدوین کا منصوبہ بنایا۔ متن کی تصحیح کے سلسلے میں جدید یورپین طریقۂ کار کو پہلی مرتبہ استعمال کیا۔ فارسی متن کے ساتھ شائع کرنے کے لیے انھوں نے جو دیباچہ لکھا تھا اور جس کو ایشیاٹک سوسائٹی بنگال نے الگ کرکے صرف فارسی متن کو ہی چھاپا تھابڑااہم ہے۔ اس سے سرسید کی تاریخ نگاری سے متعلق رائے کا ہی علم نہیں ہوتا بلکہ یہ دیباچہ اردو زبان میں تاریخ نگاری کی تاریخ پر پہلی اور آخری تحریر بھی ہے کیونکہ آج تک اردو میں تاریخ نگاری کی تاریخ پر کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی ہے۔‘‘۵؎
اِس ضمن میں ضیاء الدین برنی نے اس کتا ب میں دہلی سلطنت کے تقریباً اَسّی برسوں کے معاشرے اور اُن کی زندگیوں کی تصویر کشی اس کتاب میں نہایت موثر انداز سے کی ہے ۔ برنی بحیثیت مورّخ ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں اور اُن کی تاریخ نگاری و دانش مندی کی مثالیں دی جاتی تھیں اسی لیے سلطان محمد بن تغلق نے برنی کو اپنا مشیر بنا لیا تھا ۔ مگر سوال یہ اُٹھتا ہے کہ سر سیّد نے آخر اس کتاب کی تدوین کا فیصلہ کیوں کیا؟ کیا اس لیے کہ اس میں برنی نے بڑی عمدگی کے ساتھ جس بادشاہ کا بھی حال لکھا تو اُس کی خوبیوں اور بھلائیوں کے ساتھ ساتھ اُس کے عیب اور بُرائیوں کا بھی ذکر کر دیا جو اُس کے سلطنت میں تھیں اور یہی بات سر سیّد کو پسند آئی ہو ۔ عام طور پر دیکھا تو یہی جاتا ہے کہ جب کسی بادشاہ یا حکمراں کا ذکر کیا جاتا ہے تو مورّخ کا تعصب اُس کی تحریروں میں دَر آتاہے۔ اکثر تاریخ نگار مدح سرائی کرنے لگتے ہیں اور رمز و کنایہ میں بھی اُس کی بُرائی اُنھیں پسند نہیں، نہ اُن کی کمیوں کی طرف وہ اشارے کرتے ہیں ۔ تاریخ نگاری کے اعتبار سے ایسی کتابیں کمزور اور کم وقعت ہوتی ہیں ۔ تاریخ نگاری میں کبھی کبھی مورّخ شاعر بن جاتا ہے۔ مورّخ عہدے ، منصب، اعزازات او ر انعا م و اکرام کی لالچ میں قصیدہ گو ہو جاتا ہے۔ برنی نے ’’تاریخ فیروز شاہی ‘‘ میں سماجی و معاشی تبدیلیوں ، امرا کے کارناموں ، علما و فضلا کے تاریخی رول ، فنون اور صنعتوں سے متعلق اہل حرفہ کے علوم و فنون کی ترقی وغیرہ کا ذکر بے حد سلیقے سے کیا ہے ۔ برنی نے بیرون ممالک سے تجارتی تعلقات ، عقلیت پسندی ، روایت پسند علما کے ما بین اختلاف وغیرہ کو بھی بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں سر سیّد ’’تاریخ فیروزشاہی ‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں :
’’تاریخ فیروز شاہی ضیاء برنی بہت کمیاب کتاب ہے بہت تلاش اور تجسس سے مجھ کو ایک نسخہ بہم پہنچا تھا۔ اس کے مقابلہ اور صحت میں مجھ کو بہت دقت اٹھانی پڑی۔ ایک ناقص نسخہ کتب خانہ شاہ دہلی سے مجھے میسر ہوا تھا اور ایک نسخہ جو مسٹر ایلیٹ صاحب بہادر نے بہم پہنچایا تھا وہ میں نے لیا اور ایک نسخہ ایڈورڈ طامس صاحب بہادر کے پاس تھا وہ بھی میں نے لیا اور ایک نسخہ بنارس سے ہاتھ آیا ان چاروں نسخوں سے میں نے اپنی کتاب کا مقابلہ کیا اور جہاں تک ممکن تھا اس کے صحیح کرنے پر کوشش کی۔ اب ہماری ایشیاٹک سوسائٹی نے اس نایاب اور عمدہ کتاب کا چھاپنا چاہا۔‘‘ ۶؎
گذشتہ دنوں معروف تاریخ داں پروفیسر سید عزیزالدین حسین نے بھی ’’تاریخ فیروز شاہی ‘‘ کی تدوین کی ہے جو سر سیّد کے دو سو ویں یوم پیدائش کے جشن کے موقعے پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے شایع ہوئی ہے اور اس کا اجرا ، ۱۷،اکتوبر ۲۰۱۷ء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوا جس میں اُنھوں نے ۲۶۶ صفحے کا ایک مقدمہ بھی درج کیا ہے ۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ سر سیّد نے جو متن تیار کیا اُنھیں وہ متن پہلا نہیں بلکہ دوسرا ملا تھا اور ۱۹۷۱ء میں پر وفیسر ڈیکوی نے کہا کہ اس کے دو متن ہیں ، پہلا اور دوسرا ۔ ۱۹۷۱ء سے اس پر کوئی کام نہیں ہوا تھا ۔ پروفیسر عزیزالدین حسین نے دونوں متون کو سامنے رکھ کر ’’تاریخ فیروز شاہی ‘‘ کی تدوین کی ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ اسکالرز اب دونوں متون کو سامنے رکھ کر اس کتا ب کا مطالعہ کر سکیں گے۔ مگر ذرا غور کیجیے اس کتاب پر کام سر سیّد نے آج سے تقریباً ڈیڑھ سو برس پہلے کی تھی جس کی بنیاد چار نسخوں پر ہے جو ۱۸۶۲ء میں ایشیاٹک سوسائٹی ،کلکتے سے شایع ہوئی تھی جو سر سیّد کی دُور اندیشی اور اعلیٰ فکر و ذہنِ رَسا کا غمّاز ہے۔ ’’توزک جہانگیری ‘‘ بھی سر سیّد کا اعلیٰ علمی و تاریخی کارنامہ ہے جو ۴۶۶صفحات پر مشتمل ہے اور یہ کتاب ۱۹۶۴ء میں علی گڑھ سے شایع ہوئی ۔
سر سیّد کے اعلیٰ علمی و تاریخی کارنامو ںمیں ’’آثار الصنادید ‘‘(۱۸۴۷ء) کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ سر سیّد کی تصنیفات و تالیفات کی اگر فہرست دیکھی جائے تو اُن کتابوں میں علمی ، تہذیبی ،مذہبی ، تاریخی ، تعلیمی تمام موضوعات پر کتابیں موجود ہیں اُنھوں نے مختلف کتابوں پر طویل تبصرے بھی لکھے ہیں ، لیکن اُن کتابوں میں ’’آثار الصنادید ‘‘ ایک مختلف اور منفرد کتاب ہے ۔ جب سر سیّد کا تبادلہ فتح پور سیکری سے دہلی ہوا او ر اُنھوں نے کم و بیش آٹھ سال دہلی میں قیام کیا ،اُس زمانے میں اُنھیں اپنے علمی ذوق و شوق کی تکمیل اورتصنیف و تالیف کا بھر پور موقع ملا۔ اِس کتاب کو اُنھوں نے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلے باب میں اُنھوں نے بیرون شہر کی عمارتوں کا ذکر کیا ہے۔ دوسرے باب میں سر سیّد نے شہر کی عمارت کا اور تیسرے باب میں قلعے کی عمارتوں کا ِذکر کیا ہے جبکہ چوتھے باب میں مشاہیر دہلی کا ذکر موجود ہے جس میں ایک سو بیس مشاہیر کے حالات درج ہیں ۔ اُن مشاہیر میں شعرا، علما ، خوش نویسان ، اطبا، مصوروں ، فقرا اور اہلِ کمال کے احوال درج ہیں جبکہ پہلے تین ابواب میں دو سو سے زائد عمارتوں اور دوسرے آثار کا بیان ہے۔ فرانس کے مشہور مستشرق گارساں دتاسی نے ’’آثار الصنادید ‘‘ کا فرانسیسی ترجمہ ۱۸۶۱ء میں کیا اور اسی ترجمے پر لندن کی رائیل ایشیاٹک سوسائٹی نے سیّد احمد خاں کو اپنا فیلو بھی بنایا ۔ سر سیّد احمد خاں کو ہندوستان او رخاص طور پر دلّی کی تاریخ و تہذیب سے بڑی دلچسپی تھی ۔ اُنھوں نے دہلی کی تہذیب کو بہت قریب سے دیکھا اور محسوس کیا۔ اِس کتاب کو لکھنے میں اُنھیں بڑی محنت کرناپڑی ۔ یہ کتاب سر سیّد نے ۱۸۴۶ء میں لکھنا شروع او رتقریباً ڈیڑھ سال کی مدت میں یہ کتاب مکمل ہوئی او ر۱۸۴۷ء میں شایع ہوئی ۔ سر سیّد نے اس کتاب کی تصنیف و تالیف میں جس قدر محنت و مشقّت کی اُس کا ذکر حالیؔ نے بے حد درد مندی سے کیا ہے ، جس کا بیان اس موقعے پر کرنا میں لازم سمجھتا ہوں ۔ حالیؔ رقمطراز ہیں:
’’…عمارتوں کی تحقیقات نہایت محنت اور عجلت کے ساتھ برابر جاری رہی۔ سرسید ہمیشہ تعطیلوں میں عمارات بیرون شہر کی تحقیقات کے لیے شہر کے باہر جاتے تھے اور جب کئی دن کی تعطیل ہوتی تھی تو رات کو بھی اکثر باہر رہتے تھے۔ ان کے ساتھ اکثر ان کے دوست اور ہمدم مولانا امام بخش صہبائی مرحوم ہوتے تھے۔
باہر کی عمارتوں کی تحقیقات کرنی ایک نہایت مشکل کام تھا۔ بیسیوں عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر کھنڈر ہوگئی تھیں۔اکثر عمارتوں کے کتبے پڑھے نہ جاتے تھے۔ بہت سے کتبوں سے ضروری حالات معلوم نہ ہوسکتے تھے۔ اکثر کتبے ایسے خطوں میں تھے جن سے کوئی واقف نہ تھا۔ بعض قدیم عمارتوں کے ضروری حصے معدوم ہوچکے تھے اور جو متفرق و پراگندہ اجزا باقی رہ گئے تھے ان سے کچھ پتا نہ چلتا تھا کہ یہ عمارت کیوں بنائی گئی تھی اور اس سے کیا مقصود تھا۔ کتبوں میں جن بانیوں کے نام لکھے تھے۔ ان کا مفصل حال دریافت کرنے کے لیے تاریخوں کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت تھی۔ بعض علمی عمارتوں کی حالت ایسی متغیر ہوگئی تھی کہ ان کی ماہیت معلوم ہونی مشکل تھی۔ پھر اکثر عمارتوں کے عرض و طول و ارتفاع کی پیمائش کرنی، ہر ایک عمارت کی صورت حال قلم بند کرنی، کتبوں کے چربے اتارنے اور ہر ایک کتبے کو بعینہٖ اس کے اصلی خط میں دکھانا، ہر ٹوٹی پھوٹی عمارت کا نقشہ جوں کا توں مصور سے کھنچوانا اور ا س طرح کچھ اوپر سوا سو عمارتوں کی تحقیقات سے عہدہ برآ ہونا، فی الحقیقت نہایت دشوار کام تھا۔ سرسید کہتے تھے کہ ’’قطب صاحب کی لاٹھ کے بعض کتبے جو زیادہ بلند ہونے کے سبب پڑھے نہ جاسکتے تھے۔ ان کے پڑھنے کو ایک چھینکا دو بلیوں کی بیچ میں ہر ایک کتبے کے محاذی بندھوالیا جاتا تھا اور میں خود اوپر چڑھ کر چھینکے میں بیٹھ کر ہر کتبے کا چربہ اتارتا تھا۔ جس وقت میں چھینکے میں بیٹھتا تھا تو مولانا صہبائی فرطِ محبت کے سبب گھبراتے تھے اور خوف کے مارے ان کا رنگ متغیر ہوجاتا تھا۔‘‘۷؎
ذرا غور فرمائیے آخر وہ کیسا جوش و ولولہ تھا ، کون سی جستجو تھی جس نے سر سیّد کو جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ او راس طرح کے دیگر علمی و تاریخی نوعیت کے کام کرنے پر مجبور کیا ۔ ملک و ملّت سے ، ہندوستانی قوم سے آخر وہ کون سا ایسا عہد تھا جسے وہ پورا کرنا چاہتے تھے ۔ آخر وہ کون سے خواب تھے جس کی وہ تعبیر چاہتے تھے اور اس تعبیر کی تلاش میں اُنھوں نے تاریخ میں کیوں پناہ لی ؟ وہ عظمت رفتہ کی نشانیوں کو تحقیق کے بعدہمارے سامنے کیوں پیش کر رہے تھے ؟ وہ ہمارے اسلاف ، اکابرین ، آثار کو کیوں سامنے لانا چاہتے تھے۔؟ سر سیّد نے اتنا ہی سب کچھ پر بس نہیں کیا بلکہ اُنھوں نے اپنے رفقائے کار ، حالی ، شبلی او رذکا اللہ ، کو اسلام اور ہندوستان کے عہد وسطیٰ کی تاریخ لکھنے پر آمادہ کیا ۔ حالی سے ’’مدو جزر اسلام ‘‘ لکھوائی تو مولوی ذکاء اللہ نے ہندوستا ن کی تاریخ کئی جلدوں میں لکھی اور مولانا شبلی نعمانی نے اسلام کے مشاہیر کی سوانح عمریاں لکھیں ۔ آخر سر سیّد ماضی میں پناہ کیوں لیتے ہیں ؟ اُن کی آنکھوں میں تو ہمیشہ مستقبل کے خواب تھے ۔ وہ روشن خیال ، کشادہ ذہن ، عقلیت پسند ، جدید خیال و افکار کے حامل انسان تھے جنھوں نے انگریزی زبان ، سائنس اور جدید تعلیم کی وکالت کی ۔ سر سیّد در اصل ماضی کے اُن اوراق کو پلٹتے ہیں جو ہماری عظمت رفتہ کی نشانیاں ہیں ۔ وہ سیاسی تدبّر ، فہم و فراست سے کام لینے پر یقین رکھتے ہیں۔ اُنھیں ریسرچ کے جدید طریقۂ کار سے واقفیت تھی اور اُنھوں نے اُسی راہ پر چل کر اپنی ان تاریخی نوعیت کی کتابوں کی تکمیل کی اور نئی نسل کو تحقیق و جستجو کے نئے طریقۂ کار سے واقف کرایا اور اُنھیں ایک نئی روشنی عطا کی ۔ سر سیّد کی دیگر موضوعات پر بھی مختلف کتابیں ہیں لیکن میں نے فی الحال اُن کی تاریخ نگاری پر ہی روشنی ڈالی ہے ۔ میں اس عظیم مدبّر ،مفکّر ، محقق، مصنّف اور مصلح قوم کے تئیں اپنا خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔
٭٭٭
حواشی :
۱۔ سہ ماہی ’’فکر و آگہی ‘‘ دہلی، علی گڑھ نمبر،۲۰۰۰ء ص، ۱۲۹
۲۔ دیباچہ ’تاریخ سر کشیٔ بجنور ، فروری ۱۹۴۶ء ،ص،۹۱
۳۔ رسالہ سہ ماہی ’’فکر و آگہی ‘‘ دہلی، علی گڑھ نمبر،۲۰۰۰ء ص،۱۳۷۔۱۳۸
۴۔ رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ ، علی گڑھ، اکتوبر ۲۰۰۶ء، ص، ۱۱
۵۔ رسالہ’’ تہذیب الاخلاق‘‘ ، علی گڑھ، اکتوبر ۲۰۰۶ء، ص، ۱۳ ۔۱۲
۶۔ رسالہ’’ تہذیب الاخلاق‘‘ ، علی گڑھ، اکتوبر ۲۰۰۶ء، ص، ۱۳
۷۔ حیات جاوید ، مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان ، نئی دہلی،۲۰۱۳ء ، ص،۶۵۔۶۶
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

