علمی و ادبی دنیا میں سرسید احمد خاں کا نام محتاجِ تعارف نہیں بلکہ ان کا نام آتے ہی ہمارے ذہنوں میں ایک ایسے عظیم انسان کا تصور ابھر کر سامنے آجاتا ہے جس کی شخصیت کو چا ہ کربھی ہم کسی ایک پہلو یا دائرے میں محدود نہیں کرسکتے۔بیک وقت جہاں وہ ایک عظیم مصلح، ماہرِ تعلیم، ادیب، اسکالر، ادبی صحافی، مفسر قرآن اور مفکر و دانشور تھے وہیں وہ انیسویں صدی کے سب سے بڑے قائد و رہنما بھی تھے۔سر سید کے تعلق سے اگر یہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا کہ وہ اپنے عہدکے سب سے زیادہ بااثرانسان تھے۔ عصر حاضر کے تناظر میں دیکھا جائے تو بقول آل احمد سرور ’’ جو بیداری اور روشنی ہم اپنے چاروں طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ سر سید ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔‘‘
سر سید احمد خاں کا جب ہم بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ا ن کی شخصیت میں ہمیں ایک بو قلمونیت اور رنگا رنگی نظر آتی ہے اور اسی بو قلمونیت ورنگا رنگی کو دیکھتے ہوئے جب ہم ان پر غور وفکرکرتے ہیں تو بڑی حیرانی ہوتی ہے اور ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آخر ان کی شخصیت کا وہ کون سا پہلو تھا جس نے انھیں اتنا عظیم بنادیا؟ ا ن کے عہد میں اور بعد کے ادوار میں بھی تو مصلحین قوم، ماہرین تعلیم، ادباء و شعرا، صحافی و قلم کاراور مفکرین و دانشوران پیدا ہوئے ۔لیکن ان میں سے کوئی بھی سر سید نہ بن سکے،سر سیدبنناتودور کی بات ہے سر سید کے ساتھ اس کا نام تک نہیں لیا جاتا۔ سر سید کی شخصیت کا آخر وہ کو نسا جو ہرتھا جس نے انھیںسرسید بنادیا؟ یہ اور اس طرح کے اور بھی بہت سے سوالات ہیں جو سر سید کے تعلق سے تقریباََ ہر سوچنے والے کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔
مگر ان سوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم اپنے ذہن پر زور ڈالتے ہیں تو یہ نتیجہ نکل کر سامنے آتا ہے کہ سرسید کی شخصیت کے تمام پہلؤوں میں ان کا فکری پہلوسب سے ممیزاور ممتاز تھا اور اسی فکری بصیرت نے انھیں نہ صرف ایک خاص مقام و مرتبہ عطا کیا بلکہ پوری انیسویں صدی او رپھر بعدکے ادوار کا بھی کایا پلٹ کر رکھ دیا۔سرسید کے یہاں جو فکری عمل تھا اس پر اظہارِخیال کرتے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی لکھتے ہیں:
’’سر سید نے اپنے دور اور بعد کے ادوار کی فکر کا رخ بد ل کر رکھ دیا اور یہ سب کچھ بغیر کسی انتشار اور افراتفری کے ہوا۔ماضی اور حال جس وقار کے ساتھ سر سید کے افکار کی سطح پر ایک دوسرے سے ہم کنار ہوتے ہیں۔ وہ ایک غیر معمولی واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ایسا نہ ہوتا تو اس دور کی بے مثال اور دیوزادوں کی سی وسعت رکھنے والی تقریباََ تمام بڑی شخصیتیں اس آمادگی کے ساتھ سرسید کے گرد یکجا نہ ہوئی ہوتیں۔‘‘
یقینا وہ سر سید کی فکری بصیرت ہی تھی کہ ان کے عہد کی بڑی بڑی شخصیات ان کے گردپر وانے کے مانند اکٹھا ہوگئیں۔ لیکن یہاں پر بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخرافکارِ سر سید کی وہ کو ن سی اساس اور بنیادیں تھیں؟ جن کی بدولت سرسید اپنے عہد اور بعد کے ادوار کو متاثر کرنے اور وہ عظیم کارنامے انجام دینے میں کامیاب ہوئے جن کی مثال پیش کرنے سے دنیاقاصر ہے ۔ آج کے دور میں اگرکوئی سر سید کے کارناموں کی طرح عظیم تو نہیں البتہ اگر چھوٹا موٹا کار نامہ بھی کر لیتاہے تو وہ سر سید ثانی ہی کہلاتا ہے نہ کہ سرسید ۔
ان سوالوں کو سامنے رکھتے جب ہم افکارِ سرسید کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کی ان بنیادوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر تے ہیں جن پر چل کر سر سید نے اپنے خوابوں کا تاج محل تعمیر کیا تو ہمارے لیے ان تک پہنچ پانا آسان نہیںمعلوم ہوتا ہے۔ اور یہ کام مشکل بھی کیوںنہ ہو جب کہ ہم عام طور پر سرسید کی کچھ گنی چنی کتابیں مثلاََ آثار الصنادید، تاریخِ سرکشیء بجنور، اسباب بغاوت ہند یا پھر خطباتِ احمد یہ وغیرہ کا مطالعہ کر کے ان کے افکار و خیالات اور تصورات و نظریات تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔حالانکہ میرے خیال سے سرسید جیسے مفکر و دانشمند کو سمجھنے کے لیے ہمارا یہ عمل بذات ِخود ایک غیر دانشمندی کی علامت ہے۔ سرسید شناسی یا افکارِ سرسید کی اساس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ان کی تمام تر تحریروں اور تقریروں کے مطالعے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہمارے سامنے وہ عہداور اس وقت کے حالات بھی ہوں جن کے بطن سے سر سید کے افکار وخیالات نے جنم لیاتھا۔عہد سر سید کو سامنے رکھے بغیر سر سید کے افکار و نظریات اور ان کی بنیادوں تک پہنچ پانانا صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن سا ہے۔
چنانچہ اس تناظر میں جب ہم سر سید کے عہد کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑا ہی پرخطر اور صبر آزما دور تھا۔ اس عہد میں ہمیں ہر طرف تبدیلیاں ہی تبدیلیاں اور انقلاب ہی انقلاب نظر آتے ہیں۔ تاریخ وتہذیب، سیاست ومعاشرت ، علوم و فنون ، ادبیات و تجربات یہاں تک کہ فکر و احساس کے ہر دائرے میں تخریب و تعمیر کا عمل ایک ساتھ چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ایک طرف مشرق و مغرب کی آویزش کا قصہ سنائی دیتا ہے تو دوسری طر ف امتزاج و آمیزش کے فسانے لوگوں کی زبانوں پر ہیں ۔مزید برآں بقول سید عبداللہ’’ وہ بحث و مناظرہ کی صدی تھی۔آئین مشرق و مغرب، قدیم و جدید، بدعت و سنت، شاہی اور جاگیرداری، مذہب اورسائنس، جبلت ا ور عقل ، غرض ہر شعبہء علم و عمل میں ایک طرح کا تصادم نظر آتا ہے۔‘‘
انیسویں صدی کا یہی وہ پرآشوب اور تغیر پذیردور تھا جس میں سر سید نے اپنی آنکھیں کھولیں۔لیکن آنکھیں کھولنے کے بعدعام عوام کی طرح وہ صرف ایک تماشائی نہیں بنے رہے یا پھر گردو پیش سے بے نیاز ہو کر دنیا پر صرف ایک تفریحی نظرڈال کرآگے نہیں بڑھ گئے بلکہ پرجوش داعیوں اور جنگ آزما سپاہیوں کی طرح ا نھوں نے فکر و عمل کی اس آویزش میں عملی حصہ بھی لیا اور ہر شعبٔہ حیات میں اپنی فکر وعمل کے ذریعے لوگوں کی قیادت کی۔ حالانکہ غدر کے بعد ہندوستانی عوام اور بالخصوص مسلمانوں کی جو صورتِ حال تھی اس کو دیکھ کر کئی بار سر سید کے ذہن میں یہ خیال تک بھی پیدا ہوا کہ ان حالات میں بہتر یہی ہے کہ کسی اور ملک کی طر ف ہجرت کر جا ئیں تاکہ وہاں آرام و سکون کی زندگی بسر سکیں۔ مگرسرسید سے اپنے ملک وقوم کی حالت دیکھی نہیں گئی اور انھوں نے اپنا ارادہء ہجرت ترک کر دیا اور قومی خدمت گزاری کو ہی اپنا نصب العین بنا لیا اور پھر اس میں وہ اس قدر ڈوب گئے کہ اسی خیال اور غم نے انھیں وقت سے پہلے ہی بوڑھاکر دیا ۔۲۸ ؍ دسمبر ۱۸۸۹ء کو محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے ایک جلسے میں اپنے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سر سید نے کہاتھا:
’’ غدر میں جو حال انگریزوں اور ان کے بچوں اور عورتوں پر گزرا اور جو حال ہماری قوم کا ہوا اورنامی نامی خاندان برباد و تباہ ہوئے،اُن دونوں واقعات کا ذکر دل کو شق کرنے والا ہے۔ غدر کے بعد نہ مجھ کو اپنا گھر لوٹنے کا رنج تھا نہ مال و اسباب کے تلف ہونے کا۔ جو کچھ رنج تھا، اپنی قوم کی بربادی کا اور ہندوستانیوں کے ہاتھ جو کچھ انگریزوں پر گزرا، اس کا رنج تھا۔جب ہمارے دوست مرحوم مسٹر شیکسپئر نے جن کی مصیبتوں میں ہم اور ہماری مصیبتوں میں وہ شریک تھے، بعوض اس وفاداری کے تعلقہ جہاں آباد جو سادات کے ایک نامی خاندان کی ملکیت اور لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کا تھا، مجھ کو دینا چاہا تومیرے دل کو نہایت صدمہ پہنچا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ مجھ سے زیادہ کوئی نالائق دنیا میں نہ ہوگا کہ قوم پر تویہ بر بادی ہو اور میں ان کی جائداد لے کر تعلقہ دار بنوں۔ میں نے ان کے لینے سے انکار کیا اور کہا کہ میرا ارادہ ہندوستان میں رہنے کا نہیں ہے اور در حقیقت یہ بالکل سچ بات تھی۔میں اس وقت ہر گز نہیں سمجھتا تھا کہ قوم پھر پنپے گی اور کچھ عزت پائے گی اور جو حال اُس وقت قوم کا تھا و ہ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا تھا۔ چند روز میں اسی خیال اور اسی غم میں رہا۔آپ یقین کیجئے کہ اس غم نے مجھے بڈھا کردیا او ر میرے بال سفید کر دیے۔ جب میں مراد آباد میں آیاجو ایک بڑا غم کدہ ہماری قوم کے رئیسوں کی بر بادی کا تھا۔ اس غم کو کسی قدر اور ترقی ہوئی۔ مگر اس وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ نہایت نامرادی اور بے مروتی کی بات ہے کہ اپنی قوم کو اس تباہی کی حالت میں چھوڑ کر میں خود کسی گوشہء عافیت میں جا بیٹھوں ۔ نہیں !اس کی مصیبت میں شریک رہنا چاہئے اور جو مصیبت پڑے۔ اس کے دور کرنے میںہمت باندھنی قومی فرض ہے۔ میں نے ارادہء ہجرت موقوف اور قومی ہمدردی کو پسند کیا۔‘‘
اپنے عہد کے ان حالات کو دیکھ کر سر سید نہ صرف گھبرا اُٹھے اور بے وقت ان کے چہرے پر بوڑھاپے کے آثار نمودار ہونے لگے بلکہ ملک وقوم کی تباہی اور اس کی فکر نے انھیں اندر سے کھوکھلا کر دیا ۔ لیکن باوجود اس کے انھوںنے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ہجرت کے ارادے کو ترک کرے ملک و قوم اور بالخصوص مسلمانوںکی فکر میں لگ گئے اور اس کے لیے اپنے آپ کو وقف بھی کر دیا۔ہر وقت ان کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال ہوتا تھا کہ ملک و قوم کو ان حالات سے کیسے اور کس طرح نکالا جائے تاکہ وہ بھی ایک باغیرت اور ترقی یافتہ قوم کی شکل میں ابھر کر سامنے آسکے۔
چنانچہ اسی فکر میں انھوں نے زندگی کے ہر شعبے پر ایک تنقیدی نظر ڈالی۔یہاں تک کہ مذہبی معاملات کو بھی انھوں نے ا یک خاص نقطہء نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ مگران تمام میں ان کا صرف ایک ہی مقصد تھا اور وہ تھا قوم کو اس قعر مذلت سے نکالنا اور ترقی و کامیابی کی ڈگر پر لا کر کھڑا کردینا۔تاکہ ہندوستانی قوم اور بالخصوص مسلم قوم دیگر اقوام عالم کی طرح ایک کامیاب زندگی بسر کر سکے اور اس کے لیے انھوں نے باقاعدہ ایک لائحہ عمل اور منشور بھی تیار کیا ۔سر سید نے اپنے مشن کی تکمیل کے لیے جو لائحہ عمل تیار کیا تھا اس کی بنیادیںمجموعی طور پرچار چیزوں پر تھیں (۱) مادیت و ترقی (۲)عقلیت (۳)تصور اجتماعیت اور ( ۴)نیچریت۔اور یہی وہ چاربنیادیں ہیں جن کے گرد سر سید کے تمام تر افکار و نظریات گردش کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔
مادیت و ترقی: یہ سر سید کی فکری بنیاد وں میں پہلی بنیاد تھی۔چونکہ جس وقت سر سید نے اپنی آنکھیں کھولی تھیں اس وقت ہر طرف زوال ہی زوال تھا اور پھر ۱۸۵۷ء کے ہنگامے نے تو مسلمانوں کی کمر ہی توڑ کر رکھ دی تھی۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے سر سید نے اندازہ لگا لیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے عزت و وقار کا اگرکوئی راستہ ہے تو وہ صرف اورصرف مغربی علو م و فنون کے حصول اور وقت کے دھارے کے ساتھ چلنے پر ہی ممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس صورتِ حال میں اگر ہم مخاصمت و مبارزت اور تلوار کے زور سے عزت و اقتدار حاصل کرنا چاہیں تو نا ممکن ہے بلکہ الٹا اس کا نقصان بھی ہو سکتا ہے ۔ تقاضائے وقت کو دیکھتے ہوئے سرسید نے سب سے پہلے انگریزوں اور مسلمانوں کے بیچ خلیج کوکم کر نا ضروری سمجھا اور اس کے لیے انھوں نے اسباب ِ بغاوتِ ہند اور سرکشی بجنو ر جیسی اہم کتابیں تصنیف کرکے اور ایک رسالہ ’’ دی لائل محمڈنز آف انڈیا‘‘ جاری کرکے انگریزوں کے ذہن میں مسلمانوںکے خلاف جو بغض و عناد تھا اور ان کے دامن پر لگے ہوئے بغاوت کے جو دھبے تھے ان کو مٹانے کی کوشش کی۔ تاکہ مسلمان قوم بھی امن و امان میں رہ کر مالی منفعت کے لیے کو شش کرتی ر ہے۔
مگر سر سید کی یہی تحریریں جہاں ایک طرف ان کے عزائم و مقاصد کو بروئے کار لانے کاذریعہ ثابت ہوئیں وہیںدوسری جانب وہ ان کی مخالفت کی وجہ بھی بن گئیں اور ان پر اعتراضات و اختلافات کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔ مخالفین و معاندین نے ان کی انھیں کتابوں اور رسالے کو بنیاد بنا کر نہ صرف ان کی مخالفت کی بلکہ ان پرالزامات بھی عائد کیے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ انگریزوں کے حامی و مدد گار ہیں ہیں اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ قوم کوغلامی سے آزادی ملے۔حالانکہ اس کے پس پردہ سرسید کے وہ مقاصد نہیں تھے جو ان کے مخالفین و معترضین سمجھ رہے تھے ۔ منظر اعظمی لکھتے ہیں:
’’ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے انگریزوں کی ذرا سی مخالفت بھی ان کی انتہائی بر بادی کا پیش خیمہ بن جائے گی۔اس لیے کہ وہ پہلے ہی غیر منظم ، ان پڑھ اور فاقہ کش ہیںاور ان نئے آلات و وسائل سے بھی واقف نہیں جس کے بل بوتے پر انگریزوں کی ہندوستان میںحکومت مستحکم ہوئی تھی۔یہ بتانے کے لیے کہ مسلمان بنیادی طور پر برطانوی حکومت کے وفادار ہیں۔ انھو ں نے ’’دی لائل محمدنز آف انڈیا‘‘ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا جس میں ان مسلمانوں کے حالات در ج ہوتے تھے جنھوں نے ۱۸۵۷ء میں انگریزی حکومت کی حمایت کی تھی۔انگریزوں اور مسلمانوںکو ایک دوسرے پہلو سے بھی انھو ں نے قریب تر کرنے کی کوشش کی اور وہ یہ تھا کہ عیسائیت سے زیادہ اسلام سے اور کوئی دوسرا مذہب قریب ترین نہیں،ان کا قول تھا کہ ’’ اسلام سے زیادہ کوئی مذہب اس زمین پر ایسا نہیں جو عیسائی مذہب کا اس سے زیادہ طرفدار ہو‘‘۔ ا س مقصد کے لیے انھو ںنے مضامین لکھے اور اپنی کتاب ’’ تبیین الکلام ‘‘ میںقرآن کریم اور انجیل مقدس کی مشترک باتوں کی نشاندہی کی۔‘‘
اسباب ِ بغاوتِ ہند، سرکشی بجنو ر اور دی لائل محمڈنز آف انڈیا کے علاوہ سرسید نے دو اور بھی رسالے تحقیق لفظ نصاری اور احکام طعام اہل کتاب لکھے اور ان کے ذریعے مسلمانوں اور انگریزوں کو ایک دوسرے سے قریب کرنے کی کوششیں کیں ۔ رسالہ’’تحقیق لفظ نصاریٰ‘‘ کے ذریعے انھوں نے انگریزوں کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کا عیسائیوں کو نصاریٰ کہنے کا مطلب ان کی تحقیر نہیں ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عیسائی خود اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے تھے۔’’ احکام طعام اہل کتاب‘‘ کی مدد سے انھوں نے مسلمانوں کے دلوں سے انگریزی معاشرت سے نفرت کو دور کرنے کی کوشش کی او ر اس بات پر اصرا ر کیا کہ انگریزوں کے ساتھ کھانے پینے اور اُٹھنے بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔’’تبئین اکلام ‘‘ بھی سر سید کی کچھ اسی نوعیت کی تصنیف تسلیم کی جاتی ہے جس میں کہ انھوں نے قرآن کریم اور انجیل مقدس کی مشترک باتوں کی طرف نشاندھی کر کے انگریزوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے قریب کرنے کی کوشش کی ہے۔
مذکورہ بالا تصانیف سے جہاں ایک طرف براہ راست یا بالواسطہ طور پر مسلمانوں کے تعلق سے انگریزوں کی اور انگریزوں کے حوالے سے مسلمانوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا گیا ہے اور ان کے درمیان ایک طرح سے صلح کا ماحول پیداکرنے کی کوشش کی گئی ہے وہیں دوسری جانب سر سید نے ان کے ذریعہ مسلمانوں کے نظریہ جہاد کو بھی واضح کیاہے۔سر سید کے نزدیک اس وقت اس کی وضاحت ضروری تھی ۔کیونکہ سر سید کی تحریک سے قبل اسی نظریہ جہاد کے تحت مسلمانوں نے انگریزوں سے ٹکرلی تھی۔ سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی تحریک جہاد در اصل انگریزوں ہی کے خلاف تھی ۔نیز ولی اللہی تحریک کے زیراثر بالا کوٹ سے لے کر بنگال تک جہاد کے نعروں نے انگریزوں کے ذہنوںمیں مسلمانوں کے خلاف بہت سے شکوک وشبہات بھی پید ا کردئے تھے اور انگریزوں نے اس تحریک کو ’’وہابی تحریک ‘‘کا نام دے رکھاتھا۔ چونکہ سر سید نے نہ صرف ولی اللہی تحریک سے اثرات قبول کیے تھے بلکہ ان کے یہاں ہر طرح کے رسم و رواج اور فرسودہ افکار و خیالات سے انکار کی جو فکرآئی تھی وہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحریروں کے مطالعے ہی کی دین تھی۔اس لیے سر سید خود بھی اپنے آپ کو وہابی تصورکرتے تھے۔اسی وجہ سے انھوں نے اپنی تحریروں میں نہ صرف وہابیت کی تعریف کی بلکہ مختلف دلائل وبراہین کی مدد سے ان پر عائدکئے گئے الزمات کی تردیدبھی کی اورکہا کہ سچی وہابیت حکومتِ برطانیہ کی مخالف نہیں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں حالات کے دباؤ میں آکر سر سید نے اپنی بعض باتوں سے انحراف کر لیا اور انھیں منہ کی بھی کھانی پڑی ۔ اس حوالے سے منظر اعظمی لکھتے ہیں:
’’عملی حقائق کے پیش نظر انھو ںنے مفاہمتیں بھی کیں، بد نام بھی ہوئے مگر اپنے مسلک پرڈٹے رہے، اور بدلے ہوئے حالات کے زیر اثر اپنے موقف کو بھی تبدیل کرتے رہے۔ پہلی مفاہمت انھوں نے اس وقت کی جب ولی اللہی خاندان سے عقیدت رکھنے کے باوجود اور شاہ ولی اللہ دہلوی سے متاثر ہونے کے باوجود اور اس کے باوجود کہ انھوں نے بھی سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید کی تحریک جہاد سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، حالات کے دباؤ کے تحت آثار الصنادید کے دوسرے اڈیشن میں ان کے ذکر کو خارج کر دیا۔شاہ عبد العزیز کی علمی حیثیت کے اعتراف اور ان کی بزرگی اور روحانی عظمت کے قائل ہو نے کے باوجود ان کے نظریہء جہاد کی مخالفت کی۔ اس لیے کہ وقت ا ن سے حقیقت پسندی کا مطالبہ کر رہا تھا۔‘‘
تحریک جہاداورشاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحریروں سے سر سید کاا ثرقبول کرنا اورپھر بعد میں مفاہمت و انحراف کا شکار ہو جانا یہ ایک الگ مسئلہ ہے، فی الحال ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ سرسید نے مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان کی نفرت کم کرنے کے لیے کس کس طرح کی کاوشیںکیں ۔ تاکہ مسلمان حالات کا گہرائی سے جائزہ لے سکے اوربدلتے ہوئے حالات کے ساتھ چل سکے ۔چنانچہ سائنٹفک سو سائٹی کے قیام کے وقت اپنی ایک تقریر میںسر سید نے کہا تھا:
’’ جب میں اپنے ہم وطنوں کے حال پر نظر کرتا ہوںتو دیکھتا ہوں کہ وہ گزشتہ حالات سے ا س قدر ناواقف ہیں کہ آئندہ رستہ چلنے کو ان کے پاس کچھ بھی روشنی نہیں ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ کل کیا تھا اور آج کیا ہے اور اس سبب سے وہ کچھ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ کل کیا ہوگا۔وہ نہیں جانتے کہ دنیا میںجو چھوٹی چھوٹی قومیں تھیں انھوں نے کیوں کر ترقی پائی اور کس طرح وہ ایک بڑے شاندار اور سایہ دار درخت کی مانند ہو گئیں۔ وہ نہیں جانتے کہ جو بڑی بڑی قومیں ایک بڑے میوہ دار درخت کی مانند پھل پھول رہی تھیں وہ کیوں کر مر جھا کر سوکھ گئیں۔‘‘
اجتماعیت : افکارِ سر سید کی بنیادوں میںاجتماعیت کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں اجتماعیت کا ایک متوازن نظریہ دیکھنے کو ملتا ہے۔سر سید کا خیال تھا کہ وہ جس زمانے میں سانس لے رہے ہیں یہ انفرادی طور پر کوششوں کا زمانہ نہیں ہے بلکہ اس میں ایک قومی اور ملی شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تبھی ممکن ہوسکتاہے جب پوری قوم یکساں طو ر پر متحرک و فعال ہواور ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔اس کے لیے وہ چاہتے تھے کہ پوری قوم اور سو سائٹی فرسودہ رسم و رواج سے ہو آزادا ہو کر اجتماعیت کی ترقی کے لیے جدوجہد کرے۔سرسید نے اس کے لیے اظہارِ رائے کی آزادی اور تبدیلیء رسم و رواج کو ضروری سمجھا۔ان کا کہنا تھا کہ’’یہ ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ ہر انسان کو زندگی کے لیے سانس لینا اور متغیر ہوا کو نکالنا اور تازہ حیات بخش ہو کو اندر کھینچنا۔‘‘۔مزید انھوں نے کہ’’رسمیں نتیجہ ہیں زمانے کی حالت کا اور زمانے کی حالت ہمیشہ قابل تغیر ہے۔ پس رسمیں بھی قابل تغیر ہیں۔‘‘
چونکہ جب بھی کوئی قوم بہت زیادہ سماجی رسم و رواج اور فرسودہ روایات و خیالات کی پابند ہو جاتی ہے تو اس میں اظہار ِ رائے کی آزادی بھی ایک طرح سے ختم ہو جاتی ہے۔اگر کوئی انسان کہیں سے کوئی نئی روشنی حاصل کرتاہے اور اس کے ذریعہ اپنے سماج کو فیض پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو رسم و رواج کی پابندیاں اس کی راہ میں مخل ثابت ہوتی ہیںاور پھر چاہتے ہوئے بھی وہ اپنی بات لوگوں کے سامنے نہیں رکھ پاتا ہے ۔ اسی خیال کے پیش نظر سر سید نے ہر نوع کے سماجی بندھنوں سے خود کو آزاد کر کے تقاضائے وقت کے مطابق اجتماعی ترقی پرزور دیا ۔
اسی تصور اجتماعیت کے ضمن میںسرسید نے اپنے دو اہم تصور ات یعنی تصور تعلیم اور تصور قومیت پیش کیے۔تعلیم کے سلسلے میں سر سید کا تصور انفرادی نہ ہو کر کے سراسر اجتماعی تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ تعلیم کے معاملے میں پوری قوم بیدار ہو۔ان کے نزدیک سماج کے محض چند لوگوں کا تعلیم سے بہرہ ور ہوجاناکامیابی کا ضامن نہیں ہے بلکہ اس کے لیے پوری قوم کو تعلیم یافتہ ہونا ناگزیر ہے: اپنے ایک لیکچر میں انھوں نے اس پر روشنی ڈلتے ہوئے کہاتھا:
’’جس وقت اولاد کی تربیت کا ذکر آتا ہے تو رئیسوں اور دولت مندوں کے دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی اولاد کی تعلیم خاص اپنے اہتمام سے اور ہر ایک علم کے عالم نو کر رکھ کر بخوبی کر سکتے ہیں۔بعضوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کو اپنی ہی اولاد کی تعلیم و تربیت کی فکر کرنی کافی ہے۔مگر یہ ایک بڑی غلطی ہے اور خود اولاد کے ساتھ دشمنی کرنی ہے۔جہالت اور نا تربیتی وبا کی مانند ہوتی ہے جب تک تمام شہر اس بد ہوا سے پاک نہ ہو کوئی ایک گھر اپنے تئیں اس سے بچا نہیں سکتا۔‘‘
سر سید کے یہاں جو تصور قو میت تھا وہ بہت واضح تھا۔انھوں نے ہمیشہ ہندوستان کے تمام باشندوں کو ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی خطے ، زبان یا پھر مذہب سے ہو ،ایک قوم سمجھا۔عام طور پر ہندوستان میں ہندو ؤںاور مسلمانوں کو لے کر دو قومی نظریے کی بات کہی جاتی ہے۔مگر سر سید نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو کبھی دو قوم نہیں سمجھا اور اس کے لیے انھوں نے سب سے پہلے نیشن کا لفظ استعمال کیا۔چنانچہ اپنی ایک میں وہ کہتے ہیں:
’’یو روپین مختلف خیالات اور مختلف مذاہب کے ہیں۔مگر سب ایک قوم شمار ہوتے ہیں۔گو ان میں دوسرے ملک کے لوگ بھی آکر بس جاتے ہیںمگر وہ آپس میں مل جل کر ایک ہی قوم کہلاتے ہیں۔ غرض کہ قدیم سے قوم کا لفظ ملک کے باشندوں کے لیے بولا جاتا ہے۔گو ان میں بعض بعض خصوصیتیں بھی ہوتی ہیں۔اے ہندو اور مسلمانوں!کیا تم ہندوستان کے سوا اور ملک کے رہنے والے ہو۔ کیا اسی زمین پر تم دونوں نہیں بستے۔ کیا اسی میں تم دفن نہیں ہوتے یا اسی زمین کے گھاٹ پر جلائے نہیںجاتے۔ اسی پر مرتے ہو اور اسی پر جیتے ہو۔ تو یاد رکھو کہ ہندو مسلمان اور عیسائی جو اسی ملک میں رہتے ہیںاس اعتبار سے سب ایک ہی قوم ہیں۔ جب یہ سب گروہ ایک قوم کہے جاتے ہیں تو ان سب کو ملکی فائدے میں جو ان سب کا ملک کہلاتا ہے ایک ہونا چاہئے۔‘‘
ایک اور موقعے پر سر سید نے تقریر کرتے ہوئے کہاتھا:
’’لفظ قوم سے میری مراد ہندو اور مسلمان دونوں سے ہے۔ یہی وہ معنی ہیں جس میں ، میں لفظ نیشن کی تعبیر کرتا ہوں۔ میرے لیے یہ امر چنداں لحاظ کے لائق نہیں کہ ان کا مذہبی عقیدہ کیا ہے۔ہم سب کے فائدے کے مخرج ایک ہی ہیں۔جس زمانے میں میں قانونی کونسل کاممبر تھا تو مجھ کو خاص اسی قوم کی بہبود کی دل سے فکر تھی۔‘‘
سر سید کے یہی وہ تصورات ہیں جن کے لیے انھوں نے زندگی بھر کوششیں کیں اور ہمیشہ ان کے خیال میں رہا کہ اگر ہندو اور مسلمان دونوں ایک قوم بن جائیں اور دونوں آپسی اتحاد کے ساتھ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں تو یہ صرف کچھ لوگوں کی ترقی نہیں ہوگی بلکہ پورے ہندوستان ترقی کی ترقی ہوگی اور یہاں کے باشندے دیگر قوموں کی طرح ایک کامیاب اور بامراد زندگی بسر کر سکیں گے۔
نیچریت: سر سید کے افکار کی تیسری بنیاد نیچر یت تھی۔ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ تھا کہ صرف زندگی اور مسائل زندگی ہی میں نہیںبلکہ تہذیب و ادب وغیرہ کے اصول بھی قدرت کے مطابق ہوں۔ ان میں مبالغہ اور جذباتیت کی بجائے حقائق اور اصلیت کا ہو تاکہ اس سے ملک و قوم کافائدہ ہو سکے۔ زبان و ادب کے حوالے سے نیچر پر مبنی سرسید کے یہی وہ افکار و خیالات ہیں جس کی وجہ سے ہمیشہ وہ ’ادب برائے ادب ‘نظر یہ کے خلاف رہے۔خلیق احمد نظامی لکھتے ہیں:
’’جہاں تک شاعری کا تعلق ہے سر سیدادب برائے ادب کے قائل نہیں تھے۔وہ اردو شاعری کو ایک ذریعہ بنانا چاہتے تھے قوم کو بیدار کرنے کا،اس کو نئے افکار و نظریات سے آگاہ کرنے کا،اس میں حصول مقصدکے لیے شورش انگیز لگن پیدا کرنے کا۔ انھوں نے قومی شاعری کا ایک واضح اور صاف تصور پیش کیا۔ان کے زیر اثر لکھی ہوئی نظمیں اس ’’مقصدیت ‘‘ میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ان کے بعد کی شاعری میں نغمہ ہے لیکن تاثیر نہیں،فنی خوبیاں ہیں لیکن مقصدیت نہیں، شور و غوغا ہے لیکن بانگِ درا نہیں۔‘‘
عقلیت : سر سید کی فکری بنیادوں میں ایک اہم اور بہت ہی مختلف فیہ بنیاد عقلیت تھی۔ سر سید کے خیال میں مذہبی امور میں عقلی و استدلالی انداز نظر کا ہونا ضروری تھا۔ ان کے نزدیک عقلی دلائل کے بغیر کسی بھی قسم کے عقیدے کی حمایت اوراس کی تقلیدکرنا زمانے کے مزاج کے خلاف تھا۔ اپنے اسی نظریے کے تحت ا نھو ں نے مذہبی معاملات میں ترقی پسندانہ انداز نظر کوروا رکھا اور اس کے لیے مسئلہ ء اجتہاد کا سہارا لیا۔ان کا خیال تھا کہ اس کے بغیر مذہب وقت کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا ہے ۔یہیں سے انھوںنے بہت سے مذہبی امور میں اپنے عقلی گھوڑے دوڑانے شروع کئے ۔ مذہبی معاملا ت میں وہ صرف قرآن کو اصل منبع سمجھتے تھے۔ احادیث کے سلسلے میں ان کا جو نقطہء نظر تھا وہ بہت ہی نامناسب اور عام مسلمانوں سے بالکل ہی الگ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام احادیث کو مسترد کر دینی چاہئے جو قر آنی تعلیمات کے خلاف ہیں یا جو عقل و فہم سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں یا پھر انسانی تجربات کی متضاد ہیں۔مذہبی معاملات میں سیر سید کے افکارو نظریا ت عام مسلمانوں سے کس طرح متخلف تھے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے منظر اعظمی لکھتے ہیں:
’’انھی افکار و نظریات کے زیر اثر انھوں نے اسلامی عقائد کی ترقی پسندانہ تشریح کی اور اِ س خیال سے کہ کہیں نئی نسل کے مسلمان نوجوان فلسفہ و سائنس پڑھ کر ہر عقیدے کو قانون اور عقل کی کسوٹی پر پرکھنے نہ لگ جائیں اور بہت سے مسائل کو عقل کے موافق نہ پاکر اسلام ہی سے بر گشتہ نہ ہو جائیں انھوںنے قرآن پاک کی عقلی تشریح کی۔اسلام کے ہر عقیدے ، ہر قانون ، ہر حکم اور ہر قصے کو عقل کے مطابق ثابت کیا۔ حالانکہ اسلام ، سائنس ، قانون ، یا فلسفے کی کتاب نہیں۔وہ تو کتاب اخلاق و کر دار اور صحیفہ ء زندگی ہے اور اس میں بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کو محض عقل کی روشنی میں سمجھا نہیں جا سکتا ۔ مگر چونکہ سر سید طے کر چکے تھے کہ بغیر مذہب کی عقلی تعبیر کے مسلمانوں کے مسائل کو سلجھایا نہیں جا سکتا اور وہ مغربی علوم وفنون سے کما حقہ استفادہ نہیں کر سکتے اس لیے انھوںنے ایسے مسائل پر بھی ہاتھ ڈالا جن کا تعلق ایمان بالغیب سے تھا اور بعض چیزوں کی ایسی تشریح کی کہ ان کے رفقا بھی انھیں ہضم نہ کر سکے۔‘‘
سر سید کے یہی وہ عقلیت پر مبنی اور ترقی پسندانہ افکار ونظریات تھے جن کی وجہ سے وہ معتزلہ کے قریب پہنچ گئے اور ان کے مخالفین نے انھیں کافر و ملحد اور بے دین و زندیق تک کہنے سے گریز نہیں کیا۔ لیکن باوجو اسکے سر سید اپنے مشن میں لگے رہے۔ہندوستانی قوم اور بالخصوص مسلمانوں کو اس عہد کے حالات سے نکالنے اور اسے ایک نیا مستقبل دینے کے لیے وہ ہمیشہ غور و فکر میں ڈوبے رہے ۔ محسن الملک کے نام اپنے ایک خط میں انھو ں نے لکھا تھا:
’’ بھائی جان سنو! اب یہ وقت نہیں رہا کہ میں اپنی مکنونات ضمیرکو مخفی رکھوں۔میں صاف صاف کہتاہوں کہ اگر لوگ تقلید نہ چھوڑیں گے اور خاص اس روشنی کو جو قرآن و حدیث سے حاصل ہوتی ہے نہ تلاش کریںگے اور حال کے علوم سے مذہب کا مقابلہ نہیں کریں گے تو مذہب اسلام ہندوستان سے معدوم ہو جاوے گا۔اسی خیر خواہی نے مجھ کر برانگیختہ کیا ہے جو میں ہر قسم کی تحقیقات کرتا ہوں اور تقلید کی پر وا نہیں کرتا۔ورنہ آپ کو خوب معلوم ہے کہ میرے نزدیک مسلمان رہنے کے لیے اور بہشت میں داخل ہونے کے لیے ائمہ کبار تو درکنار مولوی حبو کی بھی تقلید کا فی ہے۔‘‘
مذکورہ بالا اقتباس کے علاوہ سرسید کی اور بھی بہت سی تحریریں اور تقریریں ہیںجن کے مطالعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک و قوم کے تئیںوہ کس قدر حساس اور فکر مند تھے ۔نیزان کی یہی تحریرں اور تقریریں ہمارے لیے ان کے ان افکارو خیالات اورتصورات ونظر یات تک پہنچنے کا ذریعہ بن ہو سکتی ہیں جو انھوں نے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی اور تعلیم و تربیت کے لیے پیش کیے تھے اور جن پر چل کر آج بھی ہم اپنامستقبل روشن اور تابناک بنا سکتے ہیں۔
غرض یہ کہ ملک و قو م کی تعمیر وترقی کے سلسلے میں سر سید کے یہی وہ افکار و نظریات ہیںجن کی وجہ سے نہ صر ف ہم ان کی عظمت کو سلام کرتے ہیں اورتعلیم وتربیت،تہذیب و ثقافت،علم و ادب اورفکر و دنشوری میں ان کی خدمات کا دل سے اعتراف کرتے ہیں بلکہ ان کو اپنی صدی کا سب سے بڑا ذہن تسلیم کرتے ہیں اور آج ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہندوستانی مسلمانوں کا جو نقشہ ہے وہ انھیں کی کوششوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں ۔لیکن سر سید کی ان تمام تر خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہم ان کے ان افکار و نظریات کو بھی لوگوں کے سامنے پیش کریں جن میں امت کا ان سے اختلاف تھا اور آج بھی ہے اور لوگ ان کی وجہ سے سر سید کے حوالے سے دو خانوںمیں بٹے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس کے بغیر، خواہ ہم سر سید کے کتنے ہی بڑے عقیدت مند اور پرستار کیوںنہ بن جائیں، آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں اور اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمارے خیال سے اس سے سر سید کی عظمت میں کوئی کمی نہیں آئے گی بلکہ اس میں مزیداضافہ ہی ہوگا۔
Mob.No.:+919911589715
E-mail: arziyadi@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

