دیار شوق میرا دیار شوق میرا
دیار شوق میرا دیار شوق میرا
ہوئے تھے آکےیہیں خیمہ زن وہ دیوانے
اٹھے تھے سن کے جو آواز رہبران وطن
یہیں سے شوق کی بے ربطیوں کو ربط ملا
اسی نے ہوش کو بخشا جنوں کا پیراہن
یہیں سے لالئہ صحرا کو یہ سراغ ملا
کہ دل کے داغ کو کس طرح رکھتے ہیں روشن
شہر آرزو میرا شہر آرزو میرا
یہ اہل شوق کی بستی یہ سر پھروں کا دیار
یہاں کی صبح نرالی، یہاں کی شام نئی
یہاں کی رسم و رہ مے کشی جدا سب سے
یہاں کے جام نئے، طرح رقص جام نئی
یہاں پہ تشنہ لبی مے کشی کا حاصل ہے
یہ بزم دل ہے یہاں کی صلائے عام نئی
دیار شوق میرا دیار شوق میرا
یہاں پہ شمع ہدایت ہے صرف اپنا ضمیر
یہاں پہ قبلئہ ایماں کعبہ دل ہے
سفر ہے دین یہاں، کفر ہے قیام یہاں
یہاں پہ راہ روی خود حصول منزل ہے
شناوری کا تقاضہ ہے نو بہ نو طوفاں
کنار موج میں آسودگی ساحل ہے
دیار شوق میرا، شہر آرزو میرا

