Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیمنصابی مواد

جدید اردو افسانے میں فسادات کا منظر نامہ – عینین علی حق

by adbimiras اکتوبر 20, 2020
by adbimiras اکتوبر 20, 2020 0 comment

فسادات ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے عالم کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں اور ایسا محسوص ہوتا ہے کہ فسادات کا معارض وجو د میں آنا غیر فطری عمل ہے، کیوں ان فسادات میں تمام مذاہب اور طبقات کے لوگ ملوث نہیں رہتے بلکہ چند لوگ اس لعنت کو باقائدہ انجام دیتے ہیں ،جس کا شکار غریب اور متوسط طبقہ ہوتا ہے۔

فسادات ہندوستان کے لیے تقسیم ہند 1947کا تحفہ ثابت ہوئے ہیں ،جس نے آج تک ہندوستانی عوام کے دلوں میں نفرت پیدا کر رکھی ہے، اور کوئی سال ایسا نہیں جاتاجب کوئی بڑا فساد نہ ہوا ہو۔ فسادات نے ملک کی معاشی، اقتصادی ، تہذیبی ،ثقافتی اور ادبی فضا کو ایسا مکدر کیا کہ آج تک ملک کے تمام شعبوں اور میدانوں میں فسادات کا ذکر سر فہرست ہوا کرتا ہے۔ فساد ایک ایسا موضوع ہے، جس پر دفتر کے دفتر بھرے جاسکتے ہیں۔1947کے بعد فرقہ وارانہ فسادات پر افسانہ نگاروں نے متعدد کہانیاں قلم بند کی ہیں۔انہیں فسادات کے ذیل میں 90کی دہائی کے بعد دہشت گردانہ حملوں کا آغاز ہوا ۔

موجود ہ صورت حال بھی جنگ آزادی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے بلکہ مزید سنگین ہوچکی ہے۔پہلے صرف فسادات ہواکرتے تھے ،مگر اب بم بلاسٹ جیسے واقعات بھی رونما ہونے لگے ہیں۔ یوں توفسادات کا آغاز1857سے ہی ہوچکا تھا ،مگر انگریزوں نے ان فسادات کو فرقہ واریت کی ایک نئی شکل دے دی۔انگریزں کی شرپسندیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ہندوستان میں فسادات نے فرقہ وارانہ فسادات کی شکل اختیار کر لی۔فرقہ واریت فرقہ وارانہ فسادات سے زیادہ ہیبت ناک صورت حال پیدا کرتی ہے۔دونوں میں زمین وآسمان کے فرق نمایاں ہے۔ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، جس میں سبھی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔معمولی قسم کے مذہبی اور تہذیبی ٹکراﺅ ہوتے ہی رہتے ہیں، مگر انگریزوں نے ہندوستانیوں کی ایسی ذہن سازی کی کہوہ فرقہ واریت کی آگ میں جلنے لگتاہے۔فسادات ہوتےہیں اورکچھ دنوں کے بعد حالات معمول پر آجایا کرتےہیں، گلےشکوے ختم ہوجاتے ہیں۔مگرفرقہ واریت وہ لعنت ہے جس کے شعلے دلوں میں مستقل بھڑکتے ہیں ،اوران شعلوں کے اثرات مظفر نگر، پونا ، بنگال، بہار اوردادری ودیگر واقعات میں فسادات کی شکل میں نمودار ہوئے ،ان فسادات کا شکار معصوم انسانوں کو ہونا پڑتاہے۔یہ فرقہ وارانہ فسادات منظم سازش کا حصہ ہیں، یہ سازشیں سیاسی رہنماﺅں کی سرپرستی میں انجام دی جاتی ہیں۔بھاگلپور،میرٹھ،دہلی،اترپردیش،اجودھیا،گجرات،ہریانہ،مظفرنگروغیرہ میں خطرناک فسادات ہوئےہیں، ان فسادات میں اقلیتوں کونشانہ بنایاگیاتھا۔تقسیم ہندکےبعدپیش آنے والےواقعات پربڑی تعداد میں بیسویں اور اکیسویں صدی میں افسانے لکھے گئے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے کیوں کہ فسادات نے اب تک دم نہیں توڑا ہے بلکہ یہ فسادات ایک تناور درخت بن چکے ہیں۔

اگر ہم جدید اردو افسانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں تو 1970یا 1980کی دہائی میں لکھنے والے افسانہ نگار مثلاً سید محمد اشرف،علی امام نقوی، حسین الحق، طارق چھتاری، شفق ، سلام بن رزاق ، شموئل احمد ،بیگ احساس، خالد جاوید، اقبال مجید،معین الدین جینا بڑے، غضنفر، مشرف عالم ذوقی، ترنم ریاض،ساجد رشید ، نگار عظیم ، اسلم جمشید پوری اور احمد صغیر کا ہی نام لینا مناسب سمجھتے کیوں کہ ادبا اور اساتذہ کے ذہنوں نے یہ قبول کر لیا ہے کہ یہی لوگ جدید منظر نامے کے شاہسوار ہیں کیوں کہ اکیسویں صدی میں افسانے نہیںلکھے جا رہے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں میں رحمن عباس، تبسم فاطمہ ، سلمان عبدالصمد، نورین علی حق ، ذاکر فیضی،شبنم افروز ، شہناز رحمن، صدف اقبال، ترنم جہاں شبنم کے علاوہ متعدد افسانہ نگار صحیح مانوں میں جدید افسانہ نگاروں کی نمائندگی کررہے ہیں۔ ان میں بیشتر نے فسادات سے متاثر ہوکر بھی افسانے لکھے ، اس فہرست میں ذاکر فیضی کا افسانہ ’انسان کی موت‘ سلمان عبدالصمد ’گلوب میں گردش ‘ اور نورین علی حق کا ’سہما ہوا آدمی ‘کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔

ان باتوں سے قطۂ تقسیم ہند سے قبل اخلاقی افسانے تخلیق کیے جارہے تھے ،لیکن ماحول کی نزاکت کو پیش نظر رکھتے ہوئے افسانہ نگاروں نے فسادات اورفرقہ واریت کے موضوع کو فروغ دینا شروع کیا۔تقسیم ہند سے لیکر 1960-70تک ان موضوعات کا خوب احاطہ کیا گیا ،مگر وہی صورت حال 1980کے بعد بھی برقرار رہی۔

1984 سکھ فساد نے ملک کی دوسری بڑی اقلیت کی زندگی اور اقتصادی حالت تباہ و برباد کرکے رکھ دی، اس فساد نے مختلف زبانوں کے قلم کاروں کے ساتھ ہی اردو قلم کاروں کو بھی بے حد پریشان کیا، جس پر غضنفر اور مشرف عالم ذوقی نے افسانے لکھے۔ مشر ف عالم ذوقی نے ہجرت، بٹوارہ، اشغلہ کی بندمٹھیاں، مہاندی، جیسی کہانیاں لکھیں۔ ”ہجرت“ ایک بزرگ سکھ کی کہانی ہے جو تقسیم کے لٹے لٹائے بہار کے ایک چھوٹے سے شہر ہجرت کرجاتے ہیں، لیکن1984 کے فسادات کے بعد انھیں ایک بار پھر ہجرت کے کرب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کے علاوہ غضنفر کی کہانی ’پہنچان‘ سکھوں کے مذہبی جذبات اور درد کو بیان کرتی ہے ، جس میں اپنی زندگی بچانے کے لیے اپنی شناخت چھپانی پڑتی ہے، اور یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ سکھ فساد میں سکھوں نے اپنی داڑھیاں اور بال کٹوا دیے تھے تاکہ زندہ رہ سکیں۔ اس ضمن میں علی امام نقوی کا افسانہ ’بازگشت‘ سکھ فساد کے تناظر میں ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ، کافی بے باکی کے ساتھ ماضی حال اور مستقبل کی منظر کشی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فسادات کے حوالے سے ہی ان کا افسانہ شکستگی ہے۔ خالد کا ختنہ، تیزابی محبت ، تاناباناوغیرہ بھی غضنفر کی قابل توجہ کہانیاں ہیں۔

اردو فکشن تقریباً سوسال سے زیادہ کا سفر طے کرچکاہے ،اس درمیان اردو میں بہت ساری تحریکیں اور رجحانات آئے ، ان تحریکوں کا اثر اردو فکشن نے بھی قبول کیا۔ اردو فکشن کے آغاز میں مختلف موضوعات پر کہانیاں سامنے آئیں۔اردو افسانے کی تاریخ کو قدامت حاصل نہ رہی ہو مگر یہ وہ صنف ادب ہے جو اپنی مقبولیت کے سبب بیشتر اصناف پر فوقیت رکھتی ہے۔افسانے میں سبھی موضوعات کو زیرقلم لایا گیا ہے۔سیاسی ،سماجی، اقتصادی، معاشرتی، فسادات، دہشت پسندی، نفسیات،بین الاقوامی صورت حال کی عکاسی، تہذیب وتمدن کے مختلف پہلو ، ملک کے تئیں حب الوطنی،جدید ٹکنالوجی، سائنس،سبھی موضوعات میں ایجاز واختصار کے ساتھ اسلوبِ معیار کی سطح پر تنوع بھی دیکھا جاسکتاہے۔اردو افسانوں نے خصوصاً سماج کو بہت زیادہ متاثر کیا ،خواہ وہ ترقی پسند تحریک ،جدیدیت ،مابعدجدیت اورحلقہ¿ ارباب ذوق کے علاوہ کسی بھی رجحان کے بینر تلے لکھے گئے ہوں، سبھی نے انسانیت کا مرثیہ بہ آواز بلند پیش کیا۔ افسانوی دور کا ابتدائی زمانہ سماج کے مسائل اور سماج کی تربیت پر ہی مبنی تھا ۔

سلام بن رزاق کی کہانی ’چادر ‘ جہاں ممبئی میں ہوئے فسادات کے حقائق کو بیان کرتی ہے وہیں سماج کی تربیت اور قومی یکجہتی کا پیغام بھی دیتی ہے، انور اور ودیا چرن دو دوست اس کہانی کے اہم کردار ہیں۔ انور تجارت کی غرض سے غیر شہر میں زندہ انسان کو خاک سیاہ میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھتا ہے ، اس کے دل میں گھبراہٹ ہوتی ہے لیکن خود کو ودیا چرن کے گھر میں محفوظ محسوس کرتا ہے۔ سلام بن رزاق نے فسادات کے تناظر میں متعدد کہانیاں لکھیں ، ان کی اہم کہانیوں میں آخری کنگورا، چہرہ، آدمی اور آدمی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

اس بات سے بھی انحراف نہیں کیا جاسکتاہے کہ بیسویں اور اکیسویں صدی میںقتل وغارت گری کے موضوع کو فوقیت حاصل رہی اور خوچکاں درد ناک واقعات صفحۂ  قرطاس پر محفوظ کئے جاتے رہے ۔ 1947کے بعد بیشتر کہانیاں فسادات سے متاثر تھیں، جن میں براہ راست فرقہ وارانہ فسادات کی مخالفت کرتے ہوئے معاشرے کی تربیت کرنے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ آپسی امن و امان قائم رہے ۔مگر المیہ یہ تھاکہ فرقہ واریت انیسوی ، بیسوی اور اکیسویں صدی کے آزاد ہندوستان میں سماجی،اقتصادی ،پسماندگی اور سیاسی ارتقا کے ساتھ ہی وجود میں آئی تھیں۔جس کے طفیل میں معاشرے کے انسانوں کو معاشی بدحالی،جاگیردارانہ نظام، ہندومسلم دشمنی،عصمت دری ،ہجرت جیسی لعنتوں سے دوچار ہونا پڑا۔ان برائیوںکے خلاف آواز بلند کرنے اور کہانیوں کے فروغ میں بلاشبہ ترقی پسند دور نے اہم کردار ادا کیا ۔ مصلحت پسندی سے آزاد ہوکر غیرجانبداری اور بے باکی کے ساتھ کہانی لکھنے کی بنیاد 1932میں ’انگارے‘ نے ڈالی ،جس کے بعد باغیانہ تیور کی کہانیاں کثرت سے لکھی جانے لگیں۔ترقی پسندوں کا زوال آتے ہی اردو ادب کا نیا رجحان ’جدیدیت‘ کا آغاز ہوتا ہے۔ جدیدیوں نے معاشرے کی جگہ فرد کو خصوصیت کے ساتھ اہمیت دی اور فرد کے ساتھ پیش آنے والے کرب ناک اور دردناک واقعات کو سیاق وسباق کے ساتھ پیش کیا۔ ظاہر ہے ان کا مقصد بھی وہی تھا جو ترقی پسندوں کا ۔ترقی پسندوں نے اجتماعیت اور جدیدیوں نے انفرادیت کو فروغ دیتے ہوئے سماج کے مسائل اور فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف بڑی تعداد میں علامتی اور استعاراتی افسانے قلم بند کیے۔ (یہ بھی پڑھیں پشاور ایکسپریس – کرشن چندر)

1980کے بعدکا زمانہ اردو افسانوں کا ٹرننگ پوائنٹ رہاہے۔ بیانیے کی واپسی ہوئی اوربحثوں کے دروازے بھی کھلے ۔ اردو فکشن میں اکثر وبیشتر موضوعات کے حوالے سے بحث ومباحثہ کیا جاتارہتاہے اور بیشتر ادیب و ناقد یہ کہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات کو بطور موضوع پیش نہیں کیا جاسکتا جب کہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 1947کے بعد سے فرقہ وارانہ فسادات ہندوستان کی سائیکی کا حصہ بن گئے۔ چھوٹے چھوٹے مسائل اور معاملات کو موضوع تسلیم کیا جاسکتاہے تو فرقہ واریت کو موضوع تصور کرنے میں کیا مضائقہ۔ کیوں کہ فسادات پر لکھی گئی کہانیاں بھی سماج کے المیے کو ہی بیان کرتی ہیں۔جس کا شکار ہندو،مسلم،سکھ، عیسائی سبھی مذاہب کے لوگوں کو ہونا پڑ تاہے۔اس المیے کو اردو، ہندی اور دیگر زبانوں کے افسانہ نگاروں نے بھی بہت ہی شدت کے ساتھ محسوس کیا اور اپنی کہانیوں میں جگہ دی۔80کے بعد کا زمانہ اقلیتوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جانے کاہے۔ یوں تو یہ سلسلہ تقسیم ہندکے بعد سے ہی شروع ہوچکاتھا۔ لیکن84 کے بعد سکھ مخالف فسادات،میرٹھ،ملیانہ،بھاگل پور،مراد آباد،مظفر نگر،گجرات،اڑیسہ اور دادری وغیرہ کے مسلم مخالف فسادات،بابری مسجدکی شہادت،گودھرا، اور پھرنہیں ختم ہونے والا بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ،یہ وہ واقعات تھے جس سے مسلمانوں کو ذہنی واقتصادی اورفکری سطح پر مفلوج کردیا۔ان واقعات سے پورا ہندوستان متاثرہوا۔فرقہ وارانہ فسادات کوئی ایسی مخلوق نہیں،جو کسی زمانے میں ہواکرتی بلکہ یہ وہ المیہ ہے جوتین صدیوں سے انسانیت کے قلعے کو منہدم کرنے میں سرگرم ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کی کوششیں دور مغلیہ کے ختم ہوتے ہی ،انگریزوں کے برسراقتدار آتے ہی کی جانے لگی تھیں۔ انگریز ہندومسلم دشمنی کی بنیاد مستحکم کرنے میں مصروف ہوگئے ۔ان لوگوں کو خدشہ لاحق تھا کہ یہ دونوں قومیں متحد رہیں گی تو ہماری حکومت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔لہذا انگریزوں نے ہندﺅں کو ترقی دینی شروع کی اورمسلمانوں کےساتھ تعصب کارویہ اختیارکیاجانےلگا۔انگریزوں نے باضابطہ فرقہ وارانہ فسادات کرانے کے لیےپالیسی تیارکی اورمرادآبادکاکمانڈنٹ لیفٹننٹ کرنل کوک نے لکھا :

”ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم پوری طاقت کے ساتھ مختلف مذہبوں اور ذاتوں کے درمیاں موجودہ بھید بھاﺅبنارہنےدیں۔ہمیں یہ فرق وامتیازختم کرنےکی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔’اختلاف پیداکرواورحکومت کرو‘ہی ہندوستانی حکومت کااصول ہونا چاہئے۔“

(شیخ محمد غیاث الدین، فرقہ واریت اور اردو ہندی افسانے۔ص49)

جس کا نتیجہ یہ ہواکہ فرقہ وارانہ فسادات کے شعلے آج تک کسی نہ کسی طور پر بھڑکتے رہتے ہیں۔بابری مسجد شہادت 1992کے بعداس باب میں ایک اور حصے کا اضافہ دہشت گردانہ حملوں کی شکل میں ہوا۔ جس کے کرب سے فکشن رائٹر بھی نہ رہ سکے اور سیکڑوں افسانے لکھے گئے۔آج تک فساد ودہشت پسندی کے موضوع پر کہانیاں لکھی جارہی ہیں۔بابری مسجد کا سانحہ وہ سانحہ تھا جس نے ملک افرا تفری کا ماحول پیدا کردیا ، قلم کاروں نے افسانے لکھے ۔ حسین الحق کا افسانہ’ نیو کی اینٹ ‘ بابری مسجد کی شہادت کے تعلق سے ایک نمائندہ افسانہ قرار دیا جا سکتا ہے، جس میں مسلمانوں کی مجبوریوں کے ساتھ ساتھ خوف و دہشت کی عکاسی دیکھی جا سکتی ہے۔حسین الحق نے فسادات کے حوالے سے کربلا، وا حسرتاجیسے افسانے لکھے ہیں۔

شوکت حیات کا افسانہ ’ گنبدکے کبوتر‘ ایک بہترین افسانہ ہے۔ اس کے پس منظر میں بابری مسجد شہادت اور مسلمانوں کے درد اورجذبات کو بہ خوبی محسوس کیاجاسکتاہے۔ کبوتر امن کی علامت ہے کبوتروں کے اڑجانے کا مطلب ہے خوف کا سرنکالنا۔ کہانی آغاز سے انجام تک اس خوف کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔بابری مسجد کی شہادت کا سانحہ وہ بدترین سانحہ تھا جس کے بعد انسانوں کے خون کی ہولی کھیلی جانے لگی تھی، مسجد کی شہادت کے رد عمل میں مختلف شہروں میں متعدد فسادات رو نما ہوئے تھے۔ بابری مسجد شہادت کے طفیل میں ہوئے فسادات سے متاثر ہوکر شفق نے اپنے شہر سہسرام اور ممبئی فساد کا تذکرہ اپنی کہانی ’نیلا خوف ‘ میں کیا۔نیلا خوف ایسے شخص کی کہانی ہے جو تجارت کے سلسلے میں اپنے آبائی وطن سے باہر ہے اور اس کے گھر والے پریشان حال ہیں ، خصوصاً احمد کی شریک حیات جو ہر روز ممبئی سے آنے والی ٹرین میں اپنے شوہر کا انتظار کرتی ہے۔ کہانی پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ خالق نے کس خوبصورتی سے اپنے گرد و نواح میں پیش آنے والے واقعات کو سپرد قلم کیا ہے۔ شفق کا ایک کامیاب افسانہ ’مہم‘ ہے، جس میں انہوں نے عورتوں پر جاری تشدد، ظلم و زیادتی اورزنا بالجبر کو بڑے موثر اور انفرادیت کے ساتھ پیش کیا ہے۔

فسادات میں کس طریقے سے خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے ، بچے یتیم کیے جاتے ہیں ، اس درد کو ایک عورت سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے، نگار عظیم ایک ایسی افسانہ نگار ہیں جنہوں نے فسادات میں خواتین کے تقدس کی پامالی کے تعلق سے سنگین جرم اور جشن قلم بند کیا ہے۔

ملک کے مجاہدین اور بابائے قوم مہاتما گاندھی نے آزادی ہند کا خواب دیکھاتھا اور ہزاروں قربانیوں کے بعد یہ خواب شرمندۂ تعبیر بھی ہوا، لیکن قربانیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا، آزادی ہند کے بعد ملک میں فرقہ پرستی نے اپنا شکنجہ مضبوط کرلیا اور اقلیتوں کی پامالی کا سلسلہ شروع ہوا۔ صرف مسلمان ہی نہیں آج تک عیسائی ، پارسی ،سکھ اور دلت طبقات کے ساتھ ظلم و زیادتی اور قتل و غارت گری کا کھیل کھیلا جا تا ہے۔ بیگ احساس کی کہانیوں میں بے باکی اور صداقت کے عنصر نمایاں ہیں ، انہوں نے ’پناہ گاہ کی تلاش‘ علامتی نوعیت کا افسانہ لکھا جس میں فسادات کا ذمہ دار حکومتوں کو قرار دیا ہے ۔ اس افسانے کے علاوہ فسادات کے تعلق سے ان کا اہم افسانہ نیا شہسوار، کرفیو، دھاروغیرہ ہے۔جدید افسانہ نگاروں میں شموئل احمد غالباً ایک واحد ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اپنے فن کے مطابق علم نجوم اور جنسی نظریات کے تحت فسادات کی منظر کشی اپنے افسانوں میں کی ہے۔ ان کا افسانہ سنگھاردان کے مطالعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ فحاشی عام انسانوں کے لیے فحاشی اور جنسی لذتوں کا نام تو ہو سکتا ہے لیکن ادیب کے لیے فحاشی ایک فن ہے، جیسے ادیب جس پیرائے میں پرونہ چاہتا ہے پرو دیتا ہے۔ اس کے علاوہ القمبوس کی گردن میں شموئل نے علم نجوم کے اصولوں سے عجیب و غریب اور دل دہلا دینے والی کیفیت پیدا کردی ہے۔ جھگمانس، بدلتے رنگ بھی اہم افسانوں میں سے ہیں۔ عبدالصمدکا افسانہ دم، انجم عثمانی کا شہر گریہ کا مکیں ، طارق چھتاری کی کہانی لکیر، ساجد رشیدکا زندہ درگورایک چھوٹا سا جہنم،پیغام آفاقی کی کہانیاں فسادات کے ساتھ ساتھ دہشت گردانہ حملوں سے بھی متاثر نظر آتی ہیں ، ان کی کہانی اس کی شخصیت پر مذہب کی کوئی پہنچان نہ تھی،بھوکمپ اور جوالا مکھی ، معین الدین جینا بڑے کا افسانہ تعبیربابری مسجد کی شہادت کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے جب کہ برسو رام دھڑاکے سے ہندوستانی مشترکہ تہذیب و ثقافت پر مضمر ہے، سید محمد اشرف کا افسانہ آدمی، کعبے کا ہرن، خالد جاوید کا ہذیان ،ابن کنول کا ایک گھری کی کہانی،تیسری لاش ، ترنم ریاض کا یہ تنگ زمین ،احمد صغیرکا افسانہ منڈیر پر بیٹھا پرندہ کرفیو کب ٹوٹے گااور اسلم جمشید پوری کا عیدگاہ سے واپسی مجھ معاف کرنا رام سنگھ، بدلتا ہے رنگ ، ذوقی کا گجرات فساد کے تعلق سے لیباریٹری،حالات معمول پر ہیں وغیرہ کے علاوہ درجنوں افسانہ نگارفسادات کے حوالے سے مستقل کہانیاں قلم بند کر رہے ہیں۔

رونماہونے والے حالات اورماحول سے ادب بھی ہمیشہ متاثرہواہے،لہذا اردوادب پر بھی ان فسادات وواقعات کا اثر ہوااورمتاثرین کی ترجمانی اردو شعرا ادبانے خوب کی۔اردوافسانوں نے بھی مظلومین سے ہمدردیاں پیش کیں اورحالات کو افسانوی لڑیوں میں پرویا،وہاں نہ حکومتوں کی چاپلوسی ہے اورنہ ہی کوئی مصلحت پسندانہ رویہ یہی وہ خصوصیت ہے فسادات ودہشت پسندی پر مبنی افسانوں کی۔جو اکثر نئی نسل کو متاثر کرتی رہی ہے۔ چوں کہ یہاں علامت وتجریدیت کا بھی اثرکم سے کم ہے اوربیانیے کے اثرات زیادہ، اس لیے یہ افسانے عوامی مطالعہ تک بھی پہنچتے ہی

 

 

نوٹ: مضمون نگار دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثافسانہفساد اور اردو افسانہفسادات
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ہم سفر ۔ احمد صغیر
اگلی پوسٹ
دیار شوق میرا دیار شوق میرا- محمد خلیق صدیقی

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں