جوہر کی ایک غزل کا یہ شعر ہے:
تنہائی کیسی قید میں؟ ہے وہ جو ہم سخن
کرتو تلاوت اس کے کلامِ مجید کی
اس غزل میں مذہبی اور اسلامی افکار کو پیش کرنے والے اور بھی کئی اشعار ہیں۔ لیکن وہ اشعار یہاں پیش نہیں کیے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ محمد علی جوہر کی غزلوں میں عشق الٰہی یا عشق رسول کے نقوش کی اہمیت و معنویت کیا ہے؟ گرچہ ان کا اسلوب شاعری روایتی ہے لیکن انھو ں نے اپنی زندگی کو جس طرح بامقصد بنایا، اسی طرح اپنی شاعری کو بھی مقصد اور پیغام کے لیے استعمال کیا۔ خدانخواستہ یہ ترقی پسند تحریک والی مقصدی شاعری نہیں ہے۔ یوں بھی جس مضمون کی بات ہورہی ہے اس کے لیے صنف نظم زیادہ کارآمد ہوتی ہے۔ مولانا محمد علی کی نظمیں ’استقبال رمضان‘ یا ’الوداع ماہ رمضان‘ دیکھی جاسکتی ہیں۔
اردو غزل میں اسلامی یا دینی جمالیات کا پر تو کہیں کہیں ضرور مل جاتا ہے۔ مابعد جدید غزل گویوں نے بھی دینی جمالیات سے کام لیا ہے۔ لیکن جوہر کے یہاں اس کے نقوش زیادہ گہرے اور واضح طور پر ملتے ہیں۔ یہ اشعار دیکھیے جن میں دینی جمالیات کا پر تو پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے:
ہے کس کے بل پہ حضرت جوہر یہ روکشی
ڈھونڈیں گے آپ کس کا سہارا خدا کے بعد
ہم کو بھلا عزیز نہ ہو کیوں وہاں کی خاک
سرحد ملی ہو عرش سے جس سرزمین کی
اس آستان پاک پہ گھسنا ہے چل کے سر
سجدوں سے اور بڑھتی ہے رفعت جبین کی
ان اشعار میں جوہر کا خالص ایمان و ایقان موجزن نظر آتا ہے۔ ایسے اشعار بھی مل جاتے ہیں جن میں دینی تلازموں کو دنیاوی انقلاب اور احتجاج کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اشعار:
کہہ دو رضواں سے نہیں سایۂ طوبیٰ درکار
اپنی جنت ہے یہیں چھاؤں میں تلواروں کی
حرّیتِ کامل ہے ولا بندگیٔ حق
وہ تجھ کو غلامی ہی میں آزاد کریں گے
دو برس کی قید ہی کیا؟ قید ہے قید حیات
دیکھو، کب ہو خاتمہ اس قید بے میعاد کا
کٹ جائیں گے یہ دن بھی یہاں قید سخت کے
کم کچھ مگر وہاں کی سزا ہو تو جانیے
اگر افادی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس نوع کی شاعری انسانی سرشت کی ترتیب و تزئین کا کام کرتی ہے۔ ایسی شاعری میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کے عوامل بھی نہیں ہوتے، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس طرح کی شاعری کسی کو فائدہ نہیں پہنچاتی تو کم ازکم نقصان بھی نہیں پہنچاتی۔ ساتھ ہی قاری یا سامع کے اخلاق کو بھی مجروح اور خراب نہیں کرتی۔کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاعری کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کے اخلاق درست کرے۔ شاید ایسے لوگ شاعری کو کوئی Alienٹائپ کی شے سمجھتے ہیں۔ اگر شاعر سماج میں جی رہا ہے، وہ سماج کے اثرات قبول کررہا ہے، وہ خیر و شر کو سمجھتا اور اپنی زندگی میں برت بھی رہا ہے، اور یہ بھی کہ وہ پوجا پاٹ یا دوسرے مذہبی امور کی پاسداری بھی کررہا ہے تو اس کی شاعری میں ان تمام باتوں اور عوامل کی عکاسی کیوں نہیں ہوگی؟ کیا آج کے اس پُرآشوب عہد میں الوہی جوہر (Divine Essence) کی ضرورت نہیں؟ (یہ بھی پڑھیں ڈرامائی ادب کی ترویج میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کردار- ڈاکٹر جاوید حسن )
محمد علی جوہر چوں کہ ان تما م مذکورہ اقدار اور اوصاف کی حقیقت سے پوری طرح باخبر تھے، ان کی زندگی اسلامی شعار سے متصف تھی، اس لیے ان کی غزلوں میں جگہ جگہ اس کے نقوش چمکتے نظر آتے ہیں۔ کسی کسی غزل میں تو چار پانچ یا چھے سات اشعار اسی طرح کے نکل آتے ہیں۔ ہم جوہر سے یہ امید نہیں کرسکتے کہ وہ جوش کی طرح یہ کہنے لگیں کہ:
یہ شاعری ہے عرش کی بازی گری نہیں
یعنی خدا نخواستہ پیغمبری نہیں
یا ساحر لدھیانوی کی طرح اس طرح کا باطل نظریہ پیش کریں کہ:
عقائد وہم ہیں، مذہب خیال خام ہے ساقی
ازل سے ذہن انساں بستۂ اوہام ہے ساقی
اب یہ دیکھیے کہ محمد علی جوہر کس طرح ذہن انساں کے بستۂ اوہام ہونے کو القط کرتے ہیں۔ ان کا مشہور زمانہ شعر ہے:
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اس شعر میں کیا عقیدے کا وہم ہے یا ذہن انسانی کے پستہ اوہام ہونے کی بات کی گئی ہے؟ اس شعر میں حق و باطل اور خیر و شر کے درمیان جس خوبصورتی اور تخلیقی ہنرمندی کے ساتھ خط امتیاز قائم کیا گیا ہے وہ لائق تحسین اور توجہ طلب ہے۔ اسی طرح یہ اشعار ملاحظہ کیجیے جس سے جوہر کے فکر اسلامی کے مستحکم ہونے کا ثبوت ملتا ہے:
ہم پھریں تجھ سے یہ نہ ہو یا رب؟
اس سے پہلے ہمیں اٹھا لینا
غافل خدا کے قہر سے دیتی نہیں پناہ
سدِّ سکندری ہو کہ دیوار چین کی
مذہبی اور اسلامی شاعری میں البتہ Seed of Poetry کی تلاش قدرے مشکل ہوتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ میری سمجھ میں یہ آتی ہے کہ اس نوع کی شاعری میں شعری خیال آرائی (Poetic Imagination) کی گنجائش کم ہوتی ہے، اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ پیغام یا مقصد حاوی ہوتا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ پیغام یا مقصد والی شاعری میں تخلیقی ہنرمندی یا شعری صنعتوں سے کم کا م لیا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے البتہ اس نوع کی شاعری میں بھی تخلیقی ہنرمندی کا جادو دکھایا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ہر ایک کے بس کا نہیں۔ لیکن یہاں بھی اگر ہم شاعری کے افادی پہلو کو نظرانداز نہیں کرتے تو سیدھا سیدھا پیغام بھی ہمیں گوارا ہوسکتاہے۔ ہاں، اگر اس افادی پہلو میں بھی اگر چیخ پکار کی روح حلول کرجائے تو پھر وہی ڈھاک کے تین پات، یعنی اس نوع کی اسلامی افکار والی شاعری اور ترقی پسند تحریک والی کھوکھلی نعرہ بازی والی شاعری میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔
محمد علی جوہر نے تو غزل کے دامن کو افکار اسلامی سے مطلع انوار بنا دیا۔ انھوں نے غزل سے پہلے بھی ہر جگہ ’لاغالب الااللہ‘ لکھا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اردو غزل کے کسی دوسرے شاعر نے غزل کہنے سے پہلے اس فقرے کا استعمال کیا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو وہی اس کے موجد اور مختتم دونوں ہیں۔ کس کس طرح سے انھوں نے اللہ اور اس کی ربوبیت اور قرآن اور رسول مکرم محمدؐ کے تئیں اپنی محبت و عقیدت پیش کی ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
اس کی رحمت کو تو خود درکار ہے عذر گناہ
لے کے پھر زاہد کا عذر بے گناہی کیا کروں
ہو محمدؐ کیوں نہ قرآں اور بھی ہم کو عزیز
اس میں خود تیری جو جیتی جاگتی تصویر ہے
یا الٰہی طوق لعنت ہو نہ گردن میں وہاں
غم نہیں گریاں ہمارے پاؤں میں زنجیر ہے
عشق الٰہی، عشق رسولؐ اور عشق حسینؑ یہ تینوں جہتیں ان کی غزلوں میں نظر آتی ہیں۔ ایک ہی غزل میں اگر دیکھنا چاہیں تو یہ تینوں جہتیں مل جاتی ہیں۔ یہ غزل بہت مشہور بھی ہے۔ دیکھیے کہ انھوں نے غزل کی ہیئت کو کس طرح اس بامقصد شاعری کے لیے استعمال کیا ہے۔ ان کے فکری رویے کا پُرخلوص اظہار ان شعروں میں دیکھیے:
’توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لیے ہے
کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
اے شافع محشر جو کرے تو نہ شفاعت
پھر کون وہاں تیرے سوا میرے لیے ہے
پیغام ملا تھا جو حسین ابن علی کو
خوش ہوں وہی پیغام قضا میرے لیے ہے
محمد علی جوہر کی غزلیں میر و غالب، سودا اور ذوق، آتش و مصحفی، مومن و شیفتہ یا اس طرح فراق و جگر کی غزلیں نہیں۔ البتہ ان کی شاعری کا مضمون علامہ اقبال کی فکر سے خوشہ چینی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اسلامی افکار و اقدار کی پیش کش دانستہ انداز میں کی ہے۔ یعنی فلسفہ طرازی سے کام نہیں لیا ہے۔ شاید اس لیے کچھ نقادوں نے ان کی شاعری میں بیانیہ انداز کے ہونے کا ذکر کیا ہے۔ لیکن بات پھر وہیں آتی ہے کہ بامقصد اور پیغام والی شاعری میں کس قدر فلسفہ طرازی یا ابہام کی کارفرمائی ہونی چاہیے۔ محمد علی کی شاعری میں یہی وہ نکتہ ہے جو انھیں دوسروں سے منفرد کرتاہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] فکر و عمل […]
[…] فکر و عمل […]