Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکر و عمل

نوآبادیاتی تعلیمی وفکری حصار، آزاد دانش کی مزاحمت اور جامعہ ملیہ اسلامیہ- تفسیر حسین

by adbimiras اکتوبر 29, 2020
by adbimiras اکتوبر 29, 2020 0 comment

یہ بات بہت واضح اور معروف ہے کہ  جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نمودکسی برطانوی تعلیمی ادارے کے طور پر نہیں ہوئی۔ اس کے قیام کے معین مقاصد واہداف اور اساسی فکر کئی ایسی بنیادوں تک ہماری رہنمائی کرتی ہے جن سے یہ معلوم ہوتاہے کہ جامعہ کی نمود بیک وقت کئی طرح کے نوآبادیاتی حصاروں کے خلاف ایک نوع کا قومی وملکی خروج تھا۔  ہم میں سےہر باشعور و باخبر آدمی کویہ بات معلوم ہے کہ جامعہ کی نمود تک نوآبادیاتی نظام کے تفریقی اہتمامات کو ایک صدی سے زائد عرصہ گزر چکا تھا۔ یہ تفریقی اہتمامات ملک کی تاریخ نویسی ، تعلیم، سیاست، روزگار اور زبان کے مختلف خانوں میں  روبہ عمل لائے گئے تھے۔ جس زمانے میں جامعہ کا قیام عمل میں آیا ، اکثریتی جبر کا خوف، ہندو احیا پسندی کی دہشت، تہذیبی تفریق کے وحدانی بیانیوں کی کشمکش جیسے کئی مسائل ملکی سرزمین میں جڑپکڑ چکے تھے۔ تعلیم کےمقاصد واہداف میں حکومت کو نوکر اور ملکی عوام کو روزگارکی فراہمی  شامل تھی۔ ملک کے قومی سیاق میں مشترک کلچر، مختلف النوع اقوام اور طبقات کی ہم آہنگ ، بقائے باہم کی نمائندہ تہذیب  اور سماج کی جو بنیادیں ملک میں موجود تھیں ، ان بنیادوں کوکمزور کرنے والے رویےاور رجحان فروغ پا رہے تھے۔ حکومت دیسی اداروں کو تعاون دیتی تھی ،اس لیے وہ اس کے احسان سے گراں بار تھے۔ دانش کی نگرانی اوردانشورانہ اجارہ داری کی  پیش بندی بھی ان کے مقاصد میں تھی اور بہت ہی کارگر حدتک  وہ روبہ عمل بھی تھی ، اس لیے بھی اس کے متوازی ایک تعلیمی نظام کا ظہور ضروری تھا۔ ایک ایسا تعلیمی نظام جو طبقاتی ومذہبی تشخصات کو لاحق خطرات، کا جواب ہوتے ہوئے ، دیگر نوآبادیاتی اجارہ داریوں کا علم ودانش کی سطح پر ایک معقول جواب بھی ہو۔ جب ہم جامعہ کی تاسیسی سرگرمیوں کی روداد سے روبرو ہوتے ہیں تو یہ پوری صورت حال ہمارے سامنے ہوتی ہے۔

اگر ہم یہ کہیں کہ جامعہ کی نمود محض ایک  تعلیمی ادارے کی صورت ہوئی تو یہ یقینا  قرین انصاف بات نہ ہوگی ۔ جامعہ اپنے آپ میں ایک تہذیبی وسیاسی بیانیہ بھی ہے جو اس بات کا جواب ہے کہ بقائےباہم  کی بشرپرست سرشت کے پیش نظر تہذیب کے تفریقی بیانیے بے بنیاد ، نامعقول اور ناقابل عمل ہیں کہ انسانی تنوعات کو قبول کرنے کے بجائے ایک رنگی پر اصرار کرتے ہیں۔ اس ایک رنگی کوحاصل کرلینے بعد بھی انسانی طبائع کا تنوع بہر صورت نیرنگیوں کا طالب ہوگا اور ایسی صورت میں تفریقات پھانک کی پھانک ہوتی چلی جائیں گیں۔ دوسرا کاؤنٹر نریٹوCounter Narrative  جسے جامعہ کے قیام نے قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی وہ یہ  کہ اکثریت واقلیت کی اجارہ دارانہ وتحکمانہ روش ومزاج سے کنارہ کش ہوکر مشترک بنیادوں پر ایک مضبوط اور پائیدار ملک وتہذیب کی تشکیل ہی سب سے بڑی انسانی ضرورت اور تقاضا ہے۔ تفریقی بیانیے ایسے مصنوعی اور نفرت پسند بیانیے ہیں جو مثبت رویوں او ر قدروں کی نشوونما کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ گو ہم وحدانی بیانیوں کے روبرو اس تکثیری بیانیےکے مؤید ہوجاتے ہیں جس کاتعلق اس تصور تہذیب ونظام سے ہے جو مشترک اقدار اور متنوع طبقات کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے اور اس میں سارے تنوعات کسی جدلیاتی نزاع شکار نہ ہوکر ایک دوسرے کے احترام پر خود کو آمادہ پاتے ہیں۔

جامعہ کی تاسیس کا سب سے اہم پہلو اس متوازی ارتقا پسند تعلیمی نظام کی تشکیل وتعمیر ہے جس نے نوآبادیاتی نگرانی اور تسلط سے دست کش ہوکر ایک آزاد ، انسان دوست اور غریب پرور نظام تعلیم اور منہج تدریس کی بنیاد ڈالی اور اسے قومی افراد کے جوش وجذبہ سے سرگرم اور جاری رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ جن اساطین وقت نے اس سرگرمی میں حصہ لیا ، ان کے ساتھ ساتھ  من موہنے ، لبھاؤنےبابائے قوم، گاندھی جی کی سرگرمی اورمحنت بھی اس تحریک کاایک اہم پہلو ہے ۔

یہاں ایک اہم سوال جو پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ ان سارے اہداف کے لئے تعلیمی مرکز کا قیام  ہی کیوں ضروری تھا۔ اس مقصد کے لیے دوسرے ذرائع کا استعمال بھی ممکن تھا۔ اس سوال کا جواب پانے کے لیے ہمیں نوآبادیاتی نظام کی نگرانی میں قائم تعلیمی اداروں کی طرف رجوع ہونا ہوگا۔ میں یہاں دو مقامات کا ذکر ضروری خیال کروں گا۔ ایک تو علی گڑھ جہاں سرسید کی سرگرمیوں کے طفیل ایک بڑی دانشگاہ (کالج )قائم تھی ۔ اس دانشگاہ کی تشکیل کے بعد ہی وہ لسانی قضیے اٹھے تھے جہاں سرسیدنے گروہی کشمکش اور لسانی عصبیتوں کے مناقشے میں اجارے اور تحکم کی منھ زورخواہشوں کو دیکھ کر ہندومسلم یکجائی کے محال ہونے کی رائے ظاہر کی تھی اور اس کاسبب پڑھے لکھوں کے عناد کو بتا یا تھا۔ مجھےیہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اس زمانےکے بیشتر مصلحین اور دیسی بہی خواہان ملک وقوم (بلاتفریق مذہب وملت )سیاسی واقتداری ماضی وحال کی وجہ سے مخاصمانہ سائیکی کے حامل ہوگئے تھے۔ قبول ورضامندی کی بجائے تسلط حاصل کرنے اور منوانے کے جذبے ایک بڑی ترغیب کی صورت ان سب کے سینوں میں موجزن تھے۔ دوسرامقام بنارس کا ہے جہاں مدن موہن مالویہ کی مساعی نے بڑے تعلیمی ادارے کی صورت ظہور پایا تھا۔ بعد میں علی گڑھ نے مسلم لیگی نظریات کو خوراک فراہم کرنے کا کام کیا اور بنارس نے ہندو مہاسبھا کے دماغوں کو سیراب کیا اور اسے فکری غذا فراہم کی ۔ ان دو سیاسی تحریکوں نے برصغیر کی لیاقت اور اس کے مستقبل کے امکانات کو ہلاک کرنے میں جو کامیاب کردار ادا کیا ، اس کے ذکر کا یہ محل نہیں ۔ بس یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ جامعہ علم ودانش کی سطح پر جن دو نوآبادیاتی رویوں کے خلاف ایک مزاحمتی فکر ونظریہ کی صورت میں سامنے آیا۔ اسے ہم غلام اور آقا کی نوآبادیت کہہ سکتے ہیں ، اس سے ہمارے غیض وغضب کی ایک گونہ تسکین بھی ہوتی ہے۔ ورنہ دیسی وبدیسی نوآبادیت کہنا ٹھیک ہے۔ ہندو مہاسبھا اور مسلم لیگ کو بے جھجک نوآبادیتی آلے کہنے اور مشترکہ اقدار سےبرگشتہ ہوکر برصغیر کی نافعیت وزرخیزی اورمستقبل کے امکانات کو نامراد کرنے میں ان کے پراثر کردار کا اعادہ کرنے میں بھی مجھے کوئی تردد نہیں ہے۔ اس کے ساتھ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ابھی ہمارا سانس اسی نوآبادیاتی سوچ رکھنے والوں کے اقتدار میں ہی قائم ہے۔ برصغیر کا جمہور انھیں سفلی ترغیبات وترہیبات میں آج بھی جینے میں لذت محسوس کرتا ہے جو اسے نوآبادیاتی دانش نے بخشی تھیں ۔ مسئلہ طاقت کے توازن کاہے جب تک توازن قائم رہتا ہے حسیات، شعور اور رویے ایک معتدل راستے پر گامزن رہتے ہیں جہاں یہ توازن مفقود ہوتا ہے من مانیوں کا ایک لمبا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ من مانیوں کے اس لمبے سلسلے پر بند باندھنے کی تمام تدبیریں اب تک ناکارہ رہی  ہیں۔ آج کل ہم پر تنوع پسندی کے بجائے ایک رنگ پرستی حکمراں ہےجس نے اپنا نیا بگل بجا دیا ہے ، جس میں اکثریتی جبر کی دھمک صاف صاف سنی گئی ہے اور وہ روبہ عمل تو بہت پہلے سے ہے کہ جمہوریت کی لونڈی اکثریتی رائے شمار ی کی محتاج ہے اسے اپنا بر اس کے بغیر کہاں ملتا ہے ۔ ؟

خیر میں اس سیاسی سیاق  کی بات کررہاتھا جسے جامعہ نے قائم کیا اور جامعہ نےجس کی نمائندگی کی۔ میراخیال  ہے کہ جامعہ کی اہمیت کو ہم اس سیاق کو مدنظر رکھے بغیر درست طور پر سمجھ  نہیں سکتے۔ جامعہ کے قیام کی منزل آنے تک ہندستانی علوم واذہان پر بیرونی پکڑ اتنی مضبوط ہوچکی تھیں کہ ماضی کی طرف مراجعت اور بنیاد پرستی کے انتہاپسندانہ رجحانات نے ہندی اقوام کے درمیان موجود اشتراک کی بنیادیں متزلزل کردی تھیں ۔برطانوی استعماریت کے خلاف متحدہ محاذ کی تشکیل اور اندرونی طاقتوں کے اتحاد کو روبہ عمل لانے کی کوشش کے طور پر بھی جامعہ کودیکھا جاسکتا ہے۔ جامعہ نے اپنے مزاج میں ایک ایسی وسیع المشربی اور انسان دوستی کے رویے کو ہمیشہ بحال وفعال رکھا، جس سے ایک مضبوط ملک وقوم کی تعمیر ممکن ہے۔ عابدحسین مرحوم ۱۹۲۶ کے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

’’ہمیں یورپ سے اسی وقت کچھ سیکھنا چاہیےاوراسی وقت ہم کچھ سیکھ بھی سکتے ہیں جب ہم اپنے روایات اورتمدن کے سائے میں اپنے قوائے دماغی کی تربیت کر چکے ہوں۔ ( یہ بھی پڑھیں جوہر کی غزلوں میں دینی جمالیات کا پرتو – پروفیسر کوثر مظہری )

اسی طرح ہندی مسلمانوں کو اپنے برادران وطن سے، جن کا تمدن دنیا کے قدیم ترین اور بہترین تمدنوں میں سے ہے،بہت کچھ اخذ کرنا چاہیے۔ہندؤوں کی تاریخ اور ان کے تمدن سے واقفیت حاصل کرنا ہم پر اس لئے لازم ہے کہ ہماری اور ان کی قسمت صدیوں سے ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور ہمیشہ رہے گی،ہمیں ان کے دوش بدوش زندگی کے مراحل طے کرنا ہیں اور ان کے ساتھ مل کر ہندوستان کی قومیت کی بنیاد ڈالنا ہے۔مختصر یہ کہ عقائد دینی کو چھوڑ کر ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں ہندؤوں کے ساتھ اپنی ترقی اور بہبود کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ایک زمین پر اور ایک آب و ہوا میں رہ کر اقتصاد و معیشت ،حکومت وسیاست کےمعاملے میں دونوں مذہبوں کے پیرو ایک دوسرے سے مختلف راستے پر نہیں چل سکتے۔‘‘ (مسلمانوں کی تعلیم اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، تحریک، تاریخ روایت ۔مرتبین، شمیم حنفی ، شہاب الدین انصاری، شمس الحق عثمانی ، ناشرذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز ۲۰۰۳،ص،۱۰۰)

عابد حسین کے خیالات تہذیبی وسیع المشربی اور امداد باہمی کی بنیادیں استوار کرنے کے ساتھ ساتھ ، اس نفرت پسند تفریقی بیانیے کا استرداد بھی کرتے نظر آتے ہیں ، جس نے مشترکہ اقدار کی اساس کو شدید نقصان پہنچایا۔ بیرونی علوم اور تہذیبوں سے تعامل اور لین دین کو کارآمد بنانے اور پراعتماد قوم کی تشکیل کو عمل میں لانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے پاس ،بیرونی تصورات کو مقامی رنگ دینے کے وافر وسائل موجو د ہوں ۔ ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو۔ دانش ، تہذیب ، فنون اور شعریات کی مختلف سطحوں پر وہ اپنی بنیادیں رکھتی ہو اور بیرون سے اخذ کی گئی دنیائے علم کو بطور آلے کے آزادانہ استعمال میں لانے کا سلیقہ رکھتی ہو۔ ہم اپنی روایتوں اور تمدن کے زیر سایہ قوائے دماغی کی تربیت کی تلقین کو اس سیاق میں دیکھ سکتے ہیں۔

پروفیسرمحمدمجیب کہتے ہیں:

’’ایسا ادارہ کیسی شخصیت کے افراد پیدا کرے گا ، اس کا تصور بھی اس کا اپنا ہوگا، ہم نے متفقہ طور پر تسلیم کیاتھا کہ ہمارا طالب علم ، مسلمان ہو یا غیر مسلم اسے اپنے مذہب اوراقدار،اوراپنی اخلاقی وثقافتی روایات کا مجموعہ ہوناچاہیے۔ اسے اپنی شائستگی، متانت اور غور وفکر کی صلاحیت اوراہلیت کے اعتبار سے مفید شہری ہونا چاہیے۔ یعنی وہ ایسی شخصیت کا نمونہ ہو جس میں انیسویں اوربیسویں صدی کی ہندو مسلم تہذیب کی خوبیاں موجود ہوں۔یہی اس علاقے کی مشترک تہذیب تھی ۔ اس تہذیب کو ان لوگوں نے مسترد کیا جو اس کو مشترکہ تہذیب نہیں مانتےاوران لوگوں نے بھی جو یہ سمجھتے ہیں کہ جدید مغربی تہذیب، اس تہذیب سے بہتر ہے۔ اسے مسترد کردینے کی وجہ سے نمونے کی مہذب شخصیت کے تصورات میں انتشار پیدا ہوگیا ہےجس سے خود تہذیب وثقافت کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم نے اس تہذیب سے منھ نہیں موڑا ہے اورمہذب شخصیت کے بارے میں ہم اپنے تصورات پر قائم ہیں۔ ہم ان پر قائم رہیں گے ،کیوں کہ ہمیں یقین ہے کہ اس طرح مستقبل کے مشترک تہذیب وثقافت کے نمونے پیدا ہونے میں مدد ملے گی ۔‘‘ (ایضا، ص،۱۹۴،۱۹۵)

بیرونی تہذیب ، علوم اور نظریات کو ہوبہو اختیار کرنے کےنقصانات، ان کے فائدوں سے زیادہ مہلک ہیں کہ اس سے ایک نوع کی سپردگی کا رویہ پیدا ہوتا ہے جو ایک گونہ غلامی سے مماثلت رکھتاہے۔ اس عیب کو دورکرنے کےلئے ایک ترکیب یہ استعمال کی جاتی ہے کہ ہم بیرونی تہذیب ، علوم اور نظریات کو قومی دسترس میں اس صورت میں لاتے ہیں کہ اپنی ضرورت، اجتماعی مزاج ومذاق کے مطابق اسے مقامیاتے یا قومیا لیتے ہیں۔ اس عمل میں بھی پیچ اس وقت پڑتا ہے جب سماج متنوع قسم کا ہو۔ ایسی صورت حال میں بااختیار اکثریتی طبقہ بسا اوقات  قومیانے کے عمل میں ماضیانے اور ہوبہو اپنی قدیم اصل جڑوں(جو ایک واہمہ ہیں) تک جانے پر مصر ہوتا ہے۔ وہ تاریخ  کی تمام لکیریں لاندھنے اور پوری  تہذیب کواپنے من چاہے طریقے پر بالکل خالص بنانے کی ضد باندھ لیتا ہے۔ ہم نے اس بے جاضد کا تجربہ کیا ہے کہ صرف تہذیب کے مظاہر ہی نہیں زبان کی صدیوں کو محیط تقلیبات سے منھ موڑ لیا ہے۔ یہ صورت حال آج بھی قائم ہے۔ جامعہ نےجس دانش کو فروغ دیا ، وہ اس نوع کے تمام نقائص سے محٖفوظ، بالغ نظر اور کشادہ دانش تھی۔ اس نے ذہن میں اس نوع کے جالوں کو باقی رکھنے کی گنجائش نہ چھوڑی۔ اس پہلو سے بھی اس تعلیمی تحریک کو کئی تحریکات اور اداروں پر فوقیت حاصل ہے۔

جامعہ نے تعلیم کا ایک خود مکتفی ، ترقی یافتہ اور کفایتی نظام بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ دسمبر ۱۹۳۸ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ڈاکٹر ذاکر حسین مرحوم نے جامعہ کے قیام کی غرض وغایت کے سلسلے میں لکھا ہے کہ :

’’جامعہ کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کی آئندہ زندگی کا ایسانقشہ تیار کرے جس کا مرکز اسلام ہو اور اس میں ہندستان کی قومی تہذیب کا وہ رنگ بھرے جو عام انسانی تہذیب کے رنگ میں کھپ جائے۔ اس کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ مذہب کی سچی تعلیم، ہندستانی مسلمانوں کو وطن کی محبت اورقومی اتحادکا سبق دے گی ۔اورہندستان کی آزادی اور ترقی میں حصہ لینے پر آمادہ کرے گی۔ اورآزاد ہندستان اورملکوں کے ساتھ مل کر دنیا کی زندگی میں شرکت اورامن وتہذیب کی مفید خدمت کرے گا۔ (جامعہ کیا ہے؟ جامعہ ملیہ اسلامیہ، تحریک، تاریخ روایت ۔مرتبین، شمیم حنفی ، شہاب الدین انصاری، شمس الحق عثمانی ، ناشرذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز ۲۰۰۳)

غریب ہندستانیوں کو کم خرچ میں اچھی تعلیم دینے کا سوال ہمارے ملک کے تعلیمی مسئلے کانچوڑ ہے۔ مگر افسوس ہے کہ نہ ہمارامحکمۂ تعلیم اس کی طرف توجہ کرتا ہےاور نہ وہ لال بجھکڑ جو ہماری تعلیم کی پہیلی کو بوجھنے کے لیے باہر سے لائے جاتے ہیں۔ جامعہ ملیہ نے اس مسئلے کو اپنے طور پر حل کرنے کی کوشش کی ہےاوراس میں بڑی حدتک کامیاب ہوئی ہے۔ (ص،۳۵)

جامعہ میں اول سے آخر تک تعلیم کا ذریعہ سوائے انگریزی کے اورسب مضامین میں اردوزبان ہے ۔غیر زبان میں تعلیم دیناطلبہ کے ساتھ اتنابڑا ظلم ہے کہ اس سے ان کی دماغی قوتوں اوران کے وقت کا خون ہوتا ہےکہ کم سے کم دیسی زبانوں کو ذریعۂ تعلیم بنانے میں  حامیان تعلیم اورمحبان وطن کو جامعہ کاساتھ دینا چاہئے۔(ایضا،)

اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ دانشگاہ نے مرکزی دانشگاہ کی سعادت حاصل کر لینے کے بعد اپنی خود مکتفی حیثیت سے محروم ہونے کے ساتھ  اپنے مخصوص نظام تعلیم اور شعبہ ہائے علوم میں تدریس کی نظری وعملی صورتوں میں توازن کے سابقہ اشکال سے بھی سمجھوتہ کیا ہے۔ ہم آزاد ملک وقوم کی حیثیت سے ایک سرمایہ دارانہ نظام کی پرورش پر مجبور ہیں۔ ان حالیہ سالوں میں قوت مقتدرہ نے مختلف حکومتی محکمہ جات کو شخصیانے کا جو عمل جاری رکھا ، اس نے سستی تعلیم کے امکانات کوازحدمحدود کردیا ہے۔ چند مسابقتی امتحانات اور اعلیٰ تعلیم میں عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر مختلف مخصوص طبقات کو حکومتی وظائف کی سہولت سے بھر پائی کاعمل تو پورا ہوتا ہے لیکن علم کی پیاس رکھنے والے، وسائل سے محروم دورافتادہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ کے تقاضوں اورمسائل کو حل کرنے کی سبیلیں بہت  محدود ہوگئی ہیں۔

جامعہ نے آج ایک لمبی مدت مکمل کر لی ہے یعنی صدی کی مدت ۔ اس لمحے اس کی تاریخ  اور حصولیابیاں ضرور بحث میں آئیں گی۔ جن مقاصد ومسائل کو لے کر جامعہ  نےاپنے سفر آغاز کیا ، وہ مسائل مختلف صورتوں میں آج بھی موجود ہیں۔ جامعہ اس نوآبادیاتی سانچے  میں ڈھلے فرقہ پرست متعصب ذہن کے نشانے پر موقع بہ موقع آتی رہتی ہے۔ واقعہ یہ ہےکہ فرقہ واریت، تعصب، انسان دشمنی اور تنگ نظری وتنگ دلی سے مزاحمت کرنے ہوئے جامعہ نے ملکی تاریخ اور قومی تشکیل میں جو کردار ادا کیا ہے ، اس کےلیے پورے ملک وقوم کو جامعہ کا شکرگزار اور احسان مند ہو نا چاہیے۔ جامعہ  بقائے باہم ، امداد باہمی، آزاد دانش، روایت وجدت ،مقامیت وعالمیت کے نفع بخش امتزاج کا نام ہے اور اس نام کی آزمائش ہوتے رہنا ہی اس کے وجودوقیام کوواقعی یاد کرنا ہے۔

 

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

ادبی میراثجامعہ صدیجامعہ ملیہ اسلامیہ
0 comment
3
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
جوہر کی غزلوں میں دینی جمالیات کا پرتو – پروفیسر کوثر مظہری
اگلی پوسٹ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ : اردو مصنفین کی نظر میں- پروفیسر شہزاد انجم

یہ بھی پڑھیں

حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –...

جنوری 20, 2025

کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

اکتوبر 8, 2024

حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی...

اکتوبر 7, 2024

نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام...

جولائی 23, 2024

مفتی عزیز الرحمن شاہدؔ چمپارنیؒ (یادوں کے چراغ)...

مئی 30, 2024

توقیتِ  علامہ محمد اقبال – پروفیسر محسن خالد...

مئی 29, 2024

تو نے اے خیر البشرؐ انساں کو انساں...

ستمبر 26, 2023

اور سایہ دار درخت کٹ گیا – منہاج الدین...

فروری 22, 2022

ابّو جان (شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس بارہ...

فروری 22, 2022

 مولانا عتیق الرحمن سنبھلی – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

فروری 15, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں