تاریخ نگاری ایک مشکل ،دقت طلب ، غیر جانب دارانہ اور ایماندارانہ عمل ہے۔ تاریخ نگار کا کام تمام حقائق و شواہد کو پیش کرنا ہوتا ہے ۔ اس عمل میں اُس کی ذاتی پسند و ناپسند اور کسی بھی طرح کی عصبیت کا دخل نہیں ۔ تاریخ نگاری باقاعدہ ایک فن ہے جس کے لیے سخت تربیت اور ریاضت کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب کوئی تاریخ داں سہل پسند ہو جاتا ہے ، تساہلی اور عصبیت سے کام لینے لگتا ہے ، گپیں ہانکنے لگتا ہے تو ایسی صورت میں وہ تاریخ نگاری کا حق ادا نہیں کر سکتا ۔ اردو میں تاریخ نگاری کی بھی روایت رہی ہے لیکن اردو کے ادیبوں نے سوانح نگاری کی طرف خصوصی توجہ دی ہے جس میں سوانح نگار ایک خاص عینک سے اپنے ممدوح کو دیکھتا ہے ۔ حالی کی دو کتابیں حیات جاوید اور یادگار غالب اس کی بین مثالیں ہیں، البتہ شبلی نے الفاروق ،المامون ،الغزالی لکھ کر تاریخ نگاری کی عمدہ مثال قائم کی ہے ۔ سر سید نے تاریخ فیروز شاہی کی تدوین کا بیڑا اٹھایا ۔ پروفیسر سید عزیز الدین حسین نے بھی تاریخ فیروز شاہی کے مختلف نسخوں کو سامنے رکھ کر اس کی تدوین نو کی ہے۔ اردو میں سیرت و سوانح پر سیکڑوں کتابیں تصنیف کی گئیں ۔ اردو میں روزنامچہ نگاری ، سفر نامہ نگاری ، خود نوشت سوانح نگاری کی بھی مستحکم روایت رہی ہے۔ اسی طرح اداروں کی بھی تاریخیں لکھی گئی ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلق سے متعدد رسائل کے نمبر ، گوشے اور مستقل کتابیں شائع ہو چکی ہیں ،جن کے مطالعے سے ہم اس عہد ، اس کے کردار و عمل ،اس سے وابستہ شخصیات ، محسنین و اکابرین ، اساتذہ و طلبا اور اس ادارے کے ارتقائی سفر سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ۔ علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے وہاں کے اساتذہ اور طلبا کا ایک جذباتی لگائو رہا ہے ۔ ایسا ہو نا بھی چاہیے ۔ اس محبت و عقیدت کی وجہ سے علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کی ترقی و شہرت کو ایک خاص رفتار حاصل ہوئی ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اُسی علی گڑھ کے روشن خیال ، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ، نیک سیرت و طبیعت اساتذہ و طلبا کی دین ہے ۔ بلا شبہ ہندوستان کی علمی ،ادبی و تہذیبی تاریخ کا ایک روشن باب جامعہ ملیہ اسلامیہ ہے۔ بیسویں صدی میں ہندوستان کی علمی تاریخ کا جب بھی ذکر ہوگا ،اس دانش گاہ کی خدمات کو نمایاں طور پر رقم کیاجائے گا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام اس کے بانیان و اکابرین نے جن مقاصد کے تحت کیا تھا ، ان میں نوجوانوں کو حب الوطنی کے جذبے سے سرشار کرنا ، ملک و قوم کے تمام بچوں بالخصوص مسلمانوں کی تعلیم اور اردو زبان و ادب کے فروغ کا مشن بھی شامل تھا ۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام ،۲۹؍اکتوبر ۱۹۲۰ میں معروف مجاہد آزادی اور عالم دین مولانا محمود حسن ؒکے ہاتھوں علی گڑھ میں عمل میں آیا تھا ۔ حکیم اجمل خاں اس ادارے کے پہلے امیر جامعہ اور محمد علی جوہر پہلے شیخ الجامعہ بنائے گئے ۔ شیخ الجامعہ کا عہدہ سنبھالنے کے لیے، پہلے سر علامہ محمد اقبال کو دعوت دی گئی تھی مگر انھوں نے اپنی علالت اور انتظامی امور پر عدم قدرت کی وجہ سے معذرت کی تھی ۔ یہ ادارہ ۱۹۲۵ء میں علی گڑھ سے دہلی کے قرول باغ میں منتقل کیا گیا ۔ یکم مارچ ۱۹۳۵ء کو اوکھلا میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسکول کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور جامعہ کو قرول باغ سے اوکھلا منتقل کر دیا گیا۔۱۹۶۲ء میں اسے ڈیمڈ یونیورسٹی اور ۱۹۸۸ء میں اسے سینٹرل یونیورسٹی کا درجہ عطا کیا گیا۔اس کے بانیان میں محمد علی جوہر ، حکیم اجمل خاں، مہاتما گاندھی اور عبد المجید خواجہ شیدا تھے جبکہ جامعہ کے معماران میں ڈاکٹر ذاکر حسین ، پروفیسر محمد مجیب ، ڈاکٹر سید عابد حسین ، جناب شفیق الرحمن قدوائی کے نام خصوصی طور پر شامل ہیں۔ ان بزرگوں اور اکابرین کے متعلق متعدد مضامین اور کتابیں بھی موجود ہیں جن میں اُن کی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جامعہ کی تاریخ کے سلسلے میں جو چار کتابیں مجھے دستیاب ہوئیں میں اپنی گفتگو اسی دائرے میں محیط رکھوں گا ۔
پہلی اور سب سے اہم کتاب جامعہ اسکول کے استاد ، عبدالغفار مدہولی کی تصنیف ’’جامعہ کی کہانی‘‘ ہے ، جس کا دیباچہ انھوں نے ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۶۴ء اور پیش لفظ پروفیسر محمد مجیب نے ۲۹؍دسمبر ،۱۹۶۴ء میں تحریر کیا تھا۔ اس کتاب کی پہلی اشاعت جنوری ۱۹۶۵ء میں مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی سے ہوئی تھی ۔ اس کتاب میں جامعہ کے قیام سے ہندوستان کو آزادی ملنے تک یعنی ۱۹۲۰ سے ۱۹۴۷ تک، ۲۷ سال کی کہانی درج ہے جو یقینا تاریخ جامعہ کا ایک اہم حصہ ہے ۔
دوسری کتاب ’’ہندوستانی مسلمانوں کی قومی تعلیمی تحریک اور جامعہ ملیہ اسلامیہ ‘‘ ہے جس کے مصنف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاد شمس الرحمن محسنی ہیں۔ اس کتاب کی پہلی اشاعت دسمبر ۱۹۸۶ء میں مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ دہلی سے ہوئی ۔ ( یہ بھی پڑھیں ڈرامائی ادب کی ترویج میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کردار- ڈاکٹر جاوید حسن)
تیسری کتاب غلام حیدر صاحب کی تصنیف ’’نقوش جامعہ ‘‘ ہے جو مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ دہلی کے زیر اہتمام ۲۰۰۴ء میں شایع ہوئی ۔ اس کتاب کی طباعت کے سلسلے میں جناب جتیندر کمار آنند، سابق طالب علم جامعہ ملیہ اسلامیہ ،(کناڈا) نے پچاس ہزار روپے کا تعاون عطا کیا تھا ۔ اس کتاب کا مقدمہ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے تحریر کیا تھا اور یہ کتاب جناب سید شاہد مہدی،سابق شیخ الجامعہ کی خصوصی دلچسپی سے تیار اور اشاعت پذیر ہوئی تھی ۔
جامعہ کی تاریخ سے متعلق پروفیسر صغرا مہدی کی تصنیف ’’ ہماری جامعہ : تعلیمی ، تہذیبی اور سماجی ساگا ‘‘ ہے۔ یہ کتاب ستمبر ۲۰۱۳ء میں مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ سے شائع ہوئی ہے۔
بلا شبہ یہ چاروں کتابیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ ، تہذیب ، وراثت ، خدمات ، اکابرین کا بھر پور احاطہ کرتی ہیں ۔ان کتابوں میں جامعہ کی تاریخ کے تعلق سے بنیادی مواد موجود ہے۔ میرے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ کتابیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مستقل تاریخ ہیں ؟ یا پھر ان مصنفین کے ذہنوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے متعلق جو کچھ تھا انھوں نے اپنے محسوسات کو نہایت سلیقے سے اس کتاب میں پیش کیا ہے ۔ ان چاروں کتابوں کی نوعیت مختلف ہے۔ عبدالغفار مدہولی صاحب کی کتاب ایک خوبصورت روزنامچہ ، روداد ، ڈائری ہے تو شمس الرحمن محسنی کی کتاب ایک ایسے زرخیز ذہن کے پیداوار ہیں جو جامعہ کے شب و روز میں غرق ہے اور اسے قومی تعلیمی تحریک کا حصہ قرار دیتا ہے۔یہ کتاب زیادہ مبسوط اور مدلل ہے جبکہ غلام حیدر صاحب نے اپنی یادداشت سے بھر پور کام لیا ہے۔ پرانے جامعی دوستوں سے انٹر ویوز لیے ، ایک خاص عہد کی جامعہ ، اس عہد کے ماحول ، اساتذہ ، تربیت کا سلیقہ ، رہن سہن وغیرہ کو موثر انداز میں پیش کیا ہے ساتھ ہی جامعہ کے بانیان اورحیاتی ممبران کی خدمات کا احاطہ عمدگی کے ساتھ کیا ہے۔ صغرا مہدی صاحبہ کی کتاب ایک ادیب کی ڈائری اور اس کے محسوسات کا وہ عکس ہے جس کے ہر گوشے میں جامعہ اور وہاں کے افراد بسے ہیں ۔ صغرا صاحبہ نے بھی ایک زاویے سے جامعہ کا خوبصورت اورموثر نقشہ پیش کیا ہے ۔ بلا شبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ نگاری کے تعلق سے ان کتابوں کی بڑی اہمیت ہے بلکہ ان کتابوں کی مدد کے بغیر جامعہ کی تاریخ لکھی ہی نہیں جا سکتی ۔ میں تو یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اب تک جامعہ کے تعلق سے جو بھی کتابیں لکھی گئیں ، خواہ وہ کسی بھی زبان میں ہو ، ان تمام کتابوں کے مصنفین نے عبد الغفار مدہولی کی کتاب ’’جامعہ کی کہانی‘‘ سے استفادہ کیا ہوگا ۔ بغیر اس کتاب کے مطالعے کے جامعہ کی تاریخ مرتب ہی نہیں کی جاسکتی۔
عبد الغفار مدہولی وطن پرست اور آزادی کے جذبے سے سرشار افراد کی خواہشوں کی تکمیل اور خوابوں کی تعبیر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام اور اس کے مسائل سے اچھی طرح واقف تھے۔ ۱۹۲۰سے۱۹۴۷تک جامعہ ملیہ اسلامیہ آزمائش کے دور سے گزری۔ مالی وسائل کی کمی، فرقہ وارانہ فساد، تقسیم ہند، یہ سارے مناظر عبد الغفار مدہولی کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ ان کی شخصیت جامعہ میں محلول ہو چکی تھی۔ وہ جامعہ کے وجود کا ایک حصہ تھے۔ وہ ایک ایسے خادم تھے جو اچھی طرح محسوس کرتے تھے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ قومی یک جہتی کی اعلیٰ مثال اور تعلیمی تجربوں کا ایک میدان تھی۔ انھوں نے ایک کتاب ’’ایک معلم کی زندگی‘‘ بھی لکھی جو بچوں کو خطاب کرکے لکھی گئی تھی ۔ اس کتاب کی مدد سے وہ ’جامعہ کی کہانی‘ لکھ سکے۔ انھوں نے اس کے لیے ستائیس ابواب طے کیے اور ۱۹۲۰سے۱۹۴۷تک، جامعہ کے قیام سے ہندوستان کی آزادی تک کے واقعات آسان زبان میں رقم کیے۔ اس میں ان کا اپنا ذاتی غم، ان کے اپنے احساسات و تجربات شامل ہیں۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر سال یونیورسٹی میں جو ترقیاتی کام ہوئے ، کمیٹیاں بنیں، تجاویز پاس ہوئیں، فیصلے ہوئے، پروگرام ہوئے، جلسے منعقد ہوئے ان کا ذکر جستہ جستہ اس کتاب میں ملتا ہے۔
شمس الرحمن محسنی نے ۱۹۴۶ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایک تاریخ لکھی تھی جسے رجسٹرار آفس کی جانب سے ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ اور دستور العمل‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آزاد ہندوستان کے معماروں کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیان اور بزرگان کے قریبی تعلقات رہے تھے۔ یہ سب کچھ شمس الرحمن محسنی کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ محسنی صاحب ۱۹۸۲ میں جامعہ کی خدمات سے سبک دوش ہوئے اور دوسری مصروفیات میں الجھ گئے مگر جامعہ کی یادیں ان کے سینے میں رچی بسی رہیں۔ محسنی صاحب کے جانے کے بعد جامعہ میں کافی تبدیلیاں بھی ہوئیں۔ انھوں نے جامعہ کو بے حد قریب سے دیکھا تھا اور پروفیسر محمد مجیب سے ان کی خاص قربت تھی، جن کی تحریک پر انھوں نے اس کام کو مکمل کرنے کا ارادہ کیا۔ محسنی صاحب نے ’’جامعہ علی گڑھ میں’’، ’’جامعہ ملیہ دہلی میں‘‘،’’جامعہ ملیہ آزادی کے بعد ‘‘ وغیرہ عنوانات کے تحت بڑے مبسوط ، مدلل اور تاریخی حوالوں کے ساتھ اس کتاب کو تیار کیاہے۔ کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کتاب کی تیاری میں شمس الرحمن محسنی صاحب نے کافی تحقیق کی ہے اور دل جمعی سے کام لیا ہے۔ بڑے کام کرنے کے لیے یقیناً دل سوزی اور جگر کاوی کی ضرورت ہوتی ہے۔
’’نقوش جامعہ‘‘ غلام حیدر صاحب کی، جامعہ کی تاریخ و تہذیب کے حوالے سے اہم کتاب ہے۔ غلام حیدر صاحب اس وقت غالباً سب سے پرانے جامعی ہیں۔ ان کے علاوہ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور جیتندر کمار آنند کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں۔ غلام حیدر صاحب جامعہ کے طالب علم رہے اور انھوں نے ذاکر صاحب ، عابد صاحب، مجیب صاحب کو بے حد قریب سے دیکھا ۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تہذیب میں ایسے رچے بسے شخص ہیںجن کے حافظے میں پوری جامعہ کی چلتی پھرتی تصویر محفوظ ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے جامعہ کے قیام، موجودہ جامعہ، اس کے عبوری دور، آزمائش کے دن، جامعہ کے قدیم شعبے، جامعہ کے بزرگان، حیاتی اراکین اور جامعہ سے وابستہ دیگر حضرات کے بارے میں ایک خاص پروجیکٹ کے تحت مفصل لکھا ہے۔ اُس وقت کے وائس چانسلر جناب سید شاہد مہدی صاحب کی یہ خواہش تھی کہ جامعہ کی ایک ایسی تاریخ مرتب کی جائے جس میں جامعہ کے فارغین کے تجربات اور یادیں درج ہوں۔ غلام حیدر صاحب نے اپنی اس کتاب پر ان تمام لوگوں کے بیانات درج کیے، جو حیات تھے۔ مزید انھوں نے جامعہ کے بزرگان، حیاتی ممبران اور جامعہ کی ابتدا سے کتاب کی اشاعت تک کی تاریخ درج کرنے کی کوشش کی ہے۔
’’ہماری جامعہ: تعلیمی، تہذیبی اور سماجی ساگا‘‘پروفیسر صغرا مہدی کی، جامعہ کی تاریخ و تہذیب کے تعلق سے ایک اہم کتاب ہے۔ صغرا صاحبہ شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی استاد اور معروف ادیبہ تھیں۔ ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد انھوں نے یہ ارادہ کیا کہ اس کتاب کو مکمل کیا جائے۔ انھوں نے جامعہ پر شائع شدہ مختلف کتابوں، رسائل وجرائد، تاثرات کا مطالعہ کیا۔ صغرا مہدی صاحبہ کو یہ احساس تھا کہ جامعہ کو جن خصوصیات کی بنا پر دوسرے اداروں سے الگ کیا جاتا تھا وہ خصوصیات رفتہ رفتہ ختم ہوتی گئیں۔ ڈاکٹر سید عابد حسین، صغرا مہدی کے ماموں تھے۔ ان کے ساتھ صغرا مہدی کورہنے اور جامعہ کو جاننے کا موقع ملا۔ ۱۹۵۰ میں وہ خود جامعہ کے مدرسہ ثانوی میں پڑھنے لگیں۔ انھوں نے جامعہ کی علمی، ادبی، مذہبی فضا کو قریب سے دیکھا۔ ان کا خیال ہے کہ ’’جامعہ فرشتوں کے لیے انسانوں کی بستی ہے، یہاں انسان مع اپنی ساری کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ بستے تھے۔ آپسی اختلاف رائے بھی ہوتا تھا، ایک دوسرے سے ناراض بھی ہو جاتے تھے مگر سب ایک رنگ میں رنگے ہوئے، کچھ رنگ کے شیڈ ہلکے بھی تھے ، گہرے بھی، جامعی رنگ۔‘‘ صغرا صاحبہ نے جامعہ کے ترانے کے مصرعے کو پیش نظر رکھ کر کتاب کے عنوانات قائم کیے اور آٹھ ابواب کے تحت انھوں نے جامعہ ملیہ کا قیام علی گڑھ میں، جامعہ دہلی میں، معماران جامعہ، استادان جامعہ، خواتین جامعہ، جامعہ: ایک اسلامی سیکولر ادارہ، جامعہ کی اردو زبان و ادب کی خدمات، جامعہ کی سلور جوبلی، آزادی کی خوشی تقسیم کا غم فسادات کی مصیبت اور جامعہ ، آزادی کے بعد ترقی کی راہ پر گامزہ جامعہ، موڈرن ہندوستان کی موڈرن یونیورسٹی جامعہ وغیرہ پر مفصل اظہار خیال کیا۔
یہ کتابیں جامعہ کی تاریخ اور تہذیب کی عمدہ مثال ہیں۔ مگر پتہ نہیں کیوں مجھے اب بھی ایک تشنگی کا احساس ہوتا ہے کہ جامعہ کی تاریخ، ترتیب وار اور زمانی اعتبار سے اب تک تحریر نہیں کی گئی جس کی ضرورت ہے ۔ جامعہ صدی کے موقع پر ایک ایسی کتاب کی اشاعت ضرور ہونی چاہیے ۔
٭٭٭
Prof. ShahzadAnjum
Head, Dept. of Urdu,
Jamia Millia Islamia,
New Delhi- 110025.
Email: shahzadanjum825@gmail.com
Mobile No. 8800863994
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

