پیارے بچوں، سردی آئی
ٹھنڈی -ٹھنڈی بہاریں لائی
چاند بھی تھر تھر کانپ رہا ہے
سورج بھی ڈر کر بھاگ رہا ہے.
اونی جرسی ، ٹوپی، شال
پہنے بنا ہے ، زندگی محال.
دانت بھی بج رہے ، خود ہی خود
انھیں بھی ٹھنڈ میں، رہی نہ سدھ.
ہر موسم کا اپنا مزہ ہے
پھر سردی کی تو ، بات جدا ہے.
لحاف میں بیٹھ ، گپ شپ لگانا
اور مزے سے ، گڑ مونگ پھلی کھانا.
دن ہے چھوٹا اور تھوڑا کام
رات بڑی ہے، اور بڑا آرام.
سبزی کا بھی مسلہ نہیں ہے
تازی سبزیوں کا ، دور یہی ہے.
تازہ-تازہ ٹھنڈی ہوایں
ماحول کو کتنا، خوشگوار بنایں.
پھر ننھے منہے پھول ، یہ سارے
خوشبو پھیلاے، اطراف میں ہمارے.
دھوپ تو دیکھو، کیسے شرماے
کہرے میاں سے، آنچل کو چھپاے.
مجھکو بس یہی کہنا ہے آج
کہ سردی کا اب ، ہو گیا آغاز.
پیارے بچوں، سردی آی
ٹھنڈی ٹھنڈی بہاریں لای.

