Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکر و عمل

ٹیپو سلطان کی مذہبی رواداری – ڈاکٹر محمد تحسین زماں

by adbimiras نومبر 20, 2020
by adbimiras نومبر 20, 2020 2 comments

شیر میسور ٹیپو سلطان کا اصل نام فتح علی ٹیپو تھا۔20 /نومبر 1750میں حیدر علی کے گھر  بنگلور میں پیدا ہوئے۔حیدر علی کے یہ سب سے بڑے فرزند تھے۔شمالی ہندوستان میں جس وقت انگریز سامراج اپنے مقبوضات میں اضافے کر رہی تھی، اس قت جنوبی ہندوستان میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان کی یہ دو شخصیتیں ایسی تھیں جنہوں نے انگریزوں کوسخت مزاحمت دی۔انگریز اس وقت تک میسور پر غلبہ نہ پا سکے جب تک انہوں نے نظام اور مرہٹوں کو اپنا مطیع نہ بنا لیا۔ٹیپو سلطان کی موت اس بات کا نقارہ تھا کہ اب ہندوستان پورے طور پر انگریزوں کا غلام ہے۔

انگریز جنرل ہیرس کو سلطان کی موت کی اطلاع ہوئی تو وہ چیخ اٹھا کہ "اب ہندوستان ہمارا ہے”۔ انگریزوں نے گرجوں کے گھنٹے بجا کر اور مذہبی رسوم ادا کرکے سلطان کی موت پر مسرت کا اظہار کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے ملازمین کو انعام و اکرام سے نوازا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب ہندوستان میں برطانوی اقتدار مستحکم ہو گیا اور اس کو اب کوئی خطرہ نہیں۔(1)

متعصب مورخین نے تمام مسلم حکمرانوں اور پیشواؤں کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔انہوں نے نصابی کتابوں میں ان حکمرانون کو متعصب، سفاک اور مذہب دشمن بناکر پیش کیا ہے۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ نئی نسل کے دماغوں میں ان حکمرانوں کی تصویر ایک سفاک اور ظالم حکمراں کے طور پر آتی ہے، جس نے ان کے پوروجوں کا قتل عام کیا اور گاؤں، شہروں اور دیہاتوں سب کو ویران کردیا۔مگر وہیں نئی نسل جب تاریخ کا بغور مطالعہ کرتی ہے، آثار قدیمہ کے ڈاکومینٹ کو پڑھتی ہے، تب ان کے سامنے ایک صحیح تصویر نکل کر آتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں مثنوی‘‘ اَضراب سلطانی’’ کا تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر نوشاد منظر )

یہی حال ٹیپو سلطان کے ساتھ بھی ہوا۔مورخین نے اسے متعصب اور سفاک حکمران بنا کر پیش کیا اور نئی نسلوں کے دماغ میں ٹیپو سلطان کی شخصیت ایک جابر حکمراں کے طور پر ابھر کر آئی۔ اسی نئی نسل کے بھگوان ایس گڈوانی کی ملاقا ت جب لندن میں ایک مورخ سے ہوتی ہے اور ورہ ٹیپو سلطان کی تعریف اس کے منہ سے سنتے ہیں:

”تاریخ میں سوائے ٹیپو سلطان کے ایسی کوئی مثال نظرنہیں آئی کہ جہاں حکمراں میدان جنگ میں لڑتاہوا کام آیاہو۔عام طور پر حکمراں یا تو محل میں رہتے تھے اور یا شکست کے آثار دیکھ کر فرار ہو جا تے تھے۔“(2)

ایک انگریز سے ایک ہندوستانی کی تعریف سن کر بھگوان ایس گڈوانی کا سینہ فخر سے پھول جاتا ہے اور وہ پھر ٹیپو سلطان کے بارے میں  تحقیق شروع کردیتے ہیں۔ وہ آرکائیوز کے تمام ریکارڈ کو پڑھتے ہیں، تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ جتنی تحقیق کرتے ہیں ٹیپو سلطان کی ایک نئی تصویر ان کے سامنے آتی ہے اور آگے چلکر ”The Sword of Tipu Sultan“  کے نام سے ان کی کاوش منظر عام پر آتی ہے۔ جس کے 32 ایڈیشن ابھی تک چھپ چکے ہیں۔اور سنجے خان نے اسی ناول کی بنیاد پر اپنا سیریل بنایا تھا۔آپ کو بتاتا چلوں کہ بھگوان ایس گڈوانی کے والد شام داس گڈوانی ہندو مہا سبھا کے ادھیکش تھے، اور خود بھگوان داس گڈوانی ہندو مہا سبھا کے سرگرم رکن تھے۔

دوسری مثال ا لہ آباد یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسربی۔ این۔پانڈے  جو  بعد میں اڑیسہ کے گورنر بنے ان کے راجیہ سھبا میں دی  ہوئی اسپیچ کی دی جاسکتی ہے،  وہ کہتے ہیں ”جب میں الہ آباد یونیورسٹی میں تاریخ کا پروفیسر تھا، کچھ طالب علم پروفیسر ہرپرشادشاستری کلکتہ یونیورسٹی میں سنسکرت کے پروفیسر تھے، انکی کتاب لائے جس میں لکھا تھا کہ ٹیپو سلطان نے 3000 برہمنوں کو اسلام اپنا نے کا حکم دیا اور اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں انہیں قتل کر دینے کی دھمکی دی،ان 3000 برہمنوں نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بجائے خود کشی کرنا گوارا سمجھا۔

اسے پڑھنے کے بعد پروفیسر بی۔این پانڈے نے پروفیسر ہری پرساد شاستری کو خط لکھ کریہ پوچھا کہ کس بنیاد پر آپ نے یہ لکھا ہے،اور اس کے ماخذکیا ہیں۔پروفیسر شاستری نے خط کے جواب میں یہ لکھ بھیجا کہ میسورکے گیزٹ میں یہ واقعہ درج ہے۔اس کے بعد پروفیسر  بی۔ این۔پانڈے نے میسور یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر،پروفیسر شریکانتیہ کو خط لکھ کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا  میسور گزٹ میں 3000 برہمنوں کی خود کشی کا کوئی واقعہ درج ہے۔وہاں سے جو جواب آیا وہ چونکا دینے والا تھا۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ بالکل غلط بات ہے ایسا کوئی واقعہ گیزٹ میں درج نہیں ہے۔اس میں یہ لکھا گیا ہے کہ  ٹیپو سلطان نے سالانہ 165  مندروں کوگرانٹ دیا۔

بھگوان گڈوانی ایک انٹرویو میں کہتے ہیں:

”سلطان ٹیپو چاہے کچھ بھی ہو مگر متعصب اور فرقہ پرست ہرگز نہیں تھا۔وہ قوم و وطن کا مسیحا،جاں نثار سپوت تھاقومی شہید تھا اور اسے مرتبے کے لحاظ سے یاد کیا جانا چاہیے“۔

مسٹر بھگوان گڈوانی نے بتایا کہ:

”ٹیپو کے انیس فوجی جنرلوں میں سے دس ہندو تھے۔اس کے تیرہ وزیروں میں سے سات ہندوتھے۔اس کا استاد گووردھن پنڈت تھا  اور کسی ایک ہندو نے بھی اس سے غداری نہیں کی“۔(3)

ٓاب ذرا ٹیپو سلطان کے ان کاموں پر نظر ڈالتے ہیں جو اس نے اپنی ہندو رعایا کے لیے کئے تھے۔

مندروں کو عطیات:

سر زمین میسور میں تمام مندروں کی موجودگی ٹیپو سلطان کی عدم تعصب طبیعت اور مذہبی رواداری کی گواہ ہے۔اگر وہ مذہبی تعصب سے کام لیتا  تو آج میسور کی زمین پر ایک بھی مندر کے نشان موجود نہیں ہوتے۔اس کے بالمخالف اگر ہم ان مندروں کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ کس قدر اس سلطان نے ان مندروں کو جاگیریں اور مندروں کے روز مرہ کے اخراجات کو چلانے کے لیے اخراجات دیے ہیں۔میسور گیزیٹ کے ایڈیٹر کانتیا نے ایسے 165 مندروں کی فہرست تیار کی ہے جسے ٹیپو سلطان نے جاگیریں اور اخراجات عطا کیے ہیں۔

گاندھی جی ٹیپو کے بارے میں لکھتے ہیں:

”ٹیپو نے مندروں کے لیے بڑی فیاضی سے جائدادیں وقف کیں۔اور خود اس کے محل کے چاروں طرف سری وینکٹارمن،سری نواس اور شری رنگ ناتھ کے  مندروں کی موجودگی سلطان کی وسیع النظری اور رواداری کا ثبوت ہے۔“(4)

جب مرہٹہ فوجوں نے سری نگری کے مندر کو لوٹ لیا،وہاں کے ہاتھی گھوڑے سب لے گئے اور ساردا دیوی کی مورتی کو نکال کر پھینک دیا  اس کی خبر جب ٹیپو سلطان کو  ملی تو اس نے گرو جی کے نام خط لکھا:

”آپ کو  اختیار ہے کہ انعامی دیہات میں سے جن چیزوں کی ضرورت ہو حاصل کریں،اس رقم اور اناج سے ساردا دیوی کی مورتی نصب کرتے ہوئے برہمنوں کو کھانا کھلائیں اور ہمارے دشمنوں کی تباہی کے لیے دعا کریں۔“(5)

یہ تمام خطوط اور فرامین آج بھی محفوظ ہیں۔ایک خط میں گرو جی نے پوجا کے لیے خاص رسمیں ادا کرنے کے لیے سلطان سے مالی مدد مانگی،یہ پوجا 48 دنوں تک چلنے والی تھی ٹیپو سلطان نے پوجا کی رسموں کو منظوری دی اور وہاں کے مقامی افسر کے نام حکم جاری کیا  اور گرو جی کو لکھا:

”آپ کی حسب مرضی پوجا کے دنوں میں روز آنہ ایک ہزار برہمنوں کو کھانا کھلانے اور نقدی دینے کے متعلق  نگر کے حاکم کو حکم بھیج دیا گیا ہے۔“(6)

برہمنوں کو تحفے اور جاگیریں

ٹیپو سلطان نے اس میدان میں بھی اپنی فراخ دلی اور فیاضی کا پورا ثبوت دیا۔میسور آرکیالوجیکل رپورٹ 1917میں ہے کہ تعلقہ ننجن گوڑ کے گاؤں کلالے کے مندر میں چاندی کے برتن،پلیٹ،اگالدان وغیرہ کے کتبوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹیپو نے عطا کیے۔اسی طرح میل کوٹ کے نارائن سوامی مندر میں برتن اور جواہرات ٹیپو کا عطیہ ہیں۔

1785میں اسی مندر کو بارہ ہاتھی اور 1786میں ایک نقارہ عطا کیا گیا۔(7)

پشپا گری کے سوامی کو تھونگا پلی اور گولا پلی کے گاؤں کی مال گزاری وصول کرنے کا حق دیا گیا۔انجانیہ سوامی مندر میں پوجا کے لیے ایک شخص راما چار کو ایک موضع (ضلع کڈاپا)معافی میں دیا۔تعلقہ کمال پورہ کے بہت سے برہمنوں کو معافیاں (جاگیریں) دی تھیں۔کنڑ رسم الخط کا ایک منظوم سنسکرت کتبہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ٹیپو نے برہمنوں اور مندروں کو معافیاں عطا کیں۔(8)

مالابار کے مندر

ٹیپو سلطان نے مالابار کے مندروں کو جو تحفے اور عطیات عطا کیے ہیں وہ ان تمام الزامات کی نفی کرتی ہیں جو تعصب پرست مورخین اور مصنفین نے ٹیپو سلطان پر عائد کیے ہیں۔

1۔جیلم برا،تعلقہ اراندا کے مانورمندر کو ۰۷۱  ایکڑ آراضی اور تین ایکڑ سے زیادہ باغ کی آراضی عطا کی۔

2۔وائلا تورامسوم،تعلقہ پونانی کے تروانچکسولم مندر کو 28  ایکڑ زمین اور تین ایکڑ باغ عطا کیے۔

3۔گورویاڈرامسوم،تعلقہ پونانی کے گورویاورمندر کو 122  ایکڑ زمین  اور 73 ایکڑ زمین باغ کے لیے دیں۔

4۔قصبہ امسوم،تعلقہ کالی کٹ کے تریکٹیشور ٹاکورم کنکاؤ مندر کو بھی اتنی ہی زمین اور باغ تحفے میں دیے۔

5۔کڈیکادامسوم،تعلقہ پونانی کے کٹم ماڈاتھل سری کمارن(نمبودری پد)مندر کو وسیع آراضی اور باغ دیے۔

6۔تریکندیورامسوم،تعلقہ پونانی کے تریکند یوراسموہام مندر کو وسیع آراضیات اور باغ 10  ایکڑ۔(9)

گروایورکا مندر

گروایور کے مندر سے متعلق گاندھی جی کے اخبار ینگ انڈیا میں ایک مضمون شائع ہوا تھا۔

”ٹیپو سلطان جب مالابار فتح کرتا ہوا گروایور کے قریب پہنچا تو اس مندر کے پجاری  بہت گھبراگئے اور انھوں نے دیوتا کی  بیش قیمت مورت کو  ریاست ٹراونکور کے ایک مشہور مندر میں بھیج دیا۔ٹیپو سلطان  گروایور کے قریب ہی ایک مقام پر رک گیا اور اپنی فوجوں کو گروایور فتح کرنے کے لیے بھیج دیا اس کے سپاہیوں نے گروایور کو فتح کرلیا اور چونکہ اس وقت مسلمانوں کی مرہٹوں سے لڑائیاں ہو رہی تھیں۔اس لیے  بعض مسلمان سپاہیوں نے  مندر کی دیواروں  پر گھی چھڑک کر آگ لگادی۔عمارت تھوڑی ہی جلنے پائی تھی کہ  ٹیپو سلطان کے افسروں کو اپنے بادشاہ کے احکام کا خیال آیا  اور انھوں نے جلدی جلدی آگ بجھا کر  مندر کے  دو تین برہمنوں کو  ٹیپو سلطان کے پاس بھیجا کہ وہ جاکر شورش پسند سپاہیوں کی شکایت کریں۔

ٹیپو سلطان نے جس وقت پجاریوں سے یہ سنا کہ اس کے چند شریر سپاہیوں نے مندر میں آگ لگانے کی کوشش کی ہے  تو وہ بہت ناراض ہوا۔اور رات ہی رات سفر طے کرکے گروایور پہنچا،یہاں پہنچ کر اس نے تحقیقات شروع کی اور جن مسلمان سپاہیوں نے مندر میں آگ لگانے کی کوشش کی تھی ان کو سخت سزا دی اور مندر کو درست کرایا  اور حکم دیا کہ اس شہر میں جو کچھ آمدنی ہو، وہ سرکاری خزانہ میں داخل کرنے کے بجائے ہمیشہ اس مندر کو بخش دی جائے۔جب اس کو معلوم ہوا کہ پجاریوں نے اس کے خوف سے  مندر کی مورتی کو ٹراونکور بھجوادیا ہے تو اس نے حکم دیا کہ دیوتا کی مورت کو فورا ً واپس منگاکر اس مندر میں نصب کیا جائے۔(10)

 

گوپور مندر

ڈاکٹر وی شیخ علی نے اصل دستاویز ات سے ثابت کیا ہے کہ سلطان ٹیپو نے دس ہزار ہن(سکّہ رائج الوقت) گوپور مندر کو بمقام کونجی وارم کی تعمیر میں تکمیل کے لئے دیے۔اس مندر کی تعمیر حیدر علی نے شروع کرائی تھی(1780)لیکن اسی درمیان اس کا انتقال ہوگیا(1782)تو ٹیپو سلطان  نے نہ اس کی تکمیل کرائی بلکہ افتتاحی تقریب میں بذات خود شریک ہوا۔اسی مقام میل کوٹے کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ بعض مذہبی رسموں کی ادائی پر کچھ جھگڑا پیدا ہو تو سلطان ٹیپو نے بذات خود معاملے کو اس طرح طے کرایا کہ دونو ں فریق مطمئین ہوگئے۔(11)

کورگ کا واقعہ

انگریز بہادر جہاں بھی جاتے تھے وہ اپنے ساتھ مشنری پادریوں کو بھی ساتھ لے کر جاتے تھے۔یہ مشنری پادری تعلیم،پیسہ،اچھے رہن سہن،نوکری اور بہت ساری دوسری لبھانے والی چیزوں کا لالچ دے کر مذہب تبدیل کرواتے تھے۔دراصل یہ پادری انگریزوں کے لیے راہ ہموار کرتے تھے۔عیسائی بننے کے بعد ایک عام ہندو ان کا ہم مذہب ہوجاتا تھا اور ہم مذہب ہو جانے کی وجہ سے وہ ان کا ہم نوا بھی ہوجاتا تھا۔کرناٹک اور بنگال میں یہ مشنری پادری مذہب کا پرفریب جال بچھا کر  اپنا کام انجام دے چکے تھے۔ٹیپو ان کے اس پرفریب جال سے بخوبی واقف تھا۔مشنری پادریوں کی کوشش سے کورگ کے ہندو عیسائی بننے کے لیے تیار ہو گئے۔اس بات کی خبرجب ٹیپو سلطان کو ہوئی تو اس نے وہاں کے لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے باپ دادا کا مذہب تبدیل نہ کریں۔تقریبا چھ مرتبہ اس نے وہاں کے لوگوں کو نصیحت کی اور آخر میں اس نے وہاں کے لوگوں  کے لیے ایک حکم جاری کردیا۔

میں حکم دیتا ہوں کہ آئندہ تم میں کوئی شخص اپنا آبائی مذہب ہرگز ترک نہ کرے،اور اگر ایسا ہی تبدیل مذہب کا شوق ہے تو خود اپنے بادشاہ کو جوظل اللہ ہے،مذہب اختیار کرے۔(12)

 

ٹیپو سلطان کی بے تعصبی کی ایک اور مثال، مسجد ِاعلیٰ کی تعمیر

جس جگہ مسجد اعلیٰ قائم ہے، یہاں ٹیپو سلطان نے پرورش پائی تھی، اور یہیں ایک بزرگ نے اسے دعادی تھی کہ وہ بڑا ہوکر ایک بادشاہ بنے گا،اور وہ یہاں پر ایک مسجد تعمیر کرے گا۔جب وہ سلطان بن گیا اور اس نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو اسے پتہ چلا کہ جس جگہ وہ مسجد بنانا چاہتا ہے وہ ہندؤں کی زمین ہے اور وہاں پر ایک چھوٹا سا مندر بھی موجود ہے۔ اس نے ہندؤں کے بزرگوں اورپنڈتوں کو بلا کر ان سے کہا:

کہ اگر یہ جگہ مسجدکے لئے دیدی جائے تو اسکے عوض ایک عالی شان مندر تعمیر کر کے دیا جائے گا۔انکے راضی ہونے کے بعد سلطان نے اپنے قول کوجسطرح نباہا اس کاثبوت وہ عالی شان مندر جو مسجد سے مغربی جانب ایک فرلانگ دور سڑک کے سیدھے بازو پر ہے۔ دے رہا ہے۔اور اس مندر کو جو بیش قرارجائداددی گئی اس کے سندات ابھی مندر میں موجودہیں۔  (13)

 

غرض یہ کہ اس طرح کی بے شمار مثالیں اور تاریخی دستاویزات موجود ہیں جو اس  کے متعصب حکمراں ہونے کی نفی کرتی ہیں، اور اس بات کا ایک پختہ ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ وہ ایک عادل، منصف اور قابل قدر حکمراں تھا،اور ایک ایسا بادشاہ تھا جس کی ذات یا مذہب پر سوالیہ نشان نہیں لگایا جاسکتا۔وہ بیک وقت مسلمانوں کے لئے قابل فخر ہے تو اہل میسوراور ہندؤں کے لئے قابل قدراور ہندوستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اس کی سرزمین پر ایسے سلطان نے حکومت کی جس کی مذہبی رواداری اور وطن عزیز کی آزادی کی خاطر اپنی جان کی بازی لگانے کی تعریف میں تما م اہل علم اور اہل یورپ رطب اللسان ہیں۔

 

 

 

ماخذو مراجع:

1۔ مضمون، سلطنت خدادادمیسور،آزاد دائر المعارف، ویکیپیڈیا

2۔رضوی،سید خورشید مصطفی،شیر ہندوستان ٹیپوسلطان، مرکزی مکتبہ اسلامی۔نئی دہلی۔25۔ ص72 ۔73

3۔ہندوستان ٹائمز،4فروری 1990

4۔ ینگ انڈیا،23 جنوری 1930

5۔بنگلوری محمود،تاریخ سلطنت خداداد،ہمالیہ بک ہاؤس۔دہلی،ص 522

6۔رضوی،سید خورشید مصطفی،شیر ہندوستان ٹیپوسلطان، مرکزی مکتبہ اسلامی۔نئی دہلی۔25،ص82

7۔میسور آرکیالوجیکل رپورٹ1916   1912

8۔رضوی،سید خورشید مصطفی،شیر ہندوستان ٹیپوسلطان، مرکزی مکتبہ اسلامی۔نئی دہلی۔25 ص84۔85

9۔ایضاً،ص86،87

10۔بنگلوری محمود،تاریخ سلطنت خداداد،ص 528،529

11۔رضوی،سید خورشید مصطفی،شیر ہندوستان ٹیپوسلطان، مرکزی مکتبہ اسلامی۔نئی دہلی۔25، ص 90

12۔بنگلوری محمود،تاریخ سلطنت خداداد،ص532

13۔ایضاً،ص535

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
tipu sultanادبی میراثٹیپو سلطانٹیپو سلطان کی مذہبی رواداریمذبی رواداری
2 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
سلطنت خداداد کی تجارتی و زرعی پالیسیاں – ڈاکٹر عادل حیات

یہ بھی پڑھیں

حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –...

جنوری 20, 2025

کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

اکتوبر 8, 2024

حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی...

اکتوبر 7, 2024

نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام...

جولائی 23, 2024

مفتی عزیز الرحمن شاہدؔ چمپارنیؒ (یادوں کے چراغ)...

مئی 30, 2024

توقیتِ  علامہ محمد اقبال – پروفیسر محسن خالد...

مئی 29, 2024

تو نے اے خیر البشرؐ انساں کو انساں...

ستمبر 26, 2023

اور سایہ دار درخت کٹ گیا – منہاج الدین...

فروری 22, 2022

ابّو جان (شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس بارہ...

فروری 22, 2022

 مولانا عتیق الرحمن سنبھلی – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

فروری 15, 2022

2 comments

سلطنت خداداد کی تجارتی و زرعی پالیسیاں - ڈاکٹر عادل حیات - Adbi Miras نومبر 20, 2020 - 4:34 شام

[…] فکر و عمل […]

Reply
فرید خان سے شیر شاہ تک - ڈاکٹر خالد مبشر - Adbi Miras نومبر 25, 2020 - 8:03 شام

[…] فکر و عمل […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں