شیر میسور ٹیپو سلطان کا اصل نام فتح علی ٹیپو تھا۔20 /نومبر 1750میں حیدر علی کے گھر بنگلور میں پیدا ہوئے۔حیدر علی کے یہ سب سے بڑے فرزند تھے۔شمالی ہندوستان میں جس وقت انگریز سامراج اپنے مقبوضات میں اضافے کر رہی تھی، اس قت جنوبی ہندوستان میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان کی یہ دو شخصیتیں ایسی تھیں جنہوں نے انگریزوں کوسخت مزاحمت دی۔انگریز اس وقت تک میسور پر غلبہ نہ پا سکے جب تک انہوں نے نظام اور مرہٹوں کو اپنا مطیع نہ بنا لیا۔ٹیپو سلطان کی موت اس بات کا نقارہ تھا کہ اب ہندوستان پورے طور پر انگریزوں کا غلام ہے۔
انگریز جنرل ہیرس کو سلطان کی موت کی اطلاع ہوئی تو وہ چیخ اٹھا کہ "اب ہندوستان ہمارا ہے”۔ انگریزوں نے گرجوں کے گھنٹے بجا کر اور مذہبی رسوم ادا کرکے سلطان کی موت پر مسرت کا اظہار کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے ملازمین کو انعام و اکرام سے نوازا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب ہندوستان میں برطانوی اقتدار مستحکم ہو گیا اور اس کو اب کوئی خطرہ نہیں۔(1)
متعصب مورخین نے تمام مسلم حکمرانوں اور پیشواؤں کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔انہوں نے نصابی کتابوں میں ان حکمرانون کو متعصب، سفاک اور مذہب دشمن بناکر پیش کیا ہے۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ نئی نسل کے دماغوں میں ان حکمرانوں کی تصویر ایک سفاک اور ظالم حکمراں کے طور پر آتی ہے، جس نے ان کے پوروجوں کا قتل عام کیا اور گاؤں، شہروں اور دیہاتوں سب کو ویران کردیا۔مگر وہیں نئی نسل جب تاریخ کا بغور مطالعہ کرتی ہے، آثار قدیمہ کے ڈاکومینٹ کو پڑھتی ہے، تب ان کے سامنے ایک صحیح تصویر نکل کر آتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں مثنوی‘‘ اَضراب سلطانی’’ کا تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر نوشاد منظر )
یہی حال ٹیپو سلطان کے ساتھ بھی ہوا۔مورخین نے اسے متعصب اور سفاک حکمران بنا کر پیش کیا اور نئی نسلوں کے دماغ میں ٹیپو سلطان کی شخصیت ایک جابر حکمراں کے طور پر ابھر کر آئی۔ اسی نئی نسل کے بھگوان ایس گڈوانی کی ملاقا ت جب لندن میں ایک مورخ سے ہوتی ہے اور ورہ ٹیپو سلطان کی تعریف اس کے منہ سے سنتے ہیں:
”تاریخ میں سوائے ٹیپو سلطان کے ایسی کوئی مثال نظرنہیں آئی کہ جہاں حکمراں میدان جنگ میں لڑتاہوا کام آیاہو۔عام طور پر حکمراں یا تو محل میں رہتے تھے اور یا شکست کے آثار دیکھ کر فرار ہو جا تے تھے۔“(2)
ایک انگریز سے ایک ہندوستانی کی تعریف سن کر بھگوان ایس گڈوانی کا سینہ فخر سے پھول جاتا ہے اور وہ پھر ٹیپو سلطان کے بارے میں تحقیق شروع کردیتے ہیں۔ وہ آرکائیوز کے تمام ریکارڈ کو پڑھتے ہیں، تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ جتنی تحقیق کرتے ہیں ٹیپو سلطان کی ایک نئی تصویر ان کے سامنے آتی ہے اور آگے چلکر ”The Sword of Tipu Sultan“ کے نام سے ان کی کاوش منظر عام پر آتی ہے۔ جس کے 32 ایڈیشن ابھی تک چھپ چکے ہیں۔اور سنجے خان نے اسی ناول کی بنیاد پر اپنا سیریل بنایا تھا۔آپ کو بتاتا چلوں کہ بھگوان ایس گڈوانی کے والد شام داس گڈوانی ہندو مہا سبھا کے ادھیکش تھے، اور خود بھگوان داس گڈوانی ہندو مہا سبھا کے سرگرم رکن تھے۔
دوسری مثال ا لہ آباد یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسربی۔ این۔پانڈے جو بعد میں اڑیسہ کے گورنر بنے ان کے راجیہ سھبا میں دی ہوئی اسپیچ کی دی جاسکتی ہے، وہ کہتے ہیں ”جب میں الہ آباد یونیورسٹی میں تاریخ کا پروفیسر تھا، کچھ طالب علم پروفیسر ہرپرشادشاستری کلکتہ یونیورسٹی میں سنسکرت کے پروفیسر تھے، انکی کتاب لائے جس میں لکھا تھا کہ ٹیپو سلطان نے 3000 برہمنوں کو اسلام اپنا نے کا حکم دیا اور اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں انہیں قتل کر دینے کی دھمکی دی،ان 3000 برہمنوں نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بجائے خود کشی کرنا گوارا سمجھا۔
اسے پڑھنے کے بعد پروفیسر بی۔این پانڈے نے پروفیسر ہری پرساد شاستری کو خط لکھ کریہ پوچھا کہ کس بنیاد پر آپ نے یہ لکھا ہے،اور اس کے ماخذکیا ہیں۔پروفیسر شاستری نے خط کے جواب میں یہ لکھ بھیجا کہ میسورکے گیزٹ میں یہ واقعہ درج ہے۔اس کے بعد پروفیسر بی۔ این۔پانڈے نے میسور یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر،پروفیسر شریکانتیہ کو خط لکھ کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا میسور گزٹ میں 3000 برہمنوں کی خود کشی کا کوئی واقعہ درج ہے۔وہاں سے جو جواب آیا وہ چونکا دینے والا تھا۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ بالکل غلط بات ہے ایسا کوئی واقعہ گیزٹ میں درج نہیں ہے۔اس میں یہ لکھا گیا ہے کہ ٹیپو سلطان نے سالانہ 165 مندروں کوگرانٹ دیا۔
بھگوان گڈوانی ایک انٹرویو میں کہتے ہیں:
”سلطان ٹیپو چاہے کچھ بھی ہو مگر متعصب اور فرقہ پرست ہرگز نہیں تھا۔وہ قوم و وطن کا مسیحا،جاں نثار سپوت تھاقومی شہید تھا اور اسے مرتبے کے لحاظ سے یاد کیا جانا چاہیے“۔
مسٹر بھگوان گڈوانی نے بتایا کہ:
”ٹیپو کے انیس فوجی جنرلوں میں سے دس ہندو تھے۔اس کے تیرہ وزیروں میں سے سات ہندوتھے۔اس کا استاد گووردھن پنڈت تھا اور کسی ایک ہندو نے بھی اس سے غداری نہیں کی“۔(3)
ٓاب ذرا ٹیپو سلطان کے ان کاموں پر نظر ڈالتے ہیں جو اس نے اپنی ہندو رعایا کے لیے کئے تھے۔
مندروں کو عطیات:
سر زمین میسور میں تمام مندروں کی موجودگی ٹیپو سلطان کی عدم تعصب طبیعت اور مذہبی رواداری کی گواہ ہے۔اگر وہ مذہبی تعصب سے کام لیتا تو آج میسور کی زمین پر ایک بھی مندر کے نشان موجود نہیں ہوتے۔اس کے بالمخالف اگر ہم ان مندروں کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ کس قدر اس سلطان نے ان مندروں کو جاگیریں اور مندروں کے روز مرہ کے اخراجات کو چلانے کے لیے اخراجات دیے ہیں۔میسور گیزیٹ کے ایڈیٹر کانتیا نے ایسے 165 مندروں کی فہرست تیار کی ہے جسے ٹیپو سلطان نے جاگیریں اور اخراجات عطا کیے ہیں۔
گاندھی جی ٹیپو کے بارے میں لکھتے ہیں:
”ٹیپو نے مندروں کے لیے بڑی فیاضی سے جائدادیں وقف کیں۔اور خود اس کے محل کے چاروں طرف سری وینکٹارمن،سری نواس اور شری رنگ ناتھ کے مندروں کی موجودگی سلطان کی وسیع النظری اور رواداری کا ثبوت ہے۔“(4)
جب مرہٹہ فوجوں نے سری نگری کے مندر کو لوٹ لیا،وہاں کے ہاتھی گھوڑے سب لے گئے اور ساردا دیوی کی مورتی کو نکال کر پھینک دیا اس کی خبر جب ٹیپو سلطان کو ملی تو اس نے گرو جی کے نام خط لکھا:
”آپ کو اختیار ہے کہ انعامی دیہات میں سے جن چیزوں کی ضرورت ہو حاصل کریں،اس رقم اور اناج سے ساردا دیوی کی مورتی نصب کرتے ہوئے برہمنوں کو کھانا کھلائیں اور ہمارے دشمنوں کی تباہی کے لیے دعا کریں۔“(5)
یہ تمام خطوط اور فرامین آج بھی محفوظ ہیں۔ایک خط میں گرو جی نے پوجا کے لیے خاص رسمیں ادا کرنے کے لیے سلطان سے مالی مدد مانگی،یہ پوجا 48 دنوں تک چلنے والی تھی ٹیپو سلطان نے پوجا کی رسموں کو منظوری دی اور وہاں کے مقامی افسر کے نام حکم جاری کیا اور گرو جی کو لکھا:
”آپ کی حسب مرضی پوجا کے دنوں میں روز آنہ ایک ہزار برہمنوں کو کھانا کھلانے اور نقدی دینے کے متعلق نگر کے حاکم کو حکم بھیج دیا گیا ہے۔“(6)
برہمنوں کو تحفے اور جاگیریں
ٹیپو سلطان نے اس میدان میں بھی اپنی فراخ دلی اور فیاضی کا پورا ثبوت دیا۔میسور آرکیالوجیکل رپورٹ 1917میں ہے کہ تعلقہ ننجن گوڑ کے گاؤں کلالے کے مندر میں چاندی کے برتن،پلیٹ،اگالدان وغیرہ کے کتبوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹیپو نے عطا کیے۔اسی طرح میل کوٹ کے نارائن سوامی مندر میں برتن اور جواہرات ٹیپو کا عطیہ ہیں۔
1785میں اسی مندر کو بارہ ہاتھی اور 1786میں ایک نقارہ عطا کیا گیا۔(7)
پشپا گری کے سوامی کو تھونگا پلی اور گولا پلی کے گاؤں کی مال گزاری وصول کرنے کا حق دیا گیا۔انجانیہ سوامی مندر میں پوجا کے لیے ایک شخص راما چار کو ایک موضع (ضلع کڈاپا)معافی میں دیا۔تعلقہ کمال پورہ کے بہت سے برہمنوں کو معافیاں (جاگیریں) دی تھیں۔کنڑ رسم الخط کا ایک منظوم سنسکرت کتبہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ٹیپو نے برہمنوں اور مندروں کو معافیاں عطا کیں۔(8)
مالابار کے مندر
ٹیپو سلطان نے مالابار کے مندروں کو جو تحفے اور عطیات عطا کیے ہیں وہ ان تمام الزامات کی نفی کرتی ہیں جو تعصب پرست مورخین اور مصنفین نے ٹیپو سلطان پر عائد کیے ہیں۔
1۔جیلم برا،تعلقہ اراندا کے مانورمندر کو ۰۷۱ ایکڑ آراضی اور تین ایکڑ سے زیادہ باغ کی آراضی عطا کی۔
2۔وائلا تورامسوم،تعلقہ پونانی کے تروانچکسولم مندر کو 28 ایکڑ زمین اور تین ایکڑ باغ عطا کیے۔
3۔گورویاڈرامسوم،تعلقہ پونانی کے گورویاورمندر کو 122 ایکڑ زمین اور 73 ایکڑ زمین باغ کے لیے دیں۔
4۔قصبہ امسوم،تعلقہ کالی کٹ کے تریکٹیشور ٹاکورم کنکاؤ مندر کو بھی اتنی ہی زمین اور باغ تحفے میں دیے۔
5۔کڈیکادامسوم،تعلقہ پونانی کے کٹم ماڈاتھل سری کمارن(نمبودری پد)مندر کو وسیع آراضی اور باغ دیے۔
6۔تریکندیورامسوم،تعلقہ پونانی کے تریکند یوراسموہام مندر کو وسیع آراضیات اور باغ 10 ایکڑ۔(9)
گروایورکا مندر
گروایور کے مندر سے متعلق گاندھی جی کے اخبار ینگ انڈیا میں ایک مضمون شائع ہوا تھا۔
”ٹیپو سلطان جب مالابار فتح کرتا ہوا گروایور کے قریب پہنچا تو اس مندر کے پجاری بہت گھبراگئے اور انھوں نے دیوتا کی بیش قیمت مورت کو ریاست ٹراونکور کے ایک مشہور مندر میں بھیج دیا۔ٹیپو سلطان گروایور کے قریب ہی ایک مقام پر رک گیا اور اپنی فوجوں کو گروایور فتح کرنے کے لیے بھیج دیا اس کے سپاہیوں نے گروایور کو فتح کرلیا اور چونکہ اس وقت مسلمانوں کی مرہٹوں سے لڑائیاں ہو رہی تھیں۔اس لیے بعض مسلمان سپاہیوں نے مندر کی دیواروں پر گھی چھڑک کر آگ لگادی۔عمارت تھوڑی ہی جلنے پائی تھی کہ ٹیپو سلطان کے افسروں کو اپنے بادشاہ کے احکام کا خیال آیا اور انھوں نے جلدی جلدی آگ بجھا کر مندر کے دو تین برہمنوں کو ٹیپو سلطان کے پاس بھیجا کہ وہ جاکر شورش پسند سپاہیوں کی شکایت کریں۔
ٹیپو سلطان نے جس وقت پجاریوں سے یہ سنا کہ اس کے چند شریر سپاہیوں نے مندر میں آگ لگانے کی کوشش کی ہے تو وہ بہت ناراض ہوا۔اور رات ہی رات سفر طے کرکے گروایور پہنچا،یہاں پہنچ کر اس نے تحقیقات شروع کی اور جن مسلمان سپاہیوں نے مندر میں آگ لگانے کی کوشش کی تھی ان کو سخت سزا دی اور مندر کو درست کرایا اور حکم دیا کہ اس شہر میں جو کچھ آمدنی ہو، وہ سرکاری خزانہ میں داخل کرنے کے بجائے ہمیشہ اس مندر کو بخش دی جائے۔جب اس کو معلوم ہوا کہ پجاریوں نے اس کے خوف سے مندر کی مورتی کو ٹراونکور بھجوادیا ہے تو اس نے حکم دیا کہ دیوتا کی مورت کو فورا ً واپس منگاکر اس مندر میں نصب کیا جائے۔(10)
گوپور مندر
ڈاکٹر وی شیخ علی نے اصل دستاویز ات سے ثابت کیا ہے کہ سلطان ٹیپو نے دس ہزار ہن(سکّہ رائج الوقت) گوپور مندر کو بمقام کونجی وارم کی تعمیر میں تکمیل کے لئے دیے۔اس مندر کی تعمیر حیدر علی نے شروع کرائی تھی(1780)لیکن اسی درمیان اس کا انتقال ہوگیا(1782)تو ٹیپو سلطان نے نہ اس کی تکمیل کرائی بلکہ افتتاحی تقریب میں بذات خود شریک ہوا۔اسی مقام میل کوٹے کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ بعض مذہبی رسموں کی ادائی پر کچھ جھگڑا پیدا ہو تو سلطان ٹیپو نے بذات خود معاملے کو اس طرح طے کرایا کہ دونو ں فریق مطمئین ہوگئے۔(11)
کورگ کا واقعہ
انگریز بہادر جہاں بھی جاتے تھے وہ اپنے ساتھ مشنری پادریوں کو بھی ساتھ لے کر جاتے تھے۔یہ مشنری پادری تعلیم،پیسہ،اچھے رہن سہن،نوکری اور بہت ساری دوسری لبھانے والی چیزوں کا لالچ دے کر مذہب تبدیل کرواتے تھے۔دراصل یہ پادری انگریزوں کے لیے راہ ہموار کرتے تھے۔عیسائی بننے کے بعد ایک عام ہندو ان کا ہم مذہب ہوجاتا تھا اور ہم مذہب ہو جانے کی وجہ سے وہ ان کا ہم نوا بھی ہوجاتا تھا۔کرناٹک اور بنگال میں یہ مشنری پادری مذہب کا پرفریب جال بچھا کر اپنا کام انجام دے چکے تھے۔ٹیپو ان کے اس پرفریب جال سے بخوبی واقف تھا۔مشنری پادریوں کی کوشش سے کورگ کے ہندو عیسائی بننے کے لیے تیار ہو گئے۔اس بات کی خبرجب ٹیپو سلطان کو ہوئی تو اس نے وہاں کے لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے باپ دادا کا مذہب تبدیل نہ کریں۔تقریبا چھ مرتبہ اس نے وہاں کے لوگوں کو نصیحت کی اور آخر میں اس نے وہاں کے لوگوں کے لیے ایک حکم جاری کردیا۔
میں حکم دیتا ہوں کہ آئندہ تم میں کوئی شخص اپنا آبائی مذہب ہرگز ترک نہ کرے،اور اگر ایسا ہی تبدیل مذہب کا شوق ہے تو خود اپنے بادشاہ کو جوظل اللہ ہے،مذہب اختیار کرے۔(12)
ٹیپو سلطان کی بے تعصبی کی ایک اور مثال، مسجد ِاعلیٰ کی تعمیر
جس جگہ مسجد اعلیٰ قائم ہے، یہاں ٹیپو سلطان نے پرورش پائی تھی، اور یہیں ایک بزرگ نے اسے دعادی تھی کہ وہ بڑا ہوکر ایک بادشاہ بنے گا،اور وہ یہاں پر ایک مسجد تعمیر کرے گا۔جب وہ سلطان بن گیا اور اس نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو اسے پتہ چلا کہ جس جگہ وہ مسجد بنانا چاہتا ہے وہ ہندؤں کی زمین ہے اور وہاں پر ایک چھوٹا سا مندر بھی موجود ہے۔ اس نے ہندؤں کے بزرگوں اورپنڈتوں کو بلا کر ان سے کہا:
کہ اگر یہ جگہ مسجدکے لئے دیدی جائے تو اسکے عوض ایک عالی شان مندر تعمیر کر کے دیا جائے گا۔انکے راضی ہونے کے بعد سلطان نے اپنے قول کوجسطرح نباہا اس کاثبوت وہ عالی شان مندر جو مسجد سے مغربی جانب ایک فرلانگ دور سڑک کے سیدھے بازو پر ہے۔ دے رہا ہے۔اور اس مندر کو جو بیش قرارجائداددی گئی اس کے سندات ابھی مندر میں موجودہیں۔ (13)
غرض یہ کہ اس طرح کی بے شمار مثالیں اور تاریخی دستاویزات موجود ہیں جو اس کے متعصب حکمراں ہونے کی نفی کرتی ہیں، اور اس بات کا ایک پختہ ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ وہ ایک عادل، منصف اور قابل قدر حکمراں تھا،اور ایک ایسا بادشاہ تھا جس کی ذات یا مذہب پر سوالیہ نشان نہیں لگایا جاسکتا۔وہ بیک وقت مسلمانوں کے لئے قابل فخر ہے تو اہل میسوراور ہندؤں کے لئے قابل قدراور ہندوستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اس کی سرزمین پر ایسے سلطان نے حکومت کی جس کی مذہبی رواداری اور وطن عزیز کی آزادی کی خاطر اپنی جان کی بازی لگانے کی تعریف میں تما م اہل علم اور اہل یورپ رطب اللسان ہیں۔
ماخذو مراجع:
1۔ مضمون، سلطنت خدادادمیسور،آزاد دائر المعارف، ویکیپیڈیا
2۔رضوی،سید خورشید مصطفی،شیر ہندوستان ٹیپوسلطان، مرکزی مکتبہ اسلامی۔نئی دہلی۔25۔ ص72 ۔73
3۔ہندوستان ٹائمز،4فروری 1990
4۔ ینگ انڈیا،23 جنوری 1930
5۔بنگلوری محمود،تاریخ سلطنت خداداد،ہمالیہ بک ہاؤس۔دہلی،ص 522
6۔رضوی،سید خورشید مصطفی،شیر ہندوستان ٹیپوسلطان، مرکزی مکتبہ اسلامی۔نئی دہلی۔25،ص82
7۔میسور آرکیالوجیکل رپورٹ1916 1912
8۔رضوی،سید خورشید مصطفی،شیر ہندوستان ٹیپوسلطان، مرکزی مکتبہ اسلامی۔نئی دہلی۔25 ص84۔85
9۔ایضاً،ص86،87
10۔بنگلوری محمود،تاریخ سلطنت خداداد،ص 528،529
11۔رضوی،سید خورشید مصطفی،شیر ہندوستان ٹیپوسلطان، مرکزی مکتبہ اسلامی۔نئی دہلی۔25، ص 90
12۔بنگلوری محمود،تاریخ سلطنت خداداد،ص532
13۔ایضاً،ص535
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] فکر و عمل […]
[…] فکر و عمل […]