Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

اردو: قومی /مادری زبان – ڈاکٹر محمد آدم

by adbimiras نومبر 25, 2020
by adbimiras نومبر 25, 2020 0 comment

زبان صرف جذبات وخیالات کے اظہارکا وسیلہ ہی نہیں ہوتی، بلکہ زبان قوموں کا شناخت نامہ بھی ہوتی ہے۔ زبان وادب میں ہی ہرقوم کی ثقافت وتمدن کے اسرارپنہاں ہوتے ہیں۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ہرغالب قوم نے غیر مناسب طورپر کسی خطے کو مغلوب کرکے سب سے پہلے اپنی زبان ہی کو سکۂ رائج الوقت کے طورپر نافذ کرنے کی ہرممکن سعی کی ہے ۔جس کے نتیجے میں بہت سی زبانیں مٹ گئیں یا مٹادی گئیں۔ ماہرِ نفسیات اورماہرتعلیم دونوں کا خیال ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے مادری زبان ہی سب سے بہترین وسیلہ ہے ۔زبان کی اسی اہمیت کے پیش نظر ’’لڈوگ ویٹ گینس ٹین‘‘نے کہاتھا :

The limits of my language mean the limits of my world.

’’ زبان کے محدود ہونے کا مطلب میری دنیا (الفاظ اورعلم) کامحدود ہونا ہے‘‘۱؎

کسی بھی قوم یا شخص کی تعمیر میں مادری زبان کابہت اہم کردار ہواکرتاہے،مادری زبان سے کٹ کردوسری کئی غیر زبانوں سے واقفیت حاصل کرنے میں ہی بہت سا وقت ضائع ہوجاتاہے۔ اس طرح مختلف زبانوں کے بوجھ تلے دوسرے علوم و فنون میں دسترس حاصل کرنا طلباکے لیے بوجھ سا بن جاتاہے۔یہ بھی ایک طُرفہ تماشہ ہے کہ انسان اپنانصاب پڑھتا کسی زبان میں ہے اورسمجھتا کسی اور زبان میں۔ جس سے اپنی زبان و ثقافت کے بارے میں ،اورخود اپنے بارے میں وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتاہے کہ اپنے ملک وقوم کے احوال سے باخبر ہونے کے بجائے دوسری اقوام کی ہرچھوٹی بڑی اوربُری چیزوں سے واقف ہوکر اپنی قومیت کے مخالف سمت سفرکرنے لگتاہے ،اوراس طرح شخصیت میں بھی ایک قسم کی کجی واقع ہوجاتی ہے۔ آج اگر ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اپنی مادری زبان کوکمترسمجھنے کاچلن اوردوسری بین الاقوامی زبانوں کو برترسمجھنے کا فیشن سا ہوگیاہے۔اپنی زبان کے بولنے پرحقیر سمجھنے کا رویہ اس قدرعام ہے کہ اکثرلوگ کئی دفعہ اپنی مادری زبان میں علم حاصل کرنے کومعیوب سمجھتے ہیں، بلکہ اردو ہندی میں تعلیم وتعلم سے وابستہ افراداپنے بارے میں معذرت خواہانہ اندازاپناتے ہیں۔جیسے کہ انہوں نے کوئی جرم کیا ہویا وہ نااہل ہوں۔  ( یہ بھی پڑھیں عہد غالب میں لکھنؤ کے اشاعتی ادارے -ڈاکٹر عمیر منظر )

یہ بات ذہن میں ہونی چاہیے کہ جس زبان میں انسان خواب دیکھتاہے وہی اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔جسے وہ ماں کی گودسے سنتا،بولتا، سمجھتا اور عموماً اسی میں ہم کلام ہوتا ہے۔مادری زبان کوہی کسی خطے کے اکثرذرائع ابلاغ ذریعہ اظہار و اتصال بناتے ہیں۔

اگرچہ ہر زبان کی پہچان ایک خاص رسم الخط سے ہوتی ہے ۔لیکن اگرکسی زبان کوکسی اوررسم الخط میں لکھ دیاجائے تو زبان کا نام نہیں بدل سکتا ۔مثلاً اگرہم ہند ی کودیوناگری کے بجائے عربی یا رومن رسم الخط میں لکھنے لگیں تووہ ہندی ہی رہے گی ۔عربی یا انگریزی نہیں کہلاسکتی ۔اسی طرح بھارت کی ساری زبانیں’’ ہند ‘‘میں پیدا ہونے کے سبب ہندی یا ہندوستانی کہلاسکتی ہیں ۔لیکن اگرکنڑ ،بنگلا،ملیالم ،پنجابی وغیرہ سے دیوناگری میں لکھی جانے والی موجودہ’’ ہندی زبان‘‘ مرادلی جائے تویہ سراسرغلط ہوگا ۔

اسی طرح ’’اردو‘‘کوانگریزوںکی سازش اوراپنوںکی عصبیت کے سبب آج تک ’’ہندی‘‘ کہاجارہا ہے اور یہ جھوٹ اتنی بار بولا گیا ہے کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگے ہیں۔ میں یقین کے ساتھ کہتاہوں کہ آج کی ہندی کوئی زبان نہیں تھی۔ جو لوگ برج بھاشا میں شاعری کررہے تھے وہ قطعاً ہندی نہیں تھی ۔جولوگ کھڑی بولی میں ہندی ،اردوئے معلی ،ریختہ وغیرہ ناموں سے شاعری کررہے تھے وہ ’’اردو‘‘ہی تھی جس کوغلط طورپر لشکری زبان کے معنی میں ’’اردو‘‘سے موسوم کیاگیا۔

اردو زبان کے آغاز و  ارتقا کے بارے میں یہ بات سب سے زیادہ معروف و مقبول ہے کہ اردو لشکری زبان ہے۔ اگرچہ ماہرینِ لسانیات نے یہ بات کوئی ایک صدی پہلے ثابت کر دی تھی کہ اردو لشکری زبان نہیں ہے لیکن افسوس کہ آج بھی یہ نظریہ موجود ہے کہ اردو لشکری زبان ہے۔ لشکری زبان کا نظریہ ہے کیا؟اردو کے لشکری زبان ہونے کا نظریہ قیاس آرائی سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ بات ایک بہت بڑی سازش کا حصہ ہے۔اس غلط فہمی کا آغاز میر امن دہلوی سے ہوتاہے تفصیل کے لیے باغ و بہار‘ کا دیباچہ دیکھنامناسب رہے گا۔ حافظ محمود شیرانی نے مکمل تحقیق بعدیہ ثابت کیاہے کہ میر امن کے بعد جن لوگوں نے لفظ اردو اور اردو زبان کے بارے میں اظہار خیال کیا، ان میں سے اکثرنے اردو کے لشکری زبان ہونے کی قیاس آرائی کو الفاظ کے رد و بدل کے ساتھ دہرا دیا ہے۔جب کہ درست بات یہ ہے کہ اردو کے معنی قلعے کے بھی ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح پہلے فارسی قلعہ کی زبان ہونے کی وجہ سے اردومعلی کہلائی ۔ ہندوستانی سے مراد بھی اردو ہی ہے۔ اردو کو یہ نام یورپی ماہرین نے دیا تھا اور اب اس نام کی کوئی زبان دنیا میں وجود نہیں رکھتی۔ اگرچہ وطن عزیز کے بعض دانش ور لفظ ’’ہندوستانی‘‘استعمال کر کے اردو کا تشخص مجروح کرنے اور اردو کو ہندی ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

لشکری اردو کے نظریے کو درست ماننے والے امیر خسرو کو، جن کا انتقال ۱۳۲۵ میں ہوا، اردو کا شاعر مانتے ہیں  پھر اردو کو مغلوں کے دور سے مانناجب کہ مغلیہ دور کا آغاز ۱۵۲۶پانی پت کے میدان میں بابر کی کامیابی سے ہوتا ہے۔اس طرح اردو کا آغاز کم سے کم مغلیہ سلطنت سے دو سوسال قبل امیر خسرو کی شاعری سے تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔ شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کی یہ بات وزن رکھتی ہے :

’’ہماری زبان کے نام کے طور پر لفظ ’اردو‘ کا استعمال اٹھارھویں صدی عیسوی کے ربع آخرسے پہلے نہیں ملتا۔ زبان کے نام کے طور پر اس لفظ (اردو) کی زندگی غالباً ’’زبانِ اردوے معلا ے شاہجہاں آباد‘‘ کی شکل میں شروع ہوئی۔ اور اس سے مراد تھی’’ شاہجہاں آباد کے شہر معلی / قلعہ معلی/ دربار معلی کی زبان۔ ‘‘ایسا لگتا ہے کہ شروع شروع میں اس فقرے سے ہماری اردو زبان نہیں بلکہ فارسی مراد لی جاتی تھی۔

مرورِ ایّام کے ساتھ یہ فقرہ مختصر ہو کر’’ زبانِ اردوے معلی،پھر’’زبانِ اردو‘‘ اور پھر’’ اردو ‘‘رہ گیا۔۲؎

فاروقی صاحب نے ایک اور اہم بات یہ بھی بتائی ہے کہ پہلے لفظ ’’اردو‘‘ سے دہلی کا شہر مراد لیا جاتا  تھا۔ گویا کسی زبان کے نام کی بنیاد پر اس کی تاریخ اور آغاز و ارتقا کا فیصلہ کرنا نہایت گمراہ کن ہے۔ مختصراً یہ کہ اس بات پر تو سب متفق ہیں کہ اردو لشکری زبا ن نہیں ہے اور یہ سنسکرت میں جڑیں رکھتی ہے، پھر پراکرت اور اپ بھرنش کے مرحلوں  سے گزری اور مختلف علاقوں میں مختلف بولیوں کی شکل میں سامنے آئی۔

اردوکو لشکری زبان یا بازار کی زبان ماننے والوں کے سامنے یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ ترکی میں اردو کے معنی قلعے کے بھی ہیں،لشکریوں کے بازارکے بھی اورشاہی خیمے کے بھی اگرلشکری معنوں میں بھی مراد لیں تو جو زبان کسی ملک یا شہرکے بازار میں بولی جاتی ہے وہی اصل عوامی زبان ہوتی ہے اوراس طرح اگراردو کو بازار کی زبان بھی تسلیم کرلیں تویہ تواوربھی اردوکے لنگوافرنکا  ہونے کا بین ثبوت ہے ،کیوںکہ بازارمیں وہی زبان بولی جاتی ہے جو اس ملک کی رائج زبان ہوتی ہے یعنی اردو خالص ہندوستانی زبان ہے۔

یہ بھی واضح رہناچاہئے کہ اگراردوزبان اور اس کے صرف ونحو میں گنتی  کے چندالفاظ سنسکرت کے ملالیے جائیں تووہ اردو ہندی نہیں ہوجاتی ۔اس حیثیت سے اگرجائزہ لیاجائے تو بھارت کے بیشترلوگ اردوہی بولتے اور سمجھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ بالی وڈ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسی زبان کو اپنی ترسیل کا ذریعہ بنانے پرمجبور ہیں ۔ہماے نغمے ، ہماری محبتوں کے اظہار کے وسیلے ، ہمارے ڈرامے ، افسانے یہاں تک کہ اشتہارات تک کی زبان اردوہی ہے ۔یہ اوربات ہے کہ اہل اقتدار  اِسے’’ ہندی‘‘ کہتے ہیں ۔ جبکہ درحقیقت یہ وہی ہندی ہے جو میرتقی میرؔ کی زبان ہے:

کیا جانے لوگ کہتے ہیں کس کو سرورِ قلب

آیا نہیں یہ لفظ توہندی زباں کے بیچ

جیساکہ معلوم ہے ہندی کو آج تک بھارت کی راشٹربھاشا کا درجہ نہیں مل سکاہے ۔لیکن پارلیامنٹ کی ایک سفارش ہے، جس کے مطابق اسے قومی زبان ہونا چاہیے، اکثرخطے خصوصاًجنوبی ہند کی ریاستیں، آسام اوربنگال وغیرہ کے لوگوں نے اسے قومی زبان ماننے سے انکارکردیا جس کے سبب یہ قومی زبان کا درجہ نہ حاصل کرسکی ۔ لیکن اردو کی بات کریں تو  آزادی سے بہت پہلے بلکہ غلامی سے بھی پہلے سے اردوہی وطن عزیز کی لین گوا فرنکارہی ہے یعنی یہی وہ زبان ہے جسے قومی زبان ہونے کا افتخارحاصل ہونا چاہیے تھا۔ لیکن براہو سیاست کا کہ پاکستان کے اکثرحصے میں پنجابی یا دوسری زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن وہاں کی قومی زبان اردو ہوگئی۔ اور وطن عزیز جو اردو کی جاے پیدائش ہے وہاں اِسے صرف مسلمانوں کی زبان کے خانے میں ڈال دیاگیا ۔آج بھی بہت سے اسکولوںمیں بچوں کواردوکی جگہ سنسکرت پڑھانے کا اہتمام کیاجاتاہے ۔ساتھ ہی ناواقفیت کے سبب ہندی کوجگہ جگہ قومی زبان لکھاجارہا ہے ۔

یہ بھی واضح رہنا چاہئے کہ وطن عزیز میں چند خطوں اورخاص لوگوں کے سوا کوئی ہندی نہیں بولتابلکہ بولتے سب اردو ہی ہیں۔ البتہ لکھی جانے والی زبان کسی قدر ہندی کہی جاسکتی ہے اورجو ہندی لکھی جارہی ہے اس میں بھی اکثرکی زبان اردولفظیات سے پُرہوتی ہے۔ گویا ہمارے بھارت ورش میں اردو کو ہی ہندی کہاجاتاہے۔کسی سے پوچھیے کون سی زبان بول رہے ہویا کونسی فلم دیکھ رہے ہواس کا جواب ہوتاہے ہندی!لیکن اگرآپ اس ہندی فلم کے مکالموں کا تجزیہ کریں گے تواسّی سے نوے فی صداردوہی کے الفاظ ہوں گے۔

ہندی والوں نے اخلاقیات اوردیانت داری سب کچھ بالائے طاق رکھ کر اپنی خودساختہ زبان کویا کہیے کہ اردو کو ہندی ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔جس ہندی کا ایک عرصہ تک بالی وڈ کی فلموں میں مذاق اڑتارہا ۔آج اس نے آپ سے نام ، رتبہ اورادب تک چھین لیاہے۔آج اردوکی چیزیں ہندی رسم الخط میں ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہیں ، ملک محمد جائسی اورامیرخسرو وغیرہ پراپنا غلط دعوی جتا کرہندی اپنی تاریخ مکمل کرچکی ہے ۔اگر ان سے کوئی پوچھے کہ ان اشخاص نے جن پر آپ کا دعویٰ ہے انہوں نے کس رسم الخط میں اپنی تحریریں چھوڑی ہیں تو بغلیں جھانکتے نظرآتے ہیں ،بلکہ جس عربی اورفارسی سے انہیں جنم جنم کا بیرہے اسی معرب ومفرس زبان میں تحریر کردہ چیزوں پراپنا دعویٰ پیش کرکے الٹا اردو کو مشکوک بتاتے ہیں۔یعنی موجودہ ہندی جو وجودمیں ہی نہیں آئی تھی دوسری دیسی زبانوں کو اپنی شیلی قرار دے رہی اورجو لوگ دیسی، ہندی یا ہندستانی کے معنی سے واقف نہیں’’ لغت‘‘ میں لفظ کے آگے ہند ی لکھا دیکھ کراسے موجودہ ہندی سمجھتے ہیں۔اس طرح ہندی والوں نے اپنے طور پر اردو کو ہندی ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

سنسکرت اورہندی دونوںکے مورخین نے اپنی تاریخ مرتب کرتے ہوئے قصداً اسے  اغلاط سے پرکیا کیوں کہ یہ دونوں زبانیں یاتوسیاست کی وجہ سے وجودمیں آئیں یابرہمنیت کے سیاسی عزائم اورعلمی رویوں کی امین رہی ہیں جس کے ذریعہ سے ان لوگوںنے عوام کوعلم سے دوررکھ کر اپنی بالادستی قائم رکھی اوردبے کچلے افراد کو شُدر کہہ کر سنسکرت سے دوررکھا۔

میری ان باتوں کی  تائید ہندی کے چوٹی کے تنقید نگارڈاکٹردھرم ویر کی کتاب’’ ہندی کی آتما‘‘میں لکھے ان الفاظ سے ہوتی ہے:

’’ یہ ایک بھرم پھیلایاگیاہے کہ اتربھارت کی سبھی آریہ بھاشائیں سنسکرت سے نکلی ہیں۔نشچت روپ سے یہ سبھی بھاشائیں سنسکرت سے پربھاوت ہوئی ہیں لیکن اس کا ارتھ یہ نہیں ہوجاتاکی سنسکرت ان کی جننی ہے۔۔۔۔۔۳؎

اپنی کتاب کے آغاز میں ڈاکٹردھرم ویر آچاریہ کیشوری داس واجپائی کا صفحہ 17پرہندی کی پیدائش کے بارے میں قول نقل کرتے ہیں کہ:

’’ہندی کی اُتپتی اُس سنسکرت بھاشا سے نہیں ہوئی ہے جو ہمیں ویدوں میں،اُپنشدوںمیں تتھا والمیکی یاکالی داس آدی کے کاوِے گرنتھوںمیں ملتاہے۔۔۔۴؎

آگے صفحہ ۱۷۹ پر لکھتے ہیں:

’’آچاریہ شکل نے اپنے اتہاس کارکے جیون کا سب سے بڑاجھوٹ یہ لکھ کربولاہے کی کھڑی بولی کے چھیترسے لے کراودھی اورمیتھلی پردیش تک کے لوگ ایک دوسرے کی بولی کوسمجھ لیتے ہیں۔کوئی بہوبھاشاوِدھ ہی ہوگا جواس بڑے چھیتر کی بولیوں کو سمجھ سکتاہے ۔سماج کا بھاشائی سچ یہ ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کی بولی کونہیں سمجھ پاتے ہیں۔ایک دوسرے کی بات یہ کھڑی بولی کے مادھیم سے سمجھتے ہیں‘‘۔۵؎

یہ ساری کوششیں کی گئیں تاکہ اپنی قدامت ثابت کی جاسکے ۔جبکہ حقیقت تویہ ہے کہ ہندی انگریزوں سے پہلے اپناوجودبھی مشکل سے ثابت کرسکتی ہے ۔اس کے لیے یہ ضروری تھا کہ جن علاقوں میں فارسی یادیو ناگری رسم الخط میں جوکچھ لکھا جارہا تھا اُسے ایک ادب ثابت کیاجائے لیکن وہیں اردوکواس سے باہردکھا کراپنا وجودظاہرکیاجاتاہے کیونکہ اردوکا نام لینے بھرسے یہ التباس ختم ہوجاتاہے کہ وہ ہندی اصل میں اردوہی ہے۔یہا ں دھرم ویرجسے کھڑی بولی کہہ رہے ہیںوہ دراصل اردوہی ہے۔لیکن ان کا اعتراض معرب مفرس الفاظ پر ہے یعنی اگرمشکل الفاظ کونکال دیاجائے تووہ اردوہی ہے۔جبکہ کسی بھی بڑی زبان کی تین سطحیں ہوتی ہیں۔میری یہ باتیں ڈاکٹرصاحب کی اس بات سے بھی ثابت ہوتی ہیں جیساکہ وہ صفحہ182پر تحریرفرماتے ہیں:

’’آچاریہ رام چندرشکل بہت ہی سبھئے اورسوسنسکرت بھاشاکاپریوگ کرنے والے ودوان اورمولک  شمیک چھک کہے جاتے ہیں لیکن میرے لئے انہوں نے ’’ہندی ساہتیہ کے اتہاس‘‘ میں پہلے ہی گالیاں لکھ دی ہیں۔وہ لکھتے ہیں ’’کھڑی بولی پددے کاجھنڈالے کرگھومنے والے سورگئے بابوایودھیاپرساد کھتری چاروںاورگھوم گھوم کرکہاکرتے تھے کی ابھی ہندی میں کویتاہوئی کہاں سور،تلسی ،بہاری آدی نے جس میں کویتاکی ہے وہ تو’بھاکھا‘ہے ’ہندی‘ نہیں ‘‘۔اس سے آگے وے ٹھیک میرے لیے لکھتے ہیں۔’’ سمبھو ہے اس سڑے گلے خیال کولئے اب بھی کچھ لوگ پڑے ہوں‘‘۔میں بابو ایودھیا پرسادکھتری کے سمان یہ تونہیں مانتاکے پراچین کھڑی بولی میں ساہتیہ کا سیریجن نہیں ہوا ہے ،پرنتو اتنا میں بھی کہہ رہاہوں کی سور،تلسی اور بہاری ہندی بھاشاکے کوی نہیں ہیں۔۔۔۔میں کیول یہ کہناچاہوں گاکہ اودھی اوربرج بھاشاؤں کے روپ میں مہان ساہتیہ کوزبردستی ہندی میں پڑھوانے کی وکالت کرنا ٹھیک نہیں ہے‘‘۔ یعنی یہ ہندی نہیں آگے صفحہ ۱۸۵پرلکھتے ہیں’’اس سمے کھڑی بولی کاساہتیہ جلایاہوانہیں کہاجاسکتالیکن لیکھنی کے چاتوریہ سے یہ کاریہ آچاریہ رام چندرشکل نے اوش کیاہے۔جو کھڑی بولی کا ساہتے تھااسے اردوکہہ ہندی سے نکالادے رکھا ہے۔ اپنا راج ہے ،اپنی مرضی ہے،کسی کوگالی دیں،کسی کا اپمان کریں،جس کوچاہے ساہتے نکالادے دیاجائے،کوئی کہنے سننے والانہیں ہے‘‘۔۶؎

اب میرامن کے اس جملے پرغورکریں آپ پریہ راز پوری طرح واضح ہوجائے گا:

’’کہ اس قصے کوٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو میں جواردوکے لوگ،ہندومسلمان ،عورت مرد، لڑکے بالے ،خاص وعام آپس میں بولتے ہیں،ترجمہ کرو‘‘۔۷؎

اب دیکھے کہ میرامن اورگلکرسٹ جسے اردوکہہ رہے ہیں اسے کون ہندی دیوناگری ثابت کرسکتاہے،سوال یہ ہے کہ میرامن سے گلکرسٹ نے کس علاقے  کے لوگوں کی زبان لکھنے میں باغ وبہارلکھنے کے لیے کہاتھا ؟ سیدھا ساجواب ہے دہلی اورنواح دہلی اوراس سے متصل علاقے یعنی کھڑی بولی سمجھنے اوربولنے والے علاقے ۔

اب میتھلی اور اس کے ادیب ودیاپتی کوہندی کا کہنا کہاںتک درست ہے۔ اب ہندی سے ان کا کیاتعلق۔اسی طرح امیر خسروؔ(۱۲۵۳۔۱۳۲۵) کھڑی بولی یعنی اردو/برج،کبیر داس (۱۳۹۸۔۱۴۹۴) پنچ میل کھچری /سَدُھکڑی/جسے بھوجپوری سے قریب مانا گیاہے البتہ ان کے یہاں کھڑی بولی میں بھی شاعری ملتی ہے،سورداس(۱۴۷۸۔۱۵۸۰)برج بھاشاکے،ملک محمدجائسی (۱۴۷۷۔۱۵۴۲) ٹھیٹھ اودھی،میرا بائی۱۴۹۸۔۱۵۴۶) راجستھانی،گوسوامی تلسی داس(۱۵۳۲۔۱۶۲۳) اودھی اوربرج اوریہ سب مستقل اسی زبان کے شاعرکی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں اوران تمام زبانوں یا  اپ بھرنش زبانوں کا اپنا اپنا ادب ہے نہ کہ وہ ہندی ادب ہے۔

ڈاکٹردھرم ویرصاحب ایک طرف یہ لکھ رہے ہیں کہ کھڑی بولی ہندی تھی دوسری طرف ہندی دیوناگری والوں کا ایک زمانے تک یہ بھی دعوی یا جھگڑارہاہے کہ اس کھڑی بولی میں شاعری نہیں ہوسکتی۔ اس سے ثابت ہوجاتاہے کہ ہندی کوئی زبان تھی ہی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کی زبان اردو ہی تھی لیکن انگریزوں کی سازش سے اردو(ہندی ) کودیوناگری میں لکھ کراسی اردوکوہندی قررادے دیا گیا۔

اصل معاملہ شناخت کا ہے۔ ہندودیو مالائی رویوں کے لیے دیوناگری اورسنسکرت کوزندہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔ بھارت ایک سیکولر ڈیموکریٹک ملک ہے۔ ا س لئے ہرشخص کواپنے تشخص اورمذہبی روایات کوزندہ اوربرقرارکھنے کی سعی کرنے کا حق حاصل ہے ۔ لیکن کسی کوصرف اس کے مذہب کی وجہ سے مغلوب کرنے کی کوشش خصوصا  ًاردوکے حوالے سے نہ صرف وطن عزیزکوپیچھے ڈھکیلناہے۔اس عظیم تاریخ کوبھی رسوا کرناہے جوجنگ آزدی سے وابستہ ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے مغلوں کے طویل دورحکومت میں بھارت کی سرکاری زبان فارسی ہی تھی اسی لیے مسلم غیرمسلم سبھی فارسی اورعربی میں بلاتفریق مذہب وملت علم سیکھتے اوراس زبان پراہل زبان کے جیسی دسترس رکھتے تھے۔ اگر انگریزوں کی آمد سے قبل کا جائزہ لیں تومعلوم ہوتا ہے  کہ یہاں کے طول و عرض میں مختلف خطّوں کے لوگ برج بھاشا میں شاعری کررہے تھے اوراس کا رسم الخط فارسی یادیوناگری ہوا کرتا تھا لیکن وہ ہندی نہیں کہی جاتی تھی۔موجودہ ہندی والوں نے کھڑی بولی میں سب سے پہلے ۱۹۰۳ میں شاعری کی۔ آج بھی ہندی والے اسے قبول کرتے ہیں۔سب سے پہلے ’’سرسوتی پتریکاکے سمپادک ’’مہاویرپرشاد دُوِدی جی نے اپنی پتریکا کے ذریعے لوگوںکواس کھڑی بولی میں شاعری کی طرف رجوع کرایا جس کی مخالفت بھی ہوئی۔جیسا کہ اہل علم پریہ راز اظہرمن الشمس ہے کہ ہندی ،ہندوستانی ، ریختہ ،اردو ئے معلی وغیرہ نام جس زبان کے لیے بولے جاتے تھے وہ اردو ہی تھی لیکن انگریزو ں کی سازش نے غلط طورسے اردوکا نا م ہندی رکھنے کے لیے حالات سازگار کیے اوراردوکا نا م غلط معنی میں لشکری زبا ن کے ہم معنی قراردے دیا۔نتیجتاً اردوکا بہت سا سرمایہ اور اس کا نام چھیننے والوں نے( اردووالوںکی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) اپنے نام کرلیااوراسے ہندی کی تاریخ کا حصہ قراردے دیا۔ اس کے متعلق شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:

’’جب سے انگریز بہادرکی نگاہ کرم اس بات پر پڑی، ا س کے دوست نمادشمنوں کی تعدادبڑھتی گئی ہے۔ انگریزوں نے پہلے توا س کا نام ’’ہندی‘‘سے بدل کر’’ہندوستانی‘‘رکھناچاہا۔جب وہ نہ چلاتوان کی خوش قسمتی سے لفظ ’’اردو‘‘ ان کے ہاتھ آگیا۔۔۔۔جب ہماری زبان کا نام ہندی سے اردو بنا دیا گیا تو انگریزوں کے حمایتی قوم پرست ہندووں کی توجہ زور شور سے اس جانب ہوئی ۔‘‘۸؎

شمس الرحمن فاروقی نے لکھاہے کہ اردومیں بہت سے عربی اورفارسی الفاظ کی آمیزش اوراردورسم الخط میں کم جگہ میں زیادہ الفاظ کھپادینے کی صلاحیت کے باوجودگلکرسٹ نے رسم الخط بدلنے کی سفارش کی اورمیرامن نے باغ وبہارمیں اس زبان کواردو کی زبان قراردیااوریہ کہیں نہیں لکھاکہ یہی وہ زبان ہے جودراصل ہندی کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ایسا لگتاہے کہ یہ کام میرامن نے گلکرسٹ کے ایماپرہی کیاہوگا۔ان واقعات کے بعدانگریزوں کے زیر اثر اردو اور ہندی کی تفریق قائم ہوگئی اورہندی کوہندوؤں کے قومی تشخض کی پہچان کے طورپیش کیا جانے لگا جس کے نتیجے میں کئی افراد جو کل تک اپنے کو اردوداں اوراردوکاخادم مانتے تھے ایجوکیشن کمیشن کے سامنے اپنے کو ہندی والا بتا کر اردوکی تحقیرکی کوشش کرنے لگے ۔اس دورمیں جس طرح کی فرقہ واریت نے رواج پایا اوراس کے بعد’بھارتندوہریش چند‘ وغیرہ نے جس طرح اپنارویہ بدلاوہ ایک سازش کا حصہ تھا ،جس کا برانتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ لوگ اپنی ہی مادری زبان اوراردوکی مٹھاس سے کٹ کردیہی زبان بولنے والوں کی طرح غیرثقہ الفاظ (لغت کے خلاف)بولنے لگے۔ جس کے نتیجے میں انپڑھ اورتعلیم یافتہ کا فرق مٹ کررہ گیا۔

ان تمام وضاحتوں کامقصدہماری مادری زبان کے ساتھ ہونے والے مظالم سے عوام الناس کوواقف کراناہے ۔موجودہ دورمیں اگرہم اپنی شناخت کے ساتھ باقی رہنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں توہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم  اپنی مادری زبان سے کٹ کر دوسروں کی روایتوں کے امین ہوکر، غلامی کی سمت چل نکلے ہیں ۔اپنے شاندارماضی اور خوبصورت زبان وادب سے اپنی نسلوںکومحروم کررہے ہیں۔ایک بہت معمولی مگراہم مثال سے اس پرروشنی ڈالناچاہتاہوں ۔اگر آپ کبھی غورکریں کہ آخر راج کپور،بلراج سا ہنی ،جانی واکر اورآج کے سلمان خاں ،شاہ رخ خاں اورعامرخان ہی کیوں بڑے اسٹارہیں یادلپ کمارکی جگہ کوئی کیوںنہ لے سکا ، توآپ پریہ راز کھل جائے گا کہ دراصل اُن کی تعمیرمیں اردوکلچرکا خمیرپنہاں ہے جوان کی زبان کو مٹھاس عطاکرتاہے۔ اسی لیے دنیاان کوسلام کرتی ہے ۔ورنہ ہمارے معاشرتی نظام میں تعلیم یافتہ اورباشعورشخص بھی اردوکے بغیربورنگ نظرآتا ہے ،جس کا مشاہدہ ہم آپ بہت سے قومی چینلوں پر کرتے رہتے ہیں۔

برطانوی سازش اور ثقافتِ ہندسے ناواقف وطن عزیرکے بہت سے نادانوں کواردو اوراِس کے رسم الخط سے نہ جانے کیادشمنی ہے کہ  ِاس کے سرمائے کو روز اول سے ہی دیوناگری میں منتقل کرکے ہندی قراردینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کا ایک دوروزہ ورکشاپ 15اور16ستمبر 2002کو’’ مہاتماگاندھی انتررشٹریہ ہندی وشوودیالے اورکندریہ ہندی سنستھان آگرہ کے زیر اہتمام ’’اردوکا دیوناگری کرن کے عنوان سے منعقدکیاگیاتھا جس میں اردو کے ممتاز نقادجناب شمس الرحمان فاروقی بھی شریک تھے اس ورکشاپ کے عنوان ’’اردوکا دیوناگری کرن‘‘سے اندازہ کیا جاسکتاہے اس ایک جملے میں کیاکچھ چھپاہے۔یہ عنوان ہی اکثریتی جبر کی وجہ سے رکھا گیا ہے ورنہ ہندی کا فارسی کرن کیوں نہیں؟اس عصبیت کی تفصیل دیکھنی ہوتو شمس الرحما ن فاروقی کے ایک انٹرویوکوبنیاد بناکر فارسی،سنسکرت ،ہندی اور اردوکے عالم اور آئی آئی ٹی دہلی ریاضی کے سابق استاذواگیش شکل کی کتاب’’اردوساہتیہ کا دیوناگری  میں لپی کرن کچھ سمسیائیں کچھ سجھاؤ ‘‘ کا مطالعہ دلچسپ رہیگا۔جو انہوں نے اس سمینار میں پیش کیاتھا۔اس کتاب کا پیش لفظ ہی اس جملے سے شروع ہوتاہے’’’ہندی ‘اور’اردو‘ ایک ہی بھاشاکے دونام ہیں یہ سَرو  سُوی کرت ہویانہ ہو،سرو وِیدت اَوشی ہے‘‘۔۹؎

ترجمہ:’’ہندی ‘اور’اردو‘ ایک ہی زبان کے دونام ہیں اسے سب مانتے ہوں یا  نہ مانتے ہوںلیکن جانتے سب ہیں۔

پوری کتاب میں بہت ہی علمی انداز میں بھرپورحوالوں کے ساتھ اپنی بات کو پختہ کیا گیا ہے کہ دیوناگری ہی ہمیشہ سے اصل تھی لیکن شمس الرحمان فارقی کی یہ بات ہی مناسب ہے کہ :

’’پہلی بات یہ ہے کہ چونکہ ہمارے اپرانڈیامیں،جس کو ہندوستانی کہاجاتاہے، پورانی ہسٹری میں،اس میں ناگری لیپی،سنسکرت براہمن اورجین یہ لوگ استعمال کرتے تھے اوروں کے پاس کوئی لیپی تھی نہیں۔کیا اودھی، کیاپوروی،کیابھوج پوری،کیاماگھدی،کیابندیل کھنڈی، کیابرج۔۔۔ان کے لیے توکوئی لیپی تھی نہیں‘‘۔۱۰؎

اس کتاب کوپڑھ کران افرادکے چہرے بھی بے نقاب ہوتے ہیںجو اردوکواردورسم الخط کے علاوہ مختلف رسم الخط میں لکھنے کی وکالت کرتے ہیں۔ایک طرف ہندی والے ہمارا سرمایہ دیوناگری میں منتقل کرکے اسے موجودہ ہندی قراردیناچاہتے ہیں دوسری طرف خوداردوسے پیٹ بھرنے والے منافقانہ روش کے ذریعہ اس کی قبرکھودنے میں لگے ہوئے ہیں۔شمس الرحمان فاروقی کی تردیدمیں پرچہ پڑھنے کے باوجودمصنف پر ان کا ایسا اثرہواکہ انہوں نے جب اپنے مضمون کوکتابی شکل دی تواس سیمنار کے پرچے کارنگ ہی بدل گیا اوراس کے بعدجو کتابچہ سامنے آیا اس کا عنوا ن تھا’’اردوساہتیہ کا دیوناگری  میں لیپی کرن کچھ سمسیائیں کچھ سجھاؤ ‘‘  یعنی وہ وہاںتوناکام ہوگئے لیکن جس طرح سے ہمارے اوروطن عزیز کے بچے اردوکی جگہ زبردستی سنسکرت پڑھنے پرمجبورہیں اوراسکولوں سے اردوختم کردی گئی ہے یا کی جارہی ہے توکہیں ایسا نہ ہوکہ واقعی بھارت میں اردو دیوناگری میں ہی دستیاب رہے اوراس کے پڑھنے والے بھی اپنے رسم الخط سے بیگانہ ہوجائیں۔اگرچہ اردواوراردورسم الخط کواب کوئی نہیں مٹاسکتا کیوں کہ اس زبان نے تمام سرحدیں عبور کرلی ہیں لیکن اپنے وطن میں بہرحال یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے ۔

ایک اور معاملہ اردولغات میں لکھاجانے والے لفظ ’’لفظ ہندی‘‘ کا ہے۔اگرچہ لغت نگاروں نے لفظ ہندی ہندوستانی ،دیسی اور اردو کے معنی میں لکھا ہے لیکن افسوس کہ اردو کے طلبہ تو طلبہ بہت سے اساتذہ تک اس سے دیوناگری ہندی سمجھتے ہیں اورپھر بیچارے اردو والوں کو لگتا ہے ان کی زبان کاتوئی لفظ اپنا ہے ہی نہیں۔

اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جوزبان ہمارے گردوپیش رائج ہے وہ بُری ہے۔زبانیں توسبھی پیاری ہوتی ہیں،قرآن سے پہلے عربی موجودتھی ،مہاتمابدھ سے پہلے پالی موجودتھی ۔زبانیں اورر نگوں کا اختلاف تواللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے یہ وجہ نزع ہوہی نہیں سکتے۔ اسے مذہب اورعلاقے سے جوڑنے والاکوئی سلیم العقل ہوہی نہیں سکتا ۔زبانیں توسبھی پیداکرنے والے کاعطیہ ہیں لیکن ہمارے ماحول اوررویے کوجوزبان زیب دیتی ہے،جوملک کے طول وعرض کوایک لڑی میں پروتی ہے ،وہ صرف اردوہے۔یہی میری مشترکہ تہذیب ہے جوبرسوں کی کوششوں سے وجودمیں آئی ہے۔جو تمام مذاہب کی مشترکہ روایت ہے ۔یہ کسی مذہب یا سماج کی زبان نہیں کہی جاسکتی ۔اردوہی کیا ؟کوئی بھی زبان کسی مذہب کی نہیں ہوتی ۔مذہبی شخصیات  اسے اپنے پیغام کے لیے استعما ل کرتی ہیں ۔اردوچوں کہ بہت میٹھی،سادہ،سلیس اورمہذب زبان ہے اس لیے مذہبی رہنماؤں نے بھی فلم، ٹیلی ویژن اورریڈیو والوں کی طرح اپنے دعوت وتبلغ  کے لیے اسی اردوکا استعمال کیا۔

کسی کی تاریخ کو اپنی تاریخ بناکرپیش کرنے والے،کسی کی بودباش ،رہن سہن کھان پان اورپہنانوے کواپنا فیشن یاخوبصورتی کا لازمی جزسمجھ کر اختیارکرنے والے ہمیشہ احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں اورتاریخ انہیں کمتراورمٹنے والی قوموں میں شمارکرتی ہے اوراکثر قابل اعتنابھی نہیں سمجھ تی۔

ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اسے قومی زبان کے طورپرمقبول عام بنانے کے لیے ایک پورا لائحہ عمل بنا ئیں اوروقت کے تقاضوں کے مطابق اسے جملہ جدید تکنیک سے لیس کریں ۔

 

 

حوالہ جات:

۱۔  (Ludwig Wittgenstein 26 April 1889- 29 April 1951)

۲۔ شمس الرحمٰن فاروقی :اردو کا ابتدائی زبانہ،  صفحہ ۱۴

۳۔ہندی کی آتما، ڈاکٹردھرم ویر،سمتا پرکاشن ،نئی دہلی ،۲۰۰۲، صفحہ :۱۷

۴۔ہندی کی آتما، ڈاکٹردھرم ویر،سمتا پرکاشن ،نئی دہلی ،۲۰۰۲، صفحہ :۱۷۹

۶۔ہندی کی آتما، ڈاکٹردھرم ویر،سمتا پرکاشن ،نئی دہلی ،۲۰۰۲، صفحہ :۱۸۲

۷۔میرامن: باغ وبہار(قصہ چہار درویش) مقدمہ ص۷، بزم اردو لائبریری  http://www.bazmeurdu.net

۸۔شمس الرحمٰن فاروقی : کچھ اردوزبان کے بارے میں،شب خون، حصہ اول جون تا دسمبر۲۰۰۵ صفحہ نمبر۵۳۶۔۵۳۷)۴۔

۹۔واگیش شکل: صفحہ 3’’اردوساہتیہ کا دیوناگری  میں لیپی کرن کچھ سمسیائیں کچھ  سجھاؤ ‘‘  واڑنی پبلی کیشن دوسرا ایڈیشن 2007)

۱۰۔  ’’وسودھا ‘‘انک 52 اکتوبر۔دسمبر2001(واگیش شکل: صفحہ 7’’اردوساہتیہ کا دیوناگری  میں لیپی کرن کچھ سمسیائیں کچھ سجھاؤ ‘‘ واڑنی پبلی کیشن دوسرا ایڈیشن 2007)

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثاردوزبانقومی زبانمادری زبان
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ادب ،معنی اور معنویت – ڈاکٹر ناصر عباس نیّر
اگلی پوسٹ
فرید خان سے شیر شاہ تک – ڈاکٹر خالد مبشر

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں