Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکر و عمل

فرید خان سے شیر شاہ تک – ڈاکٹر خالد مبشر

by adbimiras نومبر 25, 2020
by adbimiras نومبر 25, 2020 1 comment

فرید خان ملقب بہ شیر شاہ سوری (1486-1545) ولد حسن خان سور کی پیدائش سہسرام بہار میں ہوئی۔ ان کا سلسلۂ حسب ونسب قبیلۂ سور سے ملتا ہے اور وہ جلا ل خان نسب سے تعلق رکھتے ہیں۔1451میں جب لودھی حکومت کا قیام عمل میں آیاتو بہت سے افغان سردار ہندوستان آگئے انہیں سرداروں میں شیر شاہ سوری کے دادا  ابراہیم سوری بھی شامل تھے۔ان کے والد حسن خان کو سکندر لودھی نے سہسرام بہار کا جانگیر دار مقرر کیا۔ بچپن میں سوتیلی ماں کے سوتیلے سلوک سے دل براداشتہ ہوکر گھر سے نکل گئے اور جون پور کے نواب کی ملازمت اختیار کرلی۔ جونپور کے دورانِ قیام میں انھوں نے مختلف علوم وفنون پر دسترس حاصل کی پھر بہار کے نواب بہار خان لوہانی کے ملازم ہوئے وہیں ایک بار نواب کی جان بچانے کے لئے ایک شیر کو ہلاک کردیا ۔ ان کی اس شجاعت سے متاثر ہوکر نواب خان لوہانی نے انہیں شیر خان کے لقب سے نوازا اور اپنے بیٹے جمال خان کا اتالیق مقرر کردیا۔جب مغل سلطنت کے بانی بابر نے لودھیوں کو شکست دے کراپنا اقتدار قائم کرلیاتو شیر خان بابر کے عسکری نظام سے متاثر ہوکر اس کی فوج میں شامل ہوگیا۔ کہا جاتاہے کہ ایک بار شیر خان نے بابر کے دستر خوان سے ان کے سامنے رکھے ہوئے گوشت کو اپنی طرف کھینچا اور تلوار سے ٹکڑے کرکر کھانے لگا، شیر خان کے اس رویے میں بابر کو بغاوت کی بو محسوس ہوگئی اور دھیرے دھیرے جب کشیدگی زیادہ بڑھ گئی تو شیرخان نے بابر کی فوج سے خود کو علاحدہ کرلیا اور پھر بہار واپس لوٹ آیا، وہاں اس وقت نواب خان لوہانی کے بیٹے جمال خان نواب تھے۔انہوں نے دوبارہ وہیں ملازمت اختیار کرلی، لیکن شہزادہ جمال خان ایک نا اہل نواب تھے چنانچہ عملاً زمام کار شیر خان نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔جب شیر خان کا عمل دخل بہت زیادہ بڑھ گیا تو شہزادہ جمال خان نے شیر خان کی سرکوبی کے لئے نواب بنگال محمود شاہ کی مدد لی لیکن شیر خان نے انہیں شکست فاش دے کر مکمل قبضہ جمالیا، اس دوران شیر خان نے چنار کے قلعہ دار کی بیوہ سے شادی کرلی اور یوں قلعۂ چنار ان کے زیر نگیں آگیاجس سے انہیں مزید تقویت حاصل ہوئی۔ 1538 میں مغل بادشاہ ہمایوں نے جب گجرات کا رخ کیا اور اس علاقے کی فتح یابی میں منہمک ہوگیا تو اس دوران شیر خان نے بنگال پر ایسا شدید حملہ کیا کہ نواب بنگال کو صلح پر مجبور کردیااور ان سے کئی خوش حال علاقے اور بھاری رقم وصول کی۔ادھر جب ہمایوں کو خبر ہوئی تو لوٹ کر اس نے بھی شیر خان پر حملہ کیا لیکن شیر خان کی فوج کے سامنے ٹک نہ سکااور واپس لوٹ آیا۔ اب شیر خان ایک مضبوط نواب کی حیثیت سے اپنے اقتدارکی جڑیں جما چکے تھے، لیکن وہ مکمل بادشاہت سے کم کسی اقتدار پر قناعت کس طرح کرسکتے تھے۔چنانچہ دسمبر 1539میں مغل بادشاہ ہمایوں کو شکستِ فاش دے کر دلی پر قابض ہوگئے اور سلطان العادل کا لقب اختیار کرلیا اور اس طرح شیرخان سے شیر شاہ سوری ہوگئے۔  ( یہ بھی پڑھیں  ٹیپو سلطان کی مذہبی رواداری – ڈاکٹر محمد تحسین زماں )

کارنامے:

شیر شاہ سوری کا عرصہ حکومت صرف پانچ سال اور پانچ دن پر محیط ہے۔لیکن اس بات پر تقریبا تمام مشرقی اور مغربی مؤرخین متفق ہیں کہ اتنے کم عرصہ میں جیسا مستحکم فلاحی اور رفاہی نظام شیر شاہ سوری نے قائم کیا، وہ ہندوستان کے بڑے بڑے بادشاہ اشوک، شاہجہاں، اکبر اور اورنگ زیب وغیرہ بادشاہوں کی طویل مدتی حکمرانی کے باوجود ممکن نہ ہوسکا۔شیر شاہ سوری نے چار دانگ سلطنت میں سڑکوں کے جال بچھالیے زرعی اصلاحات ، نظام ڈاک، جرائم کا خاتمہ، سونے ، چاندی اور تانبے کے سکّوں کا اجرا اور قلعہ روہتاس کی تعمیر ان کے عظیم کارنامے ہیں۔

یہاں ذیل میں شیر شاہ سوری کے نظام حکومت کی چند امتیازی خصوصیات پیش کی جارہی ہیں:

سڑکوں کا جال:

شیر شاہ سوری نے دو طویل سڑکو ںکے ذریعہ ملک بھر کو جوڑ دیا:

ایک سڑک آگرہ تا مانڈو (مدراس) بنوائی جس کی لمبائی ساڑھے چار سو کوس یعنی تیرہ سو پچاس کلو میٹر ہے۔

دوسری سڑک جس کی وجہ سے شیر شاہ سب سے زیادہ مشہور ہیں جرنیلی سڑک یا گرینڈ ٹرنک روڈ کہلاتی ہے۔

اس سڑک کا امتیاز یہ ہے کہ موجودہ سیاسی نقشے میں یہ سڑک چار ملکوں سے ہوکر گذرتی ہے۔افغانستان، پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش۔یہ سڑک کابل ، پشاور، لاہور، دلی، الہ آباد، بنارس، مرشدآباد اور کلکتہ ہوتے ہوئے ڈھاکہ تک جاتی ہے۔اس کی لمبائی پندرہ سو کوس یعنی پینتالس سو کلو میٹر ہے۔اس سڑک کی کئی ایسی خصوصیات ہیں جو پانچ سو سال بعد آج کی ترقی یافتہ ٹکنالوجی کے زمانے میں بھی حیرت انگیز ہیں۔ شیر شاہ نے یہ پوری سڑک پختہ بنوائی تھی۔سڑکوں کے دونوں کنارے پھل دار اور سایہ دار درخت لگوائے، ہر تین کوس یعنی نو کلومیٹر پر ایک سرائے اور فوجی چھاونی کا انتظام کیاجہاں کنویں ، مسجد، حفاظتی دستہ، ہندواور مسلمانوں کے لئے دو الگ الگ باورچی خانوں میں لنگر کا اہتمام اور کوس مینار کی تعمیرکروائی۔

انتظامی ڈھانچہ:

شیر شاہ سوری کی حکومت کا ایک امتیاز ان کا منفرداور مستحکم انتظامی ڈھانچہ بھی ہے۔انہوں نے پوری سلطنت کو مختلف صوبوں ، ضلعوں اور تحصیلوں اور پرگنوں میں تقسیم کیا۔کل سیتالیس ضلعے اور ایک لاکھ سولہ ہزار پرگنے بنائے، ہر تحصیل میں ایک شق دار، ایک افسر مال، ایک محتسب، ایک بڑے قاضی اور ایک حساب داں کا تقرر کیا۔ایک پرچہ نویس بھی مقرر تھا جو ہر علاقہ کے حکام کی خبر دیتا تھا۔

زرعی اصلاحات:

شیر شاہ سوری نے پہلی بار زمین کے لئے پٹوار کا نظام قائم کیا، انھوں نے زمین کی پیمائش کرائی۔ اسی حساب سے فصلوں پر مناسب ٹیکس طے کیا۔ لیکن ان کی رعایا پروری کا یہ عالم تھا کہ فصل کی کمی پر ٹیکس معاف کردیا جاتاتھا اور کسانوں کو باضابطہ سرکاری معاوضہ دیا جاتاتھا۔انھوں نے ایک بہتر محصول کانظام بھی قائم کیا۔

ڈاک کا نظام:

شیر شاہ سوری وہ پہلے ہندوستانی حکمراں ہیں جنھوں نے باضابطہ نظام ڈاک قائم کیا، اس کا طریقہ یہ استعمال کیا کہ جگہ جگہ ڈاک چھاؤنی بنائی اور وہاں تازہ دم تیز رفتار گھوڑوں کے ساتھ ڈاکیے مقرر کیے۔

انسداد جرائم:

شیر شاہ سوری نے چوری ، ڈاکہ زنی اور قتل وخون وغیرہ جرائم کے سد باب کے لئے ایک منظم اور سخت حکومتی مشنری قائم کی۔اس کے لئے انھوں نے ہر علاقے میں ایک مقدم بحال کیا جس کے ذمہ ڈاکہ زنی اور قتل وغیرہ کی سراغ رسانی کا کام تھا۔اس سلسلے میں مؤرخین نے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے کہ اٹاوہ علاقے سے ایک قتل کا مقدمہ ان کے سامنے پیش کیا گیا،لیکن قاتل نا معلوم تھا۔ شیرشاہ سوری نے اٹاوہ کے شق دار کو حکم بھیجا کہ مقام قتل کے قریب کا کوئی درخت کٹوایا جائے اور جو سرکاری عامل اسے روکنے کے لئے آئے اسے میرے پاس حاضر کردیا جائے ، چنانچہ جب اس پر عمل ہوا تو درخت کاٹنے پر روکنے کے لئے آگے آنے والے مقدموں اور معتبروں کو شیر شاہ کے دربار میں پیش کیا گیا تو انھوں نے ان سے دریافت کیا کہ تمھیں تو ایک درخت کے کٹنے کی اطلاع ہوگئی لیکن کسی انسانی گردن کے کاٹنے والے قاتل سے تم بے خبر رہے۔لہٰذا قاتل کے عدم سراغ کی صورت میں تمھیں قتل کردیاجائے گا۔چنانچہ اس کے نتیجے میں تین دن کے اندر قاتل کو دربار میں حاضر کردیا گیا۔

نظام عدل:

شیر شاہ سوری نے عنانِ اقتدار سنبھالتے ہی سلطان العادل کا لقب شعوری طور پر اختیار کیا تھا اور انھوں نے اپنی تمام مدتِ حکومت کے دوران اس کا بے مثال عملی نمونہ بھی پیش کیا۔انھوںنے اپنے دربانوں کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ لیل ونہار کے کسی بھی لمحے میںاگر کوئی فریادی آجائے تواسے مجھ سے ملنے کی اجازت دے دی جائے۔چنانچہ تاریخ کی کتابوں میں اس حوالے سے عجیب وغریب واقعہ بیان کیا گیاہے۔ مشہور انگریز مؤرخ الفنسٹن نے بھی لکھا ہے کہ ایک بار شیر شاہ سوری کا بیٹا عادل خان ہاتھی پر سوار ہوکر آگرے کی کسی گلی سے گذر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک چہار دیواری کے اندر برہنہ بدن نہاتی ہوئی خوبصورت ہندو عورت پر پڑی تو اس نے اس کو چھیڑتے ہوئے اس پر پان کا بیڑہ پھینک دیا ۔ وہ ہندو عورت بہت حساس اور حیا دار تھی۔ دل برداشتہ ہوکر خود کشی پر آمادہ ہوگئی۔ اس کے شوہر نے بمشکل اس کو روکا اور اپنی فریاد لے کر شیر شاہ سوری کی دربار میں پہنچ گیا۔شیر شاہ سوری نے جب اپنے بیٹے کی یہ حرکت سنی تو جلال میں آگئے اور حکم دیا کہ اس ہندو مہاجن کو ہاتھی پر سوار کرکے عادل خان کے گھر کی طرف روانہ کیا جائے اور عادل خان کی بیوی بھی برہنہ بدن ہوکر اپنے آنگن میں نہائے اور یہ مہاجن اس پر پان کا بیڑہ پھینکے۔یہ فیصلہ سن کر دربار میں ہلچل بپا ہوگئی۔ تمام درباریوں نے شیر شاہ سوری کو شاہی خاندان کے ناموس کا حوالہ دیا۔ اس پر شیر شاہ سوری نے جواب دیا کہ کیا ہندو مہاجن کی کوئی عزت نہیں ہے۔شیر شاہ سوری کے اس عدل وانصاف کو دیکھ کروہ ہندو مہاجن اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے خود بادشاہ سے فریاد کرکے اپنا مقدمہ واپس لے لیا۔

سکہ کا اجرا:

شیر شاہ سوری کا ایک کارنامہ سونے چاندی اور تانبے کے سکّے کا اجرا بھی ہے۔انھوں نے اس کے لئے پہلی بار روپے کی اصطلاح وضع کی جو کہ آج تک ہندوستان ، پاکستان اور انڈنیشیا میں رائج ہے۔

عسکری نظام:

شیر شاہ سوری بنیادی طور پر ایک بہادر سپاہی، سپہ سالار اور جرنیل تھے۔ اپنی اسی صلاحیت کی بنیاد پر ایک معمولی درباری ملازم سے ترقی کرتے کرتے ایک عظیم سلطنت کی داغ بیل ڈالی۔ان کی پوری زندگی بغاوتوں اور جنگوں میں گذری۔ انھوں نے ایک مضبوط فوجی قوت پیدا کرلی، وہ اپنی فوج کو باقاعدہ نقد تنخواہ دیتے تھے۔ عہد شیر شاہ میں قلعۂ روہتاس کے جنگی حصہ میں چالیس ہزار پیدل اور تیس ہزار فوج مع سازوسامان موجود ہوتی تھی۔فوجی اور سرکاری گھوڑوں کو چوری سے محفوظ رکھنے کے  لئے باضابطہ داغنے کا سلسلہ شروع کیا۔

قلعہ روہتاس:

شیر شاہ سوری  کے اہم کارناموں میں قلعۂ روہتاس کی تعمیر بھی شامل ہے۔یہ قلعہ پوٹھوہار اور کوہستانِ نمک کے درمیان واقعہ ہے۔اس کے اطراف نالہ کس، نالہ گھان، گہری گھائیاں اور گھنے جنگلات ہیں۔ اس قلعے کی تعمیر کا مقصد مغلوں کی حمایت کرنے والے گکھڑوں کی سرکوبی تھا۔یہ قلعہ اپنے فنِ تعمیر ، استحکام، ہیبت و سطوت اور صلابت میں شاہ کار ہے۔اینٹوں اور چھوٹے پتھروں کے بجائے اسے بھاری بھرکم پتھروں سے تیار کرنے کے لئے تین لاکھ مزدوروں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ اس زمانے میں اس پر چونتیس لاکھ پچیس ہزار روپیے کا صرفہ ہوا جو کہ آج کے حساب سے اربوں روپیے ہوتے ہیں ۔ قلعہ کا رقبہ چار سو ایکڑ تک پھیلا ہوا ہے۔اس میں بارہ بلندو بالا دروازے ہیں۔

اپنی عظیم عسکری ، انتظامی، فلاحی اور رعایا پرور خصوصیات کا حامل ہندوستان کا یہ عظیم بادشاہ 22 مئی1545 کو کالنجر قلعہ میں بارود کے پھٹنے سے جاں بحق ہوگیا۔ لیکن اپنی بے پناہ صلاحیتوں کی بنیاد پر رہتی دنیا تک کے لئے مثالی حکمرانی کا ایک تابناک نقش چھوڑ گیا۔

 

       اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو

      جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی۔۲۵

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثشیر شاہ سوری
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اردو: قومی /مادری زبان – ڈاکٹر محمد آدم
اگلی پوسٹ
عورتوں کے ساتھ انصاف کیجئے! – ابو بکر

یہ بھی پڑھیں

حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –...

جنوری 20, 2025

کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

اکتوبر 8, 2024

حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی...

اکتوبر 7, 2024

نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام...

جولائی 23, 2024

مفتی عزیز الرحمن شاہدؔ چمپارنیؒ (یادوں کے چراغ)...

مئی 30, 2024

توقیتِ  علامہ محمد اقبال – پروفیسر محسن خالد...

مئی 29, 2024

تو نے اے خیر البشرؐ انساں کو انساں...

ستمبر 26, 2023

اور سایہ دار درخت کٹ گیا – منہاج الدین...

فروری 22, 2022

ابّو جان (شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس بارہ...

فروری 22, 2022

 مولانا عتیق الرحمن سنبھلی – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

فروری 15, 2022

1 comment

دلی کے بزرگ دوست:سلیم شیرازی- ڈاکٹر عمیر منظر - Adbi Miras نومبر 30, 2020 - 6:30 شام

[…] فکر و عمل […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں