عصر کے وقت منتظمِ مسجد بھائی شکیل نے کہا کہ نماز کے بعد آپ کو ایک نکاح پڑھانا ہے _ میں نے تعمیل کا وعدہ کرلیا _
خطبۂ نکاح پڑھنے کے بعد میں نے سورۂ الأحزاب : 70 کی روشنی میں مختصر تذکیر کی :
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا ۞
” اے ایمان لانے والو ! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو _”
میں نے کہا کہ اس آیت میں اللہ سے ڈرنے اور زبان کا درست استعمال کرنے کا حکم دیا گیا ہے _ زبان کی سلامتی ، درستی اور پاکیزگی پر خاندان کی خوش گواری کا دارومدار ہے _ اگر شوہر بیوی کے ساتھ ، بیوی شوہر کے ساتھ ، ساس سسر بہو کے ساتھ ، بہو ساس سسر کے ساتھ ، نند بھابھی کے ساتھ ، بھابھی نند کے ساتھ ، اسی طرح دیگر رشتے دار ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کریں ، اچھی طرح پیش آئیں اور خاص طور پر زبان کو قابو میں رکھیں تو ان کے درمیان شکایات پیدا نہیں ہوں گی اور تلخیاں سر نہیں ابھاریں گی ، بلکہ وہ خوشی و مسرّت کے ساتھ زندگی گزاریں گے _ ( یہ بھی پڑھیں لڑکی کی پیدائش میں عورت کا کردار – ڈاکٹرمحمدرضی الاسلام ندوی )
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے زبان کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے _ ایک مرتبہ آپ نے ایک صحابی کو دین کی بنیادی باتیں بتائیں ، پھر زبان پکڑ کر فرمایا : ” سب سے اہم بات یہ ہے کہ اِس کو قابو میں رکھو _” صحابی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم جو کچھ زبان سے نکالتے ہیں ، کیا اس کا بھی حساب ہوگا؟ آپ نے فرمایا :
وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ ".(ترمذی :2616)
” لوگ جہنم میں اوندھے منھ اپنی زبانوں کی کاشت کی وجہ سے ہی گرائے جائیں گے _
ایک مرتبہ آپ نے صحابۂ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا :
مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ ".(بخاری :6474)
"جو شخص مجھے دو چیزیں کی ضمانت دے ، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں _ ایک اس چیز کی جو دو جبڑوں کے درمیان ہے، (یعنی زبان) اور دوسری اس چیز کی جو دو ٹانگوں کے درمیان ہے ، (یعنی شرم گاہ) _”
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو ام المؤمنين حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بہت زیادہ محبت تھی ، لیکن ایک مرتبہ ان کی زبان سے ایک نامناسب لفظ نکل گیا تو آپ نے بہت سخت الفاظ میں تنبیہ کی _ فرمایا :
لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ (أبو داؤد :4875)
” تم نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اگر اسے سمندر میں گھول دیا جائے تو اس کا پانی بھی کڑوا ہوجائے _”
قابلِ مبارک باد ہیں وہ لوگ جو اپنی زبان کو قابو میں رکھتے ہیں _ وہ ان سے آگ نہیں اگلتے، بلکہ پھول برساتے ہیں ، طنز و تعریض کے تیر نہیں چلاتے ، بلکہ پیار و محبت کے نذرانے پیش کرتے ہیں _ ایسے لوگوں کی عائلی زندگی خوش گوار گزرتی ہے اور سماج میں بھی انہیں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] اسلامیات […]