شعری اصناف میں قصیدہ کو علوئے مضامین،شوکت الفاظ، نادرتشبیہات، استعارات ، علامات اور صنائع وبدائع کی وجہ سے امتیاز اور انفرادیت حاصل ہے۔دنیا کی بیشتر زبانوں میں قصیدے کی روایت رہی ہے۔عربی،عبرانی، فارسی،اردو، ترکی،کردی، پشتو، پنجابی، سندھی،ملائی، سواحلی اور دیگر زبانوں میں قصیدے لکھے جاتے رہے ہیں اور ان کے انتخابات بھی شائع ہوچکے ہیں جن سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مختلف زبانوں کے قصیدوں کے موضوعات اور اسالیب میں کتنا اشتراک وافتراق ہے۔ Stefan Sperl اورChristopher Shackle نے ایسا ہی ایک جامع کثیر لسانی انتخاب Eulogy’s Bounty Meaning’s Abundanceکے عنوان سے کیا ہے۔
مشرقی زبانوں ، خاص طورپر عربی،فارسی ،اردومیں قصیدے کی ایک مربوط اور مسلسل تاریخ رہی ہے اور اس صنف سے دیگر اصناف نے کسب نوربھی کیا ہے۔اس صنف کی مرکزیت مسلم ہے کہ اسی سے کئی دوسری صنفیں وجود میں آئی ہیں۔ قصیدوں کو آج بھی اہمیت اور وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور قصائد کے حوالے سے کتب اور تنقیدی مقالات بھی لکھے جاتے رہے ہیں ۔قصیدے کی شعریات ، لفظیات اور دیگر تلازمات پر بھی کتابیں شائع ہوتی رہی ہیں۔مگر بیشتر زبانوں میں’ قصیدہ تنقید‘ کی روایت زیادہ مضبوط اور مستحکم نہیں ہے۔
عربی اور اردو زبانوں میں قصائد پرکئی اہم کتابیں ہیں۔عربی میں جو کتابیں اس تعلق سے قابل ذکر ہیں ان میں شرح المعلقات السبع ( حسین بن احمد بن حسین)،الشعر الجاہلی وقضیۃ التفسیر ( السید فضل) ، الرحلہ فی القصیدۃ الجاہلیۃ ( وہب رومیہ) ، صورۃ المراۃ العربیہ فی السبع الطوال(عبدالمنعم احمد یونس) المراۃ فی الادب الجاہلی( السیوطی عصام)، اوراردو میں ڈاکٹر محمود الٰہی(اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ)، ڈاکٹر ابومحمد سحر(اردو میں قصیدہ نگاری)، ڈاکٹر ام ہانی اشرف( اردو قصائد کا سماجیاتی مطالعہ) اور ایم کمال الدین(قصیدہ کا فن اور اردو قصیدہ نگاری) کی کتابیں قابل ذکرہیں اور ان میں بعض کتابوں کو قصیدے کے باب میں حوالہ جاتی حیثیت بھی حاصل ہے، اس کے علاوہ اردو کے دیگرناقدین نے بھی قصیدے کی صنفی شناخت، اجزائے ترکیبی اور آغاز وارتقاء کے حوالے سے لکھاہے۔ امداد امام اثر جیسے ناقد نے اپنی کتاب’کاشف الحقائق ‘معروف ’’بہ بہارستان سخن‘‘ میں مختلف اصناف سخن پر گفتگو کرتے ہوئے اردو اور عربی قصیدہ پر بھی خامہ فرسائی کی ہے،لیکن ان کتابوں کے باوجود قصیدے پرکوئی مربوط اور منضبط تحقیق وتنقید نہیں ملتی۔ صرف انگریزی زبان ہی ہے جس میں عربی قصائد کے متنی وثقافتی معیارات اورمختلف جہات کا احاطہ کرتے ہوئے کتابیں لکھی گئی ہیں اور ان کتابوں میں قصیدوں پر منطقی اور معروضی انداز میں عالمانہ بحث بھی کی گئی ہے۔خاص طورپر لندن قصیدہ کانفرنس (1993)میں علمی، تحقیقی اور تنقیدی مقالات پیش کیے گئے تھے ،انھیں Stefan Sperlاور Christopher Shackl نے Qasida Poetry in Islamic Asia and Africa کے عنوان سے مرتب کیا ہے جس میں مختلف ممالک کے اکیس دانشوروں کی تنقیدی تحریریں شامل ہیں اور ان ناقدین نے قصیدے کی ابتدائی شکلوں، ارتقائی صورتوں اورعہد کے اعتبارسے بدلتی کیفیتوں کے حوالے سے بحث کی ہے ۔انگریزی میں عربی زبان وادب کے حوالے سے ایسے مطالعات بھی کیے گئے جن سے عربی شاعری اور نثر کے بہت سے نئے زاویے سامنے آئے ہیں۔خاص طورپر سبع معلقات پر مرکوز کئی اہم تنقیدی مطالعات ہیں جن سے سبع معلقہ کے قصائد کی تفہیم وتعبیر کی نئی طرفیں کھلی ہیں۔سبع معلقہ کے تراجم مع تشریحات وتعلیقات بھی پیش کیے گئے ہیں جن میں A J Arberry کی The seven Odes، سرولیم جونس کی The Mu’allaqat or seven Arbian poemsاور ایف ای جونسن کی The seven Poems اور Lady Anne Blunt & W.S . Bluntsکی The Seven Golden Odes of Pagan Arabiaقابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ عربی قصائد کے حوالے سے عربی ادب کے لیے مخصوص انگریزی مجلات میں بھی کئی عالمانہ نوعیت کے فکر انگیز مقالے لکھے گئے ہیں جن میں دورجاہلی کی شاعری ، ثقافت اور سائیکی پر مبسوط گفتگو ملتی ہے اور وہاں کے بدویانہ طرز احساس اور اندازِ اظہار پر مدلل اور معقول طریقے سے بحث کی گئی ہے اورمعلقات کے حوالے سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ معلقات عرب کا دیوان ہے اور وہ ان کے ماضی کا اجتماعی حافظہ اور ان کے حسن وعشق ، جنگ وجدال اور فخرو مباہات کا موثربیانیہ بھی ہے۔ ماقبل اسلام کے سات قصائد کے جمالیاتی اور لسانیاتی معیارات کے حوالے سے بہت سی نئی جہتیں بھی تلاش کی گئی ہیں۔
سبع معلقات کی تہذیبی ولسانی معنویت اور عربی قصائد کی اہمیت عصر حاضر میں بھی مسلم ہے کیونکہ ان قصائد کے ذریعے ماقبل اسلام کے عرب کی مکمل سماجی اور ثقافتی تصویر سامنے آتی ہے اور ان کے لسانی اور فکری امتیازات کے نقوش بھی واضح ہوتے ہیں۔ دورجاہلی کی شاعری میں پوشیدہ تہذیبی اشارات ولسانی تصورات کو محققین اور دانشوران نے دریافت کیا ہے مگر اردو تنقیدعربی قصائد کے حوالے سے اس طرح کے جامع ،مرکوز مباحث اور میٹا ڈسکورس سے محروم ہے۔جب کہ عربی قصائد کاتجزیاتی مطالعہ سماجیات، عمرانیات، اقتصادیات ،حیوانیات اور شکاریات کے علاوہ جغرافیہ،تمدن، تانیثیت اوراسلوبیات کے حوالے سے بھی کیاجاسکتاہے اور بین علومی طریق کار اختیار کرکے عربی قصائد کی معنویت اور اس کے تفہیمی کینوس کو بھی وسیع سے وسیع تر کیا جاسکتا ہے ۔
قصائد کے وسیع ترتناظر میں دیکھا جائے تو ڈاکٹریوسف رامپوری کی اس تحقیقی کتاب ’’اردو اور عربی کے اہم قصیدہ گو شعرا‘‘ کی اہمیت اور معنویت بہت بڑھ جاتی ہے کہ انھوں نے عربی اوراردو قصائد کے پورے سرمایے کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے بہت سے اہم نکات اورجہات کی طرف اشارے کیے ہیں، عربی اور اردو قصائد کے کینن، اشتراکات اورافتراقات پر بھی نظر ڈالی ہے۔ موضوعاتی اور ہیئتی سطح پر جو تبدیلیاں عہد بہ عہد رونما ہوتی رہی ہیں ان کا بھی جائزہ لیا ہے ۔عربی قصائد کا انھوں نے براہ راست مطالعہ کیا ہے اور اس زبان سے وابستہ اہم قصیدہ نگاروں کے شعری متون کو انھوں نے پیش نظر رکھا ہے، اسی لیے عربی قصائد کے تعلق سے ان کی تحقیقات ، اکتشافات اور معروضات بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ انھوں نے یہ واضح کیا ہے کہ عربی میں قصائد کی مضبوط اور مستحکم روایت رہی ہے اور یہی قصائد ہیں جن سے کلاسیکی عربی شاعری کی عظمت کا پرچم پوری دنیا میں بلند ہوا، ان میں سات قصیدے ایسے ہیں جو آج ہمارے تنقیدی ڈسکورس کا بھی حصہ ہیں۔انھیں ’معلقات‘ کہا جاتاہے کیونکہ یہ خانہ کعبہ کی دیواروں پر آویزاں کیے گئے تھے۔علامتی طورپر یہ ’ مذہبات‘ سے بھی موسوم ہیں کہ یہ سونے کے پانی سے لکھے جاتے تھے۔ان معلقات کے مرتب حماد الراویہ ہیں۔ان کی تعداد سات بتائی جاتی ہے مگر بعد میں کچھ اور شعراء بھی معلقات میں شامل کیے گئے۔معلقات کے شعرا ء میں امراؤ القیس، لبید بن ربیعہ، زہیر بن ابی سلمیٰ،طرفہ بن العبد، عمرو بن کلثوم، عنترہ بن شداد العبسی اور حارث بن حلزہ ہیں جن کے معلقات کے ترجمے بیشتر زبانوں میں ہوچکے ہیں جن میں اردو بھی شامل ہے۔اردومیں امیر حسن نورانی نے سبع معلقات کا ترجمہ کیا ہے جو ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی جیسے مؤقر ادارے سے شائع ہوا۔اردو میں عربی زبان وادب کی تاریخ وثقافت کے حوالے سے لکھی گئی کتابوں اور تحریروں میں بھی عربی قصائد کی تفصیلات اور تشریحات ملتی ہیں۔
ڈاکٹر یوسف رامپوری نے عربی کے جن قصیدہ نگاروں کو اپنے تحقیقی مقالے میں شامل کیا ہے ، ان میں بیشتر ایسے ہیں جنھوں نے عربی قصائد کو نشانات امتیاز عطا کیے ہیں۔ان میں امراؤ القیس ایک ایسا نام ہے جن کا شمار فحول الشعرا میں ہوتاہے ،اس سے دوسری زبانوں کے لوگ بھی واقف ہیں اور مختلف زبانوںمیں اس کی شاعری کے ترجمے بھی ہوچکے ہیں ۔امرائو القیس بادشاہ زادہ تھا ۔اس کا طرز حیات شاہانہ تھا۔اس کے والد اسے بادشاہ بنانا چاہتے تھے مگر اس نے بادشاہت پر عاشقی ، عیاشی اور آوارگی کو ترجیح دی۔وہ اپنے باپ کے منع کرنے کے باوجود شہوانی جذبات کو برانگیختہ کرنے والی شاعری کرتا رہا جس کی قیمت اسے چکانی پڑی۔گھوڑے کی تعریف، شہوت انگیزشاعری اور عورتوں سے ہیجانی گفتگو اس کامرغوب ترین مشغلہ تھا مگر اس کی شاعری میں حسن و عشق کی فطری عکاسی ملتی ہے۔ وہ محبوبہ کے کھنڈرات پر رونے والا پہلا شخص اور شاعرتھا ۔اس کے قصیدے کا پہلاہی شعر ہے:
قفا نبک من ذکریٰ حبیب ومنزل
بسقط اللویٰ بین الدخول فحومل
شاید اسی کی وجہ سے قدیم عربی شاعری میں ’الوقوف علی الاطلال‘ کی بنیاد پڑی اوراسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیگر شعرا بھی ’اطلال‘ پر آنسو بہاتے رہے۔امراؤ القیس کا یہ’ استقاف‘ عربی شاعروں کے لیے زبردست محرک ثابت ہوا اورشاعروں نے ویران کھنڈرات کواپنی شاعری میں آباد کردیا اور ’اجڑے دیار‘کو ابدی زندگی عطاکردی۔اس کی تفصیلHassanaly Ladhaکے مضمونAllegories of ruin میں دیکھی جاسکتی ہے۔اردو داں طبقہ بھی کلام سے نہ سہی ، نام کی حد تک امراؤ القیس سے ضرور واقف ہے۔یوسف رامپوری نے امراؤ القیس کے مکمل کوائف کے ساتھ ان کے شعری خصائص اور امتیازات پر روشنی ڈالی ہے۔انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ امراؤ القیس نے جن الفاظ اورفطری تشبیہات کا استعمال کیا ہے، ان کی نظیر آج کے ترقی یافتہ دورمیں بھی نہیں ملتی۔ان کی تشبیہات میں جدت وندرت ہے ۔امراؤ القیس جیسا کلاسیکی شاعر آج کے جدید عربی شعراء کے وجدان کابھی حصہ ہے۔ان سے جدید عربی شاعروں کا ذہنی، جذباتی اور تخلیقی رشتہ ہے اور ان کے تتبع اور تقلید میں بھی شاعری کی جارہی ہے۔ Suneela Mubayiنے ذو لسانی مجلہ ’’الابحاث‘‘ میں شائع اپنے مضمون ’’My body is my language: A selective study of the traces of Imru al Qays in modern Arabic poetry”میں محمود درویش، سعدی یوسف، سرکون بولص کو مرکز بناکر بہت عمدہ گفتگو کی ہے۔
زہیر بن ابی سلمیٰ کلاسیکی عربی ادب کا ایک اہم نام ہے۔ممتاز خانوادے سے اس کا تعلق تھا ، وہ صاحب جاہ وحشمت تھا اور حسن اتفاق یہ ہے کہ زہیرکے والد اور بیٹے دونوں ہی شاعر تھے۔زہیر بن ابی سلمیٰ کے قصیدے زیادہ تر ناصحانہ انداز کے ہیں۔وہ شعرگوئی میں عجلت پسند نہیں تھے، بلکہ اپنے اشعار کو دم پخت کرتے تھے، اسی لیے ان کے قصائد کو’ حولیات‘ بھی کہا جاتاہے۔ زہیر اتنا اہم شاعر ہے کہ اس کے قصیدوں کے ترجمے انگریزی زبان میں بھی ہوئے۔F.E Johnsonاور W.A Cloustonنے اس کی شاعری کے ترجمے کیے ہیں۔محمد قاسم جنیدی اور ارشاد احمد نے زہیر بن ابی سلمی کے خصوصی حوالے سے ایک وقیع مقالہ Ethical and moral virtues in the poetry of pre Islamic era کے عنوان سے لکھا ہے۔ یوسف رامپوری نے زہیر کی شاعری کی مختلف جہات پر مبسوط بحث کی ہے اور میمیہ قصیدے کو مرکز بناکر اس کی شعری جمالیات پر روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ زہیر نے سراپا نگاری اورمدح کے باب میں کمال ہنر کا ثبوت دیا ہے اور دورجاہلیت میں روشن خیالی کی باتیں کی ہیں ۔تشبیب میں وہ بھی امراؤ القیس کی طرح ام اوفیٰ کے گھر کے نشانات پر آہ وبکا کرتا ہے اور مقام دراج اور متثلم کا ذکر کرنا نہیں بھولتا۔
طرفہ بن العبد ایک درباری شاعر تھا۔ اس کی زندگی بہت ہی عسرت میں گزری مگر عورتوں کے ساتھ اس کی عیاشی اور شراب نوشی نہیں چھوٹی ۔اس کی شاعری میں بھی اسی کی عکاسی ملتی ہے۔ان کی شاعری میں یوسف رامپوری نے ندرت تشبیہ اور رفعت تخیل کو تلاش کیا ہے اور طرفہ کی محبوبہ خولہ کے اجڑے دیار کا بطور خاص تذکرہ کیا ہے۔
لبید بن ربیعہ کا شمار مخضرمی شعرا میں ہوتا ہے۔ان کی شاعری کا شورشہرہ پورے عرب رہا۔ان کی شاعری میں بین قبائلی تنازعات پر زیادہ اشعار ملتے ہیں ۔انھوں نے بھی جاہلی ریت کا تتبع کرتے ہوئے اپنی محبوبہ نوارکے کھنڈرات اور اپنی عیش کوشی کا تذکرہ کیا ہے۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس شعر کی تعریف کی ہے :
الا کل شیئی ماخلا اللہ باطل
وکل نعیم لامحالۃ زائل
(اللہ کے سوا ہر شے باطل ہے اور ہر آسائش زائل ہونے والی ہے)
لبید کی شاعری کی شاعری کے بھی کئی زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں۔ انگریزی میں ان کی شاعری کاترجمہ ، تشریح اور تعارف William R Polk نے کیا ہے۔
عنترہ بن شدادالعبسی ایک بہادردلیر شاعر تھاجس نے اپنی شجاعت ،فروسیت اور بہادری کا ذکر اپنے قصیدے میں بھی کیا ہے ۔ صحرائی زندگی کے حوالے سے اس کی شاعری بہت اہمیت کی حامل ہے۔ عنترہ نے محبت اور جنگ کی شاعری کی ہے۔اپنی عم زاد عبلہ بنت ملک سے محبت کے باب میں اسے اتنی شہرت ملی کہ اس کے رومانی قصے حافظہ کا حصہ بن گئے اور اس کی محبت پر فلمیں اور سیریل بنائے گئے ۔مغامرا ت عنترہ کی شہرت دیار عرب تک محدود نہیں تھی بلکہ پوری یورپی دنیا میں اس کی محبت کا شہرہ ہوا ۔Etienne نے سیرت عنترہ بن شداد کا ترجمہ کیا ہے اور ڈائنا نے Antar and Ablaکے عنوان سے کتاب تحریر کی ہے ۔عنترہ کے رومانس کی پینٹگس بھی بنائی گئی ہیں۔ وہ بھی اپنی محبوبہ کے دیار کو یاد کرتا ہے ۔اس نے اپنی محبوبہ عبلہ کے ساتھ اس کے مقام ’جوا‘ کا ذکر کیا ہے ۔
اعشیٰ قیس ضعیف البصرتھا مگر اس نے بھی امراؤ القیس ہی کی طرح قصیدے لکھے ہیں۔ اس کے یہاں بھی وہی بے حجابی اور بے باکی ہے جو امراؤ القیس کا شیوہ رہا ہے، خاص طورپر وصف شراب کے باب میں اس کا جواب نہیں۔صوتی اثرات(Sound effects)کی وجہ سے اس کی شاعری بہت مقبول رہی ہے۔اعشی قیس کے تعلق سے یوسف رامپوری نے بڑی اہم بات یہ لکھی ہے کہ اس کی شاعری میں صرف عربی کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ دوسری زبانوں کے الفاظ بھی ملتے ہیں، اس نقطۂ نظر سے اس کی شاعری اس زمانے کے دوسرے عرب شعرا سے ممتاز ہوجاتی ہے۔کیونکہ اس عہد کے عرب شعرا کی شاعری میں دوسری زبانوں کے الفاظ کا استعمال نہیں ملتا۔
حسان بن ثابت کی شناخت شاعراسلام کی حیثیت سے ہے۔انھوں نے اسلام کے دفاع میں بہت سے قصیدے کہے اور اسلام مخالف پروپیگنڈے کا دندان شکن جواب دیا۔ یہ وہی شاعر ہیں جن کے حق میں حضورؐ نے دعا فرمائی تھی کہ اللہم ایدہ بروح القدس۔ ان کے بہت سے مدحیہ قصائد مشہور ہیں ۔انھوں نے دورجاہلیت میں بھی اچھی شاعری کی اور زمانۂ اسلام میں بھی اپنی شاعری سے لوگوں کو مسحور کیا۔ان کے یہ نعتیہ اشعار زبان زد ہیں:
واحسن منک لم ترقط عینی
واجمل منک لم تلدالنساء
خلقت مبرئا من کل عیب
کانک قد خلقت کماتشاء
(میری آنکھ نے آپ سے بہتر کوئی ذات نہیں دیکھی۔کبھی عورتوں نے آپ سے زیادہ حسین وجمیل شخص کوجنم نہیں دیا۔ہر عیب سے آپ کو پاک پیدا کیا گیا تھا۔ایسا لگتا ہے جیسا آپ خود چاہتے تھے ویسا ہی آپ کو بنایا گیا۔)
حضرت حسان کے قصائد کے ترجمے اردومیں ہوچکے ہیں۔ مولانا قاری محمد عارف اورحافظ قاری فیوض الرحمن نے ’قصائد حسان‘ کے عنوان سے ان پانچ قصائد کا عمدہ ترجمہ مع تشریحات کیا ہے ، جو پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ایم اے عربی کے نصاب میں شامل ہیں۔
کعب بن زہیر بھی قصیدے کے ممتاز شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ان کا وہ قصیدہ بہت مشہور ہوا جو انھوں نے حضورؐ کی شان میں کہا تھا اور وہ’بانت سعاد‘ اور’ قصیدہ بردہ‘ کے نام سے مشہور ہوامگر یہاں بھی انھوں نے دور جاہلی کی ریت وروایت کو فراموش نہیں کیا کہ قصیدے کا آغاز اپنی محبوبہ سعاد کے ذکر سے کیا:
بانت سعاد فقلبی الیوم متبول
متیم اثرہالم یجز مکبول
یہ قصیدہ اتنا مشہور ہواکہ کئی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے، انگریزی میں Michael A Sellsاور M.J.Sellsنے’ بانت سعاد‘ کا بہت عمدہ ترجمہ کیا ہے۔
حطیئہ گوکہ لاغر اور کوتاہ قامت تھا مگر قصیدے کے باب میں اس کا قد بہت بلند ہے۔ اس نے ہجویہ شاعری بھی کی اور فحش گوئی سے بھی اجتناب نہیں کیا۔اس کے بھی وہی موضوعات ہیں جو دورجاہلیت کے ہیں۔ وہ بھی امراؤ القیس اور دیگر شعرا کی طرح اپنی محبوبہ امامہ اور ام معبد کا ذکر کرتاہے تو جذبات کی ایک رنگین دنیانگاہوں میں روشن ہوجاتی ہے۔
اخطل کا تعلق اموی دور سے ہے۔ اس کا شمار بھی بلند پایہ شاعروںمیں ہوتا ہے، وہ عیسائی تھا اور عیش پرست بھی ،مے نوشی اس کا مشرب تھا مگر قصیدے کے باب میں اس کی اپنی الگ شناخت ہے ، خاص طورپر اس کے ہجویہ قصائد بہت مقبول ہیں۔میں نے اپنے ایک پرانے مضمون میں اخطل کے حوالے سے لکھا تھاکہ :
’’ لفظیات، امیجری، غزل کی ہیئت اور ساخت میں قدیم قبل اسلام کی شعری روایت کا مقلد ہوتے ہوئے بھی ناقدین نے ان کے یہاں منفرد جمالیاتی تجربے دریافت کیے ہیں، بالخصوص مدحیہ اور وصفیہ شاعری میں تو اس کا جواب نہیں۔ وہ زمین وآسمان کے قلابے ملانے میں ماہر تھا۔ کسی کی ہجو کرتا، تو اسفل السافلین میں پہنچادیتا اور تعریف کرتا تو سدرۃ المنتہیٰ کی عظمتیں اس کے نام لکھ دیتا۔۔۔اخطل نے یوں، تو تمام اصنا ف میں طبع آزمائی کی مگر مدح اور خمریہ شاعری میں ہی اس کا صحیح رنگ نکھر کر سامنے آیا اور اس کا اعتراف خود جریرنے بھی کیا جو کہ اخطل کا ایک بڑا حریف تھا اور دونوں میں زبردست معرکہ آرائی بھی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی ہجومیں شعر کہتے رہے۔اس کا سب سے مشہور ہجویہ قصیدہ ’خفقین‘ ہے جس میں اس نے بنو امیہ کی تعریف اور جریر کے خاندان کلیب پر زبردست طنز کے تیر چلائے۔‘‘
(اموی دور کے تین شاعر، اخطل ، فرذدق ، جریر، مشمولہ طواف دشت جنوں، استعارہ پبلی کیشنز ، نئی دہلی 2003)
جریر بھی اسی دور کا شاعر ہے جس نے سراپا نگاری میں اپنے بلند تخیل کا مظاہرہ کیا۔اس کے یہاں موضوعات کا تنوع ملتا ہے۔جریر کے تعلق سے راقم کی ایک تحریر کا اقتباس :
’’ یمامہ کے انتہائی غریب اور بے بس خانوادے میں پیدا ہونے والے اس چرواہے کو قدرت نے اس قدر دماغی قوی اورذہنی انجلا سے نوازا تھا کہ اس نے شاعری کے آسمان میں اپنے فکر واحساس کی کمندیں ڈال دیں اور آسمان کی ساری بلندیاں اس کی شاعری میں ہی اترتی چلی گئیں ،وہ رشک زمانہ اور محسودروز گار بن گیا۔جریر کو خود بھی اپنے شعری کردار پرگہرا اعتماد تھا اور اسے اپنے منفرد انداز سخن پر ناز بھی تھا۔ ایک جگہ اس نے خود ہی کہا تھا کہ میں شعر کا ایک ایسا شہر ہوں جہاں سے شاعری کے چشمے پھوٹتے ہیں اور وہیں آکر مل جاتے ہیں۔ جریر کے اس قول میں صداقت ہے کہ واقعتاً اس نے شاعری میں وہ معجزے دکھائے ہیں کہ ان کے حریف بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے کہ جریر کاجواب نہیں۔‘‘
’’جاحظ کا کہنا ہے کہ عرب کسی معاملے میں اس قدر نہ روئے تھے جتنا کہ جریر اور اس کے حریف شعرا کے مابین مہاجات کے سلسلے کے ختم ہونے پر روئے تھے اور جریر اس فن کا بے تاج بادشاہ تھا جس نے ہجو کو ایک نئی تکنیک سے آشنا کیا ، اسی لیے جریر کی ہجو کو عوام میں بہت مقبولیت ملی۔‘‘ ( طواف دشت جنوں، از حقانی القاسمی،استعارہ پبلی کیشنز ، نئی دہلی 2003)
اسی دور کا ایک اور شاعر جسے زبردست مقبولیت حاصل ہوئی فرزدق تھا۔ناقدین نے نے اس کو عرب کا بڑا شاعر تسلیم کیا ہے اور اس کے سلسلے میں کہاکہ اسے ہجویہ شاعری میں کمال حاصل تھا اور اس میں اس نے مغلظات سے بھی پرہیز نہیں کیا ،اسی لیے اسے بدکاراور فحش گو بھی کہاجاتا ہے مگر شوکت الفاظ اور جدت اظہار کی وجہ سے اسے بڑی اہمیت حاصل ہے۔اس حوالے سے مندرجہ ذیل اقتباس دیکھیں:
’’ ہجو ہو، غزل ہو، فخر ہو، سبھی میں ایسے عمدہ شعرکہے ہیں کہ ناقدین یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر فرذدق نہ ہوتا تو عربی زبان کا ایک تہائی حصہ ضائع ہوجاتا اور اس کا کلام نہ ہوتا تو عربوں کے احوال کا نصف ذخیرہ ختم ہوجاتا۔مدح میں فرذدق کا اپنا ایک نرالا انداز تھا، اس کی مدح میں خودغرضی اور حرص وطمع کی بوتھی۔ عطیات اور نوازشات کی خاطر وہ اپنے کمال ہنر کا مظاہرہ کرتا تھا۔ ۔۔۔فرذدق حد درجہ بد زبان ، بے حیا، فاسق وفاجر ، شہوت پرست اور بد کار قسم کا انسان تھا جو شادی شدہ عورتوں سے وصال کی بات کرتا تھا اور اپنی کامیاب محبت کے افسانے گھڑتا رہتا تھا ، وہ جنسی اعتبارسے ناآسودہ تھا ، اس کی حددرجہ شہوت پرستی کی وجہ سے ازدواجی زندگی نا خوشگوار رہی۔ سات شادیاں کیں اور سبھی ناکام ہوگئیں کیونکہ بے وفائی اس کی سرشت میں شامل تھی ۔اس کثیر الازواج شاعر کی سب سے بڑی کمزوری عورت تھی۔‘‘(اموی دور کے تین شاعر، اخطل ، فرذدق ، جریر، مشمولہ طواف دشت جنوں،از : حقانی القاسمی استعارہ پبلی کیشنز ، نئی دہلی 2003)
جمیل بثینہ عشاق عرب میں سے ایک ایسا نام ہے جس نے محبت کی پاکیزگی کی ایسی مثال قائم کی کہ آج بھی غزل عذری کی وجہ سے اس کی ایک الگ پہچان ہے ۔اس نے اپنے عشقیہ جذبات کے اظہار میں شائستگی اور سلیقے کا ثبوت دیاہے۔وہ مقدس دیوانگی کی ایک مثال تھا جس کے نزدیک محبت شہادت کا نام ہے ۔اس کے یہاں جسم کی پیاس نہیں ، روح کی تشنگی تھی ۔ وہ فنا میں بقا کاآرزو مند تھا، اسی لیے اس کی شاعری میں لذت تشنگی اور وصال سے زیادہ ہجر کی کیفیات ملتی ہیں۔بثینہ اس کی محبوبہ کا نام تھا جو جمیل کے آنگن کی مہکار تو بن نہ سکی مگر اس کی جھنکاردل کی دھڑکن بن گئی۔اس کی غزلیہ شاعری جسمانی مفاتن اور محاسن کے بیان سے پاک ہے ۔یہ اسی سلسلۂ محبت کا شاعر ہے جس میں مجنوں لیلیٰ ، کثیر عزہ وغیرہ کے نام آتے ہیں ۔جمیل کی شاعری اس اباحی غزل سے بالکل الگ ہے جس کا نمائندہ عمر بن ابی ربیعہ ہے۔جمیل بثینہ نے قصیدے بھی کہے ہیں جس کے حوالے سے ڈاکٹر یوسف رامپوری نے لکھا ہے کہ’’ جمیل کے قصائد عشق ومحبت کے سچے آئینہ دارہیں۔وہاں دوسرے قصیدہ نگاروں جیسا طمطراق نہیں بلکہ ٹھہراؤ ہے، اس میں درد وغم کے دریا بہہ رہے ہیں، محبت کے سچے جذبات سے لبریز جمیل کے یہ قصائد دوراموی میں اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔‘‘
ابونواس اور متنبی عربی کے دوایسے شعرا ہیں جن پر اردو والوں نے خاص تو جہ دی ہے اور ان کے حوالے سے کتابیں بھی لکھی گئی ہیں اور مقالے بھی تحریر کیے گئے ہیں۔اس کے تعلق سے اردو میں جو کتابیں منظر عام پر آئی ہیں،ان میں متنبی( جلیل الرحمن اعظمی ) ، متنبی عربوں اور مستشرقین کی نظر میں(ر۔بلاشیر ۔ترتیب مختار الدین احمد آرزو)، ابونواس اور متنبی(مسعود انور کاکوروی) ، متنبی ثعالبی کی نظرمیں(شہناز انجم)، متنبی ایک تحقیقی مطالعہ(ڈاکٹر غلام یحیٰ انجم) اردو میں متنبی شناسی (معید الرحمن) قابل ذکرہیں۔ان میں آخرالذکر اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں اردومیں مطالعاتِ متنبی کا عمدہ محاکمہ کیا گیا ہے۔ان کتابوں سے ابونواس اور متنبی کے جملہ شعری خصائص اور امتیازات سے آگہی ہوتی ہے ۔یہ دونوں ہی الگ طور وطرز کے شاعر ہیں جن کے یہاں تنوع بھی ہے اور لسانی سطح پر تجدد بھی ۔ اور یہ دونوں شعرا اپنے فکری اور لسانی رویہ کی وجہ سے بھی خاص شناخت رکھتے ہیں۔ابونواس اور متنبی نے قصیدے بھی کہے ہیں اور قصیدے میں حد درجہ مبالغہ آرائی بھی کی ہے۔افراط وتفریط کے باوجود یہ دونوں شعرا بہت اہمیت کے حامل تھے، خاص طورپر متنبی تو ایسا شاعر ہے جس کی شاعری کو مختلف زاویوں سے پرکھا گیا ہے۔عباسی دور کے اس شاعر کو اتنی مقبولیت حاصل ہے اور اس کے کلام کی اتنی معنویت ہے کہ تقریباً بیس زبانوں میں اس کی شاعری کے ترجمے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے اعلیٰ تخیل ، نادراستعارے اور تشبیہات کی وجہ سے بھی بلند مقام کا حامل ہے۔اس کی شعری تکنیکیں دوسرے شعرا سے بہت مختلف ہیں۔’مدح ‘کے باب میں متنبی کا جواب نہیں ہے ۔متنبی سیف الدولہ کا درباری شاعر تھا۔اس نے سیف الدولہ کی مدح میں جو قصیدہ لکھا ہے وہ آج بھی اپنی نظیر آپ ہے۔اس کاEulogistic Orationلاجواب ہے۔ذہانت ، ذکاوت اور فطانت میں اس کا جواب نہیں تھا۔فخر وتعلّی کے باب میں بھی متنبی بے نظیر تھا ۔اسی کا ایک شعر ہے:
الخیل واللیل والبیداء تعرفنی
والسیف والرمح والقرطاس والقلم
(گھوڑے ، رات، بیابان مجھے پہچانتے ہیں ۔تلوار، نیزہ، کاغذ اور قلم بھی مجھے بہتر طریقے سے جانتے ہیں۔)
متنبی اسی Egomaniacal natureکی وجہ سے معتوب بھی ہوا اور اپنی بے باکانہ شاعری کی وجہ سے اس کا قتل بھی ہوا۔ متنبی کے انانیت پسندانہ مزاج کے تعلق سے Roufan Nahhas نے Al-Mutanabbi and the Arrogance withinکے عنوان سے بہت اچھا مقالہ تحریر کیا ہے جو Inside Arabiaمیں شائع ہوا۔
متنبی کے علاوہ عباسی دور کے جس شاعر کوبے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی وہ ابونواس ہے جو اپنے خمریات (Enology)کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتاہے۔اگرچہ اس کی پوری پرورش مذہبی ماحول میں ہوئی تھی مگر وہ وقت کے ساتھ مذہب سے منحرف ہوتا گیا۔وہ مغلظات کی شاعری( Invective poetry) اور دشنام طرازی کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ ابونواس شراب اور اغلام بازی(Pederasty) کی وجہ سے بدنام ہے۔اسی لیے انگریزی میں ابونواس کے جو تراجم ہوئے ہیں ان میں شراب کے پہلو کو زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔وہ عیش پسند شاعرکی حیثیت سے بھی معروف ہے جس کی دنیا Wine and womenتک محدودتھی۔ Jim colvilleنے Poems of wine and Revelryکے عنوان سے ابونواس کی شاعری کا ترجمہ کیا ہے، Kennedy Philipنے The wine song in classical Arabic poetry میں ابونواس کو محور و مرکز بنایاہے۔Alex Rowellنے بھی ابونواس کو مغربی دنیا سے متعارف کرانے کے لیے ان کی شاعری کا ترجمہ Vintag Humour The Islamic Wine poetry of Abu Nuwasکے عنوان سے کیا ہے۔اس کے علاوہ Jocelyn Sharletنے Abu Nuwas, Poet of wine Desire The Hunt and The Abbasid Empireکے عنوان سے بہت اہم مقالہ تحریر کیا ہے۔
ابونواس پر میں نے یہ لکھا تھاکہ :
’’ایک جسم دو روحیں رکھنے والا یہ شاعر ہمیشہ مست مے خمار رہتا تھا اور مسرتوں کی تلاش میں مے کدہ سے جالگتا تھا اور شاعری میں مے خانے کا در کھول دیتا تھا۔ اس نوع کے چند اشعار دیکھیے اور غرق مے ناب شاعر کی ذہنی درّاکی اور طاغوتی عبقریت کا مشاہدہ کیجیے :
’’ رات وہاں نہیں ہوتی جہاں شراب ہوتی ہے، کیونکہ شرابیوں کا زمانہ تو دن کی طرح چمکتا رہتا ہے‘‘
جب کوئی شرابی جام نوش کرتا ہے تو یوں لگتاہے جیسے رات کی تاریکیوں میں ستاروں کو چوم رہا ہو۔‘‘
’’ جہاں شراب ہوتی ہے ، وہ جگہ پر نور ہوتی ہے اور جہاں نہیں ہوتی ، وہ بے نور ہوتی ہے۔‘‘
’’ میں نے جب تاریک رات میں شراب انڈیلی تو یوں لگا جیسے کوئی روشن ستارہ تاریکی میں آسمان پہ نمودار ہوا ہو۔‘‘
’’شراب تو روشن ستارہ اور چودہویں رات کے چاند کی مانند ہے۔‘‘
( طواف دشت جنوں، استعارہ پبلی کیشنز ، نئی دہلی 2003)
ابونواس Homoerotic Poetryکی وجہ سے بھی اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ گوکہ اس کی شاعری میں مذکرات کے ساتھ مونثات کا ذکر بھی ہے مگر زیادہ تر ناقدین نے اس کے یہاں مذکرات کے پہلو کو نمایاں کیا ہے۔
ڈاکٹریوسف رامپوری نے عربی کے ان تمام قصیدہ گو شعراء کا محاکمہ کرتے ہوئے عربی قصیدے کی روایت ،ساختیاتی عناصر (نسیب، رحیل ، فخر، ہجو اور مدح)، قصیدے کی اقسام اور نمایاں خصوصیات پرمبسوط روشنی ڈالی ہے ۔ انھوںنے لکھا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے شعرا تشبیہات کے انتخاب میں فطرت سے مدد لیتے تھے ۔ انھوںنے وصف نگاری اور سراپانگاری میں بھی یہ بات واضح کی ہے کہ عربی قصائد کی وصف نگاری فطری ہے ،اس میں تصنع اور تکلف نہیں ہے اور اس میں عریانیت بھی ہے ۔ اس باب میں امرائو القیس کو ایک مرکزی حوالے کے طورپر شامل کیا جاسکتا ہے کہ ان کے بیشتر قصائد میں حد سے بڑھی ہوئی عریانیت ،فحاشی اورجنسی تلذذ ہے، اسی لیے Eroticaمیں امرائو القیس کا نام بہت بلند نظر آتا ہے اور یہ صرف امرائوالقیس کا معاملہ نہیں ہے بلکہ دورجاہلی کے بیشتر شعرا کے یہاں سراپا نگاری میں اسی طرح کی عریانیت ملتی ہے۔Erotica lyricismکے حوالے سے جب بھی بات آتی ہے تو عربی قصائد کا ذکر پہلے آتا ہے۔خاص طورپر عربی قصائد کے نسیب میں شہوانی انداز ہی اختیار کیا جاتا ہے۔اسی لیے اسے Amatory Preludeبھی کہا جاتا ہے۔عربی قصائد کے نسیب میں زیادہ تر محبوبائوں کا ذکر ہوتا ہے اور محبوبائیں بھی مختلف طبقات اورطرز حیات سے تعلق رکھتی ہیں۔عربی قصائد کے بیشتر شعرا ایسے ہیں جنھوں نے اپنے قصیدے کا آغاز اپنی محبوباؤں اور Desirable womanکیذکر سے ہی کیا ہے۔خاص طورسے امراؤ القیس کی شاعری میںام حویرث، ام رباب، عنیزہ، فاطمہ جیسی محبوبائوں کے ناز وادا اور سراپا کا خوبصورت بیان ملتا ہے۔ ان کی محبوبائوں میں باکرہ بھی ہیں، ثیبہ بھی ہیں ،حاملہ بھی ہیں اور دودھ پلاتی عورتیں بھی اور کچھ ایسی سیدات بھی جو اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں۔قدیم عربی شاعروں کی نسائی پیکر تراشی بھی خوب ہے۔اس میں محبوبہ کے بدن کی جو استعاراتی امیج ہے اس میں فطرت اور جانوروں سے تشبیہات اور علامات اخذ کی گئی ہیں۔کلاسیکی عربی ادب کے ڈسکورس میں بدن کی بہت اہمیت ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس میں نسائی بدن کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے ۔قدیم عربی شاعری میں دوطرح کی عورتیں ہیں۔ایک وہ جو مثالی ہیں اور دوسری وہ جو حقیقی ہیں اور دونوں طرح کی عورتوں کے بدن کے بیان میں شاعروں نے اپنے کمال ہنر کا مظاہرہ کیا ہے اور نسائی جمالیات کی جو تعبیر انھوں نے پیش کی ہے وہ آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔اس حوالے سے غور و فکر کے بعد معلوم ہوتاہے کہ عرب شعرا کے یہاں نسائی بدن کے بیان میں علامتی زبان استعمال کی گئی ہے۔ جس انداز میں محبوباؤں کے آرائش جمال ، زیورات، حرکات وسکنات کو بیان کیا گیا ہے ، اس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ جاہلی شاعروں کی نظر میں عورت کی کتنی اہمیت تھی۔عورت کی اہمیت نہ ہوتی توان کے کھنڈرات پر وہ آنسو نہ بہاتے ،،ہجر میں آنکھیں نم نہیں کرتے۔عربی شاعری میں محبوبہ کے بدن کی عکاسی کے حوالے سے جوخہ الحارثی نے بہت عمدہ مقالہ لکھا ہے جو The representation of the Beloved’s Body in the claassical Arabic poetryکے عنوان سے ہے۔اسی مضمون میں انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ عورت کے بدن کا سب سے پہلا جمالیاتی معیار عیصام جیسی خاتون کے ذریعے نثری صورت میں سامنے آیا۔اس نے ام الیاس نامی عورت کے جسم کی رعنائی اورجنسی جاذبیت اور کشش کا ایک بہت ہی عمدہ جمالیاتی معیار پیش کیا۔
کلاسیکی عربی شاعری کے مطالعے اور تجزیے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جاہلی دور میں عورتوں کا بہت اہم سماجی کردار تھا۔وہ کسی سے بھی اپنے رشتے قائم کرنے اور ازدواجی رشتہ کوبغیر کسی سبب کے ترک کر نے میں آزاد اور خود مختارتھیں۔جاہلی دور کی عورتوں کے تعلق سے جو ایک منفی تصور ہے اسے ماقبل اسلام کی شاعری مکمل طورپر مسترد کرتی ہے۔ عورتوںکی وہ امیج قطعی نہیں ہے جو بیان کی جاتی ہے بلکہ اصل شبیہ وہ ہے جو قصائد کے ذریعے ہمارے سامنے آتی ہے۔کمال دین یعقوب نے The Image of Woman in Pre Islamic Qasidaمیں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔عربی قصائد کا مطالعہ تانیثی نقطہ نظر سے کیا جائے تو فیمنزم کی بہت سی صورتیں نمایاں ہوں گی اور اس سے یہ واضح ہوگا کہ جدید دور کی فیننزم سے جاہلی دور کی تانیثیت زیادہ بہتر تھی۔کیونکہ اس دورمیں عورتوں کو مکمل طورپر آزادی، خودمختاری بھی حاصل تھی، انھیں طلاق کا بھی حق حاصل تھا۔اس کے علاوہ ازدواجی معاملات میں بھی عورت کی رضامندی کا خیال رکھا جاتا تھا اور اس میں بھی کفو اور مساوات اور حسب نسب پر بطورخاص دھیان دیا جاتا تھا۔عورتوں کو سفر کرنے کی آزادی تھی جس کا ذکر قصائد میں بھی ملتا ہے ۔عورتیں ہودہ میں سفر کرتی تھیں اوراس زمانے کی عورتیں مہذب، باحجاب اور پردہ نشین بھی تھیں۔قصائد سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شادی شدہ عورتوں سے بھی عشق کا رواج تھا جیسا کہ امراؤ القیس کے قصیدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ام الحوریث اور ام رباب سے عشق کرتا تھا ۔ یعنی ماورائے ازدواج رفاقت کا تصور پرانا ہے ۔
عربی قصائد کے بیشتر شعرا نے اپنے قصیدوں میں اپنی محبوباؤں کے دیار ومنازل کا ذکر کیا ہے ۔جس سے ناستلجیا کو ایک مرکزیت حاصل ہوگئی اور اسے عالمی شاعری کے ایک اہم عنوان اور عنصر کے طورپر دیکھاجانے لگا۔JAROSLAV STETKEVYCH نے Zephyrs of Najd: The poetics of Nostalgia in the classical Arabic Nasibمیں اس پہلوپر تفصیل سے بحث کی ہے۔ امراؤ القیس کے قصیدے میں بھی سقط اللوی،دخول، حومل کا ذکر ملتا ہے تو دیگر شعرا کے یہاں بھی بہت سے مقامات اور نشانات منزل مثلاً متثلم، ثہمد ، منیٰ، اور جوا کا ذکر ہے۔اس کے علاوہ عرب کے پہاڑوں،وادیوںاورتالابوں کاتذکرہ ملتا ہے ۔قطن، ستار،کتیفہ، قتان،وادی جوف،غول، رجام، وادی ثوبان،دارجلجل اس سے جاہلی شعراء کے جغرافیائی فہم وشعور کا بھی اندازہ ہوتاہے اور مکان ومکین کی معنویت اور اہمیت کا بھی احساس ہوتا ہے۔اگر قصائد کاجغرافیائی نقطہ نظر سے مطالعہ کیاجائے تو بہت سی نئی جغرافیائی حقیقتیں سامنے آئیں گی۔
دورجاہلی کی شاعری میں بدویت اور صحرائیت کی ایک بہت خوب صورت تصویر ملتی ہے جو ہمارا رشتہ فطرت سے جوڑدیتی ہے۔ چوپان کی زندگی اور شکاریات کے تعلق سے بھی اس شاعری میں بہت سے اہم اشارے ہیں۔امداد امام اثر نے شکاریات کی بحث میں امراؤ القیس کی شاعری کے حوالے دیے ہیں۔
عربی قصائد کے متوازی ڈاکٹر یوسف رامپوری نے اردو کے اہم قصیدہ نگار شعرا کا بھی مبسوط جائزہ لیا ہے ۔ان میں بعض شعرا قصیدے کے باب میں نمایاں مقام کے حامل ہیں جنھوںنے قصائد کو ایک نئی شکل وصورت بھی عطا کی ہے، ان میں ایک اہم نام غواصی کاہے جن کے بارے میں ڈاکٹر یوسف رامپوری کی رائے یہ ہے کہ وہ پہلا قصیدہ نگار ہے جس نے باقاعدہ کسی بادشاہ کی شان میں قصیدے کہے ۔ان کے زیادہ تر قصائد عبداللہ قطب شاہ کی مدح میں ہیں ۔انھوں نے یہ بھی ذکرکیا ہے کہ غواصی کی قصیدہ نگاری پر فارسی کی چھاپ ہے ۔ ظہیر فاریابی اور کمال خجندی کی زمین میں انھوں نے قصیدے کہے ہیں۔
نصرتی بھی ایک بڑادکنی قصیدہ نگار گزرے ہیں ۔ان کے یہاں موضوعاتی تنوع بھی ہے اور الفاظ وتراکیب کی شوکت بھی۔ انھوں نے بعض بہت اچھی تراکیب کا بھی استعمال کیا ہے جیسے صاحب دیوان ودول ، مالک ملک وملل، معدن جودو سخا، منبع لطف وعطاوغیرہ۔
ولی دکنی کا شمار بھی اردو کے اہم قصیدہ نگاروں میں شمار ہوتاہے۔ ان کا قصیدہ لامیہ بہت مشہور ہواہے جس میں انھوں نے بہت ہی مشکل قوافی کا استعمال کیا ہے۔اجہل، اطول، احمل ، وغیرہ قافیے ان کے یہاں استعمال ہوئے ہیں۔ ڈاکٹریوسف کی رائے ہے کہ ولی نے زور بیانی اور رفعت تخیل کا اپنے قصیدوں میں خاص طورپر خیال رکھا ہے۔شاکر ناجی شمالی ہندوستان کے پہلے قصیدہ نگار ہیں۔جن کے یہاں پرشکوہ اورپرکشش الفاظ کا گلدستہ نظر آتا ہے۔ان کے اکثر قصیدے خطابیہ ہیں اوران کے یہاں تشبیب کاانداز بھی روایت سے ذرا ہٹ کر ہے۔شاکر ناجی کی قصیدہ نگاری پر یوسف رامپوری نے تفصیلی اورتحقیقی گفتگو کی ہے اور دلائل کی روشنی میں انھیں شمالی ہند کا باضابطہ پہلااردو قصیدہ گوشاعر ثابت کیا ہے۔
مرزا رفیع سودا کو اردو قصیدے کی شان کہا جاتا ہے۔انھوں نے صنف قصیدہ کو بلندی اور عظمت عطا کی ، اس لیے انھیں سرخیل بھی کہا جاتا ہے۔معیار ساز اور بے مثال کی حیثیت سے بھی ان کی شناخت ہے۔خیالات کی بلندی، نزاکت، دلکشی ، ندرت کے اعتبار سے بھی ان کا کوئی جواب نہیں۔انھوں نے فارسی شعرا کی زمینوں میں بھی قصیدے کہے ہیں اور مدحیہ قصائد کے ساتھ ہجویہ قصیدے بھی کہے ہیں ۔
انشا ء اللہ خاں انشاء نے قصیدے کے تمام لوازمات کا خیال رکھا ہے ، ان کے یہاں بھی زور بیانی ہے اور سراپا نگاری میں بھی ان کو کمال حاصل ہے۔ذوق اردو قصیدے کے بڑے شاعروں میں سے ہیں مگر کلیم الدین ان کے قصائد کو شاعرانہ مشق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔لیکن اس خیال سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ ذوق کا مزاج قصیدہ گوئی سے پوری طرح ہم آہنگ تھا ، وہ کئی زبانوں اور کئی علوم سے اچھی طرح واقف تھے۔انھوں نے قصیدے میں اپنے جوہر دکھائے ہیں۔
مومن عمدہ قصیدہ نگار ہیں اور ان کی تشبیب عموماً بقول عبادت بریلوی نادر اور الگ سی ہوتی ہے ۔انھوں نے بہت سے اہم مضامین کو اپنے قصائد میں برتا ہے۔لیکن مومن کے قصیدوں میں جہاں بہت سی خوبیاں ہیں ،وہیں خامیاں بھی ہیں۔ڈاکٹر یوسف رامپوری کا خیال ہے کہ مومن کے کلام میں تعقید لفظی بھی ہے اور تعقید معنوی بھی ۔غالب بہت عظیم شاعر ہیں ان کے قصیدوں کی تعداد بہت کم ہے۔اسی لیے ان کی غزلیہ شاعری کے حوالے سے زیادہ تنقیدی گفتگو ہوتی ہے مگر غالب کے جس قدر قصیدے بھی اردومیں ملتے ہیں، وہ سب قصیدے کے مطالبات ومقتضیات کو پورا کرتے ہیں۔ان کے قصائد کے محاسن واوصاف کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ اگر غالب قصیدے پر توجہ دیتے توعین ممکن تھا کہ وہ قصیدے کے سب سے بڑے شاعر ہوتے۔ ( یہ بھی پڑھیں ابوالکلام قاسمی کا تنقیدی اختصاص – ڈاکٹر امام اعظم
دبستان لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر اسیر لکھنوی نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں قصیدے کہے ہیں، ان کے زیادہ تر قصیدے مذہبی اور منقبتی نوعیت کے ہیں۔یوسف رامپوری نے ان کے قصائد کے خصائص پر بھی بات کی ہے۔منیر شکوہ آبادی نے مذہبی اور درباری قصیدے کہے ہیں ۔ان کے زیادہ تر قصیدے نواب کلب علی خاں کی مدح میں ہیں۔قصیدے کی آڑ میں انھوں نے اپنی ذاتی زندگی کی جھلکیاں ، مشکلات اور صعوبتوں کا ذکر کیا ہے۔گویا کہ ان کے قصائد میں عرب شعرا کی طرح داخلیت زیادہ پائی جاتی ہے ۔
محسن کاکوروی کا نام نعتیہ قصیدے کے حوالے سے بہت محترم ہے۔ان کے قصیدے’مدیح خیر المرسلین‘ کو بہت زیادہ مقبولیت و شہرت ملی۔’’ سمت کاشی سے چلا جانب متھرابادل‘‘ سے اس قصیدے کا آغاز ہوتا ہے جس میں انھوں نے ہندوستانی رنگ و آہنگ سے قصیدہ کو ایک نئی صورت عطاکردی ہے ۔ان کے اس قصیدے کے مطالعے سے انداز ہ ہوتا ہے کہ ان کے پیش نظر حسان بن ثابت کے قصائد بھی رہے ہیں۔
ایک اور نام جسے قصیدے کے حوالے سے اہمیت کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے ، اسمٰعیل میرٹھی کا ہے ۔ انھوں نے زیادہ تر نظمیں کہی ہیں مگر قصیدے پر بھی توجہ دی ہے ۔ان کے کئی قصیدے سماجی اور اصلاحی نوعیت کے ہیں۔ ’ جریدۂ عبرت‘ ،’نوائے زمستاں‘ ان کے معرکۃ الاراء قصائد ہیں۔ان قصائد کے مطالعہ کی روشنی میں یہ رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ قصیدہ سے سماجی اور اصلاحی کام بھی لیا جاسکتاہے۔
قصیدے کو مثنوی اور مرثیہ سے کمزور صنف قرار دینے والے خواجہ الطاف حسین حالی نے بھی قصیدے کے میدان میں طبع آزمائی کی ہے ،تاہم انھوں نے قصیدے میں مقصدیت کاپورا خیال رکھتے ہوئے اصلاح کے پہلوپر زیادہ توجہ دی ہے ۔دراصل وہ شاعری سے اہم کام لینا چاہتے تھے۔ان کی نظمیں اور بعض قصائد اس کا بین ثبوت ہیں۔ انھوںنے ملکہ وکٹوریہ کی مدح میں جو قصیدہ لکھا ہے وہ بہت مشہور ہے اور اس پر ناقدین نے گفتگو بھی کی ہے۔ مولانا حالی کے قصائد کی زبان مشکل نہیں ،آسان اور رواں ہے۔مولانا حالی اوراسماعیل میرٹھی کی قصیدہ گوئی پر گفتگو کرتے ہوئے یوسف رامپوری نے ایک اہم بات یہ لکھی ہے کہ ’’ حالی کے قصیدے بھی اسماعیل میرٹھی کے قصیدوں کی طرح آنے والی نسلوں کے لیے نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔اگرآج اردو میں قصیدے کے احیا کا سوال اٹھے گا تو حالی اور اسماعیل کے قصائد ہی شعرا کے لیے نقشِ راہ ثابت ہوںگے۔‘‘
نظم طباطبائی بھی اردو کے بڑے قصیدہ نگار ہیں انھوں نے قصیدہ نگاری میں تاریخ کو شامل کرکے اس کو وسعت عطا کی ہے۔ زیادہ تر سرزمین عرب کے غزوات و واقعات کو اپنے قصیدے کے پیکر میں ڈھالا ہے۔طباطبائی نے کئی قصیدوں میں وہی زمینیں استعمال کی ہیں جو عربی شعرا کرتے رہے ہیں۔ان کے یہاں موضوعاتی سطح پر تنوع ہے۔ان کی قصیدہ گوئی کے حوالے سے ڈاکٹر یوسف رامپوری نے یہ رائے قائم کی ہے کہ ان کی قصیدہ گوئی آنے والی نسلوں کے لیے قصیدہ گوئی کا معیار بن سکتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزؔ بحیثیت نظم نگار – پروفیسر ڈاکٹر محمد توقیر عالم )
اردونے قصیدے کے زیادہ تر لوازمات عربی اور فارسی سے ہی لیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو قصیدوں میں بھی عربی اور فارسی الفاظ و تراکیب کی کثرت ملتی ہے۔ڈاکٹر یوسف رامپوری کے اس تحقیقی مقالے سے ہی یہ پتہ چلتاہے کہ قصائد میں بعض ایسے قوافی بھی ہیں جن کی تفہیم آج کے دورمیں مشکل ہے۔جیسے مومن کے یہاں شمع خاوری، مشتری، معصفری، مجموری ، چنبری، آزری، خری، گستری، کشوری، احمری، صفدری، تگاوری، محضری، سقوطری، غضنفری، نوبری، کف آوری، زہرہ معجری، سودا کے یہاں ازبک، ڈلک، کٹک، دبک، معک، منفک، کوچک، کودک، خسک، پیچک، چشمک، کجک، اتھک، زیرک، پولک ، محک،ذوق کے یہاں صریر، صفیر، حصیر ، شعیر، تزدیر، سطیر، آہوگیر، گلگیر، خبیر،عبیر، زحیر، تبخیر، تکسیر، قطمیر، سعیر،نخچیر، مسیر، غالب کے یہاں اندام، ایام، نمّام،انام، استفہام، گلفام، بام، ابرام، بہرام، رہام، صمصام، خرام، ادغام، ارقام، اذوام وغیرہ ۔اسی لیے جامعات میں قصائد کی تدریس پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔آج کے عہد میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا قصیدے کی کوئی افادیت ہے ؟صرف تکاثر الفاظ کے نقطہ نظر سے اس کا مطالعہ تو کیا جاسکتاہے مگر کیا آج کے عہد میں قصیدے کی تفہیم کے تمام زاویے روشن ہوسکتے ہیں۔قصیدے کے جو بنیادی مطالبات ہیں وہ بھی عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں لگتے یہی وجہ ہے کہ قصیدے کی تنقید و تدریس پر زیادہ توجہ بھی نہیں دی جاتی ہے اور جو قصائد نصاب میں شامل ہیں ان کی تفہیم بھی اساتذہ تک کے لیے دشوارہے تو کیا صرف الفاظ کی وجہ سے قصائد کی تدریس کا جواز بنتاہے یا کچھ اور وجہیں ہیں جن کی وجہ سے اس صنف کو زندہ رکھا جانا چاہیے ۔وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی اصناف موت سے ہم کنار ہوگئی ہیں تو کیا قصیدے کے ساتھ بھی ایسا ہوناچاہیے ؟اس طرح کے کئی سوالات نے ڈاکٹر یوسف رامپوری کے ذہن میں بھی جنم لیا ہے اور انھوںنے بھی اس تعلق سے بڑی عمدہ بات لکھی ہے کہ’’ جس زبان کو قصیدہ کا معیار سمجھا گیا وہ آگے چل کر اس کے زوال کے اسباب میں سے ایک سبب بنا۔وقت کا تقاضہ یہ تھا کہ قصائد کی زبان کو زمانے کے مطابق کردیا جاتا ، اس میں کچھ مضائقہ نہ تھا ۔اس صورت میں عین ممکن تھا کہ قصیدہ بھی باقی رہتا اور قصیدے کی افادیت بھی جیسا کہ بعد کے چند شعرانے قصیدے کی زبان اور انداز کو اپنے عہد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ، ایسے قصیدہ نگاروںمیں حالی، اسمٰعیل، عزیز لکھنوی اور نظم طباطبائی کے نام سر فہرست ہیں۔’’ انھوںنے یہ بھی لکھا ہے کہ’’ دور حاضر میں قصیدے کی زبان کا معیار سودا اور ذوق کے قصائد کی زبان کو نہیں بنایاجاسکتا بلکہ حالی اور اسمٰعیل اور نظم طباطبائی کی زبان کو بنایاجانا بہتر ہے، تاکہ شعراء کے لیے بھی قصائد کہنا آسان ہوجائے اور قارئین و سامعین کے لیے بھی ان کی تفہیم مشکل نہ ہو۔‘‘
عربی اور اردو قصائد اور قصیدہ نگاروںکا یہ بہت ہی عمدہ مقایسہ اور محاکمہ ہے۔ یوسف رامپوری نے تقابلی مطالعہ کے ذریعے اردو اور عربی قصیدہ نگاری کے مماثلات اور متناقضات پر بحث کی ہے۔ڈاکٹر یوسف رامپوری کو اس بات کا احساس ہے کہ عربی اور اردو قصیدے کے حوالے سے جو تحقیقی وتنقیدی سرمایہ ہے وہ تشنہ اور ناکافی ہے کیونکہ بیشتر افراد جنھوں نے اردو میں قصیدے کے حوالے سے کتابیں لکھی ہیں ، وہ عربی کی شعری روایات سے مکمل طورپر نہ آگاہ ہیں اور نہ ہی انھیں عربی قصائد کے تلازمات سے مکمل آگہی ہے یہی وجہ ہے کہ اصلی متون کے بجائے تراجم سے مدد لی گئی ہے اور ان میں بھی عربی قصائد کے حوالے سے وہ مباحث چھوٹ گئے ہیں جو بنیادی حیثیت کے حامل ہیں۔عربی قصیدوں کاصرف اجمالی ذکرکیا گیا ہے ، نہ ہی عربی قصائد کے لسانیاتی ساختیاتی تجزیے کیے گئے ہیں اور نہ ہی عربی قصائد کے موضوعات پر مکمل گفتگو کی گئی ہے اور نہ ہی بین المتونیت، Intertextuality حوالے سے کوئی بحث ملتی ہے۔جب کہ انگریزی میں عربی قصائد کے اسلوبیاتی اور ساختیاتی تجزیے بھی کیے گئے۔Edebiyatمیں اس نوع کے دومضامین ملتے ہیں:
(۱)Abu Deeb Kamal: Towards a structural Analysis of Pre Islamic Poetry (۲)Hydar Adnan: The Muallaqat of Imru al Qais: It’s structure and meaning
عربی قصائد کے تعلق سے ان اہم مباحث کی غیر موجودگی کی وجہ سے ہی ڈاکٹر یوسف رامپوری نے اس مشکل موضوع کا انتخاب کیا اور قصائد کے ثقافتی اور متنی معیارات کو مرکز بناکر باقاعدہ پوری ایک تحقیقی اور تنقیدی کتاب لکھ ڈالی ۔
اردو میں قصیدے کے تعلق سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی تقابلی تنقید ہے جس میں دونوں زبانوں کے قصائد کا تفصیلی ،مربوط اور مرکوز جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر یوسف رامپوری نے اس تقابلی طریقہ کار کو اختیار کیا ہے جس کے ذریعے مختلف ثقافتوں کے متون کی تفہیم اور ثقافتی اظہار کی تمام شکلوں سے آگہی ہوجائے ۔انھوں نے اس تنقیدی مقالے میں دونوں زبانوں کی ادبی روایات ،رجحانات، رویوں اور لسانی و موضوعاتی تبدیلیوں پر بھی نظر رکھی ہے۔ اس طرح کے مطالعے سے مختلف ثقافتی اور لسانی متون اپنی حقیقی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
ان کے خیال میں عربی قصیدہ گو شعراکو اردو کے شاعروںپر فوقیت حاصل ہے۔ مدح کے باب میں تو اردو اور عربی کے شعرا برابر کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ہجو کے میدان میں اردو شعرا عربی قصیدہ نگاروں سے پچھڑے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ جتنا جوش عربی شاعروں کے یہا ں نظر آتا ہے ، اس سے اردو شعرا محروم ہیں۔اس کی مثال انھوں نے سودا کے قصیدے نواب شجاع الدولہ ’درفتح کردن بہ حافظ رحمت خان ‘ کے ذریعہ دی ہے جس میں جوش پیداکرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر عربوں جیسا جوش پیدا نہیں ہوپایا۔کچھ ایسی ہی کیفیت مصحفی کے قصیدے ’ جب سے سرطاں میں ہوا نیر اعظم کا عمل‘کی نظرآتی ہے کہ اس میں مدح میں مصنوعیت نظر آتی ہے ۔زبان وبیان کے لحاظ سے دیکھا جائے تو عربی قصیدہ گو شعراء نے زبان وبیان کا خاص خیال رکھا ہے ۔لیکن اردو قصیدوں کی زبان اتنی پرشکوہ اور پر جلال نہیں ہے جتنی عربی قصیدوں کی ہے، البتہ اردو زبان جس قدر الفاظ کا ذخیرہ رکھتی ہے ، اس کے مطابق اردوقصیدوں میں بھی زبان کا معیار بہت بلند ہے۔
یوسف رامپوری کا یہ بھی خیال ہے کہ فخرو تعلّی کے مضامین میں بھی عرب شعرا کا جواب نہیں جب کہ اردو قصیدے فخریہ اشعار سے خالی نظر آتے ہیں،البتہ تعلّی کے باب میں وہ بھی کافی آگے دکھائی دیتے ہیں۔اردو شعرا اپنے ممدوحین کی سخاوت اور شجاعت کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن کہیں اپنی شجاعت وفیاضی کا فخریہ تذکرہ نہیں کرپاتے۔کہیں کہیں کچھ شعرا نے شجاعت وسخاوت پر فخر کا اظہار کیا ہے ۔اردو کے شعرا شراب نوشی پر اتنا فخر نہیں کرتے جتنا کہ عرب کے شعرا کرتے ہیں ۔یوسف رامپوری کے اس مقالہ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وصف نگاری اور سراپا نگاری میں دونوں زبانوں کے شاعروں نے زبردست طبع آزمائی کی ہے لیکن عربی وصف نگاری میں فطری پن ہے جب کہ اردوشعرا کے یہاں وصف نگاری میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے۔سراپا نگاری میں بھی عربی شعرا کے یہاں نیچرل انداز ہوتا ہے جب کہ اردو میں تکلف، تصنع اور مبالغہ کی جھلک ملتی ہے۔اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے بھی اردو عربی قصائد میں تھوڑا فرق ہے۔عربی قصائد میں اجزائے ترکیبی کا اتنا اہتمام نہیں ملتا،جتنا اردو قصیدوں میں ہے۔ تشبیب، سراپا نگاری میں عرب شعرا نے حقیقت پسندی کا سہار ا لیا جب کہ اردو قصیدہ نگاروں میں تخیل کی ملاوٹ زیادہ ہے۔
اردو کے زیادہ تر شعرا نے گریز کو برتا ہے ، لیکن عربی میں گریز کا اس درجہ التزام نہیں کیاگیا۔قصیدے کے ایک اہم جز ’مدح‘ میں بھی فارسی اوراردو قصیدے کا انداز تھوڑا الگ ہوجاتاہے ۔عربی قصائد میں اسی ممدوح کی مدح ہوتی ہے اور اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کا وہ مستحق ہوتا ہے۔جب کہ اردو میں مدح میں حقیقت کا پہلو کم ہوتاہے۔قصیدے کے اجزائے ترکیبی میں سے ایک دعا بھی ہے۔ اردو کے اہم شعرا دعا کو بخوبی برتتے ہیں لیکن عربی قصیدے کے شعرا دعائیہ حصہ پر توجہ نہیں دیتے۔سبع معلقات میں کوئی بھی قصیدہ ایسا نہیں ہے جس کے آخر میں دعا ہو جب کہ اردومیں ہرمہتم بالشان قصیدہ کا اختتام دعا پر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر یوسف رامپوری نے اس کتاب میں عربی اور اردو قصائد کے جملہ مباحث کو بہت عمدگی سے سمیٹنے کی کوشش کی ہے اور زبان و بیان میں بھی جامعیت، ارتکازیت اور معروضیت کاخاص خیال رکھا ہے۔مواد اور اسلوب کے اعتبار سے ڈاکٹر یوسف رامپوری کے اس کتاب کو اروع اور انفس کہاجاسکتاہے ۔ سہل انگاری کے اس عہدمیں یہ جامعاتی تحقیق عرق ریزی، ژرف نگاری اور مطالعاتی وسعت و محنت کی ایک عمدہ مثال ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
haqqanialqasmi@gmail.com
Cell: 9891726444

