Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

پنڈت ہری چند اختر کی غزلیہ شاعری کے منفی کردار – ڈاکٹر خالد مبشر

by adbimiras جنوری 2, 2021
by adbimiras جنوری 2, 2021 0 comment

ہماری شعری روایت میں عاشق ومعشوق محوری کردار ہیں۔لیکن اس کے علاوہ ایک تیسرا کردار بھی ہے جس کو ہم فلمی اصطلاح میں ولن کہہ سکتے ہیں۔ یہ کردارمنفی اور تخریبی ہوتے ہیں۔غزل کا رقیب، غیر، شیخ، ملا، واعظ، زاہد، ناصح اور محتسب وغیرہ اسی قبیل میں شامل ہیں۔عامیانہ نظر میں شیخ و ملاکو مذہبیت اور روحانیت کا علم بردار تصور کیا جاتاہے۔ لیکن فارسی اور اردو کی شعری وراثت میں ان کرداروں کو غیر مثبت اقدار کے نمائندے کے طور پر مشتہر کیا گیاہے۔تیرہ سو برسوں کو محیط فارسی اور اردو غزلیہ متون میں ان کرداروں کی خصوصیات، لوازم، نفسیات اور قول وعمل کی جو تصویر بنتی ہے، وہ سرتا سر منفی ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے لامحالہ شریعت اور تصوف کے مابین کشمکش کی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہوجاتاہے۔ہمارے شعری ورثے میں زاہدو واعظ اور اس زمرے کے دیگر کرداروں کی شبیہ جس طرح ابھرتی ہے،  وہ یوں ہے کہ یہ ظاہر پرست ہوتے ہیں، باطنی کیفیات سے انھیں کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ صرف داڑھی اور جبہ، خرقہ، کرتا، ٹوپی اور عمامہ ودستار سے مطلب ہوتا ہے۔ وہ انسان اور خدا کے درمیان قلبی، روحانی اور وجدانی رشتے کا عرفان وادراک نہیں رکھتے۔  وہ مذہب وشرع کی خارجی شکل وصورت اور ہیئت وساخت میں الجھے رہتے ہیں۔انھیں صرف رسم پرستی سے دل چسپی ہوتی ہے اور وہ محض عقل ودماغ سے سروکار رکھتے ہیں۔انھیں دل اور معاملات دل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کا خمیر محبت، خلوص، ہمدردی، خیرخواہی، درد وغم اور دل سوزی سے خالی ہوتاہے۔اس کے قول وعمل میں تضاد پایا جاتاہے۔وہ منافقت، دورنگی، دہرے پن اور دوغلے رویوں کا مجسمہ ہوتاہے۔اس کی شخصیت میں تصنع اور دکھاوا بہت زیادہ ہوتاہے۔ وہ ڈھونگ، مکاری،دغا، عیاری اور چال بازی میں مہارت رکھتاہے۔یہاں ایک سوال یہ قائم ہوتاہے کہ آخر مشرقی شاعری میں اس کردار کے خدو خال کس طرح متصور اور متشکل ہوئے؟اس بحث کے ڈانڈے دراصل اسلامی تاریخ کے اس عہد سے جا ملتے ہیں جب خلافت کا خاتمہ ہوا اور ملوکیت ظہور پذیر ہوئی۔ اسلامی قرن اول میں معاشرہ واقتدارمیں خداترسی اور جذبۂ ایثار کے نتیجے میں اعلیٰ اقداری نظام مستحکم تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ ملوکانہ ذہنیت فروغ پذیر ہونے لگی اور اسی کے زیر اثردنیا داری، ہوس جاہ وحب مال ودولت اور حرص وہواکے مہیب سائے چار دانگ عالم میں پھیلتے چلے گئے۔اس صورت حال سے بیزار اور متنفر ہوکراہل دل اور اہل خلوص کی جماعت نے گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ انھوں نے دنیا ومافیہا سے علاحدہ ہوکرخود کو خدا اور بندگانِ خدا کی محبت وخدمت میں مست ومستغرق کرلیا۔ یہی وہ تاریخی موڑ ہے جہاں دو متصادم ومتضاد کردار ظہور پذیر ہوئے۔ایک اہلِ دل اور ایک اہلِ خرد۔ غزلیہ شاعری کے اس منفی کردار کی وابستگی اہلِ خرد سے ہے۔یہاں ٹھہر کر ایک اور اہم سوال پر غورکرلینا چاہیے کہ کیایہ روایتی شعری منفی کرداراپنے لفظی اور لغوی معنی میں مستعمل ہوئے ہیں؟اس سوال کا جواب شاعری کا مبتدی طالب علم بھی بہت سہولت سے دے سکتاہے کہ ہماری شاعری کا اپنا ایک تصوراتی اور استعاراتی نظام ہے اور یہ تمام کردار اسی شعریاتی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔چنانچہ جب ہم اپنے شعری سرمایے پر نظر ڈالتے ہیں توہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی تکلف و تردد نہیں ہوتاکہ شیخ، واعظ، زاہد، ملا اور ناصح وغیرہ دراصل ہمارے معاشرے کے تمام شعبوں میں الگ الگ رنگ اور ڈھنگ سے موجود ہیں۔کہیں مذہبی پیشوا، کہیں سیاسی رہنما، کہیں سماجی ٹھیکیدار، کہیں عدالتی عہدے دار اور کہیں افسر شاہ کے بھیس میں درحقیقت یہی کردار متمکن ہیں۔

شیخ وزاہد کا جوتصورہمارے شعری ورثے میں قائم ہوتاہے،اس کا ایک واضح پیکر تراشنے کے لیے یہاں چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں:

شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں

جبہ، خرقہ، کرتا، ٹوپی مستی میں انعام کیا

دل بے رحم گیا شیخ لیے زیرِ زمیں

مرگیا پر یہ کہن گبر مسلماں نہ ہوا

(میر)

ذوق جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا

ان کو مے خانے میں لے آو سنور جائیں گے

(ذوق)

کہاں مے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ

پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

(غالب)

خلافِ شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں

مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں

 

جیسے دوزخ کی ہوا کھاکر ابھی آئے ہیں

کس قدر واعظِ مکار ڈراتا ہے مجھے

 

شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کرے

مذہب کے جھگڑے چھوڑے تو پیشے کو کیا کرے

(اکبر آلہ آبادی)

 

میں بھی حاضر تھاوہاں ضبط سخن کرنہ سکا

حق سے جب حضرتِ مُلّا کو مِلا حکم بہشت

عرض کی میں نے الٰہی مری تقصیر معاف

خوش نہ آئیں گے انھیں حورو وشراب ولبِ کشت

نہیں فردوس مقام جدل وقال واقوال

بحث وتکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت

ہے بد آموزی اقوام و ملل کام اس کا

اور جنت میں نہ مسجد، نہ کلیسا، نہ کنشت

(ملا اور بہشت: اقبال)

 

پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کی

دوزخ ترے قبضے میں ہے، جنت ترے گھر کی

(شکیل بدایونی)

 

پنڈت ہری چند اختر(1901-1958) بنیادی طورپر شاعراور صحافی ہیں۔ شاعری میں وہ روایتی اور کلاسکی طرز کے نمائندہ ہیں۔ ان کو حفیظ جالندھری سے باقاعدہ شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ان کا اکلوتا شعری مجموعہ کفروایمان 1960 میں عرش ملسیانی نے ترتیب دے کر ستپال کوچۂ خان خاناں اردو بازار دہلی سے شائع کیا۔ پنڈت ہری چند اختر کی شاعری سرتاسر قدیم رنگ وآہنگ میں رچی بسی ہے۔چنانچہ ان کے یہاں وہی حسن وعشق،وہی شیخ وملا، وہی قدوگیسو، وہی لب ورخسار، وہی شمع و پروانہ،وہی جام و پیمانہ اور وہی گل وبلبل کی داستان سرائی ملتی ہے۔لیکن محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے جذبہ وخیال کے اظہار میں شیخ وملا سے بہت کام لیا ہے،بلکہ ایک غزل ایسی بھی ہے، جس کے ہر شعر میں ان کرداروں کی خوب تضحیک وتحقیر کی گئی ہے۔ وہ غزل ملاحظہ فرمائیں:

ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا

بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا

 

رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا

کسی نے کچھ لکھا ہوگا،کسی نے کچھ لکھا ہوگا

 

بروزِ حشر حاکم قادرِ مطلق خدا ہوگا

فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا

 

سکون مستقل،دل بے تمنا،شیخ کی صحبت

یہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہوگا

 

مرے اشعار پر خاموش ہے جز بزنہیں ہوتا

یہ واعظ واعظوں میں کچھ حقیقت آشنا ہوگا

 

بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اختر اس کی رحمت پر

اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا

 

مذکورہ اشعار میں مضمون گرچہ پامال ہے، لیکن طرز ادا کی نشتریت اور برجستہ طنزیہ لے لطف دے جاتی ہے۔ظاہر پرست شیخ کو بزعمِ خود اپنے جنتی ہونے اور اس کے مزعومہ ہدایت نامے کی خلاف ورزی کرنے والے کے دوزخی ہونے کا دعوی ہوتاہے۔جب کہ شاعر کی دلیل یہ ہے کہ اس کے فیصلے کا حتمی حق صرف خدائے مطلق کو حاصل ہے۔شاعر کا تصورِ جنت شیخ کے نظریے سے بالکل مختلف ہے۔ شاعرجنت کو اپنے جذبات اور تمناؤں کا گہوارہ سمجھتاہے۔جب کہ اس کے بالمقابل شیخ کی جنت میں بے تمنا دل اور مستقل جمود ہے۔ایک شاعر کی واعظ سے بھی نہیں بنتی ہے۔کیوں کہ واعظ کے اقوال اور نصیحتیں بے حسی، ناتجربہ کاری اور قلبی واردات سے عاری رویوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔جب کہ شاعر انسان کے داخلی وجود کے کرب وآلام کو اپنی تخلیق میں جذب کرلیتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں میراجی کی غزل کی کیفیات -شبانہ پروین)

غزل کا مقطع بطور خاص قابل غور ہے:

 

بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اختر اس کی رحمت پر

اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا

حقیقت یہی ہے کہ شاعر کا تصورِ خدا بھی شیخ کے تصورِ خدا سے متصادم ہوتاہے۔شیخ کا خدابے حس، بے رحم، ظالم وجابر اورمتعصب ہوتاہے۔ جب کہ شاعر کا خداسراپا رحمت، کرم، عفوو درگزر اور بے کراں بخششوں کا سر چشمہ ہوتاہے۔

معاشرے میں منافق کرداروں کی کمی نہیں۔ ہمارا شعری علامتی نظام اس دوغلے پن کو شیخ وواعظ کے کردار میں کس

سے پیش کرتاہے۔پنڈت ہری چند اختر کایہ شعراس کا عمدہ نمونہ ہے:

دیں دار ہے زاہد کی زباں بھی، مرا دل بھی

پھر مفت کی تکرار ہے معلوم نہیں کیوں

مذکورہ شعر میں زاہد اور شاعر کی افتادِ طبع کا تضاد کھل کر سامنے آجاتاہے۔زاہد کا سارا زہد وتقویٰ، اس کی ساری دین داری اور للّٰہیت صرف اس کی زبان پر ہے۔جب کہ یہ اعلٰی خصوصیات شاعر کی رگ وپے میں خون کی طرح رواں ہوتی ہیں۔

شیخ بنیادی طورپر شعبدہ گر ہوتاہے۔وہ اپنی ہوس اقتدار وشہرت وجاہ کے لیے رنگ بدلتارہتاہے۔ اوروہ یہ تمام پینترے صرف حصولِ غلبہ وتسلط کے لیے کرتاہے بقول پنڈت ہری چند اختر:

دمادم شعبدے ہم کو دکھاتاہے کوئی جلوہ

کہیں شیخِ حرم ہوکر، کہیں پیر مغاں ہوکر

زاہد کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ظاہری وضع کچھ اور ہوتی ہے لیکن اس کی باطنی خباثت کچھ اور ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے گفتاروکردار اور رویہ وعمل کی آویزش کو چھپانے میں ناکام ہوجاتاہے اور شاعر اس کا اصلی چہرہ دیکھ لیتاہے۔پنڈت ہری چند اختر کے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں:

 

انھیں دیکھاتو زاہد نے کہا ایمان کی یہ ہے

کہ اب انسان کو سجدہ روا ہونے کا وقت آیا

 

ذرا اک چھیڑ دو زاہد سے قصے حورو غلماں کے

پھر اس کمبخت کی رنگیں بیانی دیکھتے جاؤ

پنڈت ہری چند اخترکے اندر کا شاعر زاہد کے قول وعمل کی ناہمواریوں اور بے ڈھب رویوں کو جس شاعرانہ چھیڑ چھاڑ اور طنز وتعریض کا نشانہ بناتا ہے،وہ ہماری پرانی شاعری کی ایک امتیازی شناخت ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں غالب کی خیال بندی – مہرفاطمہ )

پنڈت ہری چند اختر کی شاعری کے منفی کرداروں کا مطالعہ کرتے ہوئے اردو کی شعری تہذیب اور اس کی روح کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔چنانچہ جب ہم پنڈت ہری چنداختر کے اس قسم کا شعر پڑھتے ہیں:

صداقت ہو تو دب جاتا ہے ایماں کفرِ مطلق سے

مرا منہ تک رہے ہیں شیخ جی سے کچھ نہیں ہوتا

تو ہمارا شعری شعور لازماً اس امر کی طرف منتقل ہوجاتاہے کہ اردو شاعری دراصل وحدت الوجود، وحدت الادیان، وحدتِ آدم اور گنگا جمنی تہذیبی اقدار کی پروردہ ہے۔جب کہ شیخ وملا ان وحدتوں کے بدترین دشمن ہیں۔ انھوں نے مذہب اور خدا کو اپنی ذاتی جاگیر بنا رکھی ہے۔وہ چند رسوم اور خارجی اعمال کو خداپرستی باور کراتے ہیں۔وہ عبادت کو مسجد ومندر میں تقسیم کرتے ہیں۔ وہ بندگانِ خدا میں نفرت، فرقہ بندی، جھگڑا، قتل وخون اور فتنہ وفساد کو ہوا دیتے ہیں۔جب کہ مذہب کی ا صل روح حق، حسن اور خیر ہے۔محبت اور وفا ایمان کی بنیادہے۔پنڈت ہری چند اختر کا مذکورہ شعر ہمارے اسی تہذیبی مزاج کا ترجمان ہے۔بقول غالب:

وفا داری بشرطِ استواری اصل ایماں ہے

مَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

 

اوریہ شعر:

ہم موحد ہیں، ہمارا کیش ہے ترک رسوم

ملتیں جب مٹ گئیں، اجزائے ایماں ہوگئیں

اردو کی شعری داستان میں صوفی، عاشق، رنداور شاعرکا قبیلہ شیخ وملا سے برسرِ پیکار نظر آتاہے۔شیخ وملا کی ساری نیکیاں محض حرص وہوا، لالچ اور جنت کی ہوس کی ژائیدہ ہوتی ہیں۔ جب کہ صوفی اور شاعر کا جذبہء خیر ان ہوس کاریوں سے منزہ ومبرہ ہوتاہے۔وہ جو کچھ کرتاہے وہ بے پناہ خلوص،دل سوزی اور اضطراب کے عالم میں کرتاہے۔ اس میں عشق وجنون ہوتاہے۔ذرایہ داستان پنڈت جی کی زبانی سنیے:

عبادت از پئے انعام زاہد

ہوس کاری ہے مشتاقی نہیں ہے

 

کہ تیرا مرکز سعی وتمنا

شراب وجام ہے ساقی نہیں ہے

 

دیا جنت کا لالچ شیخ ہم سے یہ کہا ہوتا

چلو کعبہ کے رستے میں صنم خانے بھی آتے ہیں

پنڈت ہری چند اختر کی شاعرانہ نظر جذبہ وخلوص سے عاری لیکن جنت کے دعوے دار حضرتِ زاہد کی عاقبت بھی دیکھ لیتی ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں:

نہ پوچھو سرِحشر زاہد کا حال

سمجھتے تھے کیا اور کیا ہوگیا

پنڈت ہری چند اختر کی شاعری کے منفی کرداروں کا یہ مطالعہ اس امر پر منتج ہوتاہے کہ شیخ وملا پر ان کے باندھے گئے مضامین میں کوئی جدت یا عصری حسیت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ وہ بالکل روایتی نوعیت کے ہیں،بلکہ ان کرداروں میں کسی قسم کی سیاسی اور سماجی معنویت کی جستجو بھی بہت کارآمد نہیں ہے۔لیکن ان مضامین کے پیشِ نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پنڈت جی کو اردو کی شعری روایت کا گہرا شعور وادراک حاصل تھا۔ انھوں نے ان منفی کرداروں سے وابستہ تصوراتی نظام کو بخوبی سمجھا اور برتابھی ہے۔

شعبۂ ارد و جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثشاعریغزل
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
آبروئے ادب:شمس الرحمن فاروقی کی یاد – ڈاکٹر عمیر منظر
اگلی پوسٹ
میں تمثال ہوں: ایک سرسری جائزہ – گلناز کوثر

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں