بیسویں صدی میں بر صغیر ہند کی علمی و دینی فضا پر جن چند علمی و دینی شخصیات نے گہرے اور تاریخی نقوش ثبت کیے، ان میں مولانا اشرف علی تھانویؒ (1863-1943)کا نام سر فہرست ہے۔ مولانا نے اپنی سیکڑوں کتابوں میں درجنوں موضوعات پر خامہ فرسائی کی، ان میں ایک اہم موضوع تعلیم بھی ہے۔ یہ موضوع ہر دور میں اہم رہاہے اور مختلف قوموں اور سماجوں میں اس پر بحث و مباحثے ہوتے رہے ہیں۔ کتابیں لکھی جاتی رہی ہیں اور ان میں پیش کردہ افکار کا تجزیہ کیا جاتا رہاہے۔ یہی زندہ قوموں کی پہچان ہے اور اسی پر ان کی فکری و تمدنی ترقی کا مدار ۔لیکن مدارس کے حلقوں میں تعلیمی نصاب و نظام کو موضوع بحث بنانا ایک قسم کی بدعت اور انحراف تصور کیا جاتاہے۔ ارباب مدارس کی نگاہ میں اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس کا تعلق پڑھنے اور ایک معمولی حد تک پڑھانے والوں سے ہے اور بس! مدارس کا نصاب ونظام اس بحث سے خارج ہے۔ مولانا کا ذہن اس ذہنیت سے کافی حد تک دور نظر آتا ہے۔ چنانچہ جہاں وہ نئی کتابیں، نئے علوم و مضامین اور نئے نصابات متعارف کراتے اور ان کی اہمیت پر تاکید کے ساتھ روشنی ڈالتے ہیں وہیں اصل مقصود یعنی قرآنی علوم کے تعلق سے عام بے رغبتی اور طلبہ کی نا اہلیت کے بھی وہ شدت کے ساتھ شاکی ہیں اور بر ملا اس پر اپنے رنج اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں کہ ’’ہمارے اس جمود کی کوئی انتہا بھی ہے(1)۔‘‘ ان کی نظر میں جلالین پڑھنے کے بعد طلبہ میں اتنی بھی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی کہ اگر ان سے غیر مترجم قرآن دے کر کہا جائے کہ:’’ ایک رکوع کا ترجمہ اور ضروری مسائل حل کرو تو وہ ہرگز نہ کر سکیں گے۔‘‘قرآنی درسیات کے تعلق سے ایک طرف وہ طرز تعلیم میں ترمیم کی وکالت کرتے ہیں تو دوسری طرف بعض کتابوں کے اضافے کا بھی صائب مشورہ دیتے ہیں۔
مولانا تھانویؒ کا نقطۂ نظر بہت واضح طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ اصل چیز نصاب نہیں ہے، دوسرے لفظوں میں نصاب کی اپنی کوئی قدر نہیں ہے۔ اصل قدر اس نتیجے کی ہے جو اس سے بر آمد ہوتا ہے ۔ایک دوررس مفکر کی طرح ان کی نگاہ اصلاً دینی اور سماجی تقاضوں پر مرکوز ہے۔ اس ضمن میں وہ ماضی کے احوال اورمستقبل کے در پیش چیلنجوں کی بھی خبر رکھتے ہیں۔ انہوں نے ’’الانتباہات المفیدۃ عن لاشتباہات الجدیدۃ‘‘ اپنے طورپر انہی عقلی چیلنجوں کا اصولی جواب تلاش کرنے کے لئے لکھی تھی۔ اس لیے ان کا ذہن روایت سے زیادہ درایت اور وسیلے سے زیادہ مقصد کی طرف مائل نظر آتا ہے۔وہ واضح طورپر اس خیال کا اظہار کرتے ہیں کہ تمام لوگوں کا عالم بن جانا ضروری نہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو: ’’ کھیتی اور تجارت سب برباد ہو جائے گی اور مجموعہ قوم پر معاش کی حفاظت کرنا فرض ہے تو واجب ہے کہ ایک جماعت کھیتی کے لیے رہے، ایک تجارت کے لیے رہے اور ایک خدمت دین کے لیے جس کو لوگوں نے اڑا دیاہے(2)۔‘‘ یہی نہیں وہ عربی مدرسے میں داخل ہر طالب علم کے عالم بن جانے کے بھی حق میں نہیں تھے اور اسے باعث خطرہ و نقصان تصور کرتے تھے۔ کیونکہ ان کی نظر میں: ’’ہرشخص طالب علم بن کر مقتدا بننے کے لائق نہیں ہوتا بعضے نالائق بھی ہوتے ہیں۔ ایسوں کو فارغ التحصیل بنا کر مقتدا بنا دینا خیانت ہے۔‘‘ اس لیے وہ طلبہ کے انتخاب پر زور دیتے ہیں۔ کہتے ہیں: ’’آج کل مدرسین و مہتممین اس کا بالکل خیال نہیں کرتے۔ کیا جتنے طلبہ ان کے مدرسے میں داخل ہوئے ہیں، کیا سبھی کو علم سے پوری مناسبت ہوتی ہے اور سبھی کی فہم سلیم ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ پھر کیا ہے کہ وہ طلبہ کا انتخاب نہیں کرتے۔(3) اس کے تعلق سے ایک طرف وہ سلف صالحین کا حوالہ دیتے ہیں اور دوسری طرف معاصر مغربی دنیا کا:’’ میں دیکھتا ہوں کہ لندن میں ایک جماعت انتخاب کنندگان کی ہے وہ جس کو جس کے قابل دیکھتے ہیں اسی کی تعلیم دیتے ہیں(4)۔‘‘ یہ ہے مولانا تھانویؒ کی روشن خیالی یا اسلامک ریشنلزم جسے حدیث میں ’’ حکمت‘‘ سے تعبیر کیا گیاہے: ’’الحکمۃ ضالۃ المؤمن این وجدہا فہو احق بہا‘‘( حکمت مومن کی متاع گم شدہ ہے وہ اسے جہاں بھی پا لے اس کا زیادہ حقدار ہے۔ترمذی)۔
طلبہ کے انتخاب کے ساتھ طلبہ کے حسب حال خود نصاب تعلیم کا بھی مسئلہ ہے۔ یعنی کس طرح کے طلبہ کے لیے کون سا نصاب ضروری ہے؟ کیا عا لمیت و فضیلت پر مشتمل آٹھ دس سالہ نصاب کو بغیر توقف ، یک سرے پن کے ساتھ ہر طرح کے طلبہ پر لاد دینا چاہیے؟ مولانا تھانویؒ شدت کے ساتھ اس کے مخالف ہیں۔ دور ماضی و حاضر کے اکابر کی ایک جماعت تعدد نصاب پر زور دیتی ہے لیکن ان کی نظر میں اس کا کوئی واضح خاکہ نظر نہیں آتا، زیادہ سے زیادہ یہ بات علمی مجلسوں میں گونجتی رہتی ہے کہ آٹھ سالوں پر مشتمل فضیلت کے نصاب کے درمیان ایک وقفہ ہونا چاہیے جو ثانویہ کے برابر ہو، مولانایوسف بنوریؒ ( تلمیذ علامہ انور شاہ کشمیریؒ کراچی ، پاکستان) نے اس کا خاکہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ پیش کیا(5) اور پاکستان میں اپنے مدرسے میں اس کی تنفیذ بھی کی۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ بھی مختصر مدتی عالم کورس کے حق میں تھے۔ موجودہ لوگوں میں مولانا سالم قاسمی رح بھی اس کے مؤیدین میں تھے(6)۔ لیکن راقم الحروف کا جانبداری اور عقیدت کے جذبے سے اوپر اٹھ کر خیال ہے کہ مولانا تھانویؒ نے شرح و بسط کے ساتھ اس کے مختلف اور گوناگوں پہلوئوں کو زیر نظر رکھتے ہوئے جس طرح اس موضوع پر اپنی آرا پیش کی ہیں، اگر انہیں عمل میں لانے کی کوشش کی جائے تو دینی مدارس کے تعلیمی ڈھانچے میں ایک نہایت خوشگوار انقلابی تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔
مولانا تھانویؒ اپنے اس خیال کے ساتھ کہ علما کو چاہیے کہ نصاب تعلیم کو وسیع کریں، چار طرح کے نصاب کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں:
’’ ایک نصاب تو ان لوگوں کے لیے ہونا چاہیے جن کو عربی پڑھنے کے لیے فراغت اور فرصت ہے(۲) دوسرا نصاب ان لوگوں کے لیے ہونا چاہیے جن کو عربی پڑھنے کا شوق ہے مگرفرصت کم ہے(۳) تیسرا نصاب عربی میں ان لوگوں کے لیے ہونا چاہیے جو عربی نہیں پڑھ سکتے۔ ان کو اردو میں ضروریات دین پڑھا کر عقائد و معاملات سے آگاہ کر دینا چاہیے اور (۴) چوتھا نصاب ان بوڑھے لوگوں کے لیے مقرر کر نا چاہیے جو اردو بھی نہیں پڑھ سکتے۔‘‘(7)
گویا پہلا نصاب ایک مکمل عالم و فاضل کے لیے جسے مقتدابننا اور مسلم سماج کی پیشوائی کرنا ہے۔ دوسرا نصاب نصف عالم، نیم مولوی کے لیے ہے جو اپنی تین چار سالہ دینی تعلیم کے بعد عصری علوم کے دیگر میدانوں سے دنیا کا اپنا حصہ وصول کر سکے جس کی تلقین قرآن میں کی گئی ہے(۷۷/۲۸) جبکہ تیسرے نصاب کا مقصد مولانا تھانویؒ کے نزدیک عام سطح کے افراد کو دین کی بنیادی و ضروری معلومات کے ساتھ پوری طرح دنیا کے لیے فارغ کر دینا ہے ۔ چوتھا نصاب ظاہر ہے کہ تعلیم بالغاں کا ابتدائی خاکہ ہے۔ نصاب کے اس تعدد میں مولانا تھانویؒ کی نگاہ امارت وغربت کی سماجی قدرتی تفریق پربھی ہے۔ اس پر تفصیل کے ساتھ انہوں نے اظہار خیال کیا ہے، فضیلت کا مکمل نصاب وہ امیر(یعنی سماجی سطح پر خوشحال و فارغ البال نوجوان جن کے پاس پڑھنے کی مکمل عمر موجود ہو؛ کے لیے تجویز کرتے ہیں۔ غریب و پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے و الے طلبہ کے لیے ان کی تجویز یہ ہے کہ ان میں سے جو غنی الطبع ہیں یعنی جن کے اندر حرص وطمع کے بجائے استغنا اور غیرت و خودداری کی کیفیت موجو د ہے:’’ ان کو علم دین پڑھاکر پورا عالم بنائو اور جو حریص مدنی الطبع ہیں ان کو ضروریات دینی سے آگاہ کر دو۔ پورا مولوی( عالم) نہ بنائو۔ یہ بڑی غلطی ہے کہ سب کو پورا عالم بنا دیا جائے چاہے اس کی طبیعت کیسی ہو۔‘‘(8) موجودہ ماحول میں مولانا تھانویؒ کے اس بصیرت آمیز نکتے کی معنویت کو زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔ مولانا تھانویؒ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس وقت علما کے ایک طبقے سے متعلق جن مختلف علمی و اخلاقی کمیوں اور کمزوریوں کی شکایت کی جارہی ہے اس کی بہت کچھ ذمہ داری مدارس کے موجودہ نصاب و نظام پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں تخلیق کائنات کی حقیقت سائنس اور مذہب کے تناظر میں – ڈاکٹر انیس الرحمن )
مولانا تھانویؒ کے تعلیمی نظریے کے چند اور بنیادی اور قابل غور نکات ہیں ۔وہ انگریزی تعلیم یا علوم عصریہ کے مخالف نہیں ہیں البتہ وہ اس بات کو ضروری سمجھتے ہیں کہ پہلے قرآن اور بنیادی دینی تعلیم سے بچوں کو آشنا کیا جائے اس کے بعد انھیں عصری علوم سے آراستہ کرنے کی کوشش کی جائے(9)۔ مولانا تھانویؒ کی بحیثیت ایک عالم و صاحب خانقاہ صوفی، خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف مدارس کا رخ کرنے والے، جدید سروے کے مطابق ڈھائی تین فیصد قوم کے بچوں کی ہی تعلیم کی فکر نہیں کرتے بلکہ ان کا نظریہ عمومی تعلیم کا ہے جس میں خصوصیت دینی تعلیم کو حاصل ہے۔
وہ قدیم علوم یا مضامین کو جوں کا توں رکھنے کے قائل نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ منطق کی تعلیم سے خوش نہیں۔ البتہ اس نا پسندیدگی میں مولانا رشید احمد گنگوہی والی شدت نہیں پائی جاتی ۔ واضح ہو کہ مولانا گنگوہی نے اپنی سرپرستی کے زمانے میں دارالعلوم دیوبند سے منطق کا نصاب خارج کر دیا تھا۔ وہ منطق پڑھنے والوں کی بیعت تک نہیں کرتے تھے۔ ان کی نظر میں منطق کے تعلق سے صرف ایک رسالہ بھی کافی ہے۔ مولانا منت اللہ رحمانی(10) ، مولانا ابوالحسن ندوی جیسی شخصیات کا بھی یہی نقطۂ نظر رہا ہے۔ منطق تو خیر لیکن(قدیم) فلسفہ پڑھنے کومولانا تھانویؒ حماقت تصور کرتے ہیں۔ وہ اس کے بھی ناقد ہیں کہ لوگوں نے علم یا اس کی طلب کو عربی کے ساتھ مخصوص سمجھ لیا ہے حالانکہ عربی کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ طلب علم کی فضیلت جو احادیث میں مذکور ہے، اسے ہر کوئی حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ :’’وہ معاملات و عقائد وغیرہ کا اہتمام کرے اور غور کرتا رہے اور جو نا معلوم ہو پوچھتا رہے، بس یہ طالب علم ہو گیا، ہاں جو اس طرح مقتدا بن جائے وہ اس فضیلت کے ساتھ نائب رسول بھی ہوگا۔‘‘(11)
مدارس کی عام و مخالف ذہنیت کے بر عکس مولانا کا عملیت پسند ذہن اکثر چیزوں کے تعلق سے کھلا ہواہے اور وہ دو ٹوک طور پر اپنی آرا کا اظہار کرتے ہیں۔ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اہل باطل پر رد و قدح یا مناظرہ کے لیے اہل باطل کے علوم و فنون حاصل کرنا ضروری ہو تو وہ بھی طاعت ہے جیسے اس وقت سائنس وغیرہ سیکھنا(12)یہی رائے ان کی انگریزی کے بارے میں ہے۔ ہندی و سنسکرت کو داخل نصاب کیے جانے پر وہ بھرپور ستائش کا اظہار کرتے ہیں اور اس تعلق سے اعتراضات کا دفاع کرتے ہیں(13)۔ مولانا تھانویؒ کاایک قول تو بڑا ہی روایت شکن ہے، فرماتے ہیں:
’’ ہم تو جیسا بخاری کے مطالعے میں اجر سمجھتے ہیں، میر زاہد ، امور عامہ کے مطالعہ میں بھی ویسا ہی اجر سمجھتے ہیں کیوںکہ اس کا شغل بھی اللہ کے واسطے ہے اور اُس کا بھی یعنی انماالاعمال والی بات ہے۔‘‘(14)عصری اور غیر دینی کہے جانے والے علوم کے تعلق سے مولانا تھانویؒ کی یہ رائے بھی دیکھیں اور آج کی ذہنیت کا اس کے تناظر میں جائزہ لیں:
’’ یہ میری بہت پرانی رائے ہے اور اب تو رائے دینے سے بھی طبیعت افسردہ ہوگئی اس لیے کہ کوئی عمل نہیں کرتا اور رائے یہ ہے کہ تعزیرات ہند کے قوانین اور ڈاکخانہ اور ریلوے کے قواعد بھی مدارس اسلامیہ کے درس میں داخل ہوناچاہیے، یہ سب پرانی رائے ہے مگر کوئی نہیںمانتا اور سنتاہے۔‘‘(15)
مندرجہ بالا سطور میں مولانا اشرف علی تھانویؒ کے تعلیمی نظریات، خاص طورپر جن کا تعلق مدارس کے نصاب و نظام سے ہے ، کا جائزہ و خلاصہ اس مقصد سے پیش کیا گیا ہے کہ مدارس کے نصاب و نظام کے متعلق چھڑی موجودہ بحث میں انہیں بھی سامنے رکھ کر ان سے روشنی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے- مولانا تھانویؒ ایک بڑے طبقے کے پیشوا و مقتدا کی حیثیت رکھتے ہیں، اس اعتبار سے اس طبقے کے لیے مولانا تھانویؒ کی بات ’’ قول متین‘‘ اور ’ حجت بالغہ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔
حوالہ جات:
(1) اصلاح انقلاب ص:۴۷، بحوالہ ’’ علوم و فنون اور نصاب تعلیم‘‘ افادات: مولانا اشرف علی تھانویؒ، ترتیب: محمد زید مظاہری ندوی، ناشر: ادارہ افادات اشرفیہ، ہتورا، باندہ ( یوپی)
(2) دعوات عبدیت:ج:۲، ص: ۱۵۸، بحوالہ کتاب مذکور ص : ۳۷۔
(3) ایضاً ج:۲، ص ۴۳، بحوالہ کتاب مذکور ص :۳۷
(4) ایضاً
(5) ماہنامہ ترجمان دارالعلوم دہلی فروری مارچ 2001
(6) دینی مدارس اور عصر حاضر: مولانا محمد رضوان القاسمی ، ص : ۹۵
(7) التبلیغ ص : ۱۶۱، تعمیم التعلیم ص : ۴۳، بحوالہ کتاب مذکور ص : ۳۳
(8) دعوات عبدیت ج: ۲۰، ص: ۴۳، بحوالہ کتاب مذکور ص: ۳۶
(9) دعوات عبدیت ج:۶ ص ۱۳۹، بحوالہ کتاب مذکور ص: ۳۶
(10) ’’امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی’’ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا مضمون: حضرت امیر شریعت مولانا سید منت اللہ رحمانی کے تشکیلی عناصر اور معاصرین میں ان کے امتیازات و تشخصات‘‘ ناشر: تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند۔ص،۱۰۸۔۱۰۹
(11) دعوات عبدیت ج:۹، ص :۱۵۵، بحوالہ علوم و فنون اور نصاب تعلیم ص:۲۷۔۲۶
(12) اصلاح انقلاب ص: ۲۶، اشرف السوانح ج : ۳، ص :۲۲۴، بحوالہ کتاب مذکورہ بالا ص : ۱۱۹
(13) آداب التبلیغ ص: ۱۲۰
(14) بحوالہ دینی مدارس اور عصر حاضر: مولانا رضوان القاسمی ص: ۴۷
(15) الافاضات الیومیہ ج:۶، ص: ۱۳۵
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

