کتابوں کے درمیاں : ایک مطالعہ/ پروفیسر محسن عثمانی ندوی – محمد اکرام الحق ندوی
علم میں اضافہ ، فکر وشعور میں بالیدگی ، اور خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مطالعہ کا اہم کردار ہے ، انسان کتابوں کے مطالعے کی بدولت آسمان علم وفن کا روشن ستارہ ، سلطنت معرفت کا امام ، اور میدان تحقیق کا شہسوار بن جاتاہے ، اگر ایک سند یافتہ شخص مطالعہ سے ہاتھ اٹھالے ، تو ایک زمانہ ایسا آتا ہے کہ وہ علم وتحقیق سے عاری ، اور سند یافتہ جاہل بن جاتا ہے ۔
یہ بات مسلم ہے کہ ہر لکھی ہوئ چیز پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی ، اور نہ ہر کتاب ہاتھ لگانے کے لائق ہوتی ہے ، کیونکہ تخریبی کتابوں کو پڑھ کر انسان کا ذہن بھی تخریبی ہوجاتا ہے ، وہ درندہ صفت انسان بن جاتا ہے ، اسی لیے ضرور ہے کہ مطالعے کیلیے عمدہ کتابوں کا انتخاب کیا جاۓ ، جن سے فکر بلند ہو ، نکتہ شناسی کی قوت پیدا ہو، غور وفکر کےھ نۓ دریچے وا ہوں ، قلب وجگر کو حرارت ایمانی ، اور زبان ہوشمند کی آبیاری ہوتی ہو ، دل کے بارہ میں کہا گیا حضرت جگر مرآدابادی کا یہ شعر :
کا مل رہبر قاتل رہزن
دل سا دوست نہ دل سا دشمن
دل سے زیادہ کتاب پر صادق آتا ہے ، کیونکہ کتاب دو دھاری تلوار ہے ، اسے بڑی ہوشمندی سے استمعال کرنا چاہیے ، ورنہ وہ نافع کے بجاۓ نقصاندہ ثابت ہوجاتی ہے ۔
پروفیسر محسن عثمانی ندوی علمی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں ، درجنوں کتاب کے مصنف ، اور اردو وعربی کے مقتدر اور باکمال اہل قلم اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔
"کتابوں کے درمیاں ” پروفیسر صاحب کے تبصرے اور مقدمات کا دلکش مجموعہ ہے ، اس میں کل ٧٥ کتابیں ہیں ،
جن میں سے ٣٣ کا تعلق اسلامیات سے ہیں ، ٢٦ ادب سے متعلق ، اور ١٦ متفرقات پر ہیں ۔
اسلامیات میں فکر افروز کتابوں کا انتخاب کیا ہے ، جیسے ” مکررات قرآن ” ” تنقیحات ” ” تزکیہ واحسان یا تصوف وسلوک ” علم جدید کا چیلنج ” خطبات بھاولپور ” وغیرہ ، ادبی کتابوں کے انتخاب میں بھی پوری مہارت کا ثبوت دیا ہے ، متفرقات میں بھی عمدہ کتابوں کو چنا ہے ۔
پوری کتاب کوثر وتسنیم سے دھلی ہوئ زبان میں لکھی گئ ہے ، آپ کے زرنگار قلم نے اتنی گل ریزیاں ، گل افشانیاں ، اور ادب کی گلکاریاں کی ہے کہ دامان باغباں اور کف گل فروش کا دھوکہ ہوتا ہے ، حضرت مولانا ابو الحسن ندوی رح کے اسلوب نگارش کے بارے میں پروفیسر صاحب کا قلم یوں ادب کی موتی لٹاتے ہوۓ آگے بڑھتاہے :
” ان کے قلم جوۓ بار اور رودبار کو دیکھ کر کسی خوش خرام پہاڑی ندی کا تصور سامنے آتا ہے ، جو گاتی ہوئ گنگناتی ہوئ عراق دل نشیں کے ساز کو چھیڑتی ہوئ سنگ رہ سے گاہ بجتی گاہ ٹکراتی ہوئ نخلستانوں کو شاداب اور کشت زاروں کو سیراب کرتی ہوئ چلتی ہے ” ۔
پروفیسر صاحب جملوں کی تزئین کاری میں طاق ہیں ، مقفی عبارتیں بھی خوب لکھتے ہیں ، شاعر سوز وساز ڈاکٹر کلیم عاجز رح کے بارہ میں آپ کا قلم کچھ اس طرح جوہر دکھاتا ہے ، ” کلیم عاجز پرانی قدروں کے قائل ہیں ، اور ان ہی کے قتیل اور گھائل ہیں ، اور ان ہی کی طرف مائل ہیں ”
کتاب میں رنگ ظرافت بھی دیکھنے کو ملتا ہے ، مشہور مزاح نگار ” مجتبی حسین ” کے بارے میں لکھتے ہوۓ ظرافت کرتے ہوے نظر آتے ہیں ، لکھتے ہیں : ” مجھ سے اگر کوئ پوچھے کہ ہندوستان میں کون ادب کے نوبل انعام کا مستحق ہے ، تو میں پورے اعتماد کے ساتھ دو نام لوں گا ، ایک قرۃ العین ، اور دوسرے مجتبی حسین ، دونوں نام ہم وزن اور ہم قا فیہ ہیں ، شفیع شیخ کو اب مجھ سے یہ شکایت نہیں ہوگی کہ میں نے طنز ومزاح کو ادب میں اس کا جائز مقام نہیں دیا "۔
یہ مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ہیں ، ویسے تو پوری کتاب ادب وانشا کی شاہ کار ہے ، اور اس پر اشعار کے بر محل استعمال نے کتاب میں چار چاند لگادیا ہے ۔

