حد جاں سے گزرنے تک/ ساحرؔ داؤد نگری – ڈاکٹر داؤد احمد
اچھی شاعری زندگی کے گہرے شعور ،انسانی اقدار کے شدید احساس اور جمالیاتی پہلوؤں کے صحیح ادراک سے وجود میں آتی ہے۔ایسی شاعری معراج کمال کو اس وقت پہنچتی ہے ،جب شاعر اس میں مفکرانہ آہنگ پیدا کر دیتا ہے ۔موجودہ دور کی شاعری میں یہ خصوصیت بمشکل تمام ملتی ہے۔کچھ فنکار ایسے بھی ہیں جو اس عام روش سے ہٹ کر اپنا کام کر رہے ہیں۔شاعری جن کے لیے طاق جان میں چراغاں کرنے کا دوسرا نام ہے۔ ساحرؔ داؤد نگری کا شمار ایسے ہی شاعروں میں ہوتا ہے۔ان کے کلام کے مطالعے سے ان کی ذہنی فکر کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
زیر تبصرہ شعری مجموعہ’’ حد جاں سے گزرنے تک‘‘ ساحرؔ داؤدنگری کا پانچواں شعری مجموعہ ہے۔ ساحرؔ صاحب ایک کہنہ مشق شاعر ہیں۔مشاعروں میں شرکت کرنا یا فرمائشی کلام کہنا ان کی فطرت میں شامل نہیں ،ان کی نظر میں شاعری ذہنی اور قلبی تسکین کا سامان ہے نہ کہ نمائش یا نام و نمود کا۔کتاب کے ابتدا میں معروف ادیب وناقد اور صحافی حقانی القاسمی، ڈاکٹر مشتاق صدف اور ایم۔قمر علیگ کی تعارفی مختصر تحریر شامل اشاعت ہیں۔ساحرؔ داؤد نگری نے ’’ میری بات‘‘ عنوان کے تحت اپنے حالات زندگی سے اجمالی طور پر متعارف کرایا ہے۔انھوں نے اپنے شعری مجموعہ کا عنوان ’’ حد جاں سے گزرنے تک‘‘ اپنے ہی ایک شعر سے ماخوذ کیا ہے۔
مجموعہ کلام ’’ حد جاں سے گزرنے تک‘‘ میں ساحرؔ داؤدنگری نے شاعری کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔اس مجموعے میں ایک حمد،ایک نعت،61 غزلیں،15آزاد غزلیں،23 نظمیں،3 سانیٹ،8 ترائیلے،2 ماہیے اور 10ہائیکو شامل ہیں۔ان غزلوں،نظموں ،سانیٹ،ترائیلے،ہائیکو اور ماہیے کو پڑھ کر ہم ساحرؔ صاحب کی قادر الکلامی ،وسعت مطالعہ،فکری نظریات اور تجربات کے علاوہ ان کی سخنوری بالخصوص تخئیل کی سادگی پر داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ساحرؔ صاحب نے اپنے کلام میں وہی پیش کیا جو انھوں نے دیکھا یا برتا۔شاعری میں تجربہ سب سے بڑا سرمایہ گردانا جاتا ہے۔اپنے تجربات و مشاہدات کو انھوں نے کلام موزوں بنا کر قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ گل و بلبل ،عشق و محبت کے نغموں کو انھوں نے اپنے کلام میں کم ہی برتا ہے۔عہد حاضر کے مسائل سے آنکھیں چار کرتے ہوئے ساحرؔ صاحب نے اپنے دل کے جذبات کو غزلوں میں بخوبی پیش کیا ہے۔
زیر تبصرہ مجموعے کا آغاز حمد و نعت کے روایتی انداز سے کیا گیا ہے ۔ وہ روایت سے انحراف نہیں کرتے لیکن نئی قدروں کے امین بھی نظر آتے ہیں۔ زبان و بیان پر وہ قادر ہیں۔ ان کے زیادہ تر اشعار قاری کے ذہن میں اپنی جگہ محفوظ کر لیتے ہیں۔جب ہم ان کی غزلوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے یہاں ایک خاص فنی پختگی،لذت زبان و بیان، جدت مضامین ،خیال کی نزاکت اور تخئیل کی بلند پروازی ملتی ہے۔155صفحات پر مشتمل یہ کتاب حالی پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے جس کی ابتدا حمد سے کی گئی ہے ؎
اللہ مر ا مجھ پہ عنایت بھی کرے گا
مشکل میں رہوں گا تو محبت بھی کرے گا
ساحرؔ داؤد نگری سادہ مزاج شخص ہیں جیسا بولو ویسا تحریر کرو کے مصداق ان کی شاعری کی زبان سادہ اور عام فہم ہے۔ انھوں نے اپنی تہذیبی وابستگی اور عمیق مطالعے کے بعد اپنے انفرادی رنگ کو برقرار رکھا ہے۔ ان کا لب و لہجہ خالص ان کا ہے۔ ان کا دل پذیر اسلوب ان کے قاری کو بے ساختہ اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔ سماجی سروکار سے لے کر ہمارے عہد کے سیاسی و سماجی انکشافات ان کے اشعار میں جا بہ جا دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس اعتبار سے دیکھیں تو کتاب میں شامل غزلیات میں نئے عہد کی ترجمانی بھی ہے۔ ان کے موضوعات میں رنگارنگی اور تنوع ہے جس کے سبب کتاب کا کینوس وسیع ہوگیا ہے۔
ساحرؔ داؤدنگری کے متعلق حقانی القاسمی کی رائے’’ حرف محبت‘‘ میں رقمطراز ہیں :
’’ ساحرؔ داؤد نگری اپنی ذات کے خول میں بند نہیں ہیں بلکہ معاشرے کے شب و روز سے ان کا گہرا تعلق ہے ۔گلی کوچوں اور بازاروں کے شور سے بھی ان کی سماعت کا رشتہ ہے اور اس شور سے چھن کر آنے والی کچھ آوازیں بھی ان کی شاعری کا حصہ بن گئی ہیں۔آج کے دور میں جب شاعری فلسفوں کے جال میں الجھ کر رہ گئی ہے تو ایسے میں عام انسانی جذبات و احساسات کی شاعری زیادہ اپیل کرتی ہے۔یہ جو عوام سے گفتگو کی بات میر تقی میرؔ نے کہی تھی بے معنی نہیں تھی ۔ساحرؔ نے اپنی شاعری کا سلسلہ انہیں عوامی احساسات اور جذبات سے جوڑا ہے اور بالکل سادہ اور سہل انداز میں خوبصورت شعر نکالے ہیں۔‘‘ (صفحہ۔6)
ساحرؔ داؤد نگری نے مگدھ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم۔اے کیا ہے۔1985 سے ہی ان کی ادبی تخلیقات ہند و پاک بر صغیر کے مشہور و معروف اخبارات و رسائل میں شائع ہونا شروع ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے ان کے ادبی ذوق کو مذید مہمیز لگ گئی اور پھر قلمکاروں کے صف میں آتے ہی ان کے مضامین کا مجموعہ ’’ فکر و فن اور شخصیات‘‘ کے علاوہ شعری مجموعہ منظر عام پر آگئے۔بیک وقت ساحرؔ صاحب دہلی سے نکلنے والے ایک روزنامہ اور ایک ہفت روزہ کے مدیر بھی ہیں۔ ساحرؔ صاحب کے کلام میں لہجہ بھی مختلف ہے وہ خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں ؎
غزل کہنا عبث ٹھہرے گا ساحرؔ
اگر طرز بیاں کوئی نہیں ہے
جانثاری کی داستانوں سے کتابیں بھری پڑی ہیں لیکن آج دوست اور دشمن میں امتیاز کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے، شاید اسی تکلیف کو انھوں نے الفاظ کا جامہ پہنایا ہے ؎
گلے لگاتے ہیں ہم اپنے دشمن جاں کو
یہی گناہ تو ہم بار بار کرتے ہیں
عصر حاضر کے متغیر حالات و متنوع موضوعات کے موثر اظہار کے لیے نظم سب سے زیادہ موزوں صنف ہے۔کیوں کہ اس صنف سخن میں اظہار کے لا متناہی امکانات اور بے پناہ صلاحیتیں مضمر ہوتی ہیں۔ اس میں شاعر اپنے اسلوب کی پوری پاسداری کے ساتھ اپنے موقف کے اظہار کا مجاز ہوتا ہے۔اس لیے ساحرؔ صاحب نے نظم کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا ہے۔انھوں نے اس مجموعے میں 23 نظمیں سپرد قلم کیے ہیں جو مختلف عنوانات پر ہیں جن میں’ ایک نظم کرگل کے لئے‘’ وحشت انساں‘’انقلاب کا سورج‘’پھول‘ ’ہر شے ہر شخص کا مقدر نہیں ہے‘ ’رات‘ ’ہابیل اور قابیل کی موت‘’ عالی شان تماشہ‘ ’ادھوری خواہش کے پر‘ ’دھکتا الاؤ‘ ’۔۔۔۔ کے نام‘’ فسادی‘ ’مسکرانے کا عمل‘ ’انتظار‘ ’ نیا سال‘ ’روٹی کی خوشبو‘ ’سیاہ حاشیہ!‘ ’حادثہ ،پردۂ افلاک میں‘’ زندگی کے نام‘ ’کلکتہ سے خطاب‘ وغیرہ۔ ان کے علاوہ گجرات کے نام کچھ نظمیں،زندگی اور سیاست کے نام کچھ نظمیں اورملک کے سنگین حالات پر کچھ نظمیں ،شامل ہیںجو موضوعاتی نوعیت کی فکر کو مہمیز کرتی ہیں۔ ان میں واقعہ اور فکر کا ایسا حسین امتزاج پایا جاتا ہے کہ وہ دل کو موہ لیتی ہیں۔ ان کے علاوہ ساحرؔ صاحب نے دیگر اصناف جیسے سانیٹ،ترایئلے،ماہئے اورجاپانی صنف ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔
ساحرؔ داؤدنگری ایک ایسے جواں سال شاعر ہیں جو بہت تیزی سے اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔ وہ اپنی آواز اور پہچان کو اپنے لطیف استعاروں سے استحکام دینے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ ان کا امتیازی شناخت یہ ہے کہ وہ عصر حاضر کی دھندلی سچائیوں سے بھی ہمیں روشناس کرا دیتے ہیں۔ ساحرؔ کی شاعری کے رموز و علائم کا پورا نظام عصر حاضر سے ماخوذ ہے :
سروں کی فصل کاٹی جا رہی ہے
ستم کا آسماں روشن ہوا ہے
میرے پیروں میں ہے زنجیر میری
یہی ہے اصل میں تصویر میری
سفر سراب کا شاید مرا مقدر ہے
یہ دشت کیا ہے مری پیاس کا سمندر ہے
فطرت، عشق،سماجی سروکار،کراہتی ہوئی انسانیت اور ان کی بے خوابی غرضیکہ ہر رنگ ان کی شاعری میں ہے۔ان کی غزلوں میں جو فضا قائم ہوتی ہے وہ قاری کو پہلی قرآت میں ہی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔خیال آفرینی میں ان کے ڈکشن کا کمال دیکھنے لائق ہوتا ہے۔طرز بیان میں سہل ممتنع کا انداز انھیں منفرد بنا دیتا ہے۔ان کے یہاں مختلف کیفیتوں کے شعر ملتے ہیں جن میں آشوب دہر بھی ہے،آج کے معاشرے کی بے چہرگی بھی ہے۔اقتدار کی شکستگی بھی ہے،انتشار و بحران بھی ہے اور تہذیب کا زوال بھی۔ وہ عام موضوعات جو آج کے عہد کی شاعری کا لازمہ ہے،ساحرؔ کے یہاں تلاش کئے جاسکتے ہیں۔
زندگی کی بہت سی تلخیاں ساحرؔ نے چکھی ہیںلیکن کسی بھی لمحہ ضبط و متانت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔فریاد کے لہجے میں بھی ایک سادگی ہے۔احتجاج میں ایک سچائی ہے۔وعظ و نصیحت سے پاک ساحرؔ کی شاعری میں ایک ایسی تہہ داری ہے جو ذہن و دل کو روشنی سے بھر دیتی ہے اور انسان بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے :
زندگی کا سفر نہیں آساں
پھر بھی مجھ کو کوئی ملال نہیں
میں نے جس طرح زندگی کی ہے
دوسری تو کوئی مثال نہیں
ہم بناتے ہیں دشت کو گلزار
وہ گھروں کو کھنڈر بناتے ہیں
بے یقینی کے اس سفر میں ابھی
میری ماں کی دعا غنیمت ہے
لوگ اس شہر کے سب اپنے لیے جیتے ہیں
اپنی مٹی کا وفادار نہیں کوئی یہاں
ساحرؔ داؤد نگری زندگی کے پیچیدہ ماحول سے پیدا ہونے والے مسائل کے ترجمان شاعر ہیں۔انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے انسانی زندگی کی مختلف اور متنوع کیفیات کی بہت ہی دلکش عکاسی کی ہے۔بڑے شہر کی بھاگ دوڑ والی زندگی میں لاکھوں انسان ایک بہتر زندگی کی تلاش و جستجو میں آئے دن شکست و ریخت سے دوچار ہوتے رہتے ہیں اور پھر اس کے حصول کے لیے جدو جہد کے دوران ایک وقت ایسا بھی آتا ہے ،جب انسان خود کو بالکل تن و تنہا محسوس کرکے تھکنے لگتا ہے لیکن ساحرؔ داؤدنگری کا ایسے ہی دل شکستہ لوگوں کے لیے پیغام ہے کہ بڑھے چلو کہ زندگی کبھی رکتی نہیں ہے۔
بلا شبہ ساحرؔ داؤد نگری کی غزلیں،نظمیں، سانیٹ ،ترائیلے،ماہئے اور ہائیکوہماری توجہ چاہتی ہیں۔ہم ایسی امید کرتے ہیں کہ ان کا شعری مجموعہ’’ حد جاں سے گزرنے تک‘‘ بہت جلد ہی اپنے سنجیدہ قارئین کے حلقوں میں پسندیدگی کا مقام حاصل کر لے گا۔
ڈاکٹر داؤد احمد،
اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو،
فخر الدین علی احمد گورنمنٹ پی جی کالج،
محمودآباد،سیتاپور(یو۔پی)
daudahmad786.gdc@gmail.com

