گھڑی دو گھڑی اختلاط تھا
تو بھی شکایت تھی تم سے
اب جو نہیں میسر تو
معلوم ہوئی اس کی قیمت
اس جہاں کے لوگوں کا
اکثر یہی رویہ ہے
جو ملا ہے اس کو کم جانا
جو نہیں ملا اس کو عزیز جانا
کب سنبھلیں گے آخر سب
جو ملا ہے آخر کب
قدر کریں گے دنیا والے
جو ملا ہے وہ بھی عزیز ہے
جو نہیں ملا وہ بھی عزیز ہے

