مشتاق وانی کا تعلق اکیسویں صدی کی اُس افسانوی نسل سے ہے جہاں فنکار،ایک چیلنج سے گزررہا ہے اور وہ چیلنج ہیئت سے زیادہ مواد کا متقاضی ہے۔کسی موضوع کو کس طرح سے بیان کرنے کے بجائے کیا بیان ہوناہے،وہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ نئے عہد میں موضوعات کے مسائل ،افسانہ نگار کے سامنے صف بستہ کھڑے ہیں کہ وہ کسی بھی طور پر قبول کرلیں۔اس صدی نے فکشن نگاروں کو کئی اہم موضوعات دیے ہیں جن میں دہشت گردی کا مسئلہ، دلت مسائل،نئی ٹکنالوجی کی بربریت،بین الاقوامی طور پر شکست و ریخت،اقلیت کی شناخت کا مسئلہ ،کشمیر کی تباہ کاریاں الغرض ایسے کئی اہم مسائل ہیں جن کو اکیسویں صدی کے افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں نے اپنے اپنے طور پر برتا ہے۔ افسانہ نگارکا تعلق چوں کہ کشمیر سے براہ راست ہے،اسی لیے موزوں معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے سے لکھی گئی کہانیوں کا ذکر کیا جائے۔علمی و ادبی لحاظ سے وادیٔ کشمیر ایک مردم خیزعلاقہ ہے ۔ اُردو ادب کے اُفق پر اپنی تابناکیاں بکھیرنے والے کئی بلندمرتبت نام اسی وادیٔ جنت نظیر سے اُٹھے، مثلاً چراغ حسن حسرت، علامہ اقبال، سعادت حسن منٹو اور کئی اہم شخصیات جن کا ذکر یہاں ضروری نہیں۔فکشن نگاروں میں دیپک کنول،پریم ناتھ در، رامانند ساگر،برج پریمی،دیپک بدکی اور نہ جائے کئی ایسے فنکار ہیں جنھوں نے کسی نہ کسی طور پر جنت ارضی کی تعریف کی ہے اور وہاں کے مسائل کو کسی نہ کسی طور پر بیان کیا ہے۔وادیٔ کشمیر جنت نظیر کا حُسنِ بلاخیز تخلیق کاروں کو ہمیشہ مسحور کرتا رہا۔ سربفلک کوہسار، برف پوش وادیاں بل کھاتے دریا،اُمڈتے چشمے گنگناتی آبشاریں، وسیع سبزہ زار، لہلہاتے کھیت، سیبوں، ناشپاتیوں، انگوروں کے باغات، بادام اخروٹوں کے پیڑ، گلنار چہرے اور سحرناک حسن، یہ وادیٔ لولاب واقعی زمین پر جنت کا ٹکڑا ہے۔ اُردو شاعری میں جہاں اس کے حسن کے تذکرے موجود ہیں۔ وہیں افسانہ نگار بھی اس وصف سے خالی نہیں ہے بلکہ انھوں نے تو اسے اور بھی سبزہ زار بنایا ہے۔کئی اعلیٰ درجے کے ناول لکھے گئے، کچھ کشمیر کے پس منظر میں سماجی حوالے سے لکھے گئے اور کچھ ناول سیاسی حوالے سے تحریک ِآزادیٔ کشمیر اور کشمیریوں پر ڈھائے گئے مظالم کو موضوع بناکر تحریر کیے گئے۔اس ضمن میں سب سے بڑا نام کرشن چندر کا ہے جن کے ناول شکست، مٹی کے صنم، برف کے پھول وغیرہ کشمیر کے پس منظر میں تصنیف ہوئے جب کہ ان کے دو ناول ’’میری یادوں کے چنار‘‘ اور’’طوفان کی کلیاں‘‘ تحریک ِآزادیٔ کشمیر کو موضوع بناتے ہیں۔ یہ دونوں ناول اُس عہد کے پس منظر میں لکھے گئے ہیں جب کشمیر میں ڈوگرہ راج کے خلاف بغاوت پھوٹ پڑی تھی اورمقامی افراد کے جذبات و احساسات اور تحریک ِ آزادیٔ کشمیر کا پرتو ان دونوں ناول میں موجود ہے۔ معروف کشمیری ادیب ٹھاکرپونچھی کے افسانوں کے کئی مجموعے چھپے اُنھوں نے بھی کشمیر کے پس منظر میں متعدد ناول بھی لکھے۔افسانوں کی بات کریں تو اس فہرست میں کئی اہم نام سامنے آتے ہیں جنھوں نے اس پاک سرزمین کی عکاسی کی ہے۔ کرشن چندر،سعادت حسن منٹو،ویرندر پٹواری،نورشاہ،دیپک بدکی،ترنم ریاض اور دیگر کئی ایسے افسانہ نگار ہیں جن کا براہ راست تعلق کشمیر سے رہا ہے۔کرشن چندر نے ’کشمیر کو سلام‘اور ’نیا مدرسہ‘سعادت منٹو کا’ٹیٹوال کا کتا‘اور ’خری سلیوٹ‘،ویرندر پٹواری کا ’آدم‘اور ’سزا‘،نورشاہ کا’بے ثمر سچ‘اور دیپک بدکی کے’زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی‘اور’نہتے مکان کا ریپ‘ایسے شاہکار فن پارے ہیں جنھیں کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کی کہانیوں میں ’دہری مار‘اور’جنم بھومی کے آنسو‘کو بھی کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ایک فنکار کا جب کسی مسئلے سے براہ راست تعلق ہوتا ہے تو وہ ڈوب کر کہانیاں لکھتا ہے اور یہی صورتحال ڈاکٹر وانی کا ہے۔چہ جائے کہ یہ کہانیاں ا‘ن کے سابقہ مجموعے میں شامل ہیں لیکن ہمیشہ سے موضوع بحث بنے رہنے کے متقاضی ہیں۔
مشتاق وانی سماجی حقائق کی کہانیاں لکھتے ہیں۔ایسی حقیقتیں جو ہمارے معاشرے کا ناگزیر حصہ بن چکی ہیں۔جہاں رشتوں کی شکست و ریخت ہے ،اقدار پامال ہورہے ہیں اور ترقی کی منازل طے کرنے کی حرص ،انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں دلارہی ہیں کہ وہ بھی اس جہنم کا ایندھن بنتے جارہے ہیں۔’انتظار مرگ‘اسی کرب سے گزرتی کہانی ہے جہاں ایک بہوکے ساتھ مل کراُس کا شوہر یعنی سلام دین کا حقیقی وارث جلال دین اپنے باپ کے لیے ایسی بد دعائیں کرتا ہے جو حقیقی نہ معلوم ہوتے ہوئے بھی ہمارے سماج میں حقیقی تصور کیے جا سکتے ہیں۔باپ ایک سیدھا سادا مسلمان ہے،اُسے عاقبت کی فکر ہے،ساتھ ہی گھر والوں کو بھی اس آگ سے بچانا چاہتا ہے لیکن میاں بیوی کو آزادی کی پڑی ہے۔دینا و مافیہا سے آزادی،تمام رشتے داروں سے آزادی،حتیٰ کہ اپنے باپ سے آزادی۔۔۔۔وہ ٹیلی ویژن دیکھنا چاہتے ہیں لیکن سلام دین ،جواسم بامسمیٰ ہے،انھیں اس کام سے باز رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔بیٹے کی بے حسی کا تو یہ عالم ہے کہ باپ کو کھانسی کی بیماری ہے لیکن وہ محض اس وجہ سے اپنے باپ کا علاج نہیں کراتا کہ باپ کے رَت جگے سے گھر میں کم از کم چوریاں تو نہیں ہوں گی۔اس سے بڑھ کر معاشرتی تنزلی کی اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ خونی رشتے میں ا س طرح کے معلامات سامنے آئیں۔اس کہانی میں میاں بیوی[زمانۂ حال]اوربچہ[مستقبل]کی علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
ڈاکٹر وانی اپنے اطراف واکناف میں پیداہونے والی سماجی برائیوں کا قریب سے مشائدہ کیا ہے اور اسی کا برملا اظہار اپنی کہانیوں میں کیا ہے۔ایک فنکار زمانے کا نباض،فرد شناس اور نفسیات کا ماہر ہوتا ہے،اسے قرب و جوار میں ہونے والے تمام حقائق کا اندازہ ہوتا ہے۔وہ عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ حساس اور محتاط ہوتاہے۔آزادی کے بعد نصف صدی سے زیادہ کاعرصہ گزر جانے کے بعد بھی ذات پات ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ آج بھی دلتوں اور آدی باسیوں کا استحصال ہورہا ہے ۔ منڈل کمیشن کے نفاذ کے بعد اونچی اور نیچی ذاتوں میں ٹکراؤ کی صورتحال پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ دلت مسائل کو دیکھتے ہوئے ادبیاتِ عالم میں ’دلت ادب‘کا اختراع کیا ہے لیکن اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ دلت ادب میں کن ادیب اور کن تخلیق کاروں کو شمار کیا جائے گا۔یہاں وہ امور واضح کیے جا رہے ہیں تاکہ دلت ادب کی وضاحت ہوسکے۔
٭نظامِ ذات پات اور سماجی حیثیت میں سب سے نچلے طبقے پر رہنے والے لوگوں کے مسائل کی عکاسی کرنے والا ادب
٭برہمنی نظام کے خلاف بغاوت اور شودروں اور اچھوتوں کے حق و انصاف کے لیے آواز بلند کرنے والا ادب
٭چھوا چھوت اور انسانی اقدار کی پامالی کے خلاف اور انسانیت کے حق میں آواز اٹھانے والا ادب
٭بابا امیڈیکر کے تصورات پر عمل پیرا ہونے والا ادب
مذکورہ بالا نکات سے بہت سے لوگوں میں اتفاق رائے قائم نہیں ہوسکی ہے۔کچھ کا ماننا ہے کہ دلت ادیب ہی سچا دلت ادب تخلیق کر سکتا ہے کیوں کہ اس کی تحریریں ذاتی تجربوں پر مبنی ہوں گی۔اس لیے دلت ادیب کا تخلیق کردہ ادب ہی اصل معنوں میں سچا او رمستند دلت ادب کہلائے گا ۔ دوسری طرف کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ غیر دلت ادب کے زمرے میں شمار کرنا چاہیے۔البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس میں وہ تاثیر ،شدت، درد، ناکامی،محرومی و بے بسی کی جھلک اس شکل میں نظر نہ آئے جو دلت ادیب کے یہاں موجود ہو ۔ منڈل کمیشن کے نفاذ اور اس سے پیدا شدہ صورت حال پر سلام بن رزاق ، اسرار گاندھی،جیلانی بانو،انور قمر،دیپک بدکی،ابن کنول ، شوکت حیات ،صغیر رحمانی،احمد صغیراور شفق وغیرہ نے افسانے تحریر کیے ۔مشتاق احمد وانی کا افسانہ ’واپسی‘اسی فکر کی غمازی کرتا ہے۔کہانی’واپسی‘ایک ایسے سماجی برائی کی کہانی ہے جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلتی چلی جارہی ہے۔اور وہ ناسور ہے سماجی نابرابری۔وہ خواہ مسلمانوں میں ہویا ہندوؤں میں،برائی تو آخر برائی ہے۔کہانی طربیہ انداز سے شروع ہوتی ہے لیکن اُس کا انجام المیہ ہوتا ہے۔دیا رام،ایک دلت کردارہے جسے زمانے نے اُسے دلت ہونے کی وجہ سے بہت ستا یا ہے۔حدتو یہ ہے کہ جدید ٹکنالوجی کے دور میں بھی یہ برائی ختم نہیں ہوئی ہے۔دیا رام کی زندگی میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیںجس سے وہ اپنے مذہب سے بد ظن ہوکر مذہب اسلام سے قریب ہوتا چلاجاتا ہے اور نوبت یہاں تک آب پہنچتی ہے کہ وہ زمانے کے مشہور عالم کے پاس اسلام قبول کرنے کے لیے مع اہل وعیال پہنچ جاتا ہے۔مولانا اُس سے وجہ دریافت کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ مفتی صاحب!مجھے مذہب اسلام میں آفاقیت،صداقت اور یکسانیت نظر آتی ہے۔ہمارا سماج چوں کہ فرقوں میں بٹ چکا ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ مذۃب اسلام سب سے بہتر مذہب ہے۔لیکن مولانا جب حقیت حال سے واقف کراتے ہیں تو وہ الٹے پاؤں واپس چلا جاتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں چیل ، چوزے اور چنار : کیا حقیقت کیا فسانہ! – توصیف احمد توصیف )
اس کہانی میں وانی نے اپنے مذہب کے تعلق سے جس جذباتیت کا اظہار کیا ہے،وہ قابل ستائش ہے اور ایک مقام پر آکر قاری اس تذبذب میں پڑجاتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وانی صرف اپنے مذہب کی تبلیغ میں وقت صرف کررہے ہیں۔لیکن مولانا کی شکل میں وانی کا کردار اپنے سماج کی برائیوں کا انکشاف کرتا ہے تو کہانی بیلنس وے میں اپنے اختتام کوپہنچتی ہے۔اس طرح سے کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مشتاق احمد وانی کہانی کے پلاٹ،بنت اور ترتیب سے بخوبی واقف ہیں۔اس یازہ مجموعے میں کئی ایسی کہانیاں ہیں جو قاری کی توجہ اپنی جانب کشید کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔مثال کے طور پر قبر میں زندہ آدمی،عورت اور مجھے ایک دن گھر جاناہے وغیرہ۔یہاں ایک بات اطلاعاً عرض ہے کہ مشتاق احمد وانی کہانی کے فن سے پور طرح واقف ہیں،کسی بھی واقعے یا خیال کو کہانی کے قالب میں ڈھالنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔وہ ایک افسانہ نگار کے ساتھ بہترین ناقد بھی ہیں اور اُن کی دو کتابیں ’اردو ناول میں تہذیبی بحران‘اور ’اردو ادب میں تانیثی ادب‘طلبا کے درمیان خاصی مقبول رہی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اُن کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔مجھے قوی امید ہے کہ سابقہ مجموعوں کی طرح اس مجموعے کی بھی خاصی پذیرائی ہوگی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

