"قیام پاکستان کے بعد بہاولپور میں اردو مرثیہ کی روایت”:پر ایک نظر -کومل شہزادی
مرثیہ اردوادب کی اہم صنف سخن ہے۔مرثیہ نگاری کا آغاز اردوزبان کے آغاز کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔اس اعتبار سے اس کی قدامت کئی صدیوں پر محیط ہے۔مرثیہ شاعری کی وہ قسم ہے جس کا تعلق انسان کے جزئیہ جذبات کے اظہار سے ہے اردو زبان میں صنف مرثیہ مقبول ترین صنف سخن ہے۔ اس موضوع پر شعراء نے بہت سرمایہ چھوڑا ہے۔کل کی طرح آج بھی مرثیہ لکھا جارہا ہے اوراس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔دراصل مرثیے کا تعلق موت سے وابستہ غموں سے ہے۔صنف مرثیہ کو صرف اردو ہی نہیں بلکہ دنیا کی قدیم ترین صنف سخن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔صنف مرثیہ کو باقی اصناف پر یہ برتری بھی حاصل ہے کہ اس صنف کو قدیم ترین صنف ہے۔یہ صنف کسی تعارف کی محتاج نہیں بلکہ اردو شاعری کی طویل تاریخ اور قدیم روایت میں مرثیہ نگاری کو ہمیشہ سے اہمیت حاصل رہی ہے۔اردو مرثیہ کے ناقدین نے مرثیہ کو قدیم ترین صنف سخن قرار دیا۔بقول آغا سکندر مہدی:
مثنوی ہوکہ رباعی کہ قصیدہ کہ غزل
مرثیہ نظم کی اصناف میں سب سے اول
بہاولپور کی سرزمین جہاں بہت سی ادبی شخصیات کا تعلق ہے۔اردوادب کے حوالے سے تحقیقی و تنقیدی کام بھی جاری و ساری ہے۔اسی طرح منیر احمد ملک نے ” قیام پاکستان کے بعد بہاول پور میں اردو مرثیہ کی روایت ” کے حوالے سے کام کو سرانجام دیا ہے۔زیر نظر کتاب "قیام پاکستان کے بعد بہاول پور میں اردو مرثیہ کی روایت” ٣١٨ صفحات پر مشتمل جو فکشن ہاوٴس سے شائع ہوئی ہے۔کتاب کو سات ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔باب اول میں مرثیہ کی تعریف ،فن اور اس کے ارتقاء پر تفصیلی لکھا گیا ہے۔علاوہ ازیں مرثیہ نگاری تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔باب دوم میں جدید اور قدیم اردو مرثیے کے فرق کا تذکرہ کیا گیا ہے۔قدیم اور جدید مرثیہ میں فرق کو مصنف نے بہت عمدہ انداز سے بیان کیا ہے۔قدیم و جدید مرثیہ کے امتیاز کے سلسلہ میں مصنف لکھتے ہیں:
"جدید دور کے مرثیوں کی دوسری خوبی براہ راست طرز تخاطب ہے قدیم مرثیوں میں شاعر واقعات کی رو کو اپنے کرداروں کے ذریعے بڑھاتا ہے اور خود سامنے نہیں آتا لیکن دور جدید کا شاعر اپنے سامعین سے خود مخاطب ہے ۔”
قدیم وجدید مرثیہ نگاروں کے کلام کو بھی اس حصے میں الگ الگ مختصر انداز میں بیان کرنے کے ساتھ مرثیوں کو فنی طور پر بھی جانچا گیا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں مشتاق احمد وانی کا افسانوی مزاج – ڈاکٹر محمد غالب نشتر )
باب سوم جس میں سلام ،نوحہ اور منقبت کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔”منقبت” میں اہم نام حیات میرٹھی ،خورشید میرٹھی، سیدسیف الدین مغفور القادری،قاضی غلام حسن محوی ،مولوی غوث محمد فگار ،سید انصار حسین نفیس فتح پوری،عبدالعزیز اختر شیخ ان سب شخصیات کے تعارف کے ساتھ کلام سے کچھ انتخاب بھی قلم بند کردیا گیا ہے۔”سلام” میں اہم نام سید اختر منیر،حیات میرٹھی،شہاب دہلوی،ظہور نظر،عبدالحمید ارشد،عزیز وطنی،حکیم عبدالحق شوق،مجید تمنا،عبدالعزیز اختر شیخ کے تعارف و کلام تذکرہ کیا گیا ہے۔
"نوحہ” میں حیات میرٹھی،خواجہ عبداللہ اخگر،سید انصارحسین نفیس فتح پوری، عبدالعزیز اختر شیخ کے سوانح شخصیت پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان کے لکھے نوحوں سے انتخاب کو بیان کرنے کے ساتھ فن کے متعلق بھی مصنف نے مختصر رائے دی ہے۔
باب چہارم "قیام پاکستان کے بعد بہاولپور میں اردو مرثیہ کی روایت پر لکھا گیا ہے۔یہ باب پوری کتاب میں اہمیت کا حامل ہے اور سب ابواب میں یہ باب ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔بہاولپور میں اردو مرثیہ کی روایت پر بات کریں تو قیام پاکستان سے پہلے تو ایسا کوئی نام نہیں لیکن قیام پاکستان کے بعد بہاولپور میں اردو مرثیہ کی روایت میں آغا سکندر مہدی،گلزار نادم صابری ،مسعود حسین،شہاب دہلوی اور نفیس فتح پوری کے مرثیوں کا تنقیدی جائزے کے ساتھ ان کے حالات وزندگی پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔مصنف آغا سکندر کے مرثیوں کے حوالے سے رقمطراز ہیں:
"آغا سکندر مہدی تجدید پسند شاعر ہونے کے ساتھ مزاجی کیفیات کے اعتبار سے خطیبانہ فکر کے حامل بھی تھے اور خطابت ان کے علمی و ظائف کا ایک مرغوب مشغلہ بھی تھی۔اپنے شعری عمل میں بھی انہوں نے اس میدان کو برقرار رکھا۔۔۔اسی انداز نظر سے مرثیے کی مجموعی ساخت متاثر ہوئی اور اس لئے ان کا مرثیہ روایتی مرثیے کی بجائے نئی تشکیلات کا مرثیہ بن گیا۔”
شہاب دہلوی بھی مرثیہ نگاری میں ایک اہم مقام کی حیثیت رکھتے ہیں ۔شہاب دہلوی کی مرثیہ گوئی پر مصنف کی تنقیدی رائے ملاحظہ کیجیے:
"شہاب دہلوی کے مرثیے ہیت،انداز اور موضوع کی پیش کش کے اعتبار سے مکمل طور پر روایت سے وابستہ ہیں۔یہ مرثیے کی روایت کو آگے تو نہیں بڑھا رہے البتہ روح عصر کو اپنے بیان سے ہم آہنگ کرکے اس روایت کو استحکام ضرور بخش رہے ہیں۔”
بہاولپور کی اردو مرثیہ کی روایت میں ایک نام جو کتاب میں پیش کیا گیا ہے وہ گلزار نادم صابری کا ہے۔ان کے لکھے کلام پر مصنف کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
"گلزار نادم صابری وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے مقبل کا تتبع کرتے ہوئے واقعہ کربلا کو نظم کیا۔آسان اور سادہ اسلوب میں تاریخ رقم کی ۔ان کے مرثیوں کو بھی مرثیے نہیں بلکہ تاریخ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔”
نفیس اقبال کا نام بھی مرثیہ نگاری میں سرفہرست ہے۔زیر نظر کتاب میں جہاں دوسرے اہم مرثیہ نگاروں پر مصنف نے الگ الگ تنقیدی رائے کا اظہار کیا وہیں نفیس فتح پوری کے مرثیوں پر ان کی تنقیدی رائے یوں ہے:
"نفیس فتح پوری کے مرثیے،ہیت،انداز اور موضوع کی پیش کش کے اعتبار سے مکمل طور پر روایت سے وابستہ ہیں۔یہ مرثیے کی روایت کو آگے تو نہیں بڑھاتے البتہ روح عصر کو اپنے بیان سے ہم آہنگ کرکے اس روایت کو استحکام ضرور بخش رہے ہیں۔”
باب پنجم "قیام پاکستان کے بعد بہاول پور میں اردو منقبت،سلام اور نوحہ کی روایت پر مبنی ہے۔منقبت،سلام ،نوحہ کی روایت میں میں اہم نام ارمان عثمانی،محمد امین ساجد،پروفیسر اکبر ملک،محمد اقبال کنول،سہیل اختر،سجاد حسین بیدار،مجیب الرحمن ،سید آل احمد،اختر بزمی،نوشی گیلانی،حمید نقوی،ملک محمد نواز وغیرہ کے تعارف اور کلام سے انتخاب اور تنقیدی رائے کو شامل کیا گیا ہے۔باب
چھٹا جس میں ابراہیم احسان،اکبر ملک پروفیسر، ہدایت کاشف،خالد بخاری،شاہد عباسی،گوہر ملسیانی،مظہر مسعود،ڈاکٹر نوازش کاوش وغیرہ کے منقبت ،سلام اور نوحے پر غیر مطبوعہ کلام کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ساتواں باب جس میں مصنف نے مجموعی جائزہ لیا ہے۔جس میں مصنف نے بہاولپور کی مختصر تاریخ ، شعراء کرام اور بہاولپور کی شاعری کی مختصر صورت حال بیان کی ہے۔اس موضوع پر کام کو بخوبی سر انجام دیا گیا ہے ۔بقول مصنف:
"بہاول پور کا مرثیہ معیار اور مقدار کے حوالے سے قدیم اور جدید اردو مرثیہ سے کسی بھی صورت میں کم و پست نہیں ہے۔بہاول پور کا مرثیہ وہ تمام فنی خوبیاں لئے ہوئے ہے جو ایک معیاری مرثیہ میں ہونی چاہئے۔”
کتاب کے آخر میں راقم کا ایک اہم شخصیت ڈاکٹر اسد ادیب سے لیاگیا انٹرویو بھی شامل کیا ہے۔جس میں آغا سکندر مہدی سے اسد ادیب کے تعلقات کی نوعیت اور آغا سکندر مہدی کے مرثیہ نگاری میں مقام،بہاول پور میں مرثیہ نگاری کی روایت سے متعلق پوچھا گیا ہے اور ڈاکٹر اسد ادیب کےتفصیلی جوابات بھی شامل ہیں۔صنف مرثیہ پر بہت سا کام کیا گیا مگرمرثیے کی وسعت اور امکانات کے پیش و نظر یہ کہنا درست ہوگا کہ ابھی اس پر بہت سا کام کرنے کی گنجائش باقی ہے۔. المختصر،. یہ کتاب مرثیہ نگاری کی راہ میں روشنی کا ایک مینار ثابت ہوگی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

