اردو کی قدیم ادبی کتابوں میں زبان اور نفسِ مضمون دونوں اعتبار سے ’سب رس‘ کو جو امتیاز بخشا گیا ہے، اس کے کئی سو برسوں بعد تک شاید ہی کسی کتاب کے لیے وہ اوصاف متعین کیے گئے ہوں۔ دکنی ادب کی تاریخ میں عہدِ زریں کے طور پر سترہویں صدی کی پہچان کی جاتی ہے جس کے نصف اوّل میں ملا وجہی کی دو تصانیف ’قطب مشتری‘ اور ’سب رس‘ کو دکنی نظم و نثر دونوں اصناف کا شہکار تسلیم کیا جاتا ہے۔ بارہ دن میں قطب مشتری جیسی تصنیف کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی وجہ سے ملا وجہی کی قادرالکلامی ثابت ہوتی ہے۔ ہرچند قطب مشتری کے بعد پھول بن، گلشنِ عشق اور علی نامہ جیسے بہترین شعری نمونے اس زمانے سے یادگار ہیں مگر انھیں قطب مشتری جیسی ادبی قبولیت شاید ہی میسر آئی۔
ملاوجہی نے جب قطب مشتری کی داغ بیل رکھی، اس وقت بھی ان کا ادبی دائرۂ کار کم وسیع نہیں تھا مگر کچھ شاعری کے آداب اور کچھ قصّے کی نام نہاد تعینات ؛ لکھنے والے کے پاس متعدد طرح کی رکاوٹیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ حالاںکہ قصّے کو طبع زاد انداز میں قائم کرنے کی وجہ سے بعض ایسی بھی سہولتیں انھیں میسر آئیں جو کسی ترجمہ یا اخذ شدہ قصے کی تحریر میں ممکن نہیں تھا۔ سب رس لکھتے وقت مصنف کی حیثیت سے ملا وجہی کو کئی علمی و ادبی سہولیات حاصل ہورہی تھیں۔ بادشاہ کی فرمائش تو ہے لیکن طویل مدت تک راندۂ درگاہ ہونے کا زخم بھی اس نے تازہ کررکھا ہے۔ اس کے علم، فضل اور کمالات کی تقریباً ایک ربع صدی تک جو اَن دیکھی ہوئی، ان سب کا اسے حساب چکانا تھا۔ عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش تو بس نظامِ ملوکیت میں کام کرنے کا ایک طور ہے ، حقیقت تو یہ ہے کہ ملا وجہی کو سب رس کے بہانے ایک ایسا ادبی اجتہاد اور شہکار پیش کرنا تھا جس سے نہ صرف یہ کہ اس کی بھولی بسری شہرت، اہمیت اور درباری وقعت لوٹ آئے بلکہ یہ بھی ہونا تھا کہ جس طرح قطب مشتری لکھتے وقت وہ دکنی ادب کا سکۂ رائج الوقت بن گیا تھا، پھر سے وہی صورتِ حال لوٹ آئے۔ سحرالبیان کی تخلیق کے مرحلے میں دیڑھ سو برس بعد میر حسن کے ساتھ کچھ یہی کیفیت رہی ہوگی۔ خدا نے دونوں مصنفین کو ان کی کتابوں کے نام کی لاج رکھنے کا موقع عنایت کیا اور ان کی زندگی کے آخری کارنامے کو فناپذیری سے محفوظ رکھا اور لازوال بنایا۔ ( یہ بھی پڑھیں ’’باغ وبہار‘‘کے نسوانی کردار :ایک ڈسکورس -ڈاکٹرارشاد شفق )
اکثر نقادوں نے سب رس کو اردو کی نثرِ مرصع کا پہلا مکمل نمونہ قرار دیا ہے۔ فارسی اور عربی روایات سے استفادہ کرکے اردو کی ادبی نثر کا پہلا نمونہ تیار کرنے کی کوشش کو ملا وجہی کے لیے سب سے بڑا طرّہ قرار دیا جاتا ہے۔ فارسی ماخذ کی بنیاد پر اردو کا متن تیار کرنے کے مرحلے میں ملاوجہی کے لیے شاید یہ لازم ہی ہوگا کہ وہ فارسی کی نثری روایت کے تابع رہے۔ یہ بھی ملحوظ رہا ہو گا کہ قصے کی تان تصوف پر بار بار ٹوٹتی ہے، اس لیے مذہبی اور علمی احوال کے پیش نظر عربی کے چراغوں سے روشنی حاصل کی جائے مگر ملاوجہی کی تخلیقی شخصیت نے انھی دو دائروں میں رہ کر سب رس کی تخلیق کا منصوبہ بنایا ہوتا تو سب رس آج ہماری زبان میں لافانی کردار کے طور پر مسلّم نہ ہوتی۔ دکن کی ادبی روایت نے اور بالخصوص محمد قلی قطب شاہ کی قربت میں ملاوجہی کی ایک ایسی تہذیبی اور ثقافتی تربیت ہوئی تھی جہاں مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے افراد سے براہِ راست استفادہ کرنے کی گنجائش موجود تھی۔ اپنے وطن کے راگ سے وہ کچھ یوں آراستہ ہوا تھا جیسے اس سرخیِ مَے کے بغیر آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔ جیسے جیسے وجہی کی عمر پختگی کی طرف بڑھتی ہے، اس کے تہذیبی شعور اور وسعتِ قلبی میں استحکام کے ثبوت ملنے لگتے ہیں۔ اس لیے سب رس کے مطالعے کی ایک جہت زبان کے ایک ہندوی ذائقے کی تلاش سے بھی عبارت ہے۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ اگر آج سے تقریباً چار سو برس پہلے اردو نثر جب ادب کے دروازے پر دستک دے رہی تھی، اس وقت اگر وجہی نے اسے فارسی اور عربی روایتوں اور تہذیب و ثقافت کے گھروندوں میں قید کردیا ہوتا تو ہماری زبان کے اُن نثری ایوانوں کا کیا ہوتا جن کی روشنی اور چمک سے گذشتہ دو صدیوں سے زیادہ عرصے میں ہمارا نثری نگارخانہ روشن ہوا ہے۔
اردو کی ادبی تاریخ میں دکن کا یہ اولین امتیاز ہے کہ وہاں ادبی روایت کے طور پر اہالیانِ دہلی کی طرح فارسی اور عربی تہذیبی و لسانی ابواب کو ہی واحد ذریعہ نہیں سمجھا گیا ہے بلکہ اس کے مقابل مقامی اور دیسی روایات اور ادبی پس منظر کی شمولیت کا ایک باضابطہ خاکہ تیار کیا گیا۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ دکن کے مصنفین نے اگر ایران و عرب کی فضائوں کو اپنے ادب میں ہوبہ ہو منتقل کرنے کا لائحۂ عمل گڑھا ہوتا تو یہ سوال بھی پیدا ہوا ہوتا کہ فارسی گوئی سے انحراف کی کوئی صورت کیوںکر نکالی جائے۔ کدم رائو پدم راؤ کے آس پاس جن بہت سارے صوفیاے کرام کا تذکرہ ملتا ہے جنھوں نے رشد و ہدایت اور تبلیغ کے لیے مقامی زبانوں کی طرف رجوع کیا۔ یہ بات درست کہ صوفیاے کرام یا شعرا ادبا کی علمی تربیت کی زبان عربی و فارسی ہی تھی مگر انھیں جن لوگوں سے مخاطبت اختیار کرنی تھی، وہ مقامی زبان و تہذیب کے چشم و چراغ تھے۔ اس لیے اس وقت عربی اور فارسی دائرۂ علم سے نکلنے اور مقامی اسالیبِ بیان کی چھاؤں میں بسر کرنے کی حکمتِ عملی بے شک کارگر ثابت ہوئی تھی۔
سب رس کے ماخذ در ماخذ پر گفتگو کا یہ موقع نہیں مگر یہ بات یقین کے درجے تک پہنچتی ہے کہ قصۂ حسن و دل کے فارسی نثری و شعری متن سے ملاوجہی کا ضرور معاملہ رہا ہوگا۔ حالاںکہ وہ اپنی کتاب میں ہزار ضمنی باتیں پیش کرتا ہے مگر اپنے ماخذ کے ذکر سے غالباً بالارادہ اجتناب برتتا ہے۔ فارسی قصہ بھی حقیقت میں کرشن مشر کی ’پربودھ چندرودے‘ سے مستعار ہے یعنی سب رس ترجمہ در ترجمہ کی مثال کے طور پر ہمارے سامنے آتی ہے۔ایمان کی بات تو یہ ہے کہ ترجمے کے لیے آج بھی بہت سارے اصول و ضوابط نہیں بنے مگر جب سب رس لکھی جارہی تھی، اس وقت تو اور بھی کسی علمی ترجمے کا واضح تصور نہیں تھا۔ اخذ و استفادہ، تلخیص، حسبِ استطاعت عبارتوں کا ترجمہ اور پھر مترجم کا طبع زاد تصنیف کے بہ طور متن میں مداخلت اور بالآخر دعوا —یہی رواجِ علمی سب رس سے لے کر باغ و بہاراور نیرنگِ خیال تک قائم ہے۔ کمال یہ ہے کہ اردو کی ادبی تاریخ گمنام مصنفین کو بھلا چکی ہے مگر ان کے مترجمین اپنی زبان اور بیان کی قوت کی وجہ سے صاحبِ طرز نثر نگار کے طور پر مقامِ افتخار پانے کے حق دار قرار دیے گئے۔
سب رس اور اس کے ماخذِ اصلی کے بارے میں محققین نے اسلوبیاتی تناظر میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ فتاحی کے فلسفیانہ انداز سے وجہی نے گریز کرتے ہوئے ایک خطیبانہ اور حسبِ ضرورت مبلغانہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ موضوعات میں حکیمانہ عناصر بھرے پڑے ہیں مگر گفتگو تجربات اور مشاہدات کے دائرے میں رہتے ہوئے تبلیغ تک پہنچتی ہے۔ اصل متن سے اس گریز کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ملا وجہی نے فارسی روایت سے گریز کا ایک رویہ فکر وخیال کی سطح پر بھی قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس گریز میں اردو کی لسانی تاریخ کے وہ بنیادی راز پنہاں ہیں جن سے گذشتہ چار صدیوں کی ادبی نثر کی ترقی ممکن ہوسکی۔ ملا وجہی کی شیعیت مسلم ہے مگر اس نے آغازِ کتاب میں حضرت علی کے ساتھ اسی اہتمام سے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی کو یاد کیا۔ یہ محض تذکرہ نہیں بلکہ ملا وجہی کے ذہنی سانچے کی وسیع المشربی کا اعلانیہ بھی ہے۔ اسی طرح حمد کے دوران عشق و عاشقی کے امور کی پیش کش کا انداز بھی کچھ عمومی باتوں کے لیے مخصوص نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے وجہی کا ثقافتی شعور واضح ہوتا ہے۔ اللہ کی بڑائی کچھ اس انداز میں پیش کی گئی ہے جیسا اس عہد تک کسی دوسری داستان میں شاید مل سکے ۔ قلی قطب شاہ کی شاعری میں البتہ اس کے نمونے جگہ جگہ نظر آتے ہیں مگر بادشاہِ وقت کو ہر مضمون کے لیے اپنے آپ آزادی ملی ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف وجہی کا انداز ملاحظہ کیجیے کہ وہ کس طرح خدا کی قدرت کا بیان کرتا ہے:
’’عاشق کوں عشق، معشوق کوں حسن دیا، ان دونوں میں اپنا بھید پَرگٹ کیا۔ ایکس کوں کیا پُرس، ایکس کوں کیا ناری، ایکس کوں کیا پیارا، ایکس کوں کیا پیاری۔ نہ یو اسے دیکھیا نہ ووا سے جانے، ایکس کوں دیکھ ایک ہوتے دیوانے۔ دو دل ایک دل ہوتیں جھَٹ تے، سراں تے گزرتے جیواں پر اٹھ تے۔ سرجیا یوں کچھ سر جنہار، کریم رحیم مہروان کرتار۔ بیت:
یو خاصیت ہے عشق کی یاں کوئی کیا کرے
بیگانے کوں یو عشق بُلا آشنا کرے‘‘
اس انداز میں حمدِ خدا کے فوائد پر غور کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وجہی نے خدائی کا ایک ارضی تصور پیش کیا ہے۔ بعد میں دکنی ادب کا یہ انداز شناخت نامہ بن گیا۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس کی یہ ارضیت اسے عرب و ایران کے ادبی پیمانوں سے دور رکھنے کا ایک معقول سہارا بھی ہے۔
سب رس کے آغاز میں جب کبیر داس کا دوہا ایک مختصر لفظی ترمیم سے ہمیں نظر آتا ہے تو یہ بات ازخود سامنے آجاتی ہے کہ ملا وجہی اکتسابِ علم میں مَے خانۂ شمال سے گریز کی خو نہیں اپناتا ۔ اکبرِ اعظم کا عہد گزر چکا ہے اور برج کے علاقے کی اہمیت ابھی بھی قائم ہے اس لیے وجہی نے حمد میں مخاطبت کے لیے ’فارسی کے دانش منداں ‘ کے ساتھ ’گوالیر کے چاتراں‘ کو بڑے وقار کے ساتھ درج کیا ہے۔ ’درزینتِ سخن و در نام کتاب گوید‘ باب میں بھی ’گوالیر کے فہیم‘ کی شمولیت سے یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ وجہی کا مطالعۂ کائنات محدود نہیں اور رسمی پیمانوں کے ساتھ غیر رسمی ایوانوں تک بھی وہ پہنچتا ہے۔ گوالیر کے چاتراں اور فہیم کا تذکرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دربارِ اکبری یا مغلیہ سلطنت کے رتنوں سے واقف ہے اور ان کے علم و فضل کا اس کے ذہن پر سکہ بیٹھا ہوا ہے۔ یہاں یہ یاد رہنا چاہیے کہ سب رس کو نثری تعلّی کی یادگار کے طور پر نقادوں نے پیش کیا ہے۔ ملا وجہی اپنی ہمہ دانی کے سامنے کسی کو کچھ نہیں سمجھتا مگر اس کو ایرانیوں کے ساتھ ساتھ اگر مغل دربار کے دیسی ماہرینِ علم و فن کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے تو اس کا یہ وہی ہندوی شعور ہے جس کی وجہ سے فارسیت کے علاوہ بھی اسے دوسرے علمی مینارۂ نور نظر آتے ہیں۔
وجہی نے سب رس کی تصنیف و تالیف کے مقاصد بیان کرتے ہوئے جو پہلا اصول بیان کیا اسی سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ وہ ہندیت کا پیروکار ہے اور اپنے لیے ایک نئی دنیا کی تلاش میں سب رس کی تالیف کے دوران نکلا ہوا ہے۔وہ اپنے کاموں کا اصول کچھ اس انداز سے پیش کرتا ہے:
’’جیتے چوساراں، جیتے فہم داراں، جیتے گُن کاراں ہوئے، سُن آج لگن، کوئی اس جہان میں،ہندوستان میں، ہندی زبان سوں، اس لطافت اس چھنداں سوں، نظم ہور نثر ملاکر، گَلا کر یوں نیں بولیا۔‘‘
یہ شانِ تعلّی اگرچہ فنِ شعر سے اکتساب کا عمل ہے اور قافیہ بندی بعض اوقات ردیف سازی کے اصولوں کی پاسداری کی وجہ سے فارسیت سے روشنی اخذ کرنے کا ایک طور بھی ہے مگر ہندستان میں اور ہندی زبان کی لطافت اور چھندوں کے معقول زیروبم کے استعمال سے نئی زبان کی جو شیرازہ بندی کرنے کا ملا وجہی کے دل میں جو خواب ہے وہ عرب و ایران کے انشا پردازانہ وسائل سے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس کے لیے اسے اپنے عہد اور ملک و قوم کی طرف متوجہ ہونے کی لازمیت سے خود کو بہرہ مند کرنا تھا۔ سب رس اس لیے ایک طلسم ہے کیوںکہ یہاں آزمائے ہوئے جادو کے نسخے پھر سے استعمال میں نہیں لیے گئے ہیں بلکہ نئے حربوں سے نئے جادو قائم کرنے کی کوششوں نے اس کتاب کو نگارخانۂ حیرت میں تبدیل کردیا ہے۔
سب رس کی تہذیبی فضاپر غور کریں تو جو چیزیں از خود روشن ہونے لگتی ہیں انھیں ذیل کی چند مثالوں سے سمجھا جاسکتا ہے:
(الف) ملا وجہی نے ہندستانی تہذیب و فضا کو مقدم جانا اور عرب و عجم کی روایات کے تفوق سے ممکن حد تک گریز کی راہ اختیار کی۔
(ب) ملا وجہی نے عربی اور فارسی کی لسانی فیض رسانی اور قرآن و احادیث سے براہ راست فیض حاصل کرنے کے باوجود ہندستانی فضا اور مقامی آدابِ معاشرت کو ہر موقعے سے اہم جانا ہے۔
(ج) اسلوبِ بیان میں کلیدی الفاظ صرف عربی فارسی کے نہیں ہیں بلکہ ہندستانی لفظوں میں معنوی تہہ داری کے لیے توجہ کرنے کی مہم بھی اسی کتاب سے شروع ہوتی ہے۔
(د) عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش سے اس کے عہد میں یہ کتاب تصنیف پاتی ہے جس کا ملک الشعرا غوّاصی اپنی مثنوی کا نام عربی روشن دانوں کی خاک جھاڑتے ہوئے سیف الملوک و بدیع الجمال قائم کرتا ہے مگر وہیں ملا وجہی اپنی وہ کتاب جس میں زبان و انشا اور بلاغت کے ستارے ٹانکے ہوئے ہونے کی سب فضیلت واضح کرتے ہیں اس کا نام ٹھیٹھ ہندوی میں سب رس مقرر کرتاہے۔ کوئی اضافت نہیں اور نہ مکفوف کی گنجایش پیدا ہوتی ہے۔ بعد میں یہ انداز کچھ اس قدر مقبول ہوا کہ پھول بن‘ اور من لگن جیسی مثنویاں عالمِ وجود میں آئیں اور سب رس کے سو برس بعد شمالی ہندستان کی کربل کتھا کو بھی ناموں کے اسی سلسلے کی کڑی سمجھنا چاہیے۔ سترھویں اور اٹھارویں صدی کا یہ وہ زمانہ جب شمال سے جنوب تک فارسی اور اسی حوالے سے عربی کو علمی روایت اور معیار کا ضامن سمجھا جاتا تھا مگر اس کے متوازی ملا وجہی نے ہندوی نام کرن سنسکار کا ایک قابلِ تقلید پیمانہ وضع کرکے اپنی اولیت ثابت کی۔
سب رس کو مردہ سوسائٹی کی طرح سے ملا وجہی نے نہیں پیش کیا۔ اکثر داستانوں میں گزری ہوئی بادشاہت اور لُٹے ہوئے مقدر کی کہانیاں ہوتی ہیں۔ اسی بہانے جبرِ مشیت اور سوزِ نہانی کے امور داستان گو کے سامنے زیرِ بحث ہوتے ہیں۔ پڑھنے والا عبرت حاصل کرتا ہے اور ادبی کا یا کہانی کہنے کا مقصد ثواب حاصل کرنا ہوجاتا ہے۔ داستانوں کے یہ آداب انیسویں صدی تک تقریباً ایک ہی انداز میں دکھائی دیتے ہیں۔ ملا وجہی نے سب رس میں مردہ سماج اور گزرے ہوئے وقت کی داستان کو ایک محدود دائرے میں رکھتے ہوئے اپنے اختراعی انداز سے اسے زندگی بداماں بنانے کی کوشش کی۔ تصوف اور بادشاہت کے معاملات بیان کرتے ہوئے اس نے عام انسانی زندگی کے کرداروں کو کچھ اس اندازسے پیش کیا جیسے وہ داستانی روایت کی جانی ہوئی بے رس دنیا میں ایک سوچی سمجھی مداخلت کررہا ہے۔ اگر اس نے یہ مداخلت نہ کی ہوتی تو شاید ہی آج ملا وجہی کو اردو داستانوں کا توانا دستخط اور بنیاد گزار سمجھا جاتا۔
سب رس کے تہذیبی شعور پر غور کرنے کے لیے ان مختصر نوشتہ جات کا بالاستیعاب تجزیہ لازم ہے جو یوں تو داستان کا لازمی حصّہ ہیں مگر بعض ماہرین نے انھیں انشائیہ قرار دیا ہے۔ مختصر اورمختصر تر ادبی اجزاشزرات کا بدل کہیے جا سکتے ہیں جنھیں بیان کی رَو میں ملّا وجہی اپنی جہاں دیدنی کے مظاہرے پیش کرتا گیا ہے۔یہاں فلسفہ ، تصوّف،تجربہ ، مشاہدات، تبلیغ اور ہدایات کے نہ جانے کتنے پہلو سموئے گئے ہیں۔بیان کا ایسا نپا تلا انداز ہے کہ فلسفہ طرازی میں ظرافت کی سماعی بھی ممکن ہو سکی ہے۔انشائیے کی جدید تعریفات اور ان مخصوص نمونوں کو سامنے رکھیں تو ان تحریروں کو انشائیے کے بجائے انشائیہ نما کہہ سکتے ہیں۔مگر ہیں یہ ملّا وجہی کی انشاپردازانہ صلاحیت کے اظہارکے کھلے ثبوت۔
جاوید وششت نے تو سب رس سے ان تحریروں کو علاحدہ کر کے ۶۱ انشائیوں یا انشا نماتحریروں کو یکجا کر کے موضوعاتی خانہ بندی کرنے کی کوشش بھی کی ہے جس کی وجہ سے ملّا وجہی کی اس کام کے بعض نئے گوشے ابھر کر سامنے آجاتے ہیں۔یہ انشائیے حقیقت میں انسانی زندگی کی تحلیلِ نفسی کے نتیجے کے طَور پرسامنے آتے ہیں ۔ ان انشائیوں سے چند ملی جُلی مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن سے ان کے نفسِ مضمون اور پیشکش کے مقاصد پر روشنی پڑ سکتی ہے:
٭’’ توں اگر اپنا دوست ہے تو دشمن کوں پچھان، گمان کیا خاطر رکھنا میانے میان،‘‘
٭’’مشہور ہے کہ جدھر ہنڈی ڈوئی ، اُدھر سب کوئی‘‘۔
٭ ’’ دوسرا اگر دشمن ہوا تو سہل ہے، ولے اپنا دشمن اپے ہونا جہل ہے‘‘۔
٭ ’’جاں ساجی تیری ہے ، جاں وعدہ ہے، کتاب ہے، وہاں ذرّے زرّے کا حساب ہے‘‘۔
٭ ’’ عاقل آنگے تیج جانتا، نادان پچھیں تی پہچانتا‘‘۔
٭ ’’ عورت عجب ہے شکر، ولے اس شکر میں تمام بھرے ہیں مکر۔ بولے ہیں شر شیطان تی، مکر زنان تی۔ خدا اپنی پناہ میں رکھے، یودونوں بلایاں ہیں، اس بلایاں کوں کون جیت سکے‘‘۔
٭ ’’ سوکن کوں دیکھنے کی کسے تاب، جس گھر میں سوکن آئی وہ گھرخراب‘‘۔
٭ ’’عاشق جو کچھ مے خانے میں پایا، سو کعبہ میں زاہد کے ہات نیں آیا… عاشقی مصاحبت ہوریاری، عبات بندگی ہور خدمت گاری‘‘۔
٭ ’’ اگر اسمان تی آگ برسے گا ابر، وہاں بھی کام کرے گا شکر ہور صبر… شکر ہورصبر ہر ایک درد کا دارو ہے،
٭ ’’ جیوں شراب کا اثر تیوں بادشاہ کا پیار، ایسے پیار کوں کیا اعتبار تل میں اترے تل میں چڑھے، ایسی جاگاہوشیار کیے ہیں بڑے…جو آگ پر باراچلتا تو سُو کا ہور گیلا مل جلتا… مست ہتی ، بادشاہ ہور باگ، یوتینوں بی ایک جنس کی آگ…
٭ ’’ جوں کھانے میں نمک، جوں دیوے میں جھمک، جوں محبوب میں ٹھمک ‘‘
ان مثالوں سے بہت ساری باتیں آشکار ا ہوتی ہیں۔ہندستان کی اس تہذیبی اور ثقافتی روایت کا عروج دیکھیے جب ملّا وجہی خیر وشر کے درجنوں معاملات ایک ساتھ اس طرح سے سامنے لاتا ہے جیسے زندگی اور کائنات کو دیکھنے کا نیا نظریہ ہی وضع کیا گیا ہو۔ یہاں صوفی ، عاشق،سوتن اور بادشاہ سب ملّا وجہی کے تعاصّرات سے ایک نئی شکل کے ساتھ ہمارے سامے ہوتے ہیں۔یہاں اسی ہندستانی تہذیب وثقافت کے زیرِ اثروہ دنیا قائم ہوئی ہیے س کا بدل کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ فارسی عربی روایات میں ہر تضاد کے نباہنے کے مراحل اتن آسان نہیں تھے جس قدر ہندستانی ماحول میں گنجائشیں پیدا ہو رہی تھیں اسی لیے ملّا وجہی نے اپنی کتاب اور خاص طور سے نظر کا ہندستانی ڈھانچہ تیار کیا جس میں جب جب گنجائشیں پیدا ہوئیں اس نے عربی فارسی سے استفادہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ، اس کی مذہبی اور علمی تربیت اتنی پختہ تھی کہ اسے کسی نئے ماحول اور نئے موضوع کا انگیز کرنے میں کسی طرح کے عدمِ توازُن کی گنجائش نہیں تھی ملّا وجہی کا نثر نگار کی حیثیت سے یہ خاص پہلو ہے۔
ملّا وجہی کی تصنیف سب رس کے تہذیبی اور ثقا فتی مطالعے کا ایک تہذیبی مقصد یہ بھی ہے کہ ہم اردو کی ادبی نثرکے ارتقا کے ان کڑیوں کو پہچان سکیں جن کی بدولت اردو کا غیر مذہبی اور سیکولرکردار سامنے آسکا۔نثر سے قبل شعرائے کرام نے بھی اپنے رنگ کی کوششیں روا رکھی تھیں مگر یہ یاد ہونا چاہیے کہ اردو شاعری کا آغاز ہی غیر مذہبی روایت کا آئینہ دار ہے۔ امیر خسرو کاغیر مستند کلام ہو یا کدم راؤ پدم راؤ کے اشعاران کی واضح روایت غیر مذہبی ہی ہے۔مگر اردو نثر کے ابتدائی مراحل مذہبی تعبیر وتشریح کے مقاصد سے لیث ہو کر آگے بڑھتی ہے۔ دکن میں قدم قدم پرصوفیائے کرام کے آثار بکھرے ہوئے تھے اور ان کے ملفوضات کی زبان رفتہ رفتہ اردو نثر کو انگیز کررہی تھی اس ماحول میں سب رس جیسی کتاب کو پیش کرنا جس کے ماخذ تک پہنچتے پہنچتے یہ بات سمجھ میں آنے لگتی ہے کہ یہاں تصوّف کا دور دورہ ہے اور اس کے بغیرکوئی مصنف لقمہ نہیں توڑ سکتا اپنے علم کے اعتبار سے بھی وہ مذہبی فکر اور تصوّف کا ماہر ہے۔ اس کے نام میں ملّا کا نام ہوں ہی شامل نہیں ہے۔سب رس کے قسّے کو پڑھتے ہوئے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ قدم قدم پر اسے اپنے علم کا اظہار بھی کرنا ہے مگر فنکار کی حیثیت سے اس کا نظم وضبط اور فَنّی توازن کا یہ حیرت انگیز ثبوط ہے کہ اس نے تصوّف کی بِسات کہاں پھیلانی ہے اور کہاں نفسِ انسانی کے سامنے اسے سمیٹ لینا ہے،اس کا وہ ایسا رمز آشنا ہے جیس اہماری ادبی تاریخ میں مٹّھی بھرلوگ سامنے آئے ہوںگے۔عالمانہ اعتبار کے باوجود ماہرِ نفسیات کا ادراک اور ایک اَن گَڑھ زبان میں اپنے مشاہدات پیش کرتے ہوئے اگر ملّا وجہی کامیاب ہوا ہے تو اس کی رہ نمائی اسی مقامی تہذیب وثقافت سے ہوئی ہے۔ اپنی مٹّی پر یہ اعتبار اور تمام اکتسابات کے باوجود شعور ولاشعور کی کشمکش میں کامراں گزر جانا سب رس کے حوالے سے ملّا وجہی وہ کارنامہ ہے جس پر چارصدیوں کی باوجود وقت کی کوئی دھول نہیں جمی۔سب رس میں ملّا وجہی نے اپنی جس انداز میں تعریف کی ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ چارسَو برس کے بعد اپنے قارئین اور ناقدین سے واقف تھا اور واقعتاََ اسے دکن کے تمام مصنّفین پر فوقیت حاصل ہے۔
SAFDAR IMAM QUADRI,
Head, Department of Urdu, College of Commerce,
Arts & Science, Patna: 800020(Bihar)
Res: 202, Abu Plaza, NIT More, Ashok Rajpath,Patna-6(Bihar)
Email: safdarimamquadri@gmail.com Mobile: 09430466321
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

