اردو زبان وادب سے وابستہ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوجو ماہنامہ آجکل سے واقف نہ ہو،ڈاکٹر ابرار رحمانی ایک عرصہ سے آج کل کے مدیر کی حیثیت سے اردو زبان وادب کا گراں قدر فریضہ انجام دے رہے ہیں، وہ متنوع شخصیت کے حامل اور کثیرالجہات فکر و نظریات کے مالک ہیں، ادب، تنقید،تحقیق، فکشن، اداریے اور صحافت کے میدان میںبے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اب تک ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ۔ ان کی پہلی کتاب ’’کلیم الدین احمد کی تنقید کا تنقیدی جائزہ ‘‘ ہے جو ان کا شناخت نامہ ثابت ہوئی ۔ اہل علم نے اس کتاب کو بہ نظرِ تحسین دیکھا جس کے نتیجے میں اس کتاب کے متواتر تین ایڈیشن شائع ہوے ۔ دوسری کتاب ’’ تلخ شیریں ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ۔ یہ ان کے مضامین کا مجموعہ ہے ۔ اس میں دلوں کو چھولینے والے اور دل کی دھڑکن بڑھادینے والے دونوں طرح کے مضامین ہیں ۔ تیسری کتاب ’’ ۱۸۵۷ء جنگ ِ آزادی کا درخشاں باب ‘‘کے عنوان سے منظرِ عام پر آئی ۔ یہ کتاب بھی کافی مقبول ہوئی ، یہ کتاب جنگ ِآزادی کے ڈیڑھ سو سال پورے ہو جانے پر سیمینار اور سمپوزیم میں پڑھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے ۔ یہ کتاب اس طور پر اہم ہے کہ اس کا مقدمہ جامع مدلل اور مبسوط ہے ۔ جس کی وجہ سے اس کتاب کی قدر وقیمت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کتاب نے ڈاکٹر ابرار رحمانی کو بہ حیثیت تاریخ داں ادبی حلقوں میں متعارف کرایا جس کی بنیاد پر الہٰ آباد ایک نیشنل سیمینار میں انھیں تاریخ داں اور معتبر محقق اور معتدل ناقد لی حیثیت سے مدعو کیاگیا ۔ جو کہ مصنف کے لیے بڑے فخر اور اعزاز کی بات تھی ۔ چوتھی کتاب ’’ خزینہ غالب ‘‘ کے عنوان سے ہے ۔ یہ کتاب بھی مضامین کا مجموعہ ہے ، اس کتاب میں وہ مضامین ہیں جو آجکل میں ہرسال ماہ فروری میں ’گوشئہ غالب‘ کی حیثیت سے شائع ہوتے رہے ہیں ۔ اس کا مقدمہ تحقیق اور غالب تنقید کے حوالے سے بڑی اہم اور جامع ہے ۔ اس طور پر یہ کتاب مضامین اور مواد کے اعتبار سے اہم ہی نہیں بلکہ غیر معمولی ہے ۔ پانچویں کتاب ’’ ہندوستانی ڈاک ‘‘ کے عنوان سے ہے ۔ یہ کتاب تر جمہ ہے جسے نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا نے شائع کیا ہے ۔ جس سے اس کتاب کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ لگایا جا سکتاہے ۔ چھٹی کتاب ’’ منتخب تحریریں ‘‘ کے موضوع سے ہے۔ یہ سجاد ظہیر کے مضامین کا عمدہ انتخاب ہے ۔ اس کتاب کو بھی نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا نے شائع کیا ہے ۔ ان کتابوں کے علاوہ مصنف کی پانچ کتابیں منتخب مضامین کی ہیں جو سیریز کے طور پر شائع ہوتی ہیں ۔ ان میں ’’ آجکل اور اقبال ‘‘، ’’ آجکل اور ادب کے پچاس سال ‘‘ ،’’ آجکل اور پریم چند ‘‘، ’’ آجکل اور طنز ومزاح ‘‘، ’’ آجکل اور سفرنامہ ‘‘ دو کتابیں ترجمہ ہیں ان میں ایک کتاب ’’ ڈیپو گدھے کے دلچسپ کارنامے ‘‘ انگریزی سے ترجمہ ہیں دوسری کتاب ’’ لالٹین ‘‘ ہے جو انگریزی سے اردو ترجمہ ہے ۔ یہ کتاب بالخصوص تعلیمِ بالغان کے لیے ہے ۔
ڈاکٹر ابرار رحمانی کی شہرت ومقبولیت ایک جارح اداریہ نویس اور تجزیہ نگار کی ضرور ہے مگر ان کی شخصیت اور فن کو کسی خاص دائرے یا نطریے سے دیکھتا نا انصافی ہوگی انھوں نے ادب کے میدان میں اپنی تخلیقی ہنرمندی، تنقیدی شعور وبصیرت کے ساتھ ایک سچے ادیب اور قاری کا مکمل ثبوت دیا ہے ان کا اداریہ بے لاگ ضرور ہوتا ہے مگر وہ ہنس مکھ، ملنسار، نیک دل اور نیک طبیعت شخصیت کے مالک ہیں ساتھ ہی وہ ایک محسن ومخلص انسان کی طرح سب پر آہستگی سے کھلتے ہیں۔ بحیثت ِانسان وہ کمٹ منٹ والے انسان ہیں بد عہدی اور سستی شہرت کی طلب وخواہش رکھنے والوں کو ناپسند بھی اسی شدت سے کرتے ہیں۔ چوں کہ وہ جس عہدے پر فائز ہیں ، عین ممکن ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو اس کا احساس کم ہی ہوا ہوگا۔ مگر یہ عہدے کی مجبوری سے، فرد واحد کی شخصیت کی کمزوری اور کمی نہیں ہے۔
جہاں تک اداریہ نویسی کی تاریخ کا مسئلہ ہے تو اردو میں صحافت کی تاریخ تقریباً دو سوسال قدیم ہے۔ اور اردو صحافت میں اداریہ نویسی کی تاریخ اور روایت بھی تقریباً اتنی ہی قدیم ہے۔ مگر باقاعدہ اردو کی ادبی صحافت کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا۔ ابتدائی دور کے رسائل وجرائد میں ، مخزن، اور، زمانہ، اہم ہیں ساتھ ہی، لسان العرب ، لکھنؤ، سہیلی، عصمت، شباب، بہارستان، وصلائے عام، وپنجاب ریوپو، اولڈ بوائے، استبصار، سفید، الصنعت، سیوزک گزٹ، زمانہ، الفاظ، ادیب، ہمایوں، نگار، نیرنگ خیال، قابل ذکر ہی نہیں بلکہ اہم ہیں۔
اداریہ مدیر کی خاص تحریر کو کہتے ہیں جو اس کی طبع زاد تحریر ہوتی ہے۔ اخبار روزنامہ ہو یا ہفتہ وار، پندرہ روزہ ہو یا ماہنامہ میگزین، ان سبھوں کے لیے اداریہ لازمی جز وکی حیثیت رکھتا ہے۔ ادارے کے بغیر اخبار۔بے جان جسم کی صورت ایک لاش کی مانند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اداریہ کو کسی بھی اخبار یا رسالے کی ریڑھ کی ہڈی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اداریہ کو روحِ بدن سے بھی تعبیر کیا جاتاہے۔ اور جسم میں تندرست دماغ سے بھی، در اصل اداریہ ایک رہنما خطوط ہوتاہے۔ مدیر اس کے ذریعہ سے آئینہ دیکھاتاہے اور رہبری ، رہنمائی کے فریضہ کے ساتھ اصلاح کاکام بھی انجام دیتاہے۔ مگر وہ کوئی واعظ یا مذہبی پیشوا نہیں ہوتا، بلکہ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوتاہے۔ اسی وجہ سے اسے ملک کا ذمہ دار شہری کہا جاتاہے۔ مدیر کا کام ذمہ داری بھرا ہوتا ہے۔ مدیر کا ایک اہم کام یہ بھی ہوتاہے کہ وہ اپنے قارئین کے لیے ایک اچھے استاذ، مربی، رہنما، رہبر اور نگراں کی حیثیت سے اس کی تربیت کرے، چوں کہ وہ اپنے مخصوص فکر ونظر سے اپنے قارئین کو روشناس کراتاہے، اور رفتہ رفتہ قاری مدیر کی فکر سے ہم آہنگ ہوتاجاتاہے۔
اگر ہم دیکھیں تو صحافت، صحافی اور اداریہ، یہ تینوں ایک دوسرے سے اس طرح پیوست اور مربوط ہیں کہ جس طرح جسم، پسلی اور ریڑھ کی ہڈی سے زنجیرون کی طرح ایک دوسرے سے پیوست ہو اکرتی ہے۔ اسی طرح صحافت، صحافی کے بغیر بے معنی ہے ۔ اگر صحافی ایماندار، دیانت دار، حق گو، بے باک اور جرأت اظہار سے خالی ہو تو پھر اداریہ بھی روحِ اداریہ سے خالی رہتی ہے، اور پھر اس کی اہمیت ایک رسمی اداریہ کی ہوجاتی ہے، جس کی اہمیت نہ فی زمانہ ہوتی ہے اور نہ ہی بعد کے زمانوں میں کوئی وقعت ہوتی ہے۔ اس طور پر اگر ہم جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا آپس میں چولی دامن کا رشتہ ہے، مصنف نے لکھا ہے کہ’’ اداریہ ایک رسالے یا اخبار کا لازمی اور اہم جز وہوتا ہیــ‘‘اداریہقارئینکوپرووککرنےولاہو،جوبےساختہاوربرجستہآپ کے قارئین کو اپنے جذبات واحساسات کے اظہار پر مجبور کرے۔ ‘‘
’اداریہ نویسی اور میرے اداریئے‘ میں تقریباً ستر (۷۰) اداریئے شامل ہیں۔ یہ اداریے ڈاکٹر ابرار رحمانی کے آج کل میں شائع شدہ اداریے ہیں۔ آپ کے اداریئے، مدلل ، معتدل اور بے لاگ اداریئے ہواکرتے ہیں۔ جس کا ادراک ہمیں کتاب میں شامل مختلف اداریئے پڑھ کر ہوتاہے۔ یہ ادارے، نہ صرف سیاسی مصلحت اندیشی، برائے خانہ پری اور نہ ہی ادریہ برائے اداریہ ہیں بلکہ یہ اداریئے دیانت داری، حق گوئی ، بے باکی اور غیر جانب داراداریوں کا بہترین نمونہ ہیں۔
ان اداریوں میں ہمیں ایک سچے ادیب، صحافی اور محبِ اردو کی تصویر جھلکتی ہے۔ تقریباً اداریوں میں ہمیں غور وفکر، عصری آگہی اور بصیرت سے پر نکات نظر آتے ہیں ، اس سے اندازہ ہوتاہے کہ مدیر زبان وادب سے کس قدر سچی محبت رکھتا ہے، اور اس کی ترویج واشاعت کے لیے کتنا فکر مند ہے۔ اور اداریہ نویسی کے گرتے معیار سے نالاں بھی ہے، مصنف نے ایک جگہ لکھاہے ۔ ’’یہ بھی ایک سچائی ہے شروع سے ہی اردو رسائل کے بعض مدیران کے ہاتھوں میں اداریہ نویسی کے نام سے ہی ارتعاش ہونے لگتا تھا اور ان کے قلم کی روشنائی سوکھنے لگتی تھی۔ آج بھی صورتِ حال کچھ ایسی ہی ہے۔ ‘‘
اس پیرائے میں طنز اپنے لطیف پیرایہ بیان کے ساتھ آج کے دور میں لکھے جارہے ادارے اور مدیر ان کی حالت زار پر بھرپور کاری ضرب ہے مگر یہ کوئی غبار دل نہیں ہے جیسے مصنف نے پھوڑنے کی کوشش کی ہے بلکہ اداریہ کے گرتے معیار پر نوحہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اداریہ ہے کیا؟ اور اس کا دائرہ کار کیا ہے؟ اور اداریہ کسی بھی رسائل وجرائد کے لیے کتنا اہم اور ضروری ہے؟ یہ بات قابل غور ہے مگر اداریے کی اصل روح اور اس کے محرکات سے آج بھی بیشتر مدیر حضرات غافل ہی نہیں بلکہ لا علم ہیں۔یہی وجہ ہے مدیران بیشتر اداریے کے نام پر محض سرسری رائے لکھ کر یا پھر کچھ مرچ مسالہ ڈال کر اسے چٹپٹا اور دل چسپ بناکر عہدہ بر آ ہونے کو کامیاب اداریہ تصور کرتے ہیں، بایں طور پہ فطری بات ہے کہ ایک حساس ادیب کا سستی شہرت کے خوہاں مدیران کے تعلق سے دل کا بھر آن بھی فطری ہے، یہی وجہ ہے کہ مصنف نے اداریہ نویسی اور میرے ادریے میں جی بھر کے بھڑ اس نکالی ہے اورجگہ جگہ حوالہ دے کر اپنے ادارے کو مدلل بھی بنایا ہے، خوشی اس بات پر ہے کہ مصنف نے سرکاری نوکر ہوتے ہوئے بھی بے باکی اور صداقت کے ساتھ بڑے بڑے تخلیق کا جو پردہ خفا میں رہ کر گل کھلا رہیں ان کی پول کھولی ہے۔ جب کہ اس جرم کی پاداش میں انھیں مناسب سزا کا مزا بھی چکھنا پڑا ہے باوجود اس کے وہ اب بھی حق گوئی پر قائم ودائم ہیں۔ سچ ہے جسے ’’اللہ رکھے اسے کون چکھے ‘‘
اس کتاب کا پہلا مضمون ،’’ اداریہ نویسی اور میرے اداریے‘‘ ہے۔ اس میں مصنف نے اداریہ، اداریہ نویسی ، مدیر رسالہ اور مدیر کی ذمہ داریوں کے تعلق سے کئی طرح کے سوالات قائم کیے ہیں جو کسی نہ کسی طورپر درست اور بجا ہیں۔ اس میں اردو صحافت کی تاریخ، اردو اداریہ کی تاریخ ، اہم رسائل، کا لم اور مراسلات کی توضیح کے ساتھ اس کتاب میں شامل مصنف کے بعض معترض اداریے کے تعلق سے مفصل اور مدلل گفتگو کی گئی ہے، ساتھ ہی مصنف نے یہ عند یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ حالات ساز گار رہے تو یہ سلسلہ آئندہ بھی جارہے گا۔ مجھے احساس ہے کہ یہ اداریے تلخ بھی ہیں، ترش بھی اور شیریں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ:
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہر بلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
اس کتاب کا دوسرا مضمون ، ادب میں ، سر ٹیفیکٹ، کی روایت ہے، مصنف نے اس مضمون کی ابتدا بہت ہی دلچسپ انداز سے کی ہے۔ جیسے اخبارات میں قاری کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اشتہار چھاپتے ہیں جس کی سرخی ہوتی ہے۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ اب قاری چونکتا ہے کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ اسی طرح مصنف نے ابتدائی سطور میں لکھا ہے۔’’ ادب میں ان دنوں ، سرٹیفکیٹ، لینے اور دینے کا رواج عام ہے،چونکئے نہیں۔ یہ حقیقت ہے اور یہ حقیقت کسی وبائی بیماری کی طرح بڑی تیزی سے پھیلتی جارہی ہے اور اگر اسے بروقت روکنے کی تدبیر نہیں کی گئی تو سارادب تعفن زدہ ہوکر رہ جائے گا۔ ‘‘ مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ مرض مزید اور تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اس مضمون کی خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے ’سرٹیفکیٹ ‘ سے حقیقی سند نہیں بلکہ مجازی معنٰی مراد لیتے ہوئے اسے مرض متعدی سے تعبیر کیا ہے، اور اس کی دوقسمیں بتائی ہیں۔ پہلی قسم ’انتساب‘ ہے اسے بھی انھوں نے دوخانوں میں بانٹا ہے انتساب کا پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ جب ہم کسی کے احسان مندہوتے ہیں یا اس سے متاثر ہونے کی صورت میں ہم اپنی کتاب کا انتساب کچھ اس طرح کرتے ہیں جو کسی طورپر ضرر رساں نہیں بلکہ اس سے نیک بختی، سعادت مندی اور پھر ہمارے ذہن وفکر کی سطح کا پتہ چلتاہے، جیسے اپنے استاد محترم کے نام، اپنے والدین کے نام، اپنے عم مکرم کے نام، اپنی مادر علمی کے نام، میرے یار کے نام وغیرہ وغیرہ مگر انتساب کا دوسرا طریقہ جس سے انتساب کنندہ کی بٹرنگ، مکھن بازی، فصاد پرستی، خوشامد اور چاپلوسی کی سڑاندھ سے طبیعت مکدر ہوجاتی ہے جو نہ ہی مصنف کے لیے بلکہ ادب کی قدیم روایت ، اقدار اور تہذیبی طور پر مضر ہے، یہ عموماًکسی او سط درجہ طالب علم کی جانب سے منسوب کی ہوئی کتابوں کا انتساب ہوتاہے مگر حیرت ان لوگوں پر ہے جن کے نام یہ کتاب معنوں ہوتی ہے آخر انھیں چاپلوسی کی بومحسوس نہیں ہوتی ۔ وہ طریقہ ہے کہ ’’میں اپنی اس ناچیز کوشش کو اپنے محترم اسناد اور کرم فرما جناب ۔۔۔۔۔کے نام معنوں کرتاہوں جنھوں نے مجھے قلم پکڑنا سکھایا۔‘‘
سرٹیفکیٹ کی دوسری قسم کی وضاحت کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ ’’دوسری قسم وہ ہے جسے ہم پیشِ لفظ، تفریظ، حرف اول، حرف آخر یا فلیپ اور پشت پر لکھوا کر اپنے اساتذہ اور پروفیسران سے لیتے ہیں۔ اس بیماری میں بھی وہی خوشامد ار چاپلوسی کا جر ثومہ تیزی سے حرکت پذیر نظر آتاہے۔ ‘‘ یہ تو درست ہے کہ محولہ بالا سرخی کے تحت مصنف یا صاحبِ کتاب کو اپنی تحریر بحیثیت مصنف مترجم یا مرتب لکھنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کے تحت دوسرے کے لکھنے کے لیے خاص گنجائش نہیں، کیوں کہ صاحب ِکتاب کو اس کے تحت یہ واضح کرنا ہوتاہے کہ اس کتاب میں کیا کچھ نیا ہے، ابواب میں کیا کیا چیزیں ہیں اور اس کتاب کے منظر عام پر آنے میں کیا چیز محرک بنی وغیرہ مگر صاحب ِکتاب ذاتی مفاد اور چاپلوسی جیسے مرض میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے کسی بااثر یا صاحب رسوخ استاد سے لکھوا کر ادب کی پاکیزہ روایت اور تہذیبی اقدار کو مجروح کرنے میں دریغ نہیں کرتا۔ اس مضمون میں مصنف نے بڑے انشراحِ قلب اور وضاحت کے ساتھ ادب میں پروان چڑھ رہی غیر شائستہ ، نازیبا روایت جو ایک نہ ایک دن ادب کی صحت خراب کردے گی اسے روکنے کی کوشش کی ہے۔
اداریہ نویسی اور میرے اداریے، کا دوسرا مضمون ، اردو کی عملی اور اصلی خدمت، کے عنوان سے ہے ۔ یہ اداریہ اپنے وقت کی دو بڑی شخصیات کے حوالے سے ایک ڈاکٹرمحمد علامہ اقبال اور دوسرے مولانا ابوالکلام آزاد ہیں ۔قوم کے ان دونوں جیالوں کے تعلق سے یہ بتانا کہ یہ کیا ہیں اور کیا نہیں۔ انھوں نے قوم وملت کے لیے کیا کچھ کا رہائے نمایاں انجام دیا اور کیا نہیں تو بڑی عجیب اور افسوس کی بات ہوگی۔ اس میںمصنف موصوف نے بھی ان دونوں شخصیات کے تعلق سے قوم اور بالخصوص ماہرین اردو اور اردو کی موٹی روٹی کھانے والوں کی بے حسی کا نوحہ کیا ہے۔ اور بجا کہا ہے کہ آج ہمارا رویہ ان دونوں محسنوں کے تعلق سے بڑے ہی بے غیر تانہ ہے۔ جیسے اقبال کوہر سال ۹ نومبر کو اقبال ڈے کا عنوان دے کر کچھ مضامین پڑھ اور سنالیا جاتاہے اور موقع ومحل کے اعتبار سے ’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ گنگنا کر محب وطن ہونے کا ثبوت بھی دے دیاجاتاہے۔ اسی طرح مولانا آزادجیسی عبقری شخصیت اور جو ہماری قومی سیاست کا ایک معروف اور معتبر نام ہے۔ وہ بیک وقت مدیر ،سیاست داں، عظیم رہنما، ماہرِ تعلیم، مفسرِ قرآن اور صف ِاول کے ادیب تھے۔ باوجود اس کے موقع بہ موقع ہم اس نابغہ روزگار کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے رہتے ہیں۔ وہ بھی بڑے ہی میکانکی اورمشینی انداز میں ۔ جیسے ہم ان کے یوم پیدائش اور وفات کے موقع سے ان کے مزار پر جمع ہوکر قل، فاتحہ خوانی اور گلپوشی کر دیتے ہیں۔ بس اللہ اللہ خیر صلی ‘‘۔ اس سے بڑی بے حسی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ ۹ نومبر کو کیا ان کے لیے ہمارے پاس کچھ ٹھوس کام کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے ؟ حتیٰ کہ قوم تو قوم اردو کی روٹی کھانے والوں کی اکثریت علامہ اقبال کے یوم پیدائش کو، یوم اردو، کے طور پر منانے اور مولانا آزاد کے یوم پیدائش کو ویوم تعلیم، منانے میں عملاً بے خبر رہتے ہیں اور گریز پا بھی رہتے ہیں۔ اس اداریہ میں مصنف نے ان دونوں بڑی اور اہم شخصیتوں کے تعلق سے بڑے ہی دل پذیرپیرا ہم پر یہ بیان میں اداریہ لکھنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ ایک اداریہ ادب ہے شرط ۔۔۔۔۔۔، کے عنوان سے ہے۔ اس اداریہ میں مصنف نے ایک ایسی سچی حقیقت بلکہ ایسی جاری روایت کی جانب لوگوں کے ذہن وفکر کو مبذول کیا ہے جو آج بھی زور وشور سے جاری ہے، وہ ہے روز بروز کچی پکی کتابوں کا چھپ کرمارکیٹ میں آنا خواہ وہ کتاب فروخت ہو یا نہ ہو ، خواہ اس کتاب کی ضرورت ہو یا نہ ہو، خواہ کسی ناگزیر موضوع پر ہو یا نہ ہو۔ کیوں کہ آج مصنف بننے کا شوق زیادہ تر ان نوواردان میں پروان چڑھ رہاہے جو کسی نہ کسی یونیورسٹی سے ایم فل یا پی ایچ ڈی کر رہا ہے، بلکہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی صورت سے ایم فل یا پی ایچ ڈی ہونے سے قبل ہی میں صاحبِ کتاب ہوجائوں تاکہ لوگوں کے بیچ تعارف کرانے میں آسانی ہو اور پبلیکشن کا فائدہ بھی مل جائے گا۔ صاحب کتاب کو خوب پتا ہوتا ہے کہ یہ کتاب جس موضوع پر ہے بیشتر اس موضوع پر خاصا کام ہو چکا ہے۔ مگر شوق کا کیا کیجئے۔ مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’ستم بالائے ستم یہ کہ کتاب چھپواتے وقت انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ انھوں نے دوران ریسرچ کہاں کہاں سے اورکس کس کا مال اڑایاتھا۔ بلکہ اسے تو وہ اپنی قابلیت اور علمیت کی دلیل سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اتنا اہم کام کیا۔ ایسے ایسے خوبصورت جملے تراشے، ایسے ایسے پیراگراف لکھے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان سے بیشتر چبائے ہوئے نوالے ہوتے ہیں اور بار بار چبانے کی وجہ سے ایک گھنائونی کیفیت پیدا ہوچکی ہوتی ہے۔ ‘‘
سچ ہے کہ آج اردو کتابوں کا دھڑسے چھپنا بلکہ کتاب لکھ دو اور لکھوالوکی صدائیں خوب گونچ رہی ہیں جب کہ یہ صورت دھماکہ خیزی سے کسی طور کم نہیں ہے، ایک جگہ مصنف اس قبیح عمل کو کچھ اس طرح دہراتا ہے کہ’’ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جوکان پر پنسل ، قلم پھنسا کر گلی گلی گویا آواز لگاتے پھرتے ہیں کہ مضمون لکھوالو، کتاب لکھوالو، نمبر نکلوالو وغیرہ، پھر آگے چل کر مصنف نے ایسے لوگوں پر کاری ضرب لگائی ہے جو محنت کے ڈرسے بہ سہولت کتاب چھپوانے یا صاحب ِکتاب کہلانے کی تمنا لیے دو چار راتیں کالی کرکے چند مضامین اکٹھا کرکے یا چند مضامین لکھواکر۔کوئی کتاب ترتیب دیتے ہیں اور پیشِ لفظ کے طور پر دو چار صفحہ رسمی طور پر لکھ کر صاحبِ کتاب ہوجاتے ہیں جب کہ ترتیب وتدوین بھی اگر کسی خاص ، اہم اور قابل قدر موضوع پر کیاجائے تو ایک اچھا کام سامنے آسکتا ہے ماضی میں ہمارے اساتذہ نے ترتیب وتدوین کے کئی اہم نمونے چھوڑے ہیں جو ہر اعتبار سے اہم ہیں۔ مگر سہل پسندی اور صاحبِ کتاب ہوجانے کی ہوڑ میں بد مست نوواردان اردو کے طالب علموں اور دور اندیشی سے عاری اساتذہ نے اس طریقہ کا ر کو بھی بدنام کرنے میںکوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ ایک جرم بن گیا ہے۔ مدیر نے اپنے اس اداریہ میں لکھا ہے کہ ’’ اس جرم پر قابو پانے کی کوئی نہ کوئی تدبیر ضرور کرنی ہوگی ۔ ورنہ ایک دن وہ آئیگا جب یہ وباتعفن کی صورت پیدا کرے گی اور اس کی زد میں صاف ستھرا اوراچھا ادب بھی آجائے گا۔ ‘‘
اس کتاب میں ایک اداریہ ’ معاملہ اردو میڈیم اسکولوں کا ‘ کے عنوان سے ہے جو آجکل فروری ۲۰۰۳ کے شمارے میں شامل ہے۔ اس اداریہ میں مصنف نے اردو اسکولوں کی ابتر حالت اور غیر مطمئن ذریعہ تعلیم کے باوجود ،وہ لوگ جو زبان کی محبت میں ، ملک کی محبت میں اپنے بچوں کو اردو میڈیم سے تعلیم دلا رہے ہیں جب کہ ہر سوڈنکا انگریزی ذریعہ تعلیم کا ہے باوجود وہ لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں جو اپنی وراثت اور تہذیب وتمدن کی حفاظت کے لیے اردو میڈیم میں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ اس میں اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ ’’بچوں کو ان کی مادری زبان میں ہی تعلیم دی جانی چاہیے اور کم از کم بنیادی تعلیم تو لازماً مادری زبان میں ہی ہونی چاہیے کہ ہمارا گھریلو ماحول ، ہمارا آس پاس پڑوس اور ہمارا سماج اس کا پر و ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اگر ایسے میں انگریزی یا کسی اور زبان میں تعلیم دی جائے گی تو مشکلات اور پریشانیاں تو آئیں گی ہی۔ ‘‘
اس لیے ہر جگہ جہاں بھی وہ ہیں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہ صرف احساسِ کمتری ہی ہے کہ لوگ انگریزی میڈیم سے اپنے بچوں کو تعلیم دیناوقار کامسئلہ سمجھتے ہیں اردو کے تعلق سے یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ ہماری زبان سکڑتی چلی جارہی ہے یا سکڑ چکی ہے۔ جب کہ زبان وادب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ کوئی زبان چھو ٹی اور بڑی نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی زبان کو اپنے وقار کا مسئلہ سمجھا جاسکتاہے۔ مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو نوبل انعام ہنگری زبان کے ادیب امر ے کر تیز کو نہ دیا جاتا۔ جب کہ ہنگری دنیا کی سب سے کم بولی جانے والی زبان ہے۔ جب کہ اردو زبان وادب کے بولنے والے تو پر سینٹیج میںہیں تو ایسی صورت میں اردو زبان وادب سے بہت زیادہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آخیر میں مصنف نے لکھا ہے ۔ ’’ بہر حال قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جواس پر آشوب دور میں بھی اردو سے محبت کرتے ہیں۔ اپنے بچوں کو اردو میڈیم اسکولوں میں ڈالنے کا جو کھلم مول لیتے ہیں۔ ان اسکولوں کے وہ اساتذہ اور اسٹاف بھی مبارک باد کے مستحق ہیں جو ایمانداری سے درس وتدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ‘‘ اسی طرح مارچ ۲۰۰۳ ء کے شمارے میں مدیر نے اداریہ کے تحت ’اردو افسانے کی صورتِ حال‘ پر بھرپور یہ اداریہ تحریر کیا ہے۔ لمحۂ فکر یہ ہے کہ افسانے لکھے اور پڑھے جارہے ہیں مگر کوئی افسانہ یاد گار کیوں نہیں ہوپارہا ہے ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ آج کے اس برافتادہ دور میں داستان سننے کا وقت آخر کس کے پاس ہے۔ ان داستانوں میں نہ ہی کوئی زندہ کردار نظر آتا ہے جسے برسوں یاد رکھا جائے اور نہ وہ پلاٹ جس کے سہارے داستان کو دلچسپ اور کامیاب بنایا جاسکے ایسی ہی حالت زارسیمیناروں کی ہے کہ سیمینارکے نام پر یک روزہ، دور روزہ، اور سہ روز، میلالگ جاتاہے لوگ آتے ہیں گھوم پھر کر کچھ چیزیں دیکھ لیتے ہیںکچھ نئے چہروں کی زیارت ہوجاتی ہے اور کچھ کھا پی کر اپنی اپنی راہ لے لیتے ہیں ۔ ادبی سیمیناروں کی حالت بھی اب ایسی ہی ہے۔ مدیر نے ایک جگہ لکھا ہے ’’مجلس افسانہ کا تو برا حال تھا، ایک خانہ پری تھی جوکی جارہی تھی، کوئی دس سال پرانا افسانہ پڑھ رہا ہے تو کوئی غیر ضروری طویل افسانہ بلکہ ناولٹ پیش کر رہا ہے۔ ایک افسانہ نگار افسانہ پڑھ رہاہے تو دوسرے افسانہ نگار باہر ، کوئی زنانہ اندز میں افسانہ پڑھ رہا ہے کہ اس افسانہ کی تھیم بھی زنانہ ہے۔ کوئی کسی ایکٹر کی نقل کر رہا ہے کہ اس کا افسانہ چاہے کتنا ہی پھسپھسا ہو نہ ہو اس ترکیب سے پسند کرلیا جائے ۔ ‘‘ اس بات کا بھی مصنف کو ادراک ہوا ہے کہ اب افسانے کا وہ زمانہ نہیں جب لوگ ہمہ تن گوش ہو کر افسانہ سنتے تھے۔ اب تو سامع سننے اور قاری پڑھنے پر مجبور ہیں، سو پڑھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں۔ مگرافسانے میں کیا فن پارہ ہی اپنی تخلیقیت سے خالی ہے۔ اس اداریہ میں مدیر نے مثالوں کے ذریعہ زوال آمادہ تخلیقیت اور فن پارے پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مدیر زمینی حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا کرب صفحہ قرطاس پر زہر بن کر لکھ رہا ہے۔ مگر یہ سچ ہے کوئی طنز نہیں اب سچ کڑوا ہو یا شیریں یہ الگ بات ہے، مگر ہمیں جو تعلیم دی گئی ہے وہ یہی ہے کہ ’قُلِ الْحَق وَلَوْ کَانَ مرٌ ‘‘ حق بات کہو خواہ کڑوی ہی کیوں نہ ہو۔ اور حق کڑواہی ہوتا ہے، محولہ بات ادارے میں وہ جملے جو کہیں نہ کہیں میچ میں اور کڑوے بھی اور ہی وجہ ہے کہ لوگوں کو چبھتے ہوئے بھی ہیں میں نظیر کے طور پر پیش کرتا ہوں دیکھئے مدیر سچ کے نشتر کس طرح لگائے ہیں۔ ‘‘
’’آج صحافت سے ہمارا مقصد پیسے کمانے اور کسی طرح مال وزر حاصل کرنے تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ جسے کسی بھی طور پر جائز اور روا
نہیں کہا جاسکتا؛ چنانچہ سرکاری رسالوں کے بعض ایڈیٹر اداریہ نہ لکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ اگر لکھتے ہیں تو باتیں گول مول اور انتہائی سرسری ہوتی ہیں۔ اور کچھ رسالے مہمان اداریہ سے کام چلا لیتے ہیں۔ یعنی ہلدی لگے نہ پھٹکری، رنگ آئے چوکھا؛ کھسیانی بلی کھمبا نوچے، شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپالینے سے طوفان نہیں ٹلتا، سچائی چھپ نہیں جاتی، اگر آپ کو یہاں ملازمت حاصل کرنی ہے تو آج سے بلکہ ابھی سے ہی اپنے صدر شعبہ اور دیگر باثر اساتذہ اور ایکسپرٹ کی خوشامد وچاپلوسی بلکہ خصیہ برداری شروع کردینی چاہیے۔‘‘
’’لیکن اجتماعی طور پر کوئی فیصلہ لیتے ہوئے ہمیں بہت سوچ سمجھ کر انتہائی دانشمندانہ فیصلہ لینا ہوگا۔ (کہ اردو والوں میں نفاق باہمی کی وبا عام ہے) ’’کتاب چھپ رہی ہیں اور لوگ دھڑ دھڑ صاحب کتاب بن رہے ہیں۔‘‘ باقی اپنی موت آپ مرجاتے ہیں۔‘‘ آج کتابیں لکھنے کا بڑا کارخانہ ہماری جوینورسیٹیاں ہیں۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر چبائے ہوئے نوالے ہوتے ہیں۔‘‘ ’’ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو کان میںپنسل پھنسا کر گلی گلی گویا آواز لگاتے پھرتے ہیں کہ مضمون لکھوالو، کتاب لکھوالو، نمبر نکلوالو،۔‘‘ ’’کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ پتلون کی تاک میں لنگوٹی بھی چلی جاتی ہے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ یہ وہ جملے ہیں جو مدیر نے بغیر سود وزیاں کے اپنے ادارے میں انگوٹھی میں نگینے کے جڑے ہیں۔
مگر جس حق گو ئی اور بے باکی کے عوض مدیر مسئول کو بھاری قیمت تک چکانی پڑی۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔
اس کتاب کے تقریباً اداریے ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور زبان وادب کے میدان میں زمینی سطح پر، عملی طور پر کچھ کر گزرنے کا درس دیتے ہیں۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایک بھی اداریہ ایسا نہیں ہے جو بے دلی اور رسم کی ادائیگی کے لیے لکھا گیا ہو۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مدیر نے اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے کی سعی لا حاصل میں آڑی ترچھی لکیرکھینچی ہو، بلکہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہر اداریہ منصوبہ بند طریقے سے اور موقع ومحل کی مناسبت سے لکھاگیا ہے۔تاکہ اردوداں طبقہ کی بے حسی کو دور کیا جاسکے جس کے نتیجے میں اردو کا بھلا ہو۔
KHAN MOHD RIZWAN
9810862283
afeefrizwan@gmail.com
D-307,M.M.I.P, ABUL FAZL ENCLAVE
JAMIA NAGAR NEW DELHI-110025
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

