ایجادات(اردو فکشن میں ایک نئی صنف حالیہ پر مبنی مجموعہ حالیہ)/ مبین صدیقی – ڈاکٹر خان محمد رضوان
فکشن ادب بالخصوص اختراعی فکشن میں مبین صدیقی ایک لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں- مجموعہ حالیہ (ایجادات) کی اشاعت 2018 کے بعد یہ بات خاص طور سے عام ہوچکی ہے کہ موجد حالیہ مبین صدیقی نے نہ صرف ایک صاحب طرز فن کار کی حیثیت سے ایک نئی طرز اور ایک نئی صنف”حالیہ” کی ایجاد کی ہے بلکہ ایک صاحب اسلوب ادیب اور نظریہ ساز (theorist) کی حیثیت سے نظریہ حالیہ،جواز حالیہ،تعریف حالیہ،اختصاص حالیہ اور اجزائے حالیہ کوبھی قائم کیاہے-
صنفی لحاظ سے دیکھا جائے تو مبین صاحب نے دنیاے فکشن کو جس تصوراتی ڈراما کا تصور دیا ہے اور جس تصوراتی ڈراما کی تخلیقی و اختراعی مثالیں ” ایجادات ” میں پیش کی گئی ہیں اس تصوراتی ڈراما کو دراصل ” ڈرامائی افسانہ ” قرار دینا بدرجہا بہتر ہے۔ یعنی مبین صاحب جسے ” حالیہ ” کہتے ہیں ہم اسے” ڈرامائی افسانہ ” کہیں گے۔ اردو کے مایہ ناز نقاد شمس الرحمن فاروقی نے بھی ” حالیہ ” کو فلم کی تکنیک میں لکھا ہوا افسانہ ہی بتایا ہے۔ فاروقی صاحب نے مثال کے طور پر راب گریے اور بلراج مینرا کے افسانے سے اسکی مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے ” حالیہ ” کو ایک نئی صنف قرار دیا ہے۔ نیر مسعود، پروفیسر عتیق اللہ، وہاب اشرفی اور سلیم شہزاد جیسے دانشوروں نے بھی ” حالیہ ” کو افسانہ و ڈراما کے انضمام سے پیدا ایک نئی انضمامی صنف تسلیم کیا ہے۔ لہذا، کسی الجھن کے بغیر صاف طور پر سبھی کو یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ مبین صدیقی جسے ” حالیہ ” کے نام سے پکارتے ہیں دراصل وہ افسانہ کی ایک اختراعی صنف ” ڈرامائی افسانہ ” ہے جسکی بے مثال فنی و فکری خوبیوں سے ہم سب کو فیضیاب ہونا چاہیے۔
”ایجادات” کے حالیوں کے مطالعے سے یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ فکروفلسفہ،موضوع ومقصد اور نصب العین کے لحاظ سے بھی موجد حالیہ ایک بلند فکر،رجائیت پسند اور آشاوادی ادیب ہیں-اس تناظر میں اور آج کے مایوس کن ادب کے مقابلے میں دیکھا جائے تو یقیناً ایک زمانے کے بعداردو ادب کو ایک ایسا ادیب مل سکا ہے جو نفی پر اثبات،مایوسی پر امید،بیزاری پر خواب، کشمکش وتذبذب پر تحمل وطمانیت،لادینیت پر وحدانیت،مصنوعیت وکلوننگ(cloning) اور سحر ونقل پر حق واصل اور فطرت وحقیقت اور گہری گہری تاریکیوں پر روشنی وانوار کو ترجیح دیتا ہوا ریگزاروں میں پھول کھلاتاہے-
لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں اور یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ موجد حالیہ کا قلم نہ صرف ایک عہد ساز قلم کار کا قلم ہے بلکہ ایک بڑے مفکر،ایک حوصلہ مند مدبر،ایک رہ نما،ایک مصلح اور ایک دوراندیش ادیب کا قلم ہے جو بڑی خاموشی، خاکساری اور بے نیازی کے ساتھ گذشتہ تیس برسوں سے اردو ادب کی غیر معمولی خدمات انجام دے رہا ہے- ”حالیہ” اور صاحب حالیہ کے متعلق متذکرہ نتائج کی تصدیق کیلیے ”ایجادات” کے چند حالیوں کے آخری سطور ملاحظہ فرمائیں-حالاں کہ ”ایجادات” کے بہت سے حالیائی اقتباسات صاحب حالیہ کی فصیح وبلیغ زبان اور ممتاز طرز بیان کینمونے کے طور پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں-
1- ”پورا تصور جیسے ایک دم سے روشن ہو اٹھتا ہے- اور نگاہیں جیسے ایک دم سے دیکھتی ہیں کہ بکھرے ہوئے ملبوں کے ڈھیر سے………..
یہاں تک کہ آہنی توپوں کے اوپر جمی ہوئی گیلی مٹی کی تہہ سے سبز سبز کونپلیں جھانک رہی ہیں……….
ہریالی کا ایک غیر متوقع احساس سر ابھارتاہے اور اس انکشاف پر موسیقی ہولے ہولے جھومتی ہوئی نشاطیہ آہنگ میں تبدیل ہوتی چلی جاتی ہے-! (ہری کونپلیں،ص-24)
2-”ناچتے،تمتماتے،سنسناتے،
پہاڑیوں کی اوٹ سے تاریکیوں کاسینہ چیر کر باہر نکلتے ہوئے سورج کی سمت اس کے قدم بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں اور وہ ہر وہ قدم پر جیسے لپکتا ہوا،بخوشی بخوشی کہہ اٹھتا ہو،
”اے مصور؛……..” ”ایمصور!……”
(اے مصور، ص-30)
3- ”افسر اعلی بھی ایک لمحہ کو چونکتے ہیں-چونک کر وہ بھی بزرگ کو بہ غور دیکھنے لگتے ہیں کہ اک ذراسی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر بھی تیرجاتی ہے-مگر اس سے قبل کہ دوسرے کچھ سمجھ سکیں وہ اپنی گاڑی میں جاکر دراز ہوجاتے ہیں-
نیم تاریکیوں میں کھلتے گلاب’ شکر گزار چہرے،مسکراتاماحول،اور منظر ساکت!!
”(رت جگے، ص- 166)
4- ” ایک جانب بطن گیتی سے، سنسنا تے سورج کی لاتعداد کرنیں، دوسری طرف اڑتے ہوئے گھوڑ سوار، گھوڑوں کے ٹاپوں کی اڑتی ہوئی گونج………،
اور تیسری سمت کیمپوں کی قطاروں کی درمیان سے، جانب فلک، بلند ہوتے ہوے،معصوم دست دعا!
(بطن گیتی سے،ص-197)
276صفحات کے اس مجموعہ حالیہ میں 31 حالیوں اور نظریہ حالیہ کے طور پر خود موجد حالیہ کے دو رہ نما مقالات(مقدمات) 1-حالیہ کی شعریات 2- حالیہ کی ایجاد، کے علاوہ جناب شمس الرحمن فاروقی سمیت پینتالیس ادباے کرام کی بیش قیمتی آراء شامل کتاب ہیں- خلاصہ کلام یہ کہ اردو ادب کی تاریخ میں ”ایجادات” ایک یاد گار اور عظیم اختراعی تحفہ ہے-

