قمر صدیقی کا شعری مجموعہ ’’شب آویز‘‘ – پریم مٹلانی
ڈاکٹر قمر صدیقی اردو کے نامور شاعر اور ادیب ہیں۔ ’’شب آویز‘‘ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو پچیس برسوں کی محنتِ شاقہ کا نتیجہ ہے۔ اپنے شعری رویے کے تعلق سے خود قمر صدیقی نے لکھا ہے کہ : ’’ ادب ، خصوصاً شاعری دراصل تنہائی کی لذت اور تنہائی کی دہشت کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔ میں نے بھی اپنی شاعری کے ذریعے تنہائی کی اس دہشت اور لذت کے درمیان توازن قائم کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے۔‘‘اگر اس شعری مجموعے کا بغور مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ قمر صدیقی کی شاعری میں انسانی زندگی کے خالی پن کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
قمر صدیقی کی ہر غزل کا ہر شعر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ پیدائشی شاعر ہیں۔ بلکہ انھوں نے خود کہا ہے کہ :
ازل سے مجھ میں بسا ہے قمرؔ مرا شاعر
کہ شعر کہتا تھا میں شاعری سے پہلے بھی
قمر صدیقی تمام بنی نوع انسان سے محبت کرنے والے شاعر ہیں۔ ان کے نزدیک نفرت ایک منفی اور تباہ کن جذبہ ہے۔ وہ خدا کی وحدانیت کے قائل ہیں اور ان کے نزدیک اس پوری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تمام کائنات کو بس اپنے ’’کن‘‘ کے ذریعے پیدا فرمایا ہے:
نفی نفی ہے ازل اور مرا ابد بھی نفی
کہ میری ذات صفر لا الہ الاللہ
اسی طرح ان کے نزدیک انسان بھلے ہی ایک سماجی جاندار ہے اور اس کے اطراف رشتوں اور تعلقات کا لامتناہی سلسلہ ہے لیکن اپنے باطنی وجود میں انسان اکیلا ہے۔ وہ اکیلا ہی اس دنیا میں آیا تھا اور اُسے اکیلا ہی اس دنیا سے چلے جانا ہے۔ شعر ملاحظہ فرمائیں:
میں ہی میں ہوں دوسرا کوئی نہیں
ساتھ میرے مجھ سوا کوئی نہیں
ہمارا عہد زندگی کی کشاکش اور افراتفری، ماحول کی آلودگی ، باہمی نفرت اور تعصب سے عبارت ہے۔ ہم ایسے دور میں جی رہے جس میں انسانی اقدار کے پاس لحاظ اور انسانیت کی بقا کے بجائے انسانی اقدار کی پامالی ، گروہی عصبیت کا دور دورہ ہے۔ایسے نفرت خیز ماحول کا لازمی نتیجہ تشدد کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں آج دنیا کے ہر کونے میں تشدد نے اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں۔ ایک جینوئین شاعر ایسی صورتِ حال کو کیسے برداشت کرسکتا ہے۔ وہ بے چین ہوجاتا ہے اور پھر ایسے شعر کہتا ہے:
یہ کس نے فضا میں زہر بھرا ہے چارو طرف نفرت کی گھٹا
وہ میل ملاپ کے اجلے دن اب دیوانے کا خواب ہوئے
بُرا سا خواب دیکھا تھا جو شب میں
یہ دن اُس خواب کی تعبیر سا ہے
ہے گردش میں لہو ساعت مناظر
زمانہ آنکھ میں تصویر سا ہے
مشہور ہیں ہم دونوں اس طرح زمانے میں
تم آگ لگانے میں ہم آگ بجھانے میں
قمر صدیقی ایک قادر الکلام شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں روانی اور غنائیت ایک بہتے ہوئےدریا کا تاثر پیش کرتی ہے۔ اُن کا ذخیرہء الفاظ وسیع ہے اور لفظوں کو برتنے میں استادانہ سلیقہ مندی نظر آتی ہے۔ حتیٰ کہ ان کے اشعار کی لسانی در و بست میں تھوڑی سی تحریف بھی کی جائے تو شعر کے تسلسل کو ضرب پہنچتی ہے۔مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھیں:
جو قصہ یاس و حسرت ہے رودادِ شبانِ ہجراں میں
وہ ساری عبارت آپ کی ٹھہری ہم تو فقط اعراب ہوئے
میرے ناقص مطالعہ میں لفظ’’ اعراب‘‘ بطور قافیہ پہلی بار نظروں سے گزرا ہے۔ اسی طرح نعت کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
ہر درد با دوا ہے ہر زخم با شفا ہے
شافع مرے محمدؐ درماں مرے محمدؐ
اس شعر میں الفاظ نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں ۔آپ کوئی لفظ ادھر سے اُدھر نہیں کر سکتے۔
جہاں تک قمر صدیقی صاحب سے میری ذاتی واقفیت کا سوال ہے تو وہ ایک نیک انسان ہیں ۔ان کے یہاں اپنے پرائے کی تخصیص نہیں ہے۔ ہر شخص ان کے نزدیک اپنا ہے۔ مسکراہٹ ان کی شخصیت کا ایک اہم جز ہے۔ وہ جتنے بڑے عالم ہیں اتنا ہی ان کی شخصیت میں انکسار ہے۔ ان کی پوری شخصیت سادہ دل اور سادہ لوحی سے عبارت ہے۔
پریم مٹلانی ، الہاس نگر، مہاراشٹر
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

