انسان اپنے روبرو: ایک جائزہ -کومل شہزادی
کتاب "Man for himself” کے مصنف ایرک فرام جن کی کتابوں نے ان کے سماجی اور سیاسی نظریات ، اور ان کی فلسفیانہ اور نفسیاتی بنیادوں پر بھی شہرت پائی۔اس کے مترجم محمد عاصم بٹ ہیں جنہوں نے "انسان اپنے روبرو ” کے نام سے اس کا کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔کتاب ادارہ فروغ قومی زبان سے ٢٠١٨ ء میں شائع ہوئی۔کتاب ٢۵٦ صفحات پر مشتمل ہے۔محمد عاصم بٹ ادب کی دنیا میں مترجم کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔یہ بیسویں صدی کے بہترین مترجم ہیں۔انہوں نےتراجم کا آغاز بہت پہلے کردیا تھا۔آپ نے پاکستان کے برطانوی سفارت خانے میں مترجم کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں اور متعدد کتابوں کے تراجم کیے۔جنہوں نے کافکا اور بورخیس کے علاوہ متعدد کتابیات کے تراجم کیے۔
زیر نظر کتاب ” انسان اپنے روبرو” کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔جن میں تفصیل کے ساتھ انسانیت پسند اخلاقیات : جینے کے فن کی اطلاقی سائنس،انسانی فطرت اور کردار،شخصیت، پیداواری رویہ،انسانیت پسند اخلاقیات کے مسائل اور جدید انسان کا اخلاقی مسئلہ جیسے موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔
کائنات میں بے شمار انواع ہیں، بے شمار موجودات ہیں۔انسان کائنات کی بے شمار انواع میں سے ایک نوع اور لا تعداد موجودات میں سے ایک وجود ہے۔ لیکن تمام موجودات میں انسان کی انفرادیت یہ ہے کہ کائنات اور کائنات کا ہر وجود براہِ راست یا بالواسطہ انسان سے مربوط اور اسی انسان ہی کے لئے موجود ہے۔ہزاروں برس سے آج تک نفس یا نفسیات کو مطالعہ ذہنی تصور کیا جاتا ہے نفسیات میں انسان کا کردار، شخصیت، خیالات، احساسات، خواہشات موضوع بحث رہے ہیں نفسیاتی ماہرین انسان کے بعض پیچیدہ نفسانی یا نفسیاتی مسائل پر مختلف حوالوں سے تجزیے اور جانچ پڑتال کرتے رہے ہیں ۔سٹائن کے مطابق ’’نفسیات وہ سائنس ہے جو کہ انسانی دماغ کی ذہنی سرگرمیوں کے قوانین کا انکشاف کرتی ہے۔ ‘‘ دو امریکی ماہرین نفسیات کاگان اور ہیومین نے نفسیات کی تعریف یوں کی:’’نفسیات وہ سائنس ہے قابل مشاہدہ کردار اور اس کردار کے عضویہ کے باطنی ذہنی عوامل اور ماحول کے بیرونی واقعات کے ساتھ تعلقات کا باقاعدہ مطالعہ کرتی ہے اور اس کی تشریح کرتی ہے۔( یہ بھی پڑھیں اقبال اورماڈرنزم کی بحث – پروفیسر ناصر عباس نیر )
کتاب کا سب ٹائٹل بہت کچھ "اخلاقیات کی نفسیات کی تحقیقات” میں بہت کچھ کہتا ہے اور اس کے بعد سے ہی ابواب شروع ہوتے ہیں ، مسئلے سے ایک مسئلہ انسانیت پر مبنی اخلاقیات کو پیش کرتا ہے ، جسے وہ "زندگی کے فن کی عملی سائنس” سمجھتا ہے۔ کتاب میں انسانیت پسندی کے اخلاقیات کے مسائل کے لئے وقف ہے۔ نفسیاتی تجزیاتی تعصب یا شخصی نظریہ کی شخصیت کی تجویز پیش کرنے والے پہلے سے نہیں تھے ، ان کے نظریات کو بڑے پیمانے پر جنگ (آثار قدیمہ) یا فرائیڈ (زبانی ، مقعد وغیرہ) نے گرہن لگایا ہے ، لیکن ان کے اپنے نظریات ثقافتی عوامل اور معاشی ڈھانچے کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ جو ان کو الگ کرتا ہےفرام اس کتاب میں بطور سوشلسٹ سائکالوجسٹ کی حیثیت سے اپنے اسٹال کو دوسروں کی طرح واضح طور پر مرتب نہیں کرتے۔ میں نے خود سے دلچسپی ، خود پیار اور خود غرضی کے بارے میں فرام کے تجزیوں کی بھی تعریف کی کہ یہ لفظی کھیل کے مقابلے میں زیادہ ہے اور یہ سادہ پسندانہ انفرادیت بمقابلہ (بے بنیاد) سوشلسٹ استدلال اور استدلال کو ناقابل قبول ثابت کرے گا۔ بہت سارے لوگ اپنی انسانیت پرستی کے لئے پوری طرح قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اس نوعیت کی خصوصیت منسلکہ تھیوری ، منسلکہ طرز اور اندرونی نوعیت کے "اسکرپٹس” کے شعبوں میں دریافتوں اور علمی تحقیق کے ذریعہ ایک چھوٹی سی شکل اختیار کرچکی ہے لیکن اگر کسی اور وجہ سے نہیں کہ اس کی ادبی یا فلسفیانہ خوبی میں اس کتاب کی سفارش سب پر کروں گی . اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ کتاب آپ کے لیے تو پھر اس کتاب پر بھی غور کریں جسے فرام نے اس کی ساتھی حجم نفسیاتی تجزیہ اور مذہب (ٹیری لیکچرز) سمجھا۔
انسان کی اخلاقیات اور نفسیات کا بہت گہرائی سے مطالعہ اس کتاب میں موجود ہے۔مترجم نے اس کا ترجمہ کرتے ہونے انتہائی محنت اور لگن سے اس کو تکمیل تک پہنچایا ہے۔
بہت پیچیدہ کتاب کا ترجمہ مطالعہ کے دوران ایسا کوئی شائبہ نہیں ہوتا کہ اس ترجمہ شدہ کتاب میں کوئی خامی موجود ہے۔انسان کی نفسیات پر لکھنا بلاشبہ مشکل کام ہے۔انسان کی اخلاقی نفسیات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے یہ کتاب بہت مفید ہے اور ترجمے کا اُس سے بھی عمدہ اندازہے۔انسان کی اخلاقی نفسیات سے شعور وآگہی کے لیے یہ کتاب بہت مددگار ثابت ہوگی۔تراجم اردو زبان میں متعارف کروانے کے لیے ہر ایک کا اپنا مرتبہ اور مقام ہے۔
عاصم بٹ ترجمہ نگاری میں مصنف کے باطن میں اتر جاتے ہیں اور اس کے مفاہیم کو اپنی ذات میں اس طرح جذب کر لیتے ہیں کہ ترجمہ کا غذ پر اُتر کر تخلیق بن جاتا ہے۔عاصم بٹ نے زبان وبیان کے حوالے سے اس کتاب کے اعلیٰ معیار کو مد نظر رکھ کر ترجمہ قارئین تک پہنچایا ہے ۔عاصم بٹ ایک کامیاب مترجم ہیں۔ترجمہ میں کہیں بھی ربط اور تسلسل میں کمی نہیں آنے دی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

