غالباً 27/ جولائی 1999 کی بات ہے۔ اس دن مولانا وحید الدین خاں صاحب، جامعہ ابن تیمیہ تشریف لائے تھے۔ طلبہ و اساتذہ میں بڑا جوش و خروش دیکھا جا رہا تھا۔ ان کی شان میں ایک پروگرام رکھا گیا جس میں انہوں نے بڑی لچھے دار تقریر کی تھی۔ چوں کہ جامعہ، علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے منسوب ہے، اس لیے انہوں نے امام ابن تیمیہ کی حیات و خدمات پر اچھی خاصی روشنی ڈالی تھی۔ ان ہی کی زبان سے اس دن پہلی بار میں نے سنا تھا کہ جب بھی امام ہمام رحمہ اللہ کو کسی علمی مسئلے میں تعقید درپیش ہوتی، وہ وضو کرتے، دوگانہ ادا کرتے اور سجدے میں دعا کرتے "يا معلم ابراهيم علمني”. اس دعا کی برکت سے گرہ کشائی ہو جاتی تھی اور وہ صحیح نتیجے تک پہنچ جاتے تھے۔ اس دن سے آج تک یہ دعا میرے بھی روزمرہ میں شامل ہے اور بارہا اس سے مجھے بھی فائدہ ہوا ہے۔
ان کی تقریر ختم ہوئی تو انہیں جامعہ کے شعبہ جات کا دورہ کرایا گیا۔ وہ جامعہ کی قلیل مدت میں عظیم علمی کارکردگی کو دیکھ کر بہت خوش اور متاثر ہوئے تھے اور دہلی واپس جانے کے بعد "الرسالہ” میں جامعہ کے بارے میں بہت تحسینی کلمات لکھے تھے۔ بانیِ جامعہ علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ کو بھی انہوں نے خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔ اس دن کے بعد میرے اندر ان کی تصنیفات کو پڑھنے کی دلچسپی پیدا ہوئی اور سب سے پہلے میں نے ان کی مشہورِ زمانہ کتاب "علم جدید کا چیلنج” پڑھی۔ ظاہر ہے، اس کتاب نے میرے اندر ان کو بالاستیعاب پڑھنے کی چاہت پیدا کر دی۔ میں نے ان کی وہ ساری کتابیں اور الرسالہ کی وہ ساری فائلیں پڑھ ڈالیں جو جامعہ کی سنٹرل لائبریری اور ہاسٹل میں طلبہ کی لائبریری میں موجود تھیں۔ پیغمبرِ انقلاب، اسلام دورِ جدید کا خالق، خاتون اسلام اور رازِ حیات، ان کی ان پانچ کتابوں نے ہی مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا اور جب بھی میں نے اپنے کسی شاگرد کو ان کی کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیا تو انہی کتابوں کی نشان دہی کی اور باقی کتابوں سے صرف نظر کرنے کا مشورہ دیا۔ یہاں تک کہ تذکیر القرآن تک کو پڑھنے کا مشورہ کسی کو میں نے نہیں دیا۔ اب بھی اگر کوئی ان کی کتابوں کو پڑھنے کے بارے میں مشورہ مانگے تو میں انہی کتابوں کو پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔ (یہ بھی پڑھیں وحیدالدین ، وحیدِ عصر – نایاب حسن )
خاں صاحب کی شخصیت سیمابی تھی اور خود محوری بھی۔ ان کے قلم کی زد میں تقریبا سبھی بڑی شخصیات آئیں۔ مجھے اس سلسلے میں سب سے پہلا دھچکا اس وقت لگا جب میں نے خود ان کی تحریر میں اپنی ماں کو سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے فکری اعتبار سے بلند ثابت کرتے ہوئے دیکھا اور پڑھا۔ پھر ان کے بارے میں جیسے جیسے میری معلومات میں اضافہ ہوا، ویسے ویسے ان کی کتابوں اور تحریروں سے دلچسپی کم ہوتی گئی اور 2010 کے بعد تو ان کے انکارِ احادیث کثیرہ یا ان کی تاویلاتِ فاسدہ دیکھ کر انہیں پڑھنا ہی چھوڑ دیا۔ کہاں 1999 کے بعد الرسالہ کی پرانی فائلیں ان کے ایک مریدِ باصفا سے ڈھاکہ، مشرقی چمپارن سائیکل سے جا کر لے آتا اور پڑھتا تھا اور کہاں 2010 کے بعد کوئی اگر الرسالہ کا کوئی نسخہ تھما بھی دیتا تھا تو بھی نہیں پڑھتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ خاں صاحب کو زندگی میں وسائل کی فراوانی لیبیا کے سابق بادشاہ جنرل معمر قذافی کی کتاب "دی گرین بک” کے ترجمے کے بعد نصیب ہوئی۔ اس کے ترجمے اور تائید سے خوش ہو کر ہی قذافی نے انہیں نظام الدین دہلی میں زمین اور بلڈنگ کا عطیہ دیا تھا۔ حقیقت کیا ہے، یہ اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔دی گرین بک بھی متبادل اسلام کے طور پر لکھی یا لکھائی گئی تھی۔ اس کی اصل تھیم سماجی اشتراکیت تھی جس پر قذافی تاحیات چلتے رہے۔ خاں صاحب کے افکار میں کجرویاں بہت ہیں، اسے مانے بغیر کوئی چارہِ کار نہیں ہے کیوں کہ اس پر خود ان کی تحریریں واضح ثبوت ہیں۔ آر ایس ایس کے منچوں پر جانا اور تقریر کرنا تو چلے گا مگر قشقہ لگوانے جیسا عمل تجدید یا جدت پسندی کے خانے میں بالکل نہیں سما سکتا، یہ تو کچھ اور ہی ہے۔
اب جب کہ ان کی وفات ہو چکی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ان پر نہ مثبت تحریریں آنی چاہئیں اور نہ ہی منفی تحریریں کیوں کہ ہر دو اعتبار سے انہیں شہرت ملے گی اور نوجوان نسل ان کی تحریروں کے جادو سے بچ نہیں پائے گی۔ ان کے خلطِ مبحث کا شکار ہر وہ نوجوان ہو سکتا ہے جو ان کی کتاب یا تحریر پڑھے گا۔ میرے خیال سے خلطِ مبحث کو اپنی طرف کھینچ لینے کی جو صلاحیت خاں صاحب میں تھی، موجودہ دور میں ویسی صلاحیت کا مالک کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ وہ سٹھیانے کے بعد دین کے لیے مفید کوئی کام نہیں کر سکے، انہیں لکھنے کی بیماری تھی اور بیماری بہر حال بری ہی ہوتی ہے چاہے وہ زندگی کے جس بھی گوشے سے متعلق ہو۔ وہ خود پسندی میں مبتلا تھے اور اسی بیماری نے انہیں امت سے کٹ کر الگ امت بن جانے کا خبط عطا کیا تھا۔ رہے نام اللہ کا!!!!!
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

