خان محبوب طرزی لکھنو کا ایک مقبول ناول نگار/ڈاکٹر عمیر منظر – مبصر :ڈاکٹر اکبر علی بلگرامی
آج کے مادہ پرستی کے دورمیں ہمارے مستند قلم کار بھی انہیں ادبا وشعراپر خامہ فرسائی کی کوشش کرتے نظرآتے ہیں جن سے ان کو کسی نہ کسی طورپر فائدہ پہنچنے کی امید ہوتی ہے لیکن ابھی بھی کچھ ادیب اور صاحب نقد ایسے ضرور ہیں جن کے قلم نے اپنی حرمت بچاکر رکھی ہے ۔انہیں قلم کاروں کے لئے شاید کہا گیاہے کہ
قلم گوید کہ من شاجہانم
قلم کش راہ بدولت می رسانم
لکھنؤ کے اپنے زمانے میں مقبول ناول نگار وافسانہ نگار خان محبوب طرزی پر ایک مبسوط کتاب پیش کرنا دور حاضر کے ادیب ونقاد اورکسی موضوع پر برملا اظہار خیال کرنے والے ڈاکٹر عمیر منظرکا ہی جگرہ ہے ۔ڈاکٹر عمیر منظر کی اس ادبی کاوش کو عصر حاضر کے مستند نقاد ،ناول نگار اور شاعر جن کو مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ منھ کو آتا ہے یعنی پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی ستائش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ
’’ہم سب کو عمیر منظرکا شکر گزارہوناچاہئے کہ انہوں نے خاں محبوب طرزی کی تحریروں کو یکجا کرنے اور شائع کرنے کا بیڑااٹھایا۔ اس طرح ماضی قریب کا ایک قیمتی سرمایہ محفوظ ہوگیا اور شاید اس طرح خان محبوب صاحب کے کارناموں سے دنیا دوبارہ واقف ہوسکے ۔ عمیر منظرنے یہ کام کئی برس کی تلاش اور محنت سے انجام دیا۔‘‘
خان محبوب طرزی پر گفتگوسے قبل مناسب معلوم ہوتاہے کہ ان پر کتاب ترتیب دینے والے ڈاکٹر عمیر منظرکا مختصر تعارف قارئین کی خدمت پیش کردوں کیونکہ انہیں جیسے جواں سال ادب نوازوں سے اردو زبان وادب کا مستقبل وابستہ ہے ۔ڈاکٹر عمیر منظرجن کااصل نام ابوعمیر ہے کاتعلق مولانا شبلی نعمانی اوراقبال سہیل کے وطن ہندوستان کے مردم خیز خطے اعظم گڑھ سے ہے ۔وہ صرف ادیب ونقاد ہی نہیں بلکہ شاعرومشاعروں کے عمدہ ناظم بھی ہیں ۔موجودہ وقت میں مولانا اردو نیشنل یونیورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں اردو کے استاد ہیں ۔ عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی انہوں نے حاصل کی اورجامعۃ الفلاح اعظم گڑھ سے عالمیت کی سند سے بھی سرفرازہیں ۔ملک کی مشہور یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایم فل اورڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کی ہیں ۔ڈاکٹر عمیر منظر نے بہت کم عرصہ میں اردو ادب میں نمایاں مقام اور وقار حاصل کیا۔بات سخن کی ، رامچندرابانی،شبلی ،مکاتب شبلی اور ندوۃ العلما ،طاہرہ اقبال کے منتخب افسانے ،اردو زبان کی تدریس اور اس کاطریقہ کاراور مولانا ابواللیث ندوی کے قرانی مقالات وغیرہ کتابیں ان کے زور قلم کانتیجہ ہیں جو زیور طباعت سے آراستہ ہوکر اشاعت کی منزلوں سے گزرکر قارئین سے اپنی پسند یدگی کی دادوسند حاصل کرچکی ہیں ۔
زیر تبصرہ کتاب ’خان محبوب طرزی،لکھنؤ کاایک مقبول ناول نگار‘ڈاکٹر عمیر منظر کی حالیہ ادبی کاوش ہے ۔خان محبوب طرزی اردو کے مقبول عام ناول نگاروں میں تھے۔ان کا تعلق افغانستان کے تاتارزی قبیلے سے تھا اسی مناسبت سے وہ طرزی لکھتے تھے ۔ان کے آبا واجداد بہت پہلے نقل مکانی کرکے لکھنؤ آگئے تھے اوراسی شہر نگاراں کے محلہ حسن گنج میں خان محبوب طرزی نے ۱۹۱۰ میں آنکھ کھولی ۔ابتدائی تعلیم لکھنو ٔ کی مختلف درسگاہوں سے حاصل کرنے کے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کارخ کیااور بی ایس سی کی سند حاصل کی۔
خان محبوب طرزی کا اصل میدان ناول نگاری تھا لیکن انہوں نے ترجمہ نگاری اور صحافت میں بھی نام پیداکیا۔ اپنے زمانے کے مشہور اخبارات روز نامہ اودھ ،روزنامہ اردو میں بھی انہوں نے کام کیا۔لیکن صحافت کو خیر باد کہنے کے بعد انہوں نے خود کو ناول نگاری کے لئے وقف کردیا۔ زندگی بھر اپنے قلم کی کمائی پر انحصار کرنے والے خان محبوب طرزی کبھی مالی طورپر آسودہ نہیں رہے اسی لئے مجبوراًانہیں بسیارنویس بننا پڑا ۔ڈاکٹر عمیر منظرکی فراہم کردہ اطلاع کے مطابق خان محبوب طرزی نے ایک سوگیارہ ناول تحریر کئے جبکہ پروفیسر احتشام حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈھائی سو ناول تحریر کئے تھے لیکن عمیر منظرکی اطلاع زیادہ درست ہے کہ وہ باقاعدہ تلاش وتحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے۔جس زمانے میں خان محبوب طرزی کے قلم کا جادو چل رہاتھا لکھنؤ میں ان کے ہم عصروں میں مائل ملیح آبادی ،شوکت تھانوی ،وحشت محمود آبادی ،سلامت علی مہدی،نادم سیتاپوری،مجاہد نسیم اور نسیم انہونوی جیسے ناول نگار ادبی افق پرروشن ستاروں کی مانند چمک رہے تھے ۔بقول شمس الرحمٰن فاروقی’ (محبوب خان طرزی )کے زمانے میں بہت سے ناول نگار رہے جن میں رشید اختر ندوی،رئیس جعفری، قیسی رام پوری،کے آر خاتون اوران سے ذرا پہلے منشی فیاض علی اور ایم اسلم ان میں کوئی ایسانہ تھا جو خان محبوب طرزی کی طرح ابداع اور تنوع رکھتاہو‘
اگر خان محبوب طرزی کو اردو میں جاسوسی ناول کا بانی کہاجائے تو غلط نہیں ہےکیونکہ وہ ۱۹۱۰ میں پیداہوئے اور ۱۹۶۰میں انہوں نے دنیا ئے فانی کو خیر باد کہاجب کہ اسرار احمد ناروی جو اردو کے جاسوسی ادب میں ابن صفی کے نام سے مشہور ہیں ۲۸جولائی ۱۹۲۸ کو الہ آباد ضلع کے نارہ میں پیداہوئے اور ۱۹۸۰میں ۵۲برس کی عمر میں عالم ناپائدار سے جہان ابدی کے لئے کوچ کیا۔ ابن صفی اور خان محبوب طرزی کو حیات نے بہت کم مہلت دی لیکن ان دونوں حضرات نے اس قدر تحریری یادگاریں چھوڑی ہیں کہ عقل حیراں ہے۔محبوب طرزی نے جیسے سائنسی ناول اردو کو دئے کسی اور ہندوستانی زباں کو یہ خوش بختی میسر نہیں ہوئی۔عمیر منظر یقیناًشکریہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے تلاش وتحقیق کے بعد طرزی صاحب کی نگارشات کی مکمل فہرست ترتیب دی ہے جس سے خان محبوب طرزی کی تفہیم کی راہیں آسان ہوں گی۔
خان محبوب طرزی لکھنؤ کے ایک مقبول ناول نگار ہیں ڈاکٹر عمیر منظر نے طرزی صاحب کی شخصیت اوران کے کارناموں کے مکمل محاکمہ کے لئے سات ابواب قائم کئے ہیں ۔پہلے باب میں طرزی صاحب کے دو فرزندان سمیت مستند ناول نگاروں اور اہم شخصیات کے تحریر کردہ مضامین ان کی ذاتی زندگی کے متعلق یکجا کئے گئے ہیں۔دوسرا باب طرزی کا فکشن کے عنوان سے ہے ۔تیسرے باب میں ناولوں سے متعلق طرزی صاحب کی تحریروں کو جگہ دی گئی ہے ۔چوتھا باب طرزی کے ناولوں پر لوگوں کی آرا سے متعلق ہے ۔پانچویں باب میں خان محبوب طرزی کی تحریریں شامل ہیں۔ چھٹا باب ان کا ناول اور افسانوں پر مشتمل ہے جبکہ ساتویں باب میں خان طرزی کی مختلف تحریریں پیش کی گئی ہیں۔
خان محبوب طرزی سے جیسے بنیادی ناول وافسانہ نگار اور صحافی جس کی خوداری نے حرمت قلم کا سود انہیں کیا لیکن ساری عمر تنگ دستی نے اس کو پریشان کر رکھا ۔پیٹ کی بھوک نے جس کو وسیار نویس اور زود قلم بنادیا لیکن جس نے اپنی بھوک کاسودا اردو ادب سے نہیں کیا بسیار نویسی کے باوجود خان محبوب طرزی کی تحریریں فراموش نہیں کی جاسکتی ہیں۔ اردو کی نئی نسل پر ڈاکٹر عمیر منظر نے جواحسان کیاہے اس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے انہوں نے ایک سچے اور کھرے ادیب کو اپنی تمام ترصلاحیت کے ساتھ زیر تبصرہ کتاب میں یکجا کردیاہے ۔
میں بارگاہ خداوندی میں ملتجی ہوں کہ وہ ڈاکٹر عمیر منظرکے قلم کو مزید توانائی بخشے کہ وہ اپنے زورقلم سے ہماری ادبی وراثت جو نگاہوں سے اوجھل ہوتی جارہی ہیں فراموش نہ ہونے دیں ۔ خوبصورت اور باوقار سر ورق 448صفحات اور 425روپئے کی قیمت والی کتاب خان محبوب طرزی سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لئے یقیناًوہ ادبی تحفہ ہے جس کی ہمیشہ دھوم رہے گی اورڈاکٹر عمیر منظر کی تحریروں کے پرستار اس کتاب کو نہ صرف پڑھیں گے بلکہ اپنے ذاتی کتب خانہ کی زینت بھی بنائیں گے۔
پاریکھ بک ڈپو سے ان لائن خریدا جاسکتا ہے
ڈاکٹر اکبر علی بلگرامی
مدیر روزنامہ آگ لکھنو
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

