صوفیہ(عہد شاہی کا ناول) /ناول نگار: مرزا فدا علی خنجر لکھنوی – مرتب: ڈاکٹر سلمیٰ رفیق
مبصر: سمّیہ محمدی
اکیسویں صدی کو ناول کی صدی کہا جا رہا ہے، اور اس میں ایک سچائی بھی ہے۔ اکیسویں صدی کی ابھی محض دو دہائی ہی گزرے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اردو میں کئی اہم ناول شائع ہوچکے ہیں۔ ان ناولوں میں سے چند معمولی نوعیت کے ہیں تو چند ناول ایسے بھی ہیں جو بلا مبالغہ دوسری زبانوں میں لکھے گئے ناولوں کے نہ صرف ہم پلّہ ہیں بلکہ عالمی ادب کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں۔ ممکن ہے میری اس بات سے کچھ لوگوں کو اعتراض بھی ہو۔ آج نہ صرف ناول لکھے جارہے ہیں بلکہ ناول تنقید کی جانب بھی لوگوں نے خوب خوب توجہ دی ہے۔ فساد سے لے کر انسانی رشتوں پر مبنی کئی ناول پچھلے چند برسوں میں شائع ہوکر قارئین کے بڑے حلقے کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک نئے ناول کی اشاعت نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ میری مراد ڈاکٹر سلمیٰ رفیق کی نئی کتاب”صوفیہ: عہد شاہی کا ناول“ سے ہے۔ یہ غالباً ان کی دوسری تصنیف ہے، اس سے قبل ان کی کتاب ”حزن اختر“ شائع ہوچکی ہے۔ڈاکٹر سلمیٰ رفیق نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔
زیر نظر کتاب”صوفیہ“ جو بنیادی طور پر ایک ناول ہے، اسے سلمیٰ رفیق نے مرتب کیا ہے۔ ناول ”صوفیہ“مرزا فدا علی خنجر لکھنوی کی تصنیف ہے۔ مرزا فدا علی خنجر لکھنوی کی شناخت بیسویں صدی کے زود نویس قلمکاروں میں ہوتا ہے۔یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ اپنے زمانے کا ایک بڑا مصنف جس سے منسوب پانچ درجن سے زائد کتابیں ہیں اسے وہ شہرت نہیں ملی جس کے حقدار وہ تھے۔ڈاکٹر سلمیٰ رفیق نے نہ صرف یہ کہ مرزا فدا علی خنجر لکھنوی کی تحریروں کا مطالعہ کیا ہے بلکہ ادبی حلقے میں ان کی بازیافت کی بھی کوشش کی ہے۔ڈاکٹر سلمیٰ رفیق کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق مرزا فدا علی خنجر لکھنوی کی پیدائش 1980 میں ہوئی۔ کم عمری میں ہی شعر گوئی کی جانب متوجہ ہوئے،اور پھر شاعری کے ساتھ نثر بلکہ فکشن کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا۔جہاں تک مرزا فدا علی خنجر لکھنوی کے ناول ”صوفیہ“ کا تعلق ہے تو یہ15 ابواب اور 109 صفحات پر مشتمل ایک مختصر ناول ہے۔ اس ناول کی اشاعت کب ہوئی اس سلسلے میں مرتب نے خاموشی اختیار کی ہے، انھوں نے یہ لکھا ہے کہ ناول پر سن اشاعت درج نہیں، مگر ایک اندازے کے مطابق یہ ناول 1910 کے آپ پاس لکھی گئی ہوگی۔ناول کے سرورق پر ”عہد شاہی کا سبق آموز و نصیحت خیز، امیر خاندانوں کا پر اسرارراز، ایثار و نفس و اخلاق حمیدہ کا نادر مرقع۔“اس مختصر سی تحریر سے بھی ناول کے موضوع کو سمجھا جاسکتا ہے۔بنیادی طور پر یہ ناول تاریخی نوعیت کا ہے جس میں ایک کامیاب ناول کی تمام خوبیاں موجود ہیں، اس ناول میں عہد شاہی سے وابستہ تاریخ بھی ہے اور جاسوسی ناول کا رنگ بھی۔ اس ناول میں اصلاح معاشرہ اور مسلمانوں کی تہذیبی، سیاسی، معاشی اور اخلاقی زندگی کی عکاسی دیکھی جاسکتی ہے۔ناول کا آغاز نصیر الدین حیدر غازی کے عہد حکومت کے آخری ایام سے شروع ہوتا ہے اور واجد علی شاہ کی معزولی کے ساتھ انگریزی حکومت کے تسلط پر محیط ہے۔یہ تمام تفصیلات ناول میں درج ہے۔ مرتب نے لکھا ہے کہ ناول ”صوفیہ“ واجد علی شاہ کے دور کی تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ڈاکٹر سلمیٰ رفیق نے نہایت تفصیل سے ناول کا جائزہ لیا ہے، ان کا خیال ہے کہ اس ناول کے تمام کردارانسانی اور جیتے جاگتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام کردار ہمارے ارد گرد کے ہیں۔ ناول کی زبان کے تعلق سے ڈاکٹر سلمیٰ رفیق نے لکھا ہے کہ ناول کی زبان سادہ اور سلیس ہے۔پورے ناول میں کہیں کوئی مقفیٰ مسجع عبارت نہیں ملتی، زبان کا ایک معیار ہے۔ڈاکٹر سلمیٰ رفیق نے مرزا فدا علی خنجر لکھنوی کی زبان کے تعلق سے لکھا ہے کہ ان کی نثر سرسید احمد خان کی نثر سے متاثر نظر آتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں جمیل مظہری کے مرثیوں میں قومی وملی عناصر – سمیہ محمدی )
ڈاکٹر سلمیٰ رفیق نے ایک صدی بعداس ناول کو از سر نوشائع کرکے مرزا فدا علی خنجر لکھنوی کے کام کو اردو دنیا کے سامنے روبرو کیا۔ مرتب نے لکھا ہے کہ ناول کی ترتیب اور موادمیں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے بلکہ اصل متن کو قاری کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔چونکہ یہ ناول ایک صدی پہلے منظر عام پر آیا تھا اس لیے اس ناول میں موجود غیر واضح الفاظ تھے اسے مرتب نے الفاظ کو سیاق و سباق کی مددسے درست کیا گیا ہے اور اس کی نشان دہی حاشیہ میں کردی گئی ہے۔ ظاہر ہے قاری کو اس حاشیے سے مدد ملے گی۔
مختصر یہ کہ ڈاکٹر سلمیٰ رفیق نے ریسرچ کے اعلیٰ قدر کا نمونہ پیش کرتے ہوئے ایک ایسے متن کا انتخاب کیاجو قاری کے ذہن سے تقریباً محو ہوگئے تھے، یہ ناول چند ویب سائٹ پر ضرور موجود ہیں مگرچونکہ مرزا فدا علی خنجر لکھنوی کے نام اور کام پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اس لیے وہ وقت کے دھول میں کھو گیا۔ ڈاکٹر سلمیٰ رفیق یقینا مبارک باد کی مستحق ہیں کہ انھوں نے مرزا فدا علی خنجر لکھنوی کوقارئین کی نئی نسل سے روبرو کرایا۔کتاب کی طباعت اچھی اور قیمت معقول ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ڈاکٹر سلمیٰ رفیق کی محنت اور تحقیقی ذہن کو لوگ قبول کریں گے اور ان کی اس نایاب کوشش کی پذیرائی ہوگی۔
(تبصرہ میں پیش کردہ آرا تبصرہ نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

