معروف افسانچہ نگار ایم۔اے حق نہیں رہے
اردو دنیا سوگ وار، ملک و بیرونِ ملک میں غم کا ماحول
رانچی:۱۸؍ مئی کو علی الصباح طلوعِ آفتاب سے چند منٹ قبل اردو افسانچے کا ایک روشن ستارہ اپنے معبودِ حقیقی سے جا ملا۔ ڈاکٹر ایم۔اے۔ حق جو کہ تقریباً دو ہفتے پہلے کورونا کے شکار ہوگئے تھے،اور ستائیسویں رمضان سے پھیپھڑوں کی خرابی کے باعث وینٹی لیٹر پر تھے، انھوں نے آخر کارداعیِ اَجَل کو لبّیک کہا ۔پورے ملک کی وبائی صورتِ حال سے اردو ادب کے آفتاب و ماہتاب افراد کی رُخصت کا سلسلہ جاری ہے۔ رانچی میں ش۔ اختر کی وفات کا غم ابھی تازہ ہی تھا کہ افسانچہ نگار ایم ۔اے حق نے بھی رختِ سفر باندھ کر اپنے گھر والوں اور اپنے چاہنے والوں کے غم کو اور بڑھا دیا۔ ڈاکٹر ایم ۔اے۔ حق اردو کے ادبی حلقے میں اپنے افسانچوں کی وجہ سے احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے اور عالمی سطح پر شہرت رکھتے تھے۔ ۶۰؍ کی دہائی سے انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغازمضمون’ پھول اور کانٹے‘ کے ذریعے کیا اورخاتونِ مشرق میں ان کا پہلا افسانہ ’فُٹ پاتھ کے گوشے میں‘ شایع ہوا۔۱۹۷۴ ء تک ان کی افسانہ نگاری کا یہ دور چلا پھر انھوں نے محمد بشیر مالیر کوٹلوی کے افسانچوں سے متاثّر ہو کر افسانچہ نگاری کی دنیا میں قدم رکھا اور اس کے بعد انھوں نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ اپنے افسانچوں کی وجہ سے انھوں نہ صرف پوری دنیا میں شہرت کمائی بلکہ اردو افسانچہ نگاری کے فروغ میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر ایم کے حق کے دو افسانچوں کے مجموعے منظرِ عام پر آئے۔ان کے افسانچوں کا پہلا مجموعہ ’نئی صبح‘ ہے اور دوسرا مجموعہ ’ڈنک‘ کے عنوان سے ۲۰۱۸ء میں منظرِ عام پر آیا۔ممبئی کے کُرلا کے علاقے میں اس کتاب کی تشہیر کے لیے یہ تجربہ کیا گیا کہ اس کتاب کی ہورڈنگ لگائی گئی جو کہ اردو کی کسی بھی کتاب کی پہلی ہورڈنگ تھی۔ان کے مضامین کا مجموعہ بھی زیرِ طبع ہے اور جلد ہی منظرِ عام پر آنے والا ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے وہ نئی نسل کی اخلاقی تربیت اور نئے عہد کی ضرورت کے اعتبار سے کام آنے والی ایک ادبی صنف ’افسانچۂ اطفال ‘ کی بنیاد ڈالی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس صنف کو سیکڑوں کی تعداد میں عالمی سطح پر سامنے آ گئے۔’اوٗنچی اُڑان‘ کے عنوان سے ان کے افسانچۂ اطفال کا مجموعہ دسمبر ۲۰۲۰ میں منظرِ عام پر آیا۔
موصوف کی وفات سے اردو کے ادبی حلقے خصوصاً رانچی، جھارکھنڈ کے علمی و ادبی حلقے میں سوگ اور غم کا ماحول ہے۔ ملک و بیرونِ ملک سےان کی وفات کے سلسلے سے لوگ تعزیتی پیغام ارسال کر رہے ہیں۔ ان کے سانحۂ ارتحال پر اظہارِ تعزیت کرنے والوں میں پروفیسر احمد سجّاد،پروفیسر ابوذر عثمانی،پروفیسر حسن رضا،ایم ۔زیڈ خاں، ڈاکٹر جمشید قمر، ڈاکٹر سرور ساجد،ڈاکٹر محمد ایوب، ڈاکٹر کہکشاں پروین، ڈاکٹر رضوان علی،ڈاکٹر سید آلِ ظفر، ڈاکٹر غالب نشتر،محمد مرشد ،ڈاکٹر تسلیم عارف، ڈاکٹر ہاجرہ بانو ، ڈاکٹر عبدالمغنی، ڈاکٹر محمد خورشید عالم، پروفیسر عبدالجبّار خان،حبیب مرشد خان،عرفان عزیر،ڈاکٹر زین رامش، ڈاکٹر عالم گیر ساحل،(جھارکھنڈ) ڈاکٹر قمر الہدیٰ فریدی،پروفیسر صفدر امام قادری، ڈاکٹر محمد امین،(پٹنہ)، محمد انصر،(دہلی) کے علاوہ نخشب مسعود، ، پروفیسر رئیس انور، ڈاکٹر قمر جہاں، نگار عظیم، ،محمد علیم اسماعیل ، وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ فیس بُک پر بھی لوگوں نے ان کی وفات کے سلسلے سے اظہارِ غم میں مختلف پوسٹ کی ہیں۔
عصر کے بعدایم اے حق کے جنا زے کی نمازرانچی کے ڈورنڈا قبرستان میںادا کی گئی ، اس کے بعد انھیں سپردِ خاک کیا گیا۔ کورونا کے قواعد و ضوابط اور سختی کی وجہ سے تقریباً بیس سے پچیس افراد ہی جنازے میں شرکت کر سکے۔ ان کے گھر والوں ایم اے حق کے صاحب زادے محمد عابد اور محمد عادل ، ان کے دونوں داماد ، چھوٹے بھائی اکرام الحق ، برادرِ نسبتی محمد معیز اور بھتیجا شہنواز عرف وکی وغیرہ شامل تھے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر وکیل احمد رضوی، ڈاکٹر تسلیم عارف ،محمد عامر،محمد آصف،حافظ ابوالکلام وغیرہ بھی ان کے آخری سفر میں شریک ہوئے۔ ان کے گھر والوں نے ان کے لیے دعاے مغفرت کی اپیل کی ہے ۔ امید ہے کہ ان کو اللہ آخرت کے سفر میں آسانیاں پیدا فرمائے گا اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے گا۔
رپورٹ : ڈاکٹر تسلیم عارف

