جمالیات کی ایک بڑی تاریخ ہے۔ارتقائی منزلوں کو طے کرتے ہوئے جانے کتنے تصورات پیدا ہوتے ہیں ۔تصور ات تبدیل ہوتے ہیں ۔مختلف تصورات میں مفاہیم کی نئی جہتیں پیدا ہوتی ہیں ۔خود جمالیات نے جانے کتنی اصطلاحوں کو خلق کیا ہے اور یہ سلسہ جاری ہے۔جب ایسی صورت ہے تو ظاہر ہے جمالیات کے اندر سے پھوٹے ہوئے سوالات میں بھی تبدیلیاں ہوئی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جمالیات کی کوئی ایک تعریف نہیں ہوسکتی اس کی مختلف تشریحوں سے اس کے ایک سے زیادہ پہلوؤں کو سمجھا جا سکتا ہے۔
جمالیات کا آغاز ذوق کے تصور سے ہوتا ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ ان چیزوں کو(عام طور پر فنکاروں کے ذریعہ)تخلیق کرتے ہیں اور لوگوں کو کیا لگتا ہے(عام لوگ ،ماہرین ،نقاداور ساتھی فنکار)ہر ثقافت ،برادری اور فردکے پاس جمالیات کا اپنا سیٹ ہے اور جو کچھ پرکشش اور خوبصورت ہے اس کا کچھ معیار ہے ۔مثال کے طور پر کچھ ثقافتوں میں سفید کو خوبصورتی سمجھا جاتا ہے جب کہ کچھ ممالک میں ،ٹین رنگ کی بہت تعریف کی جاتی ہے بہرحال کچھ بنیادی رجحانات یا انتخابات بھی ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں کہ عام آبادی کے لیے خوبصورت اور خوش گوار ہے خوبصورتی کی تعریف کے طور پر جمالیات کی تعریف کی جاسکتی ہے۔
"کسی شے یا فن کی خوبصورتی کے احساس کو جمالیات کہا جاتا ہے۔”
انسان کو خوبصورتی۔بد صورتی ،اچھائی اور برائی ہر دور میں متاثر کرتی رہی ہے ۔ہر دور میں انسان خوشی ،غم ،دکھ ،درد،رنج تکلیف جیسے جذبات سے متاثر ہوتا رہا ہے۔اس کا موضوع انفرادی محسوسات بھی رہا ہے اور اجتماعی بھی ۔تاریخ کے ابتدائی ادوار میں انسان اجتماعی زندگی گزارتاتھا ،لہذا اس کے ان محسوسات کا محور و مرکز اجتماعیت ہی تھا ۔ وہ اپنے ان جذبوں کا اظہار پیٹنگ،سنگ تراشی،مجسمہ سازی ،موسیقی ،شاعری اور رقص وغیرہ میں کرتا رہا ہے۔ایک تخلیق کار کا ایسے جذبوں کا بیان کردہ کسی بھی شکل میں اظہار ہی دراصل ایتھیٹکس یا جمالیاتی ذوق کہلاتا ہے۔انسان فطرتاً حسن پرست ہے خواہ وہ ظاہری حسن و جمال ہو یا حقیقی حسن یا عشق مجازی ہو یا عشق حقیقی۔انسان کا جمالیاتی ذوق ہی ہے جو جمال کے سرِنہاں کو کھولنے اور سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ حسن خوبصورتی اور پرکشش روپ یہ لفظ فکری حوالے سے کائنات کی تخلیق سے پہلے خالق کائنات نے تجویز کیا اور کائنات کو حسن کی تعبیر اور معنویت مثال بنا کر پیش کیا اسی طرح فطرت میں کوئی شے نہ خوبصورت ہے اور نہ کوئی بد صورت مثلاً ہم چاند سورج اور سیاروں کو گول سمجھتے ہیں جبکہ وہ مکمل گول نہیں اسی طرح کسی شے کا وجود ہی اصل حقیقت ہے اسے دیکھ کر آپ کے اندر کون سی حس جاگتی ہے کون سا جذبہ ابھرتا ہے اسی کو ہم خوبصورتی کہتے ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات: شکیل الرحمن – پروفیسر کوثر مظہری )
انسان ہر چیز کو حواس خمسہ سے محسوس کرتا ہے لیکن جمالیات کو حواس خمسہ نہیں بلکہ انسان کی چھٹی حس محسوس کرتی ہے اس لیے خوبصورتی کو محسوس کرنے کا ہر ایک کا معیار اور پیمانہ الگ ہوتا ہے۔ کسی شے کی جمالیات کی بنیاد بینائی اور نظر دونوں کی ضرورت ہے بینائی اور نظر بظاہر ہم معنی الفاظ ہیں لیکن ذرا سا فرق ہے یبنائی صرف دیکھنے کی حس کے معنی میں آتی ہے نظر اس چیز کی قدر و قیمت کو سمجھنے کے معنوں میں آتی ہے۔ نظر ہر شئے کی جمالیات کو اپنے طور پر محسوس کرتی ہے مثلا ًکسی شخص کو پھول کی خوشبو زیادہ متاثر کرتی ہے کسی کو رنگ پسند آتا ہے کوئی پھول کی پنکھڑی کی نرمی سے لطف اندوز ہوتا ہے حالاں کہ یہ تینوں خوبیاں اس پھول کی جمالیات کا حصہ ہے صرف دیکھنے والے کی نظر کے زاویے اس کی جمالیات کے الگ الگ پہلوبن جاتے ہیں۔ایک طرح سے جمالیات کا احساس ایک تخلیقی عمل ہوتا ہے۔ ایک خوبصورت منظر سو آدمی دیکھتے ہیں لیکن ہر دیکھنے والے پر اس کی خوبصورتی کا یکساں اثر نہیں ہوتا ۔
ہر شئے کی اپنی جمالیات ہوتی ہے جس نے یہ ساری کائنات تخلیق کی اس کی کوئی بھی تخلیق جمالیات سے خالی کیسے ہو سکتی ہے؟سائنسی نقطہ نظر سے اس کائنات میں کوئی چیز مکمل نہیں خلا اور وقت کے نشیب و فراز کے باعث ہر شئے میں کوئی کمی رہ جاتی ہے یہ کمی کبھی بھی خدائےبرترکےفن کاکمال ہے۔اس نامکمل پن میں بھی محسوس کرنےوالے کو جمالیات محسوس ہو جائے گی۔ اس کائنات میں ایک لحاظ سے خوبصورتی اور بدصورتی کوئی چیز نہیں یہ بھی ہماری حسِ جمالیات کا اثر ہوتا ہے۔( یہ بھی پڑھیں اساطیر کی جمالیات – پروفیسر شکیل الرحمن )
جمالیات جس کی ابتدا یونان سے ہوئی یہ لفظ "جمالیات "انگریزی کی اصطلاحAesthetics کے مترادف کے طور پر اردو میں مروّج ہے انگریزی میں یہ اصطلاح یونانی زبان کے لفظAesthetics سے مشتق ہے جسے حواس خمسہ sense organ کے ذریعے مسرت کا عرفان حاصل کرنے کے معنوں میں استعمال کیا جاتا تھا
انگریزی لفظAesthetics ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے اس سے ہر وہ شئے مراد ہوتی ہے جس کا تعلق حصے اور بالخصوص حسِ لطیف سے ہو۔
"جمالیات کا موضوع حسن ہے وسیع تناظر میں فن اور فطرت دونوں کا حسن و جمال اور دونوں کے جلوہ صد رنگ جمالیات کا موضوع بحث ہو سکتے ہیں اسی طرح حواس خمسہ کے ذریعہ حسن سے حاصل کی گئی مسرت عرفان اور تجربہ بھی اس کے دائرے میں شامل ہیں”۱
جمالیات کی اصطلاح ایک مخصوص شعبہ علم کی حیثیت سے انگریزی لفظ Aesthetics کے ہم معنی ہیں چنانچہ جمالیات کی تعریف اس کے مخصوص عناصر حدود تعین کے لیے ضروری ہے کہ مغرب میں Aesthetics کے تصور اور اس سے متعلق مباحث کو پیش نظر رکھا جائے۔
جمالیات کا مفہوم اور اس کا دائرہ حسن کی ماہیت اور اس سے متعلق نظریات اگرچہ سقراط ،افلاطون اور ارسطو کے زمانے سے ملتے ہیں لیکن بام گارٹن کے فیض سے Aesthetics کی مخصوص اصطلاح فلسفہ حسن کے لیے رائج ہوئی اور اس علم کے اپنے علاحدہ خدوخال واضح ہونے شروع ہوئے
بام گارٹن کے مطابق:
” ایسی ہر چیز اور ایسے تمام مظاہر جن کا حسی ادراک مسرت بخش ہو اور جو ہمارے احساس جمال کو برانگیختہ کرے جمالیاتی مطالعہ کا موضوع ہے”۲
ہیگل کے مطابق:
"جمالیات کو فنون لطیفہ کے فلسفے تک محدود کیا اور مظاہر فطرت کے حسن کو جمالیاتی مطالعہ کے حدود سے باہر رکھا”۳
کروچے کے خیال میں
"اظہار سے وابستہ، تخیل اور مشاہدے کے عمل کا سائنسی مطالعہ ہی جمالیات ہے”۴
جمالیات فلسفہ کا وہ شعبہ ہے جس میں حسن اور ماہیت حسن سے متعلق انسانی ادراک تخلیقی ،عمل اور فن پارہ سے متعلق انسانی افکار و تاثرات اور ردعمل زیر بحث آتے ہیں ۔جمالیات کو فلسفہ تنقید بھی کہا گیا ہے کیوں کہ یہ ایسے اصول و ضوابط کا مجموعہ ہے جس سے تنقیدی آرا ء کے اظہار میں مدد لی جاتی ہے۔ تنقید اگر فن پارے کے حسن و قبح کا جائزہ لیتی ہے تو جمالیات اس جائزے کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے۔
جمالیات کے دائرہ بحث سے متعلق ایک اہم سوال یہ ہے کہ جب حسن ہی اس کا موضوع ہے تو پھر حسن تو فطرت اور فن دونوں میں موجود ہے۔ چنانچہ جمالیات کا موضوع بحث فطرت و فن دونوں کا حسن ہے یا صرف فن کا؟ہیگل کا خیال ہے کہ صرف فن کے حسن کو ہی جمالیات کے دائرے میں رکھنا چاہیے اور حسن فطرت کو اس سے خارج سمجھنا چاہیے اس لیے ہیگل نے جمالیات کو فلسفہ فن یا فنون لطیفہ کا فلسفہ کہا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شعری و ادبی جمالیات : مفہوم و طریقۂ کار – طفیل احمد مصباحی )
جمالیات میں کتنی اصطلاحات خلق کی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے یونانی فلسفی فیثا غورث نے جمالیات کو فلسفے کا ایک پہلو قرار دیا ہے۔ ارسطو نے اسے حسن کی فطرت و ماہیت سے قریب تر قرار دیا ہے ۔سقراط نے اسے صرف اخلاقیات سے وابستہ کیا ہے۔افلاطون نے اسے اچھے شہریوں کے لیے اسے علم حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا ہے ۔
پرانے زمانے میں جمالیات سے مراد وہ علم تھا جو حسن اورجمال اوررفعت کی ہیئیت سے متعلق مجرد تصورات پر بحث کرتا تھا مگر جدید فلسفہ کے نزدیک "جمالیات وہ سائنس ہے جو تخلیقی تجربہ حسن اور نقد و نظر کی قدروں اور معیاروں سے بحث کرتی ہے اور نوعیت اور عمل کے اعتبار سے منطق اور نفسیات سے مختلف ہیں”
"اسی طرح اگر ہم اسلام میں دین میں جمالیات کے حوالے سے دیکھیں تو جمالکی تعبیر کو قرآن میں حسنہ کہا گیا ہے” جس کے معنی زندگی کے ہر گوشے میں سامان ِراحت آسائش انفرادی اور اجتماعی حیات کے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔اسلام دین فطرت ہے اور اسی کو اسی قالب میں ڈھالنے کے لئے انسانی عادات و اطوار کے ساتھ بہترین انداز میں ڈالا گیا ہے اسی لئے تو قرآن میں فرمایا گیا کہ ہم نے ایسا کوئی حکم انسان کو نہیں دیا ہے جو انسان کی استطاعت سے باہر ہو۔
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ہیں
"انسانوں کو خوشخبری سنایا کرو ان کو متنفر نہ کرو آسانی پیدا کرو سختی ان پر مت ڈالو”
ایک اور جگہ فرمایا ہے
"خدا جمیل ہے اور وہ جمال کو پسند کرتا ہے”
خدا کی جمالیات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس نے انسان کو حسین و جمیل احسن تقویم میں پیدا فرمایا ہے۔یعنی انسان اس کائنات کا حسن ہے ہر زمانے میں ہر مذہب و دین نےاس کے اس جمالیاتی تخیل کا خیال رکھا ہے جو اس کے ساتھ ان کی فطرت کے موافق جڑا ہوا ہے جس کو وہ فنون لطیفہ اور ثقافتی کے جمالیاتی اقدار کے پہلوؤں کے ذریعے مختلف تصورات کی بنیاد پر اجاگر کرتا رہا ہے ۔
یہ کائنات حسن مطلق کے وجود کا مظہراس لئے کائنات میں کوئی شے ایسی نہیں جس میں حسن موجود نہ ہو حسن ابدی نے اپنا جلوہ دکھانا چاہا تو اپنے وجود کو بےشمار رنگوں کے سانچوں میں ڈھال لیا لیکن اس کی کلیت کا نظارہ کرنے کے لیے صاحب ِنظر ہونا شرط ہے۔ اردو کے صوفی صفت شاعر اصغر حسن کی مشہور نظم "حُسن میں اسی جمالیاتی حقیقت کو پیش کیا گیا ہے ایک بند ملاحظہ ہو:
دنیا میں کیا نہیں حسین
بےحسن کوئی شے نہیں
حسن ہے لالہ زار میں، کیفیت بہار میں
سفینہ داغدار ، میں نرگس سوگوار میں
سبزہ جوبار میں ،موسم خوشگوار میں
وادی کو ہسار میں جلوہ حسن بے نیاں
جلوہ حسن بے نہاں ،شورشِ آبشار میں
جمالیات شناسی مظاہر قدرت میں اسی وقت کی تلاش و جستجو کا نام ہے ۔سورج کی کرن سات رنگ مستور ہیں مگر اس کی بے پناہ رفتار کے سبب نظر انھیں دیکھنے سے قاصر ہے پریزیم سے گزار کا جب اس کی رفتار گھٹا دی جاتی ہے تب بصارت کے آگے ساتوں پر خود کو منکشف کر تے ہیں اور قوس و قزح کی دلکشی ہر شخص کو اس کو مستور کر دیتی ہے اسی طرح کائنات کی ہر شے مستورحسن تک عام لوگوں کی رسائی ممکن نہیں ہوتی اس کے لئے صاحب نظر ہونا ضروری ہے اجتماعی شعور میں کچھ چیزیں حسین ہوتی ہے اور کچھ بد نما عموما سیاہی لوگوں کو بدنما لگتی ہے مگر ایک جمالیات شناس کی نظر میں رات دن سے زیادہ حسین ہوتی ہے۔چاند کی روشنی سے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک اور روح کو مسرت ملتی ہے ۔رات ابدی حسن کے اسرار و رموز سے سرگوشی کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی تہہ دیواروں کے آگے دن کی یکرپھیکی پھیکی سی نظر آتی ہے اگر فطرت نے تضاد کو مرکزیت عطانہ کی ہوتی تو ہر شئے ایک سی نظر آتی یہ جہاں رنگ و بے کیف سا نظر آتا ہے رات ابدی جمایالت کے علامات ہیں جبکہ دن اپنے عارضی وجود میں حصار بند ۔وہ قیس ہی کیا جس نے لیلیٰ کے حسن و جمال کو نہ پہچانا اس پر مر مٹنے کے جذبے سے محروم رہا اس لیے کہا جاتا ہے کہ’ لیلی را مجسم مجنوں بایدید’ اور یہی جذبہ مظاہر قدرت کی جمالیات شناسی میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے
بقول شکیل الرحمن
” یہ اصطلاح جمالیات ایک ایسا نقطہ یا بندو ہے جس میں تمام مظاہر قدرت سمٹ آتے ہیں اور سارے مظاہرِ قدرت کے رنگ و روپ کو سمیٹ کر جب سکڑتا ہے تو حسن مطلع کی علامت بن جاتا ہے اور ایک تہہ دار اور بے حد معنی خیر اصطلاح "۵
"اسی طرح اسی کتاب میں آگے جا کر لکھتے ہیں
” جمالیات شناسی کی مدد کے بغیر فنون لطیفہ کا مطالعہ ممکن نہیں کیونکہ جمالیات تمام فنون کی روح ہے جمالیات شناسی کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ فن کار جمالیاتی شعور نے حیات و کائنات کے جلال و جمال سے کسی نوعیت کا رشتہ قائم کیا ہے اور اس عمل میں جو تخلیق سامنے آتی ہے اس کاحسن کیا ہے اور
کیسا ہے یہ تجزیہ اور تزکیہ ہی جمالیات شناسی کی منزل ہے”۶
یعنی اب استھٹکس کامعنی فنون لطیفہ کے عناصر ترکیبی کا اصول مطالعہ کرنا اور اس کی بنیاد پر فنون لطیفہ کے فن پاروں کا تجزیہ اور محاسبہ کرنا قرار پائے ۔اس طرح جمالیات کے لغوی معنی کا تصور ہوا کہ جمالیات ایسا علم ہے جو حواس خمسہ کے ذریعہ حاصل ہو اور جمال کا مطالعہ کرتا ہے
"جمالیات وہ علم ہے جو حواس خمسہ کے وسیلے سے حاصل ہونے والے شعور جمال سے اخذ کرنے والی باطنی مسرت کا تجزیہ کرتا ہے”۷
جمالیات کے کے تناظر میں دو باتوں کی طرف توجہ ضروری ہے اول یہ کہ جمالیات جمال کے جن مظاہر سے بحث کرتا ہے ان میں ایسے جمالیات کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے جن سے بصارت اور سماعت ایک جمال کرتی ہے
دوم یہ کہ جمالیات کے مطابق جمال کے تین اقسام کے مظاہر پر خصوصیت سے غور کیا جاتا ہے۔
اول: وہ جمال جس کا عرفان حواس خمسہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
دوم: وہ جمال جو مظہر جمال کی ہییت کی تعمیر یا ترتیب سے ٹپکتا ہے۔
سوم: وہ جمال جو حسن یا ابلاغ حسن زار کا احاطہ کرتا ہے۔
ہر چند کہ دوسرے مذاہب جمال کا مطالعہ اور مشاہدہ تجربہ اور تجزیہ بھی جمالیات کے دائرہ کار میں سمیٹ لیا جاتا ہے تاہم بنیادی طور پر اہمیت اور خصوصیت انہیں مندرجہ بالا عناصر صاحب کی ہے اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جمالیات ہیں وہ علم ہے جو آرٹ سے فطرت کم ہی تمام ظاہری جمال و جلال سے بحث کرنے کی جسارت کرتا ہے جرمنی فرانس انگلینڈ اٹلی اورہالینڈ میں متفقہ طور پر جمالیات کا لفظ انہی معنوں میں مروج ہو چکا ہے۔لفظ جمالیات کے اس توسیع معنی کے بعد جمالیات کا موضوع جمال اور شعور جمال کی پوری دنیا تک مبسوط ہوگیا ۔اس کے باوجود جمالیات کی تعریف و تشریح کے دائرہ کار کو پوری جزالت اورثقاہت کے ساتھ متعین نہیں کیا جا سکا ہے۔
اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ فلسفہ اور نفسیات دونوں علوم نے بیک وقت جمالیات کے انفرادی وجود اور ذاتی حیثیت پر دست درازی کی ہے فلسفہ اور نفسیات دونوں علوم بز م خود اسے اپنی ایک ایک شاخ سمجھتے ہیں
چارلس مورنگ جیسے ماہر نفسیات نے اپنی کتاب “Aesthetics and psychology” میں جمالیات کو نفسیات ہی کی ایک شاخ ماننے پر اصرار کیا ہے ۔
اگر ایک طرف یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ جمالیات کو فلسفہ اور نفسیات کا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی اپنی ایک منفرد اور آزاد حیثیت ہے اور اس حثیت کا اختیار مستحکم ہوتا جا رہا ہے جمالیات کے دائرہ کار کے مدلل اور واضح نشاندہی کا شرف سب سے پہلے ہی گردن کو نصیب ہوا اس نے اپنی مشہور کتاب فلسفہ فنون لطیفہ میں جمالیات پر بحث کرتے ہوئے حکم لگایا ہے کہ عمومی طور پر جمالیات کا لفظ جمال کو پوری دنیا پر محیط ہو سکتا ہے لیکن خصوصی طور پر جمالیات کا رشتہ صرف اس جماعت سے استوار کیا جا سکتا ہے جس کا وجود فنون لطیفہ کے میڈیم سے وابستہ ہوتا ہے
کرو چےنے کہا جمالیات کا موضوع انسان کا تخیل اس کا تو تخلیقی عمل اور حسن اظہار ہے اسی طرح جب شوپنہار موسیقی کی اہمیت اور فضیلت کی تخلیق کرتا ہے تو درحقیقت موسیقی کے ذریعے باطن میں اٹھنے والے جذباتی ارتعاشات سے پھوٹنے والی مطلق مسرت اور لذت کا جمالیاتی سطح پر اعتراف کرتا ہے فنون لطیفہ کا فلسفہ ہونے کی حیثیت سے جمالیات کسی نہ کسی زمین پر اور کسی نہ کسی سطح پر اور کسی نہ کسی تنا ظر میں انسان کے بنیادی جذبات و محسوسات سے بحث کرتا ہے ۔
مظاہرِ فطرت کو جمالیات کا موضوع بھی کہا جاتا ہے مظاہر فطرت کو جمالیاتی مطالعہ کا موضوع قرار دینے والے مفکرین کا موقف یہ ہے کہ خوش الحان پرندوں کی آواز جنگل پہاڑ اور دریاوں کا حسن کسی بھی شخص کو اسی طرح إحساس جمال سے ہمکنار کرتا ہے جس طرح فنون لطیفہ سے ان سے ہمارا شور جمالیاتی احساس اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح موسیقی یا شاعری سے تقریباً فطری مظاہر سے لطف اندوز ہونے میں بھی انسانی شعور حسی اور درخت پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دیگر فنونِ لطیفہ کی طرح تخیل سے مدد لیتا ہے غرض حسن کا مظہر ہونے کے اعتبار سے فنون لطیفہ اور فطرت میں کوئی اختلاف نہیں اور یہ سب ہی مظاہر یکساں طور پر "جمالیات کے حدود میں شامل ہیں اسی طرح جمالیات کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ
"جمالیات کے حدود میں موسیقی مصوری اور رقص سبھی کا حسن شامل ہے”۸
جمالیات کو واضح کرنے کے بعد فلسفہ فن کا یہ سوال ہوتا ہے کہ جمالیات کی حدو میں تجربہ کی نوعیت کیا ہے یا پھر کسی شے کو جمالیاتی انداز میں دیکھنے سے بات یاد رکھنے سے ہم کیا مراد لیتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ
” کسی شے کو اس کے لیے دیکھنا جمالیاتی تجربہ ہے”
اسی بات کو ایک مثال سے واضح کریں تو زیادہ اچھا ہوگا کیونکہ کسی شے کو محض پہچان اور شناخت کے لیے دیکھنے اور اس کے جمالیاتی مشاہدے میں فرق ہےمثال :
آپ اپنے راستے میں آنے والے درخت کو دیکھتے ہیں آپ اسے درخت کی حیثیت سے شناخت کرتے ہیں اور اسے تھوڑا سا ہٹ کر گزر جاتے ہیں یہ درخت گویا آپ کے راستے میں ایک رکاوٹ تھا جس سے آپ نے گریز کیا اور آگے نکل گئے آپ کچھ دیر کے لیے رک کر درخت کو محض اس کی خاطر نہیں دیکھتے آپ یہ غورنہیں کرتے کہ اس کی شاخیں کس طرح تنے سے پھوٹ کر پھیل گئی ہیں اور اس کے پتوں نے کیسا پیٹرن اختیار کیا ہے یا اس پر لگے ہوئے پھول کس طرح کا منظر پیش کر رہے ہیں آپ درخت کو ایک منفرد ہستی کا درجہ نہیں دیتے بلکہ اپنے راہ کی ایک رکاوٹ کی علامت میں بدل دیتے ہیں اور اس سے بچ کر گزر جاتے ہیں اس کے برعکس اگر آپ چند لمحوں کے لیے رک کر اس کا مشاہدہ صرف اس کی خاطر کریں اور اس کو منفرد ہستی کے مختلف تاثرات کو اپنے قلب و نظر میں بتدریج اترنے دے تو یہ اس کا جمالیاتی تجربہ کہلائے گا اور ایک تخیر انبساط از خود پیدا ہوگا۔
اسی طرح وہ لوگ جو فن کو تجارتی یا دیگر مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ بھی احساس جمال کے لفظ کو اپنی روح پر محسوس نہیں کر سکتے، اگر کوئی شخص موسیقی اس لیے سن رہا ہے کہ وہ اس کے سہارے اپنی آوارہ خیالی میں مصروف ہے یا کوئی اور کام کر رہا ہے تو یہ جمالیاتی تجربہ نہیں کہلائے گا جمالیاتی مظہر کی تحسین و ستائش کے دوران ناظر کو چاہیے کہ وہ اپنی ذات کو اس عمل سے منھا کردے کسی چیز کو صرف اس کی خاطر دیکھے اپنا مقصد یا فائدہ نکال دے اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جمالیاتی تجربہ اخلاقی رویہ سے مختلف ہوتا ہے اور اس کے بطن سے باالتزام کا دورہ احساس پھٹتا ہےمجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ جمالیات کے اصطلاحی یہ احساس عطا کیا ہے کہ جمالیاتفنون لطیفہ کی روح ہے۔ جمالیات فکرونظر ،جمالیاتی نقطہ نگاہ ،وجدان و عرفان جمالیاتی شخصیت و جمالیات موضوع اور طرزو ادا کے بغیر کسی فن کا کوئی تصور پیدا نہیں ہو سکتا آواز خمسہ کے ذریعے حاصل ہونے والے شعور کا مطالعہ جمالیات کی حد نہیں ہے اس لیے کہ جمالیات واضح کے ذریعے حاصل ہونے والے شعور جمال میں پنہاں یا جمالیاتی تاثر میں مضمر اندرونی مسرت کا مطالعہ کرتا ہےمثلاً اجنتہ کی تصویروں ایلوویرا کے بھتو اور تاج محل کا مشاہدہ اور مطالعہ جمالیات نہیں بلکہ اجنتا ایلورا اور تاج محل دیکھنے سے جو مسرت ملتی ہے اس کا مطالعہ جمالیات ہے۔جمالیات محسوسات سے حاصل ہونے والے نشاط کو مطالعے کا موضوع بناتی ہے
حوالہ جات
١۔ اصغر عباس” اردو کا جمالیاتی ادب اور علی گڑھ” ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ ،سن اشاعت ١٩٨٨ءص ١۴
۲۔قاضی جمال حسین "جمالیات اور اردو شاعری” عکس پبلکیشنز صفحہ۱۴
۳ ۔یضاًصفحہ ۱۵
۴۔ ایضاًصفحہ ٢٠
۵۔ پروفیسر شکیل الرحمن "ترتیب و تقدیم "شیخ عقیل احمد” ادب اور جمالیات "ص ٣٢۵
۶۔ ایضاً
۷۔ قاضی عبدالستار "جمالیات اور ہندوستانی جمالیات” لیتھو کلر پرنٹرس علی گڑھ، ١٩٧٧ صفحہ ١٢
۸۔ قاضی جمال حسین "جمالیات اور اردو شاعری” عکس پبلکیشنز صفحہ ٢٠
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


4 comments
[…] تحقیق و تنقید […]
[…] تحقیق و تنقید […]
[…] تحقیق و تنقید […]
جمالیات پر سیر حاصل گفتگو ہے۔ بہت مدد ملی مجھے۔۔