بلندتر ہے فلک کے تاروں سےبھی مقامِ ابوحنیفہ! – محمد عمر نظام آبادی

by adbimiras
1 comment

دین اسلام ایک ہمہ گیر نظامِ حیات اور قیامت تک باقی رہنے والا غیر مبدل سرچشمہ ہے، اور پروردگارِ عالم اس کی حفاظت و صیانت کا ذمہ لیکر اسباب کے طور مختلف ادوار و زمن میں ایسے رجالِ علم و جبالِ فہم اساطین کو پیدا فرماتا رہا، جنہوں نے جان و مال کی بازی لگا کر تحفظِ دین و ایمان اور بقائے شریعت کا فریضہ سرانجام دیا ، انہی اہم شخصیات میں ایک سنہرا نام ” امام اعظم ابوحنیفہ ؒ” کا ہے، جن کی ضو فشاں خدمات اور تعلیمات قیامت تک روشن و تاباں ہیں، آپ نے تحقیق و ترتیب، اجتہاد و استنباط اور تدوینِ علم کے ایسے روشن اصول دنیا کے سامنے متعارف کرائے ، جنہیں بالواسطہ یا بلاواسطہ بعد کے تمام محققین، مجتہدین، محدثین و مفسرین اور مصنفین و مؤلفین اختیار کیے بغیر نہ رہ سکے، آپ کے گراں بار علمی احسانات تلے پوری ملت بیضا دبی ہوئی ہے، اور شاید ہی ہمارے جدید اور روشن خیال طبقے کے علم میں یہ بات بھی ہو کہ دنیا میں ماضی اور حال میں پائے جانے والے تمام قومی اور بین الاقوامی دستور اور قوانین امام صاحبؒ کے مرتب کردہ اصول و ضوابط کے ہی مرہون منت ہے۔

امام صاحب کی ولادت و جائے پیدائش:

آپ کی ولادت راجح قول کے مطابق ٨٠؁ھ میں عالم اسلام کے مایہ ناز اور تاریخ ساز شہر کوفہ میں ہوئی، جیسا کہ آپ کے جلیل القدر پوتے امام اسماعیل بن حماد کا بیان ہے: ولد فی سنۃ ثمانین (تاریخ بغداد:١٣/٣٣٧)

یعنی میرے دادا جان (امام ابوحنیفہ ؒ) ٨٠ہجری میں پیدا ہوئے، ہمارے دادا کے والد حضرت ثابت اپنے بچپن میں حضرت علی ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، سیدنا علیؓ نے ہمارے خاندان کے لئے خیر وبرکت کی دعا کی جو بعد میں حرفاً حرفاً پوری ہوئی۔ (یہ بھی پڑھیں علامہ نورعالم خلیل امینی – بدرالاسلام ندوی )

جائے پیدائش : شہر کوفہ آپ کا مولد و مسکن ہے، یہی وہ کوفہ ہے جس کو پندرہ سو صحابہ کرامؓ کے مسکن ہونے کا شرف حاصل ہے، جسے باب العلم حضرت علی ؓ نے بھر پور شہر قرار دیا، جہاں کے علماء و محدثین کے حافظہ و ذہانت اور علمی انہماک پر ابن عمر ؓ جیسے جلیل القدر صحابی نے رشک فرمایا تھا؛ مختصر یہ کہ آپ کا مولد اپنے زمانے کا سب سے بڑا علمی مرکز اور محدثین کا مخزن رہا ہے۔

 

امام ابوحنیفہ ؒ نبوی پیشین گوئی کے آئینہ میں:

یہ بات بہ مثل ضیائے آفتاب اور شعاعِ ماہتاب ہرکس وناکس پر واضح ہے کہ آپ کی فضیلت نبوی پیشین گوئی سے بھی ثابت ہوتی ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: ” لو کان الدین عند الثریا لذھب رجل من فارس او قال من ابناء فارس حتی یتناولہ” (مسلم : ٢/٣١٢) ” اگر دین ثریا پر ہوتا، تب بھی اسے فارس کا ایک شخص حاصل کرکے ہی رہتا یا فرمایا : فارس کے کچھ لوگ ”

بعض روایتوں میں”دین” کے بجائے "علم” کا لفظ ہے.

حافظ جلال الدین سیوطی شافعی ؒ نے نبی کی اس پیشین گوئی کا مصداق امام ابوحنیفہ کو قرار دیا ہے۔(تبییض الصحیحہ : ٣,٤)

صرف معتقدین ہی نہیں؛ بلکہ مخالفین بھی اقرار کرنے پر مجبور ہوگئے؛ یہی وجہ ہے کہ غیرمقلد عالم نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھی اس کا اعتراف کیا کہ اس حدیث کا مصداق امام ابوحنیفہ ؒ ہیں. صواب آنست کہ ہم امام دراں داخل است۔(اتحاف النبلاء:٤٢٤)

 

امام صاحب شرف تابعیت اور صحابہ کرام سے ملاقات:

امام ابوحنیفہ ؒکو اپنی زندگی میں متعدد اصحابِ رسول سے شرفِ ملاقات حاصل ہوئی، جس سے آپ کے تابعی ہونے کا علم ہوتا ہے؛ البتہ صحابہ کرامؓ کی تعداد میں اختلاف کیا ہے، بعض نے ستر تک نام شمار کیے؛ لیکن تقریباً دس صحابہ کرامؓ سے ملاقات کا ہونا یقینی ہے، چنانچہ ان کے نام یہ ہیں: (١) حضرت انسؓ ‚ (٢) حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیؓ ‚ (٣) حضرت سہل بن سعد ؓ ‚ (٤) ابو طفیل عامرؓ ‚ (٥) حضرت معقل بن یسار ؓ ‚ (٦) حضرت جابر بن عبداللہ ؓ ‚ (٧) حضرت واثلہ بن الاسقع ؓ ‚ (٨) حضرت عبداللہ بن انیس ؓ ‚ (٩) حضرت عبداللہ بن الحارث ؓ اور (١٠) سیدہ عائشہ بنت عجرہ ؓ رضی اللہ عنہم اجمعین۔

مقام تابعیت پر فائز ہونے کے لئے صرف ایک صحابی رسول کا دیدار کافی ہے؛ چہ جائیکہ آپ کو تو اتنی بڑی تعداد سے ملاقات کا موقع ملا، اس پر مستزاد یہ کہ علماء حدیث نے اس پر اتفاق فرمایا ہے کہ آپ (امام ابوحنیفہ ؒ) نے اصحابِ رسول سے روایات بیان کی ہیں۔

تعلم و تدرس کا آغاز :

جب آپؒ نے ہوش سنبھالا تو اس وقت کوفہ میں علم کی خوب باغ و بہار تھی،اور جگہ جگہ علماء کی علمی مجالس قائم تھیں، جن سے وراثتِ نبوت تقسیم ہورہی تھی، آپؒ ایسے پر رونق علمی ماحول میں پروان چڑھے؛ لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ وقت اپنے ذاتی کاروبار میں بھی صرف کرتے تھے ،جس کی وجہ سے پوری طرح تحصیلِ علم میں مصروف نہ ہوسکے، پھر کیا تھا کہ خود فرماتے ہیں: کہ میں ایک دن امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ ( جو شہر کوفہ کے ممتاز محدث تھے) کے مکان کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ امام شعبیؒ کی نظر مجھ پر پڑی، مجھ کو طلب فرمایا، پوچھا: کہاں جا رہے ہو ؟ میں نے ایک سوداگر کا نام لیا، تو فرمایا :کہ میرا یہ مطلب نہیں، تم کہاں پڑھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا: کہیں نہیں، میرے والد کی تجارت ہے، اسی میں کام کرتا ہوں، اس پر امام شعبیؒ نے فرمایا: "مجھ کو تم میں علم کے جوہر نظر آتے ہیں، تم علماء کی صحبت اختیار کرو”

امام ابوحنیفہ ؒ فرماتے ہیں: ان کے ان مختصر کلمات نے میرے قلب کو بے قرار کر دیا، اور میں نے تحصیلِ علم کا پختہ ارادہ کر لیا۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا وحید الدین خاں ؒ :ذاتی مشاہدات وتاثرات – ڈاکٹر وارث مظہری )

 

علم فقہ اور علم حدیث کی تحصیل:

آپ ابتداء میں علمِ کلام و جدال کے بڑے شائق تھے اور اس میں کافی مہارت و حذاقت رکھتے تھے؛ چنانچہ کچھ عرصہ آپ نے اس فن کے ذریعہ دین کی خدمت کرتے رہے، اہل بدعت سے مناظرہ کرکے اسلام کی حقانیت منواتے رہے؛ لیکن جب دیکھا کہ سلف صالحین کے اس سلسلہ میں کوئی آثار نہیں پائے جاتے، تو آپ نے اپنی عنانِ توجہ پوری طرح علومِ شرعیہ (قرآن، حدیث اور فقہ وغیرہ) کی طرف موڑ لی، اور پھر ان میں اس مرتبے تک ترقی کی کہ ان علوم میں درجۂ امامت پر فائز ہو گئے جس کا معاصرین اور مخالفین تک اقرار کیے بغیر نہ رہ سکے۔

علم فقہ کی تحصیل: امام حماد ؒ (جو کوفہ کے مشہور امام اور استاذِ وقت تھے،جنہوں نے خادمِ رسول حضرت انس ؓ سے حدیث سنی تھی، اور اکابر تابعین کے فیضِ صحبت سے مستفیض ہوئے تھے، اس وقت کوفہ میں انہیں کا مدرسہ مرجعِ عام سمجھا جاتا تھا؛ اسی وجہ سے امام صاحب نے) کے سامنے تحصیلِ علمِ فقہ کےلئے زانوئے تلمذ تہہ کیا، پہلے دن بائیں صف میں بیٹھے کیوں کہ مبتدیوں کے لیے یہ امتیاز عموماً قائم رکھا جاتا تھا؛ لیکن چند روز کے بعد جب حماد کو تجربہ ہوگیا کہ تمام حلقہ میں ایک شخص بھی حافظہ اورذہانت میں ان کا ہمسر نہیں ہے،تو حکم دے دیا کہ ابوحنیفہ سب سے آگے بیٹھا کریں۔(عقود الجماد)

تاہم پابندی سے حاضر ہوتے رہے، پھر اپنی مستقل درسگاہ قائم کرنا چاہتے تھے؛ لیکن اس سلسلہ میں استاد کا ادب مانع رہا؛ البتہ اتفاقاً انہیں دنوں حماد کو کسی ضرورت کی بنا پر بصرہ جانا پڑا، تو حماد نے امام صاحب کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، پھر تلامذہ اور اربابِ حاجت نے ایسے مسائل دریافت کیے، جن کے بارے میں آپ نے استاد سے کوئی روایت نہیں سنی تھی؛ اس لیے اپنے اجتہاد سے جواب دیے،اور احتیاط کے لیے انہیں نوٹ کرلیا، چنانچہ جب دو ماہ بعد حماد بصرہ سے واپس لوٹے، وہ کل ساٹھ مسائل تھے، ان میں سے بیس میں خطا ہوگئی،بقیہ کی نسبت فرمایا کہ تمہارے جواب صحیح ہیں، امام صاحبؒ فرماتے ہیں: میں نے عہد کرلیا کہ حماد جب تک زندہ ہیں ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہیں چھوڑوں گا. پھر جب١٢٠؁ھ میں حماد اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے، تو آپ ہی کو ان کا جانشین مقرر کرلیا گیا، پھر آپ کی مستقل درسگاہ شروع ہوگئی۔  (یہ بھی پڑھیں حضرت علامہ فروغ القادری : تحریر و خطابت کے گوہرِ آبدار – طفیل احمد مصباحی )

تحصیلِ علمِ حدیث: امام صاحب ؒ کا خاص شغف استخراجِ مسائل و استنباطِ احکام تھا؛ لیکن چونکہ اس کے لئے تحصیلِ علمِ حدیث نہایت ہی از حد ضروری تھی، تو آپ نے حماد کے حلقۂ درس کے زمانہ سے حدیث کی طرف متوجہ رہیں، اور مزید یہ کہ کوفہ جسے دارالعلم کے لقب سے یاد جاتا ہے، وہ آپ کا مولد و مسکن رہا ہے، اور آپ نے وہاں کے شیوخ حدیث اور اصحابِ روایت سے حتی الامکان استفادہ کیا؛ تقریباً کوفہ میں کوئی ایسا محدث باقی نہ تھا جن کے سامنے امام صاحب نے زانوئے شاگردی طئے نہ کیا ہو، اور حدیثیں نہ سیکھیں ہو۔

 

خدمات پر ایک ہلکی سی جھلک!

امام ابو حنیفہ ؒ پہلے امام ہیں، جنہوں نے علمِ شریعت (فقہ) کو کتابی شکل دی، چنانچہ امام ابو حنیفہ ؒ نے اپنی مجلسِ علمی میں تراسی ہزار ( ٨٣‚ ہزار) مسائل تحریر کروائے ہیں، جن میں ٣٨‚ ہزار مسائل عبادات سے متعلق ہیں، بقیہ ٤٥‚ ہزار مسائل معاملات و اخلاق و معاشرت سے متعلق ہیں، امام صاحب کے کتاب وسنت سے اخذ کردہ مسائل کو چھ کتابوں میں جمع کیا گیا:١‚جامع کبیر ٢‚ جامع صغیر ٣‚ سیر کبیر ٤‚ سیر صغیر ٥‚ مبسوط ٦‚ زیادات

 

معاصرین علماءِ کرام و فقہاءِ عظام کی نظر میں:

کائنات کی دھرتی پر حضرات صحابہ کرامؓ کے بعد امام ابو حنیفہ وہ پہلی شخصیت ہے، جن کو "امام الائمہ” اور "امام اعظم” کا لقب دیا گیا ، چنانچہ امام شعبہ بن حجاج ( جن کا لقب امیرالمومنین فی الحدیث ہے) وہ فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہ علم وفن میں بہت بلند درجہ رکھتے ہیں،جو لوگ ان پر طعن وتشنیع کرتے ہیں،اللہ کی قسم یہ لوگ اپنی اس بد گوئی کی سزا اللہ کے پاس پائیں گے، ٢‚ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں: ” ومن اراد الفقہ فھو عیال علی ابی حنیفۃ ” (الانتقاء:١٣٦؃ابن عبدالبر)

یعنی جو فقہ(حاصل کرنے کا) ارادہ رکھتا ہو تو وہ امام ابوحنیفہ ؒکا خوشہ چین ہے۔

٣‚ حضرت مسعر بن کدام کہتے ہیں: کوفہ میں مجھے دو آدمیوں پر رشک آتا تھا، امام ابوحنیفہ ؒ پر ان کی فقہ میں، اور حسن بن صالح پر ان کے زہد میں۔ (تاریخ بغداد: ج’١٤،٣٢٨؃)

٤‚ امام داؤد الطائی فرماتے ہیں، امام ابو حنیفہ ایک روشن مینار تھے،آپ کے پاس وہ علم تھا جس کو اہلِ ایمان کے دل قبول کرتے تھے۔(الخیرات الحسان، ٣٢؃)

٥‚ امام دار الہجرہ مالک بن انس گویا ہیں، سبحان اللہ میں نے ابو حنیفہ جیسا انسان نہیں دیکھا۔(الخیرات الحسان، ٢٨؃)

٦‚ امام وکیع بن جراح کا کہنا ہیں: امام ابوحنیفہ سے بڑا فقیہ اور کسی کو نہیں دیکھا۔ ٧‚ امام یحییٰ بن سعید القطان کا قول ہے : ہم نے ابو حنیفہ سے اچھی اور مضبوط رائے کسی کی نہیں سنی۔

٨‚ امام جریج عبد الملک بن عبد العزیز نے امام ابو حنیفہؒ کی وفات فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے ان کے ساتھ بہت سا علم جاتا رہا۔

٩‚ امام سفیان ثوری (جو مشہور محدث ہے) فرماتے تھے: وہ تو( امام ابوحنیفہؒ ) مشرق و مغرب کے ممتاز عالم ہے۔

١٠‚مشہور محدث عبداللہ بن مبارکؒ کہتے ہیں :کہ جو لوگ امام ابوحنیفہ کی برائی کرتے ہیں مجھے بہت صدمہ ہوتا ہے، اندیشہ ہوتا ہے کہ ان پر کہیں اللہ کا غضب نہ ٹوٹ پڑے۔(مناقب ذہبی: ٢٢؃)

 

امام صاحب ؒ کے اساتذہ و مشائخ:

آپ علم میں کمالِ عروج پر جو پہونچے اس میں ایک کردار آپ کے اساتذہ و مشائخ کا بھی ہے؛ کیوں کہ وہ جن خصوصیات کے حامل تھے ویسے اساتذہ بہت ہی کم لوگوں کو میسر آتے ہیں؛

امام ابو حنیفہؒ کے شیوخ و اساتذہ کی تعداد اس دور کے دیگر ائمہ ومحدثین کے اساتذہ کرام کی تعداد سے کہیں زیادہ تھی، علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح درمختار میں لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے چار ہزار اساتذہ تھے ، خود امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوفہ و بصرہ کا کوئی ایسا محدث نہیں چھوڑا، جس کے پاس گیا نہ ہو، صرف ان دو شہروں کے محدثین کی تعداد علامہ ذہبی نے (290) بیان کی ہے،

آپ کے چند مشہور اساتذہ کے نام:

١‚ امام حماد بن ابی سلیمان( جن کی صحبت میں آپ نے کم و بیش 18 سال گزارے ہیں)

٢‚ عطاء بن رباح المتوفی ١١٥؁ھ (جنہوں نے 200 سے زائد صحابہ سے استفادہ کیا ) ٣‚ حضرت عکرمہ (جن کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی ہی میں اجتہاد اور فتویٰ نویسی کی اجازت دے دی تھی)

٤‚ امام اوزاعی (جو ملک شام کے مجتہد اور محدث تھے)

٥‚ امام مکحول رحمۃ اللہ علیہ

٦‚ امام اوزاعیؒ (جو اپنے زمانہ میں صاحب مذھب کہلاتے تھے)۔

٧‚ امام قتادہ بن دعامہ بصری ؒ (المتوفی:١١٨؁ھ) جن کے بارے میں امام محمد بن سیرین ؒ فرماتے ہیں: کہ ” قتادہ احفظ الناس” یعنی قتادہ لوگوں میں سب سے بڑے حافظ الحدیث تھے۔

امام صاحب ؒ کے شاگرد و تلامذہ :

چنانچہ جب امام حماد ؒ اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو امام ابوحنیفہؒ ان کے جانشین کے طور پر تدریس کے لیے مقرر ہوئے، اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے طریقہ تدریس کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ تھوڑے ہی عرصہ میں آپ کے درس کا شہرہ شہر کوفہ کے حدود سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل گیا، پھر اقطاع عالم سے طالبان علم و ادب اور متلاشیانِ راہِ حق آپ کے درس کی طرف متوجہ ہونے لگے، اسی وجہ سے آپ کے تمام تلامذہ احاطہ کرنا مشکل ہے؛ کیوں کہ امام ابو حنیفہؒ کا دائرہ درس اس قدر وسیع تھا کہ خلیفہ وقت کے حدودِ سلطنت بھی اس سے زیادہ وسیع نہ تھیں؛ البتہ حافظ ابو المحاسن شافعی رحمہ اللہ نے ( ٩١٨) اشخاص کے نام بقید نام و نسب لکھے ہیں، جنہوں نے امام ابو حنیفہ کے سامنے زانوئے تلمذ طئے کیا، اور ان میں چالیس حضرات ایسے بھی ہیں جو دیگر ائمہ فقہ کو میسر نہ آئے، بہر حال امام صاحب کے چند مشہور تلامذہ : ۱‚ امام یحییٰ بن سعید القطان المتوفی ١٩٨؁ھ (جنہوں نے سب سے فن اسماء الرجال کو رائج کیا) ٢‚ عبد اللہ بن مبارک المتوفی١٨١؁ھ (جنہوں نے چار ہزار محدثین سے احادیث حاصل کی)٣‚ امام یحییٰ بن زکریا المتوفی ١٨٢؁ھ(جن کو علامہ ذہبی نے صاحب أبی حنیفۃ کا لقب دیا) ٤‚ قاضی ابو یوسف المتوفی ١٨٢؁ھ (جو علم تفسیر، مغازی، اور فقہ کے عظیم رکن تھے اور امام احمد بن حنبل کے بہ قول: کان مستندا فی الحدیث) ٥‚ امام محمد بن حسن الشیبانی (المتوفی ١٨٩؁ھ) (فقہ حنفی کا مدار انہیں کی کتابوں پر ہے) ٦‚ امام زفر (المتوفی ١٥٨؁ھ) ( امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں”زفر صاحبِ اجتہاد، ثقہ اور محفوظ العلم آدمی تھے”)

٧‚ امام حسن بن زیاد لؤلؤی ؒ (المتوفی:٢٠٤) (جن کے بارے میں علامہ ذہبی ؒ لکھتے ہیں: تفقہ بہ جماعۃ من الکبار یعنی آپ سے بڑے بڑے فقہاء نے فقاہت سیکھی ہے۔)

 

امام صاحب ؒ کا حافظہ اورذہانت:

امام ابو حنیفہ ؒ کو علمِ فقہ و اجتہاد، اور کتاب و سنت سے مسائل کے استخراج میں جو غیر معمولی حافظہ، طبعی ذکاوت، اور فطری ذہانت حاصل تھی، وہ ایک خصوصی عطا و بخشش تھی، جو خدائے علیم و حکیم نے عطا کی تھی، آپ کے ہم عصر علماء کے علاوہ مخالفین و حاسدین بھی آپ کی اس غیر معمولی ذہانت و فطانت، ذکاوت و دانش مندی کے معترف تھے، چنانچہ ایک رومی اسکالر نے بغداد میں آکر علماء کو چیلنج کرتے ہوئے تین سوالات کیے: ١‚ یہ بتاؤ اللہ سے پہلے کائنات میں کون تھا ؟ ٢‚ اللہ کا رخ کدھر ہے ؟ ٣‚ اللہ اس وقت کیا کررہا ہے ؟ امام صاحب نے تینوں کے جواب دیے: چنانچہ سائل سےکہا:١‚ دس سے الٹی گنتی شمار کرو، تو وہ اسکالر ایک پر رک گیا، امام صاحب نے کہا: ایک سے پہلے گنو؟ اس نے کہا: ایک سے پہلے کوئی عدد نہیں ہوتا، تو امام صاحب نے فرمایا اللہ بھی ایک ہے اس سے پہلے کوئی نہیں، ٢‚ دوسرے سوال کے جواب میں ایک شمع روشن کی پھر سائل سےکہا کہ اس کا رخ کدھر ہے؟ تو اس نے کہا: اس کا رخ ہر چار سو ہے تو امام صاحب نے کہا: یہی حال اللہ کا ہے،اس کا رخ ہر طرف ہے، ٣‚ تیسرے سوال کے جواب میں فرمایا ، اس وقت اللہ نے تجھے ممبر سے نیچے اتار دیا اور مجھے ممبر پر بیٹھنے کی عزت دی ہے، اور تیرے سوالات کے جواب دینے کی توفیق دی. یہ سن کر وہ اسکالر ہکا بکا رہ گیا اور راہِ فرار اختیار کرلی۔(عقود الجمان: ٢٨٤)

 

اخلاق و عادات:

بڑوں کے اخلاق بھی بڑے ہوتے ہیں، امام ابو یوسف ؒنے خلیفہ ہارون رشید کی خواہش پر امام صاحب کے اخلاق کے بارے میں فرمایا: امام ابو حنیفہ نہایت با اخلاق و باکردار شخص تھے، ہر قسم کے مکروہات سے اجتناب کیا کرتے، اکثر وقت خاموش رہا کرتے، ایسا معلوم ہوتا کہ کسی گہری فکر میں کھوئے ہوئے ہیں، جب کوئی بات کرتا تو جواب دیتے، پھر خاموش ہوجاتے، نہایت سخی فیاض قسم کے انسان تھے، کسی سےاپنی حاجت کا سوال نہیں کرتے، مالداروں سے ملنا پسند نہ کرتے، ہر کسی کی غیبت سے احتراز کیا کرتے تھے، کسی کے ذکر کی نوبت آتی تو بھلائی سے یاد کرتے، بہت بڑے عالم تھے، مال کی طرح علم کے صرف کرنے میں بڑے فیاض تھے، مزاج میں تکلف نہ تھا، رفتار و گفتار تواضع سے معمور تھی، ضبط و تحمل نمایاں وصف تھا؛ الغرض امام ابو حنیفہ کامل الایمان، صادق الاسلام شخص تھے، یہی عادات و اطوار آپ کی حقیقی کرامات بھی ہیں.

دار فانی سے عالمِ بقاء کی طرف سفر:

امام ابوحنیفہ ؒ کو اپنی زندگی میں جہاں بے شمار مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، انہی میں ایک آزمائشی یہ بھی تھی کہ جس کو امام صاحبؒ کے صبر و استقلال نے شکست دےدی،اور اپنے عہد کے ظالم و نفس پرست حکمرانوں کے خلاف آخر عمر تک جہاد کرتے رہے، ملک پر جو بھی حکمران مسلط ہوتا ہے وہ امام صاحب کو اپنا ہمنوا بنانے کی فکر کرتا ہو، ان کو اپنی حکومت کی ذمہ داریاں سونپنے کی کوشش کرتا؛ تاکہ وہ امام صاحب ؒ کو اپنے مقاصدِ فاسدہ اور عزائمِ قبیحہ کا آلہ کار بنا سکے؛ لیکن امام صاحب نے ایک دن کےلیے بھی حکومت کی کوئی ذمہ داری نہ لی؛کیونکہ امام صاحب اپنی ایمانی فراست سے ان کے مکر و فریب کو سمجھ چکے تھے،خطیب البغدادی لکھتے ہیں: خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام صاحب کو عہدہ قضاء قبول کرنے کی دعوت دی؛ مگر امام صاحب کسی طرح نہ مانے،اس پر اس نے امام صاحب ؒ کو جیل میں ڈال دیا اور اس پر بھی بس نہیں کیا؛ بلکہ روزانہ ننگے بدن پر بیس کوڑے مارے جاتے،ضرب کی شدت سے کمر کا خون پیر کی ایڑیوں تک آ جاتا، اور یہ سزا چار سال تک جاری رہی، جب اس نے امام صاحب میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی تو جیل ہی میں زہر دینے کا حکم کردیا، پھر جب امام صاحب نے زہر کا اثر محسوس کیا تو سجدے میں گر پڑے، اسی حالت میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا. اناللہ وانا الیہ راجعون ۔

وفات: یہ حادثہ فاجعہ ١٥٠ بروز جمعہ کو پیش آیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے آپ کی وفات کی خبر سارے شہر میں پھیل گئی، لوگ جوق در جوق جمع ہونے لگے، آپ کے استاد نے باچشم نم آپ کو غسل دیا، پھر نماز جنازہ پڑھائی، جس میں پچاس ہزار لوگوں نے شرکت کی، اس کے بعد پانچ مرتبہ اور نماز پڑھی گئی، پھر وصیت کے موافق آپ کی قبر خیزران کے مقبرہ میں بنائی گئی۔

اولاد و احفاد: امام صاحب ؒ کی اولاد کے سلسلہ میں کوئی مفصل تذکرہ نہیں ملتا؛ البتہ تاریخ و مناقب کی کتب سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جب آپؒ اس دنیا سے کوچ کر گئے تو اس وقت آپ کے صاحبزادے ” امام حماد ؒ (المتوفی:١٧٦)” کے علاوہ کوئی اور باقی نہ تھا؛ جیسا کہ ابن حجر مکی ؒ نے اس کی صراحت کی ہے: "ولم یخلف غیر ولدہ حماد ” (الخیرات الحسان: ١٦٠) ” آپ نے سوائے حماد کے کوئی اولاد نہیں چھوڑی”۔

خلاصۂ تحریر: امام صاحب ؒ کی سوانح عمری اور حیات وخدمات پر درجنوں کتابیں لکھی جاچکی ہے، اور ان گنت مضامین و مقالات منظر عام پر آچکے ہیں؛ لیکن پھر بھی اس میں آج بھی وہی کشش باقی ہے؛ جو پہلے سے تھی، کتنا بھی تذکرہ کیا جائے وہی سرور حاصل ہوتا ہے؛ جیسا کہ خود امام شافعی ؒ نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا:

اعدذکرنعمان لنا فان ذکرہ

ھوالمسک ماکررتہ یتضوع

” نعمان بن ثابت کا ذکر باربار کرو کیونکہ ان کاذکر

مشک (کی طرح )ہے، جتنا اسے دھراوگے اتنا ہی (اسکی خوشبو ) پھیلے گی”

اور اس لیے بھی کہ امام صاحب ؒ کا تذکرہ باعثِ سعادت اور امت کے لئے لائحہ عمل ہے؛

مختصر طور پر یہی کہوں گا :

یہ رمزی بے بصیرت ہے ترے رتبہ کو کیا جانے

جو ہم رتبہ ہو تیرا وہ تیرے اوصاف پہچانے

 

محمد عمر نظام آبادی

ڈائریکٹر : التذکیر فاؤنڈیشن نظام آباد

9948693882.

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

1 comment

Leave a Comment