وبا کو اگر تاریخی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں بہت سی وبائیں وقتاً فوقتاً پھیلتی رہی ہیں۔لاکھوں کروڑوں لوگ لقمہئ اجل بنتے رہے ہیں۔ ان وباؤں پر آسانی سے قابو بھی نہیں پایا جا سکا۔طاعون، ملیریا، پلیگ، ہیضہ، انفلوئنزا اور مختلف قسم کے فلو کی وجہ سے پوری پوری بستیاں اجڑ ی ہیں۔ دور حاضر میں اسی طرح کی ایک وبا کورونا پھیلی ہوئی ہے جس سے انسانی زندگی کی ہل چل ہی تھم گئی۔ اس کی وجہ سے نہ صرف جان مال کا نقصان ہوا بلکہ دیگر مسائل بھی پیدا ہوئے۔ اُن سب کی تفصیل تو یہاں مقصود نہیں البتہ یہ کہنا ہے کہ وبا ؤں کا علاج ڈھونڈنے میں وقت درکار ہوتا ہے لیکن احتیاط بہت ضروری ہے۔ احتیاط اور پرہیز دو ایسے کام ہیں کہ جن کی وجہ سے انسان کسی وبا سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔
زیر مطالعہ کتاب ”احتیاط“ جناب راجیو پرکاش ساحرؔ کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ ہے جس میں موصوف نے 20/افسانے شامل کیے ہیں۔ راقم کے مطالعے میں ان کا دوسرا مجموعہ ”پیاسی سبیلیں“ بھی رہا ہے جس میں ان کے افسانوں میں سائنسی ٹریٹمنٹ کے ساتھ ساتھ انسان دوستی کا نظریہ نمایاں ہوتا ہے۔ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ”احتیاط“ 2020 میں منظر عام پر آیا ہے۔ 2019 کے آخری ماہ میں پوری دنیا کے سامنے ایک وبا -19 Covid پھیلنا شروع ہوئی جو دھیرے دھیرے دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیل گئی۔احتیاط کی وجہ سے لوگوں کو گھر سے نکلنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ ایسے میں حساس ادیب لکھ پڑھ کر ہی اپنے وقت کو سہی مصرف میں لا سکتا ہے۔راجیو پرکاش صاحب کی مذکورہ کتاب ”احتیاط“ کورونا اور اس متعلق پیدا ہوئے مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔ موصوف نے دیگر مسائل پر بھی افسانے تخلیق کیے ہیں جن میں سب سے Burning Issue ماحولیات جیسے موضوع کا ہے۔ راجیو صاحب کے بہت سے افسانوں میں موضوع یا بیانیہ کی سطح پر ماحولیاتی پہلو شامل رہتے ہیں۔
”احتیاط“ کا پہلا افسانہ ”منیا“ ایک مجبور ماں کا المیہ ہے جس میں اس کے سسرال والے اس کے ساتھ جانوروں کی طرح سلوک کرتے ہیں۔ ماں ایک عظیم ہستی ہے اور اس کی ممتا کا بدل نہیں ہو سکتا، اس کی مثال افسانے میں واضح طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ منیا کو جب لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اس کی ناقدری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لڑکی کو جب کوئی جنگلی جانور اٹھا لے جاتا ہے تو اسے ڈھونڈنے کی کوشش کوئی بھی نہیں کرتا۔ منیا جب سب کچھ چھوڑ کر جنگل میں رہنے لگتی ہے تب ایک گلدار کے بچے کو بھی اپنی کتیا کے ذریعے سے دودھ پلا کر اس کی جان بچاتی ہے۔ یہاں پر اس کی ممتاکا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ منیا سماج کی ان ابھاگی عورتوں میں سے ایک ہے جنہیں کبھی انسان ہی نہیں سمجھا جاتا اور یہ ہمارے سماج کی سیاہ حقیقت ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں پیاسی سبیلیں/ راجیو پرکاش ساحر – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
افسانہ ”بیگانی شادی میں عبد اللہ دیوانہ“ کا نیم پاگل سا کردار جھبّو شادی باراتوں کی فضول رسموں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ جھبّو جھونپڑ پٹی میں رہتا ہے اور پاس ہی کے بارات گھر میں آنے والی شادیوں میں یوں ہی بلا وجہ ناچتا تھا۔ اسی ناچ کے دوران ایک دن ایک گولی اسے لگ جاتی ہے۔
ماحولیات چوں کہ بہت اہم مسئلہ ہے اور یہ صرف ہمارے سماج یا ملک سے ہی تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ عالمی مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ سے انسانی زندگی ہی نہیں بلکہ جانوروں کی زندگی بھی اجیرن ہو چکی ہے کیوں کہ آلودگی کا گراف دن بہ دن بڑھ تا ہی جا رہا ہے۔افسانہ ”اندھا دھنددھند ہی دھند“ میں فضائی آلودگی اور صوتی آلودگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہر کے عجائب گھر کے جانوروں اور شہریوں کی زندگی کے مصائب کا بیانیہ پیش کیا گیا ہے۔ اس ذیل میں افسانے سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”عجائب گھر کے قریب ساری رات بھاری مشینیں شور غل کرتی ہیں۔ مشینوں کے چلنے سے ہو رہی کمپن اور شور نے عجائب گھر میں قید جانوروں کے رہن سہن اور رویوں کو درہم برہم کر کے رکھ دیا تھا۔ جنگل کے الٹ عجائب گھر کی قید میں وہ دن کی جگہ رات میں سونے کے عادی ہو گئے تھے۔ مشینوں کی مسلسل دھما دھم کی بدولت اب وہ نہ رات میں اور نہ ہی دن میں چین سے سو پا رہے تھے۔ وہ بے حد خوفزدہ، بے چین، چڑ چڑے اور جارحانہ ہو گئے تھے۔شور، بوئے بد اور دھواں دھواں دھند، ان سب نے مل کر جانوروں کی بھوک پیاس اڑا دی تھی۔“
(راجیو پرکاش ساحرؔ، احتیاط، ص:20)
مذکورہ بالا اقتباس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماحولیات کا صحت مند ہونا انسان کے ساتھ ساتھ جانوروں کے لیے اشد ضروری ہے۔ ماحولیاتی نظام میں ذرا بھی کمی بیشی بہت بڑی مشکل پیدا کر دیتی ہے۔
افسانہ ”مردانی“ میں دو سہیلیوں کی کہانی ہے جس میں دونوں E-Rikshaw چلا کر اپنا پیٹ بھرتی ہیں وہ اپنے شرابی کبابی شوہر پر بھی انحصار نہیں کرتی ہیں۔ یہ افسانہ عورتوں پر ہونے والے مظالم اور اس ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی داستان سناتا ہے۔ Women Empowerment افسانے کا موضوع ہے جسے افسانہ نگار نے بخوبی نبھایا ہے۔
عورتوں کے خود کفالت کے ذیل میں افسانہ ”ادا“ بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس میں ایک غریب لڑکی جو کہ شاپنگ مال میں کام کرتی ہے لیکن اس کی چمک دمک میں محو نہیں ہوتی اور اپنی خود داری کو پیش پیش رکھتی ہے۔
افسانہ ”حوادث غائبانہ“ میں بلیو بھیل جیسے دیڈیو گیم کی تباہ کاریوں کا ذکر ہے۔ اس کھیل نے بہت سے بچوں کی جان لی تھی۔انہیں سانحات کی یاد اس افسانے سے تازہ ہو جاتی ہے۔
افسانہ ”عکس“ میں جمال اور برہم دت جیسے دو کردارجوآج کی نوجوان نسل کی عکاسی کرتے ہیں۔ دور حاضر کے اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ بے روزگاری کا بھی ہے۔ اسی بے روزگاری کی بھیانک تصویر جمال اور برہم دت کے ذریعے سے پیش کی گئی ہے۔ یہ دونوں نوجوان پڑھ لکھ تو جاتے ہیں لیکن کوئی نوکری نہیں مل پاتی ہے اس لیے وہ بھیک مانگنے والے گروہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔
افسانہ ”مجروح سماعت“ گھریلو تشدد (Domestic Violence) کو سامنے لاتا ہے، سماج کے اعلیٰ و ادنیٰ طبقے میں عورتوں پر ہونے والے ظلم کو بیان کرتا ہے۔ اسی بات کو افسانہ نگار نے ایک ڈاکٹر کے ذریعے دکھانے کی کوشش کی ہے جس میں ایک کان کا ڈاکٹر اپنے کلینک پر آنے والی عورتوں کے کان کو دیکھتے وقت ان سے نئے نئے بہانے سنتا ہے جب کہ وہ خوب سمجھتا ہے کہ ان کا کان کس طرح زخمی ہوا یا ان کے کان کا پردہ کیسے پھٹا۔ بہر کیف۔ اس افسانے کا عنوان ’مجروح سماعت‘سماج کے ناکارہ کردار اور بالخصوص مرد اساس معاشرے پر طنز ہے۔
افسانہ ”کھوپڑی چور چکنا چور“ مٹتی ہوئی لکھنوی تہذیب اور نوجوان نسل کی سرد مہری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دہلی اجڑنے کے بعد بہت سے شعرا نے لکھنؤ میں بود و باس اختیار کی اور یہیں کی زمین کا پیوند ہوئے لیکن جب وقت نے کروٹ لی اور بہت کچھ بدل گیاتو قدیم سے قدیم عمارتوں کے نقوش بھی مٹنے لگے۔ اسی تبدل کی وجہ سے شعرا کی قبروں کے نشانات بھی مٹ گئے۔ جس کا ذکر افسانے میں پر درد انداز میں کیا گیا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں ”ذہن زاد“ کا تجزیاتی مطالعہ – ڈاکٹر ابراہیم افسر )
افسانہ”فلسفہ“ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس میں ایک طرف تو مرد اور عورت کا جسمانی رشتہ ہے تو دوسری طرف جغرافیہ کے پیچیدہ مسائل پیش کیے گئے ہیں۔ پورے افسانے میں جغرا فیائی استعارے جا بجا نظر آتے ہیں۔مرد کو عورت میں دلچسپی نہیں ہے وہ دنیا کو سائنسی نقطہئ نظر سے دیکھنے کا قائل ہے اس کے نزدیک جسمانی رشتے کے علاوہ بھی دنیا میں بہت کچھ قابل غور و مطالعہ ہے۔ اب ایسے میں مرد و عورت کا رشتہ کس حد تک مجروح ہوتا ہے یہ دیکھنے کی چیز ہے۔
کتاب کا آخری افسانہ ”احتیاط“ ہے جس کے عنوان پر ہی کتاب کا نام ہے، کتاب کااہم افسانہ ہے۔مذکورہ افسانے میں وسیم میاں ایک ذمے دار سرکاری ملازم ہونے کے ساتھ ہی ذمے دار شہری بھی ہیں۔ کورونا وبا پھیلنے کے بعد جب حکومت نے سخت لاک ڈاؤن لگا دیا تھا ایسے میں بہت سے مزدوروں نے اپنے اپنے گھر کی راہ پیدل ہی طے کرنی شروع کر دی۔ وسیم میاں کے بیٹے عرفان نے بھی پیدل ہی اپنے گھر کا سفر کیا اور ایک دن پہنچ بھی گیا لیکن اس کے والد نے اسے گھر میں نہیں گھسنے دیا اور اسے ہسپتال میں کورنٹائن کروا دیا۔ وسیم میاں چوں کہ بڑے ہی ذمے دار شخص تھے اور محکمہئ جنگلات میں ملازم تھے، انہوں نے شہر میں گھس آئے گلدار کو پکڑوا کر اپنی ڈیوٹی کو انجام دیا۔افسانے کے اخیر میں ان کے اپنے بیٹے کی رپورٹ بھی منفی آئی۔ افسانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ احتیاط زندگی کے ہر شعبے میں ضرروری ہے اور احتیاط پر اگر کوئی جذبہ غالب آ جائے تو ضرور نقصان اٹھانا پڑ سکتاہے۔ افسانہ ”احتیاط“ سے اقتباس دیکھیں:
”مسلسل مشقت نے وسیم میاں کا حال بے حال کر دیا تھا۔وہ تھک کے چور چور ہو رہے تھے۔ ان کا پسینے سے مہکتا جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا۔ سارا بدن مچھروں نے کاٹ کاٹ کر چھلنی کر دیا تھا۔ چہرہ اترا ہوا تھا۔نیند کوترستی آنکھوں میں لال لال ڈورے تیر رہے تھے۔ جب وسیم میاں اپنی گلی میں پہنچے تو انہیں وہاں کچھ چہل پہل سی نظر آئی۔ وسیم میاں کی گلی ہاٹ سپاٹ سے نکل چکی تھی۔ وسیم میاں نے گھر پہنچ کر کال بیل بجائی۔ بیگم نے دروازہ کھولا،
وسیم میاں ”السلام علیم“۔
بیگم انہیں دیکھ کر خوش ہو گئیں، چہک کر بولی ”وعلیکم السلام“، آ گئے تم، بے خوف چلے آؤ، عرفان میاں نگیٹو ہیں، چھت والے کمرے میں آرام کر رہے ہیں۔
وسیم میاں کی آنکھوں سے خوشی اور مسرت کے آنسو جھر جھر بہہ نکلے۔ ان کا دل اپنے لاڈلے کو سینے سے لگا لینے کے لیے تڑپ اٹھا۔ مگر نہیں ابھی نہیں،
”ابھی تو دو گز کی دوری ضروری ہے۔“
”ابھی تو احتیاط ضروری ہے۔“
(راجیو پرکاش ساحرؔ، احتیاط، ص: ۰۲۱)
مندرجہ بالا اقتباس سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ افسانہ نگار نے اس افسانے کے ذریعے سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے اور احتیاط کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔
راجیو پرکاش ساحر ؔکے افسانوں میں مناظر کا بڑا دخل ہے۔ منظر نگاری اتنی زندہ لگتی ہے کہ قاری ذہنی طور پر اس جگہ پر پہنچ جاتا ہے جس میں افسانہ لکھا گیا ہو۔ کہانیوں کے پلاٹ بھی سادہ اور آسان ہیں۔ کردار نگاری کے ذیل میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے کردار کہانی کے پلاٹ کے مطابق ڈھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بیانیہ جو کہ افسانے کی جان ہے اور افسانے کی کامیابی کا دار و مدار بھی اس پر ہے، راجیو پرکاش صاحب کے افسانوں کا بیانیہ اپنے اندر تفصیل کو اختصار کے ساتھ شامل کیے رہتا ہے۔ دور حاضر میں افسانوں کا اختصار بھی اہمیت کا حامل ہے۔ موصوف نے اختصار کے ساتھ اپنی بات افسانوں میں کہہ دی ہے۔امید ہے کہ جناب راجیو پرکاش ساحرؔ صاحب آئندہ بھی افسانے تخلیق کرتے رہیں گے اور اردو افسانے کی آبیاری اپنے تجربات کے ساتھ کرتے رہیں گے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

