غزل گوئی۔۲
شہریار کا عہد اور ان کی تشکیل و تعمیر کا زمانہ جدیدیت سے وابستہ رہا ہے۔ ابتدائی طَور پر انھیں جدیدیت کے عَلم بردار شعرا میں ہر طبقے نے قبول کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم عصر تخلیقی فضا سے کوئی بے توجّہ ہو کر اپنا وجود بہ مشکل قایم رکھ سکتا ہے۔شہریار نے تو جدیدیت کے شور میں ہی اپنے ابتدائی شعری نمونے پیش کیے۔ ہر طرف ایک خاص انداز کے شعر ، مخصوص موضوعات اور ایک طَے شدہ لفظیات کی پیش کش کا سلسلہ تھا۔ کسی بڑے شاعر سے یہ توقّع ہوتی ہے کہ وہ اپنے عہد کی محض آوازِ بازگشت نہ بنے۔ نئے شاعر کے لیے یہ خوب خوب امتحان ہوتا ہے کہ ایک طرف وہ اپنے عہد کے ادبی محاورات اور اسالیب سے بے پروا نہ ہو؛ دوسری طرف یہ بھی توقّع ہو تی ہے کہ اگر اُسے اپنے عہد میں گُم نہیں ہو جانا ہے تو اس عہد کی مانوس فضا سے اپنی انفرادی راہ نکالے۔ اسی مرحلے میں اس بات کا پتا چلتا ہے کہ وہ شاعر آگے کہاں تک جائے گا۔ شہریار نے موضوع و اسلوب کی کشا کش میں اچھی خاصی مدّت تک خود کو تپایا کیوں کہ اس کے بغیر کوئی کندن نہیں بن سکتا تھا۔ پہلے شہریار کے ان چنداشعار کوتوجّہ سے پڑھیں جہاں جدیدیت کے زیرِ اَثرآبادیوں کی وحشت ناکیوں اور زندگی کے سامنے نئے مسائل پیدا ہو نے کی کہانی بیان میں آئی ہے۔ اپنے عہد کی ہیبت ناکیوں کو شہریار بعض اشعار میں اس طرح سے پیش کرتے ہیں جیسے ہم میر کی زبان سے اٹّھارھویں صدی کا نوحہ سُن رہے ہوں۔ یہاں خوف ، بے چینی، غم و غصّہ اور بے بسی کے مِلے جُلے احساس نے نیا شعری ماحول قایم کر دیا ہے:
(یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کا تفصیلی مطالعہ۔ حصّہ اوّل ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری)
شہروں کی سرحدوں پہ ہے صحراؤں کا ہجوم
کیا ماجرا ہے، آئو! خبر تو لگائی جائے
رنگِ وحشت سے سبھی رنگ بہت دھندلے تھے
شہر کا خاکہ تھا، تصویر بنی صحرا کی
ان پانیوں سے کوئی سلامت نہیں گیا
ہے وقت اب بھی کشتیاں لے جاؤ موڑ کے
شہر یہ آباد تھا؛ شاہد ہوں میں بھی
کس کی وحشت نے اُسے صحرا کیا ہے
حافظے میں مِرے بس ایک کھنڈر سا کچھ ہے
مَیں بناؤں تو کسی شہر کا نقشا کیسے
منعقد جلسے کرو یا محفلیں برپا کرو
بچ نہ پاؤ گے مگر تنہائیوں کے قہر سے
گئے تھے لوگ تو دیوارِ قہقہہ کی طرف
مگر یہ شورِ مسلسل ہے کیسا رونے کا
کاغذ کی کشتی میں دریا پار کِیا
دیکھو ہم کو کیا کیا کرتب آتے ہیں
چلو جنگلوں کی طرف پھر چلو
بُلاتے ہیں پھر لوگ بچھڑے ہوئے
پَلٹ کے پیچھے نہیں دیکھتا ہوںخوف سے مَیں
کہ سنگ ہوتے بہت دوستوں کو دیکھا ہے
زندگی کی ایسی مشکل گھڑی اور اپنے دور کے بکھراو میں کوئی شاعر یا تو غموں کے حصار میں خود کو قید کر لیتا ہے یا فن کار کے اندر کا باغی سامنے چلا آتا ہے۔ شہریار ہی نہیں تقریباً تمام جدید شعرا کو سماجی شعور سے دوٗر کا باشندہ سمجھا گیا۔ جدید شعرا ترقّی پسندوں کی بساطِ ادب کو توڑ مروڑ کر آگے بڑھ رہے تھے، اس لیے احتجاج اور بغاوت جیسے عناصر کی بات ایک زمانے تک جدید شاعری میں نہیں ہوئی۔ پوری جدید شاعری کو بھی غیرسیاسی تسلیم کر لیا گیا تھا۔ شہریار کے بارے میں تو یہ ایک عام تاثّر ہے کہ وہ سیاسی موضوعات اور نقطۂ نظر سے ذرا دوٗر ہی رہتے ہیں۔ سچّائی اگر یہ ہے تو جزوی ہی ہوگی کیوں کہ زندگی کی بہت ساری ضرورتوں اور حقیقتوں میں سے ایک سیاست بھی ہے۔ کوئی انسان اپنے عہد کی سیاسی صورتِ حال سے بے خبر رہ کر زندگی اور سماج کا تجزیہ کس طرح کر سکتا ہے؟ شہریار نے چند نظمیں ایسی لکھی ہیں جنھیں عرفِ عام میں برہنہ حقیقت نگاری کے زمرے میں رکھا جا سکتاہے مگر غزل کی دنیا قدرے مختلف ہوتی ہے۔ شہریار نے جگہ جگہ اپنے عہد کے بعض ضروری سوالوں کو سیاست اور اقتدار کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں وہ ایک باغی اور احتجاج کرنے والے کے طَورپر نظر آتے ہیں۔ جو لوگ شہریار کو مکمّل طور سے ایک غیر سیاسی شاعر سمجھنے کی بھول کرتے ہیں،انھیں شہریار کی شاعر ی میںموجود اس طنزیہ اور احتجاجی رنگ کو بہ غور دیکھنا چاہیے۔ اس سلسلے سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
(یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔ حصّہ دوم ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
زباں ملی بھی تو کس وقت بے زبانوں کو
سُنانے کے لیے جب کوئی داستاں نہ رہی
سوٗرج کا قہر صرف بَرہنہ سَروں پہ ہے
پوچھو ہَوس پرست سے وہ کیوں ملول ہے
مَیں ایک عرصے سے حیران ہوں کہ حاکمِ شہر
جو ہو رہا ہے، اُسے دیکھتا نہیں ہے کیا؟
ہر پتنگے کے پَر سلامت ہیں
شمعیں بے بات کیوں جلیں شب بھر
عزیزِ شہر آپ کی یہ منصفی بھی خوب ہے
ہَوس کو چھوٹ ہے کُھلی، جنوں پہ قید و بند ہے
سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا
کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا
وہ بڑھ رہی ہے اندھیروں کی سلطنت ہر پَل
وہ آ رہی ہے اُجالوں کی فوج ہاری ہوئی
کیسا منظر تھا کہ زنجیر ہوئیں آوازیں
اور مخلوقِ خدا ساری، تماشائی تھی
آج پاؤں کے نیچے کوئی شَے زمیں سی ہے
آج کیا غضب ہوگا، شام ہونے والی ہے
زندگی اور کاینات کے کہیں گہرے پانیوں میں جب شہریار اُترتے ہیں ،اس وقت نئی کاینات، نئی زندگی اور نئے خواب ہر طرف لہلہاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ دمادم صداے کُن فیکون قایم ہو رہی ہے۔ تشکیلِ جدید اور تعمیرِ نَو کا یہ ذوق شاید کہ اُس مطالعۂ کاینات کا نتیجہ ہے جہاں وہ مشاہدے اور تجربے کے بعد ایک نئے خواب کا سودائی معلوم ہوتے ہیں۔ جو زندگی اُنھیں ملی اور جیسی کاینات ہاتھ لگی، شاعر اس کا ایک مستقبل آمیز تجزیہ کرتا ہے۔شہریار کے اس تخلیقی اُبال کو سمجھنے کے لیے ان کی وہ مشہور غزل بہ طورِ آئینہ ہمارے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے جس کی ردیف ’کچھ کم ہے‘ اور جس سے اس کتاب کا سرنامہ منتخب کیا گیا ہے۔ یہ غزل اپنے آپ میں شاعر کے اندرون میں پیدا ہورہے احتسابی رنگ کا ایک اعلان نامہ ہے ۔ پہلے اس غزل کے چند اشعار ملاحظہ کریں: (یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔ حصّہ دوم ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
زندگی جیسی توقّع تھی؛ نہیں، کچھ کم ہے
ہر گھڑی ہوتا ہے احساس، کہیں کچھ کم ہے
گھر کی تعمیر تصوّر ہی میں ہو سکتی ہے
اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے
بچھڑے لوگوں سے ملاقات کبھی پھر ہوگی
دل میں اُمّید تو کافی ہے، یقیں کچھ کم ہے
اب جدھر دیکھیے لگتا ہے کہ اس دنیا میں
کہیں کچھ چیز زیادہ ہے، کہیں کچھ کم ہے
یہ غزل شاعر کی فکر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ قدرت نے کس کے حصّے کا کتنا طَے کیا ہے اور اسے کتنا ملنا یا پانا مقرّر ہوا ہے، یہ سوالات غیر اہم نہیں۔قدرت اور انسان کے بیچ کا مجادلہ، محاسبہ، مناقشہ ازل سے قایم ہے۔ سارے مذاہب اِنھی رشتوں کی تعبیر و تشریح میں الگ الگ زمانے میں قایم ہوتے گئے۔ مفکرین اور بڑے بڑے سائنس دانوں نے اس کاینات میں انسان کے رول کو سمجھنے کی کوشش کی۔ بہت سارے باغی گفتار کے اسلوب پر قابو نہیں رکھ سکے۔ کچھ کابیان اتنا شفّاف اور برہنہ ہو گیا کہ زمانے نے انھیں جینے بھی نہیں دیا۔ شہریار تاریخ کی ان مشکلات سے بے خبر نہیں ، اسی لیے انھوں نے ایک ایسی ردیف تلاش کی جس میں انسان اور قدرت کے رشتوں کی پڑتال ہو سکے___ ’کچھ کم ہے‘ ردیف سے حالاں کہ ایک حتمیّت کا ماحول قایم ہوتا ہے مگر شاعر نے قافیہ ایسا منتخب کیا جہاں یہ بولتی ہوئی ردیف بیان کے برہنہ کردار سے الگ ہو کر مشاہدے کی گہرائی میں ہمیں لے جاتی ہے____ نہیں ، کہیں، یقیں، اور زمیں کے قوافی نے ہر شعر کے معنی اور مفہوم کی کھُلی دنیا پر ایک پردہ ڈالا ہے ۔ اسی لیے ایک لمحے میں شعر کا کوئی حتمی رُخ نظر آتا ہے تو دوسرے مرحلے میں بیان میں تذبذب اور احتیاط کا محاورہ شامل ہو جاتاہے۔ اب یہ اشعار عمومی فرمان نہیں بنتے بلکہ یہ ایک تفکّر آمیز مشاہدے کی دنیا آباد کرتے ہیں۔ انسانی مزاج اور نفسیات کے تابع ہو کر اس غزل کے اشعار ہمارے عہد کا نوحہ بن جاتے ہیں۔ کیسے کیسے مصرعے شاعر نے یہاں اُبھارے ہیں:
ع دل میں امّید تو کافی ہے، یقیں کچھ کم ہے
ع کہیں کچھ چیز زیادہ ہے، کہیں کچھ کم ہے
ع یہ الگ بات کہ پہلی سی نہیں، کچھ کم ہے
شہریار کی یہ غزل اپنے اسلوبیاتی طلسم اور فکری استحکام کی وجہ سے ہمارے عہد کی نہایت مشہور غزلوں میں سے ایک ہے۔ شہریار کے یہاں اپنی دنیا اور اپنے عہد کی تشکیلِ نو کاایک خواب بھی نظرآتاہے۔ وہ کوئی نئی دنیا اور موجود سے مختلف دنیا بنانے کے خواہاں رہے ہیں۔ جیسے جیسے شہریار کے یہاں شاعر ی اور عمر نے پختگی حاصل کی، ان کا مطالعۂ کاینات مزید بار آور ثابت ہوا اور ان کے یہاں اپنے عہد کے بکھراو سے نئی دنیا کی تعمیر و تشکیل کے سوالات زیادہ توجّہ سے سامنے آنے لگے۔ ذیل کے اشعار اس سلسلے میں غور طلب ہیں:
میرے مالک مجھ کو اتنی مہلت دے
نئے سِرے سے مَیں تیری دنیا دیکھوں
آسماں تجھ میں کشش بھی نہیں پہلے والی
اور کچھ یوں ہے کہ بہتر یہ زمیں ہو گئی ہے
دیکھ ہم پھر جلا رہے ہیں چراغ
اے ہَوا حوصلہ نکال اپنا
یا اتنی نہ تبدیل ہوئی ہوتی یہ دنیا
یا مَیں نے اسے خواب میں دیکھا نہیں ہوتا
ہم خوش ہیں، ہمیں دھوپ وراثت میں ملی ہے
اجداد کہیں پیڑ بھی کچھ بُو گئے ہوتے
بہت یاد آئے جب جب قہر سوٗرج کا ہُوا نازِل
وہی اشجار جن کو ہم نے بے برگ و ثمر جانا
آنکھ اس منظر کو کیسے بھول جائے
پھول مُرجھائے تو مرجھائی ہَوا
زندگی کو طرح طرح کے زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے کے مرحلے میں شہریار نے خیال کی نُدرت اور اسلوب ِ بیان کے انوکھے پن کا راستا اختیار کیا ۔ جدیدیت سے سیکھی ہوئی بہت ساری چیزیں یہاں کام آئیں۔ شہریار کئی دہائیوں کے ادبی سفر کے بعد ایک پختہ تر اسلوب کو غزل میں کامیابی کے ساتھ برتنے کا حوصلہ پاتے ہیں۔ یہاں خیال کی ایک عجیب و غریب دنیا آباد ہوئی ہے۔ تشبیہات اور استعاروں کی پُر اثر فضا ہے۔ خیال منظر میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور منظر جذبات میں بدل جاتے ہیں۔ انسان کی زندگی اور قدرت کے اس کھیل تماشے کو شہریار نے بڑے پُراثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بے شک اس قبیل کے بہت سارے اشعار جدیدیت کی تخلیقی فضا میں ہی سامنے آ سکتے تھے مگر یہ بھی ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ شہریار نے بیان، اسلوب اور خیال کی یکجائی سے جو نئے بُت تراشے ، وہ اُن کی غزل گوئی کے لیے روحانی غذا ثابت ہوئے اور ان کی شاعری کا اس سے ایک علاحدہ اور بھرپور منظر نامہ مرتّب ہوتاہے۔ ایسے کچھ اشعار ذیل میں ملاحظہ کریں:
یہ سوچنا تھاکہ ہم لوگ پھر اُداس ہوئے
کہ بے کنار سمندر بھی ساحلوں تک ہے
رات کیا کچھ زمین پر بیتی
پہلے تجھ سے، پھر آسماں سے سُنوٗں
عجیب چیز ہے یہ، وقت جس کو کہتے ہیں
کہ آنے پاتا نہیں اور بیٖت جاتا ہے
دل میں اُترے گی تو پوٗچھے گی جنوں کتنا ہے
نوکِ خنجر ہی بتائے گی کہ خوں کتنا ہے
کیسی دستک تھی کہ دروازے مقفّل ہو گئے
اور اس کے ساتھ روٗدادِ قفس پوری ہوئی
ورنہ سیلاب بہا لے گیا ہوتا سب کچھ
آنکھ کو ضبط کی تاکید ہے، روئے کیسے
وہ اُدھر اُوس کی اِک بوٗند نظر آتی ہے
جانے کس شخص کی پلکوں کی امانت ہوگی
مٹّھیاں ریت سے بھر لو کہ سمندر میں تمھیں
اِک نہ اِک روز جزیروں کی ضرورت ہوگی
دھوپ کے قہر کا ڈرہے تو دیارِ شب سے
سر برہنہ کوئی پرچھائیں نکلتی کیوں ہے
گُلاب ٹہنی سے ٹوٗٹا، زمین پر نہ گِرا
کرشمے تیز ہَوا کے سمجھ سے باہر ہیں
پہلے نہائی اُوس میں پھر آنسوئوں میں رات
یوں بوٗند بوٗند اُتری ہمارے گھروں میں رات
سرگوشیوں کے سبز بدن زرد ہو گئے
جگنو سکوٗتِ شام کے بستر پہ دیکھ کر
کوئی پلکوں سے اُترتی رات کو روکے ذرا
شام کی دہلیز پر اِک سایہ ہے سہما ہوا
سکوتِ شام سے پہلے کی منزل سخت ہوتی ہے
کہو لوگوں سے سوٗرج کو نہ یوں ڈھلتا ہوا دیکھیں
اس طرح شہریار کو غزل گو شاعر کی حیثیت سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ نتیجہ ظاہر ہوتا ہے کہ جدیدیت کے عَلَم برداروں میں وہ ایک ایسے شاعر ہیں جنھوں نے اپنے سابقین ، ہم عصروں اور نوعمروں کی شعری روایات کو ہر دَور میں قابلِ غور سمجھا اور امتزاج کے بجاے انفراد کی ایک راہ نکالنے میں خاص طور سے سرگرداں رہے۔ یہ مشکل نشانہ ضرور تھا مگر چھے دہائیوں پر پھیلے ان کے شعری سفر سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ انھوں نے غزل کی کسی مخصوص روایت یا توانا آواز کی ابتدا کا جنجال نہیں سنبھالا بلکہ وہ روایتِ شعری اور اپنے عہد کے تقاضوں کے بیچ مناسبت قایم کرنے کے لیے کوشاں رہے جس سے ایک علاحدہ اسلوب قایم ہو کر سامنے آ گیا۔ غزل کی بات کریں تو شہریار اپنے ہر ہم عصر وںسے الگ طَور پر پہچانے گئے۔ اردو کی غزلیہ شاعری میں یوں تو سیکڑوں شعرا با اعتبار ہیں مگر ان میں شہریار کی بنائی ہوئی ایک مختصر سی دنیا بھی ضرور آباد ہے۔ یہ صاحبِ اسلوب اور صاحبِ طرز کا شناخت نامہ ہے۔ بے شک اردو غزل کی تاریخ میں شہریار کو ان کے انفرادی رنگ و آہنگ سے ہی لازمی طَور پر پہچانا جائے گا۔
[نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا، نئی دہلی کی جانب سے شائع شدہ شہریار کے انتخابِ کلام کا مقدّمہ]
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

