میں اپنی اس کتاب ’’گراں قدر علمی و ادبی شخصیات ‘‘ کی تشکیل کروں اور ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی صاحبہ کا تذکرہ نہ کروں تو اہل بنگال، اہل ہند تو کیا قدرت بھی مجھے معاف نہیں کر سکتی۔ اس لیے سب سے پہلے میں ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی صاحبہ کا تذکرہ کر رہی ہوں۔
ہمارا تعلق شہر کولکاتا سے ہے۔ شہر نشاط کولکاتا پر ہمیں بے حد ناز ہے۔ ہمیں ناز ہے یہاں کی تہذیب، کلچر پر، ہندوستان کے تمام noble laurate کا تعلق بنگال سے ہی ہے۔ ہمیں ناز ہے گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور، اپیندر ناتھ ٹیگور، سر ت چندر چٹرجی، مدھو سدن دتہ، سوامی وویکا نند، ایشور چندر ودیا ساگر۔ تو ہمیں فخر ہے طوطیٔ بنگالہ علامہ رضا علی وحشت کلکتوی، شاکر کلکتوی، پرویز شاہدی، عبد الغفور نساخ، شمس کلکتوی علقمہ شبلی، نصر غزالی، بیگم رقیہ، اور ایسے ہزاروں نام ہیں جن کے لیے تاریخ کے اوراق شاہد ہیں۔ اور جن کے نام تاریخ کے اوراق میں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آج کے اس پس منظر میں محترمہ ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی صاحبہ بلاشبہ محتاجِ تعارف نہیں۔ ان کے لیے کچھ لکھنا یا کچھ کہنا راصل سورج کو چراغ دکھانا ہے۔ ان کی شخصیت آج کے طلبا و طالبات کے لیے میرے لیے مشعل راہ ہے۔
محترمہ ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی کا تعلق شہر کولکاتا سے ہے۔ آئرن لیڈی مہناز وارثی سر زمین ِ بنگالہ کو تم پر ناز ہے۔
1987ء میں Second Mother Teresa کا خطاب ملا
پھر 2000 ء میں Woman of the year
2001 ء میں Rani Jhansi LaxmiBai Award
2003 ء میں فخر ہندوستان
2006 ء میں بیگم رقیہ ایوارڈ
2007 ء میں گورنمنٹ آف ویسٹ بنگال کےDept of Social Welfare کی جانب سے Role Model Award
اس کے علاوہ 155، صوبائی، مرکزی اور بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
Aware Citizen Award ، دراصل Civil Court سے ملا۔
2021ء میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی نے ایوارڈ سے نوازا۔
محترمہ ڈاکٹر مہناز وارثی صاحبہ کی پیدائش شہر کولکاتا کے (Ward 60) کے جان نگر روڈ میں ہوئی۔ ان کے والد آنجہانی محترم سید غلام محی الدین احمدوارثی تھا اور والدہ کا نام گوہر جان ہے۔ ان کے والد ایک معروف سماجی خدمت گار اور دانشور تھے۔ ایک بہت ہی فعال سماجی خدمت گار کی حیثیت سے انہوں نے علاقے میں صاف پینے کا پانی، sanitation کے لیے بہت کام کیا۔ ضرورت مندوں کے لیے غذا فراہم کیے۔ طالب علم کی تعلیم کے لیے کتابیں دستیاب کیں۔
ان کے والد اس زمانے میں بہت فعال، نیک، ایماندار، سوشل activist تھے۔ ان کے علاقے میں Ward-60 میٹھی پانی کی قلت تھی۔ جب ان کے ہاتھ میں اقتدار آیا تو انہوں نے ہزاروں گھروں میں میٹھا پانی کا پائپ لائن اور ٹائلٹ کا انتظام کرایا۔ ان کا مقام اس کام سے لگایا جا سکتا ہے۔ آج بھی ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی ، اپنے ماں اور بھائی کے ساتھ اسی ٹالی کے مکان میں رہتی ہیں جو 100 سال پرانا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ماحولیات کا تحفظ عصرِ حاضر کا تقاضا – مظفر نازنین )
سیدہ مہناز وارثی کے دل میں سوراخ ہے اورایک حادثے میں ان کا ایک پاؤں زخمی ہوگیا تھا جس کی وجہ سے ان کے پاؤں کی کئی بار سرجری ہوئی اور ان کی plastic surgery جے پور کے ماہر امراض Dr. P. K. Sethiنے کیا۔دس گھنٹے کی کامیاب سرجری ہوئی اور اس میں 900stictchesہیں۔موصوفہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔ اس کے باوجود کافی ہمت اور حوصلہ کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔
ان کے والد کی بے وقت موت نے ان کی زندگی میں ایک خلا سا پیدا کر رید لیکن ان نامساعد حالات اور ماحول نے انہیں بہت بہادر، جفا کش، آزادانہ، شاہانہ اور خود مختار زندگی جینے کا سلیقہ سکھایا۔اس وقت ان کے سر پر کوئی سائبان نہیں تھا پڑوسیوں نے کافی پریشان کیا۔ اور male dominated society میں انہوں نے شان سے جینا خود بھی سیکھا اور دوسروں کو بھی سیکھایا۔ پھر1984 ء میں پریم آشاPrem- Ashaنام سے ایک NGO قائم کیا۔ جہاں فومی یکجہتی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، غریبوں اور دکھی دلوں کو جینے کا سہارا دیا۔ یتیموں کی دیکھ بھال، ضعیفوں کی تیمار داری کرنا۔
٭ وہ AICUF کی ممبر ہیں۔ St. Xavier’s College کولکاتا نے نادار اور غریب طلبا کے لیے اسکالرشپ فرام کیے ہیں۔ جو دراصل یہاں کے Alumni کے تعاون سے ہوتا ہے۔
٭ وہ Lions Club Tiljalaکی اعزازی ممبر ہیں جس کا ambition ہے ٹیوب ویل لگانا،خون عطیہ کیمپ ، Career Camps کا اہتمام کرنا۔
٭ وہ Project Director ہیں۔
٭ Father D’Compoنے اردو اور عربی کی تعلیم ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی سے حاصل کیا اور پورے قرآن کی تعلیم دی جو کولکاتا کے معروف کالج St. Xaviersکے فادر تھے۔
ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی صاحبہ MBBS, MD, Ph.Dہیں اور ساتھ ہی اردو کی معروف شاعرہ ہیں۔ ایسی عظیم شخصیت پر ہمیں بے حد ناز ہے۔ بلاشبہ وہ مستحق ہیں۔ اپنے شہر کولکاتا نے بے شمار ادبی جواہر پاروں کو جنم دیا ہے ۔ ان میں ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی بھی شامل ہیں۔ وہ آج طلباو طالبات اور بلا شبہ میرے لیے بھی مشعلِ راہ ہیں۔ ان کے چند خوبصورت اشعار قارئین کی فن شناس نظروں کی نذر ہے۔
اگر ہے احساس زندگی کا
کسی کے غم کو گلے لگا لو
سہارا بن کر غریب معذور بے کسوں کا
دکھاؤ اخلاق کا کرشمہ
اگر ہے احساس زندگی کا
اجنبی راہ میں جب رخت سفر باندھا ہے
تو یقین ہے کہ میں منزل پہ پہنچ جاؤں گی
تیز طوفاں کا رُخ ہے تو مجھے کیا غم ہے
میں تو طوفاں کے دھاروں میں بھی ہراؤں گی
Her efforts are recognized time and again at national and international levels. In 1996 she was awarded the prestigious Bharat Nirman for Social Work. In 1996 she was nominated ‘Woman of the Year’ by American Bibliographical Institute. In 2001 she was awarded Mother Teresa Millenium Award for Social Work by ShriJyotiBasu. In 2003 she received Rani LaxsmiBai Street Shakti Puraskar by Vice President ShriBahiron Singh Shekhawat.
Many other awards were also given to her in these years. Her literary works, lyrics, couplets, poems, stories and critical view etc. on communal harmony, peace and national integration attracted attention and got published in many noted newspapers, magazines, electronic channels and books. A documentary film (Jhansi ki Rani) was also made by NFDC and it was directed by noted director SubhankarGhosh.
Mobile + Whatsapp : 9088470916
E-mail : muzaffarnaznin93@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

