Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

شہریارکی نظموں میں خواب اورشکست خواب کے مسائل – ڈاکٹرمعیدالرحمن

by adbimiras جون 20, 2021
by adbimiras جون 20, 2021 0 comment

شہریارکاشماران شعرامیں ہوتاہے جنھوںنے اردوشاعری میں نئے تصورکائنات ،نئے تصور اقدار ،بدلے ہوئے تصورانسان اورنئے طرز احساس کوشعری بوطیقاکاحصہ بنانے میں اہم کردار اداکیا۔ شہریار کاشعری اظہار غزل اور نظم دونوں کو محیط ہے۔ ان کے شعری کائنات کی کلید حاصل کرنے کے لیے ان عصری ارتعاشات کی تفہیم لازمی ہے جوان کی شاعری کی تہہ میں موجزن ہیں۔

بیسویں صدی مختلف نظریات کے Institutionalizedاندازمیں معرض وجودمیں آنے کازمانہ ہے حالانکہ بیشترنظریات اس سے قبل نموپذیرہوچکے تھے۔ شمیم حنفی نے اپنی کتاب’’ جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘‘ میں اس عہد کے متعلق لکھا ہے کہ’’ بیسویں صدی کوبیک وقت کئی مکاتب فکر یانظریوں کی صدی کہنا غلط نہ ہوگا۔ ایچ ۔ جی ویلز بیسویں صدی کو’پریشان خیالی کاعہد‘‘کہتاہے۔ آڈن کے نزدیک یہ اضطراب کاعہد ہے اورفرانز الیکزنڈرکے نزدیک عدم تعقل کاعہد، کوئسلر’ اسے تمنا کاعہد کہتا ہے‘(ص۷۴)

بیسویں صدی سے متعلق اگران تمام تصورات کاتجزیہ کیاجائے تو یہ نتیجہ نکالاجاسکتا ہے کہ یہ عہدDehumaniz- -tionکاعہد ہے۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں مادیت کے طوفان سے زندگی کے اعلیٰ اقدار کے تصورات تبدیل ہوگئے۔ اقدار کاایساانحطاط ہواکہ خیروشر کے معیاربدل گئے ۔مذہب اور سماج کی اقداری حیثیت حاشیہ پرچلی گئی ۔ایسے پرآشوب دور میں انسان کے پاس اپنے داخل میں پناہ گزیں ہونے کے علاوہ فرارکاکوئی اورراستہ نہیں بچتا ہے۔ زندگی گزارنے کے لیے خودکلامی وسیلہ نجات بن جاتی ہے۔ تصورکائنات کی تبدیلی سے اشیاکے سلسلے میں تصورات کابدل جانافطری امرہے۔ اس دور میں اشیاکواپنی ذات کے حوالے سے معنی پہنانے کی سعی کی جاتی ہے۔ انسانی ذات اور اشیاکے مابین رابطے کی وہ نوعیت بدل جاتی ہے جواقدار کے استحکام کے زمانے میں مروج تھے۔ یہ وہ عمومی مسائل ومیلانات ہیں جوعالمی سطح پر بیسویں صدی کے تمام شعراوادبا کی تخلیق میں اظہار پائے ہیں۔ ٹی۔ایس ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ اسی عہد کی یادگارہے۔ (یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کا تفصیلی مطالعہ۔ حصّہ اوّل ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

ان میلانات ورجحانات سے شہریارجیسے حساس فن کار کیوں کر اپنادامن بچاسکتے تھے۔ شہریارنے اپنی غزلوں اورنظموں دونوں اصناف میں انسانی ذات کی کربناکی ، انتشار ،آدرشوں کے زوال اوراقدار کے شکست وریخت کواپنے داخلی تجربے کے طورپر پیش کیا۔ انسان کی داخلی تنہائی ،ازلی پریشانی، آشوب آگہی کواپنی غزلیہ اورنظمیہ متون میں انجذاب کے عمل سے گزارکرایک جمالیاتی معروض میں تبدیل کردیا۔ یوں تو شہریار کی غزلیہ اورنظمیہ شاعری دونوں اپنی اپنی جگہ اہم اورممتاز ہیں۔ سردست ان کی نظمیہ شاعری مطالعہ کاموضوع ہے۔

شہریارکی نظمیہ شاعری ان کی غزلیہ شاعری کے مقابلے میں متعدد اعتبارسے فوقیت رکھتی ہے۔ تصورکائنات کی تبدیلی ، زندگی کے مستحکم اقدارکے ٹوٹنے بکھرنے اوراس پرشاعرکے ردعمل کے اظہاری پیکر میں ڈھلنے کے لیے غزل کی تنگ دامانی کا احساس ایسے موقع پر شدید ہوجاتا ہے ۔شہریارنے نہایت فن کاری کے ساتھ ان موضوعات کوان کے تمام تموجات کے ساتھ نظم کالباس عطا کیا ہے۔

شہریارکی نظموں کی مکمل تفہیم کاکوئی سراتلاش کیا جائے تووہ خواب اورشکست خواب کے حوالے سے تلاش کیا جاسکتا ہے ۔ ان کی نظموں میں خواب اورشکست خواب ایک اہم موتف کے طورپر استعمال ہوتاہوامحسوس ہوتاہے۔ خواب شکست خواب ایک دوسرے کے Binary oppositionکے طورپراستعمال ہوئے ہیں۔ اسم اعظم (۔۔۔) سے لے کر ان کے آخری شعری مجموعہ ’شام ہونے والی ہے‘ تک میں ان کی اکثرنظمیہ شاعری براہ راست یابالواسطہ طورپر خواب اور شکست خواب ہی کے گردگردش کرتی ہیں۔

شہریارکاخواب ایک عینیت پسند نظام سے عبارت ہے۔ ان نظموں کے بطون سے ایک ایسا سماج نموکرتاہوامحسوس ہوتا ہے جواعلیٰ انسانی اقدارپر استوار ہو۔ ’اسم اعظم‘ جوشہریارکاپہلاشعری مجموعہ ہے اس کاآغاز ہی نظم بعنوان ’خواب ‘ سے ہوتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

نغمگی آرزوکی بکھری ہے

رات شرمارہی ہے اپنے سے

ہونٹ امیدکے پھڑکتے ہیں

پاوں حسرت کے لڑکھڑاتے ہیں

دور پلکوںسے آنسووںکے قریب

نیند دامن سمیٹے بیٹھی ہے

خواب تعبیر کے شکستہ دل

آج پھر جوڑنے کوآئے ہیں

زندگی کو بدلنے کی آرزو یعنی امن وانصاف کی آرزو ہے ۔ایک نئے آدرش کے لیے امیدکے ہونٹ پھڑک رہے ہیں۔ اور نظم کے اختتام پر پھرٹوٹے دلوں کوجوڑنے کے لیے شاعرکمربستہ ہے۔ اسم اعظم ہی سے ایک نظم اورسماعت فرمائیے۔ اس کاعنوان ہے ’’خود فریبی‘‘۔

رات کی دیوار اٹھنے دے ابھی

شمع نومیدی کو جلنے دے ابھی

خشک ہونٹوں کی صداآنے کوہے

بھیگی زلفوں کی ہواآنے کوہے

نیند کی کالی گھٹا چھانے کوہے

اس دریچہ کی شکستہ انگلیاں

چھونے ہی والی ہیں گونگی بجلیاں

اپنے دل کو اپنی آنکھوںکو سنبھال

اورخلامیں خواب کا ساغر اچھال

رات کی دیوار اٹھنے دے ابھی

شمع نومیدی کوجلنے دے ابھی

اس نظم میں شاعر نامساعدحالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے خواب کا ساغر اچھالنے کی تلقین کررہاہے اوریہ کہتا ہے کہ امیدکا شمع بھی اسی خواب سے روشن ہوسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شہریار کی غزلوں میں لفظیات کے در و بست – اصغر شمیم )

اس بات کوتسلیم کرنے میں کسی کوکوئی تامل نہیں ہوگاکہ شہریارکے یہاں آدرش کاایک تصورملتا ہے جس کااظہار ان کے یہاں خواب اوران کے تلازمات کے بالواسطہ طرز اظہارسے ہوتاہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ترقی پسند ادب کا پورامنشور ہی مستحکم اقدار حیات کی بازآفرینی پرتھا۔ یہ بات بھی محتاج ثبوت نہیں کہ شہریارکی فکری تربیت ترقی پسند تحریک کے زیر اثرہوئی۔ ان تمام مشترک حالات کے باوجود شہریار کی نظمیہ شاعری ترقی پسندوں کے برعکس اکہرا بیان بننے سے بچی رہتی ہے۔ اس کے متعدد وجوہ ہیں ۔ ترقی پسندوں نے معاشرہ میں تبدیلی لانے کے لیے آدرش کے ظاہری مظاہر کو پیش کرنے پر اکتفا کیا ۔ حقائق کی تہہ میں اترے بغیر سطح آب پرتیرنے والی چیزوں پرتوجہ مرکوز کی۔ شہریارکے بھی مسائل قدرے اختلاف کے ساتھ وہی ہیں جوترقی پسندوں کے تھے، لیکن وہ ان مسائل کی تہہ میں اتر کر اپنی ذات کے حوالے سے مختلف تلازمات کے ساتھ انھیں پیش کرتے ہیں اورقاری کو غور و خوض کی دعوت دیتے ہیں۔ تجربے کو فنی تقلیب کے عمل سے گزار کر نظم کی تشکیل کرتے ہیں۔ نظم دیکھیے ’تلاش حق‘   ؎

ہاتھ کسی چراغ کی

لوکی طرف بڑھے ہوئے

ہونٹ کسی گلاب کو

چومنے کوکھلے ہوئے

آنکھ خلا کے آخری

نقطے کوڈھونڈھتی ہوئی

اس نظم میں چراغ کی لوکی طرف بڑھاہوا ہاتھ اکتساب نورسے کنایہ ہے ،گلاب کوچومنے کوکھلاہوا ہونٹ جذبہ محبت کے اظہارسے عبارت ہے،خلاکے آخری نقطے کوڈھونڈھتی ہوئی آنکھ کائنات کی جستجو کی طرف اشارہ ہے۔ آدرش کاانجام یقینی طورپر موت ہے۔ اِسی نظم کاآخری حصہ دیکھیے کہ ہم کس طرح Climaxسے روبرو ہوتے ہیں۔( یہ بھی پڑھیں شبلی کی استعمار شناسی (سوانح،سفرنامہ اورمقالات کے حوالے سے) – ڈاکٹر معیدالرحمن )

؎  ٹوٹی ہوئی صلیب کے

ساے میں خوںسے تربہ تر

ریل کی پٹریوں پہ اک

لاش ہے پھرپڑی ہوئی

شہریار کاخواب محض جذباتی پناہ گاہ یا من کی ترنگ نہیں ہے انسان کی روحانی اورجذباتی کرب کے حل کاسرچشمہ ہے۔ ان کایہ خواب ماضی سے بھی وابستہ محسوس ہوتاہے۔ نظم کاعنوان ہے’افسون امروز‘

؎  ابھی صبح فرداکے قصے نہ چھیڑو

ابھی دشت امروزمیں خاک اڑتی ہے

بھٹکے ہوئے قافلوں کی

ابھی آنکھ جھپکی نہیں فاصلوں کی

ابھی خیمہ خواب، ناکامی ونامرادی کی چنگاریوں سے

بچاے ہے خودکو

ابھی روح کوجسم کے غارمیں کوئی کھٹکا نہیں ہے

ابھی دل دھڑکتاہے ،آنکھیں ہیں روشن

ابھی صبح فردا کے قصے نہ چھیڑو

اسی قبیل کی ایک نظم اورملاحظہ کیجیے۔نظم کاعنوان ہے’’آرزو‘‘  ؎

سوتے سوتے چونک اٹھی جب پلکوں کی جھنکار

آبادی پرویرانے کاہونے لگاگمان

وحشت نے پر کھول دیے اوردھندلے ہوئے نشان

ہرلمحے کی آہٹ بن گئی سانپوں کی پھنکار

ایسے وقت میں دل کوہمیشہ سوجھاایک اپائے

کاش کوئی بے خواب دریچہ چپکے سے کھل جائے

مقدم الذکر نظم میں ناکامی ونامرادی سے خیمہ خواب کے بچے رہنے پرشاعرنے اطمینان کااظہار کیاہے۔ اسی طرح موخر الذکر نظم میں وحشت کی کیفیت میں شاعرکسی بے خواب دریچہ کے کھلنے کی آرزو کررہاہے۔ دراصل شہریارکوئی محدود رینج کا شاعر نہیں ہے۔ عقلیت پسندی کے غلبہ کے سبب تمام انسانی مسائل کے حل کے لیے عقل کو پیمانہ بنانے پراصرار کیاجانے لگا تووجدان کوایک سرچشمہ علم کی حیثیت سے لوگوں نے پس پشت ڈال دیا۔ روحانی کرب کے ازالہ کے لیے انسانی نفسیات کے اسرارورموز سے سطحی واقفیت حاصل کرکے دانشوروں نے اپنی فتح مندی کااعلان تو کردیا لیکن معاملہ جوں کاتوں رہا۔ خواب، معرفت اوروجدان کے کسی متبادل تک رسائی سے انسانی عقل ابھی تک قاصر ہے۔ ایسے وقت میں شہریار کی یہ دعابہت معنی خیز معلوم ہوتی ہے کہ   ؎

چشم خونبار میں خواب اترے کوئی

آخرشب ہے مہتاب ابھرے کوئی

شہریارکاخواب جنوںخیزی کاپیش خیمہ اورمحرک ہے۔ ان کے نزدیک جنون ایک اہم آدرش ہے جسے تعقل پسندوں نے اپنی نام نہادترقی کی راہ میں مزاحم جانااور اسے ٹاٹ باہر کردیا۔ عشق کے فقدان کوشہریار نے کتنے ڈرامائی اورطنزیہ تمثیل کے ساتھ پیش کیا ہے نظم ملاحظہ کیجیے عنوان ہے ’’نئی کہانی ‘‘  ؎

یہ کہانی سنی نہ ہوگی کبھی

یہ فسانہ پڑھانہ ہوگاکبھی

صبح کی آرزو میں ساری رات

سرخ نیلے، ہرے، سیاہ پتنگ

شمع کے گرد رقص کرتے رہے

اورسلامت رہے سبھی کے سر

اورسلامت رہے سبھی کے سر

اورسجل اورسبک سفیدسفید

موم کے مقبرے رہے خالی

اوراس بے مثال منظرکو

صرف دوآنکھیں دیکھنے والی

شہریارنے انفرادی اوراجتماعی Disillusionmentکونہایت فن کاری کے ساتھ مختلف پیکروں اورتلازموں کے ساتھ پیش کیاہے۔ انسانی زندگی کی بے سمتی ،بے چینی ،لاحاصلی کو اپنی ذات کے حوالے سے بیان کیاہے۔نظم دیکھیے ’’وہ آسماں‘‘

؎  آسماں دکھ کے غموں کے آسماں/آسماں سیراب جوکرتے زمیں، دل کی زمیں، کوتھے سدا/جن سے سیکھی ہم نے جینے کی ادا/بے حسی کے بادلوں کی دھندمیں گم ہوگئے /وہ آسماں

اس نظم میں آسمان ایک ایسی قدرکااستعارہ ہے جس سے دل سیراب ہواکرتاتھا جس سے حیات بخش عناصر ملاکرتے تھے لیکن وہ بے حسی کے بادلوں میں گم ہے۔ اس سے اشارہ مذہب کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔

اسی طرح نظم ’’افتاد‘‘ میں شاعر خداکے گیت گانے والوں کی خموشی پرنوحہ کناں ہے   ؎

دیکھتے دیکھتے چپ ہوگئے سب /وہ بھی ، جونیند کی شبنم میں نہاکر/کسی نادیدہ حسیں شکل کے دیدارکی لذت کے بھجن گاتے تھے/وہ بھی جوآنکھوں کے طاقوں میں چراغاں کرکے/چیختے تھے کبھی روتے تھے، کبھی ہنستے تھے/وہ بھی جوزخموں کے پھولوں میں لدے/آسمانوں کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے کرتے تھے دعا/کیسی افتاد پڑی آخرشب/دیکھتے دیکھتے چپ ہوگئے سب۔

اسی طرح ’’خطرے کاسائرن ‘‘بھی اقدارکے شکست وریخت پرمبنی نظم ہے۔ اس کے علاوہ مآل، لازوال سکوت ، اب کے برس، نیاامرت، زوال کی حد، رات دن اورپھررات جیسی نظمیں لاحاصلی اوربے سمتی کوبیان کرتی ہیں۔

شہریارکی نظمیں فنی اعتبارسے بہت بلندہیں۔ ان کی نظموں کالہجہ دھیما اورفضاپراسرار ہے۔ غزل کے رمزوایما کی صفت کو انھوں نے اپنی نظموں میں بروئے کارلاکر اپنے منفرد لہجے کومستحکم کیا ہے۔ اس سے ان کی نظموں میں گفتگو کرتی ہوئی خاموشی کااحساس ہوتاہے۔ نظم ملاحظہ کیجیے عنوان ہے ’’بدن کے آس پاس‘‘  ؎

لبوں پہ ریت ہاتھوں میں گلاب/اورکانوں میں کسی ندی کی کانپتی صدا/یہ ساری اجنبی فضا/مرے بدن کے آس پاس آج کون ہے/

شہریارکی نظموں میں پیکروں کی بہتات کی وجہ سے ایک تصویر نموکرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔بصری ،سمعی، حسی تقریبا ہر طرح کے پیکراستعمال ہوئے ہیں۔ مخصوص فضاقائم کرنے کے لیے تلازمات کااستعمال بھی بکثرت کیے گئے ہیں۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ وہ معنوی ولفظی مناسبتوں کااستعمال بھی بحسن وخوبی کرتے ہیں۔ اس طرح شہریار کلاسیکی روایت سے استفادہ اوراس کی توسیع بھی کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ شہریار، پیکروں،تلازمات اورلفظی ومعنوی مناسبتوں کے استعمال سے اپنی نظموں کومکمل طورپر عضویاتی کل میں منقلب کردیتے ہیں۔

شہریارکی نظموں میں خواب، دھند، ریت ،ندی اوراس سے ملتے جلتے تلازمات کے استعمال بہت بامعنی ہیں۔ ان پیکروں سے ایسی تصویر قائم ہوتی ہے جس کی فضادھندلی اورغیرواضح ہوتی ہے۔ ایسالگتا ہے کہ شہریار اس شعوری یاغیر شعوری کوشش کے ذریعہ اپنارشتہ Impressionistic paintingسے استوار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ عالمی سطح پر وجودیت کے زیراثر ادب تخلیق کرنے والوں کے یہاں دھندبھری فضادیکھنے کوملتی ہے۔نظم ملاحظہ کیجیے ۔ عنوان ہے ’’حیران کرنے والی ایک بات‘‘   ؎

ڈوبتی شام کے اس پار

کھڑے تھے جولوگ

ہم نے ان آنکھوں سے دیکھا ہے

کہ ان لوگوں کی

مٹھیاں بند تھیں

یہ ریت کہاںسے آئی

شہریارکی نظموں میں خواب اورشکست خواب یہ دونوں ایسے اہم نکتے ہیں جن کی بنیاد پر ان کی نظموں کی خاطرخواہ تفہیم ممکن ہے۔ خواب اورشکست خواب کے تصادم سے ان کے یہاں آئرنی کی ایک تفکر آمیز فضاملتی ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتاہے کہ شہریارکے یہاں تھکن اور ناامیدی کے رویے غالب ہیں لیکن امرواقعہ اس کے برعکس ہے۔ وہ اس کائنات کی تعمیروتشکیل سے ناامید نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں ’’خواب کادربند ہے‘‘ سے ایک نظم ملاحظہ کیجیے ۔نظم کاعنوان ہے ’’فیصلہ کی گھڑی ‘‘   ؎

بارشیں پھرزمینوں سے ناراض ہیں/اورسمندر بھی سبھی خشک ہیں /کھردری سخت بنجرزمینوں میں کیا بوئیے اور کیا کاٹیے/ آنکھ کی اوس کے چندقطروں سے کیا ان زمینوں کو/سیراب کرپاوگے /گندم وجوکے خوشوں کی خوشبو تمہارا مقدر نہیں/ آسمانوں سے تم کورقابت رہی/اورزمینوں سے تم بے تعلق رہے/ریڑھ کی ایک ہڈی پہ تم کو بہت نازتھا/یہ گماں بھی نہ تھا /ایک دن بے لہو یہ بھی ہوجائے گی/فیصلے کی گھڑی آگئی کچھ کرو/تتلیوں کے سنہرے، ہرے ،سرخ، نیلے، پروں کے لیے/آنکھ کی اوس کے چند قطروں سے بنجرزمین کے /کسی گوشے میں/پھول پھرسے اگانے کی کوشش کرو/

محولہ بالا معروضات کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ شہریارکی نظمیہ شاعری کی تفہیم کے لیے خواب اورشکست خواب کو ایک اہم موتف کے طورپر دیکھاجاسکتا ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری میں خواب متعدد معنوی ابعاد کاحامل ہے۔ ان کی نظموں کابیانیہ بہت گٹھاہوا اور فنی اعتبارسے منفرد ہے۔ شہریار کی نظمیہ شاعری ایک طویل عرصے تک قاری کی مسرت وبصیرت میں اضافہ کرتی رہے گی۔

 

ڈاکٹرمعیدالرحمن

اسسٹنٹ پروفیسرشعبۂ اردو،

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،علی گڑھ

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

شہریارمعید الرحمن
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ایس آئی او کی "ٹیکہ سب کے لئے” مہم کا آغاز، ڈیجیٹل وسائل سے محروم آبادی کو ٹیکہ لگوانے کا عزم
اگلی پوسٹ
آئرن لیڈی، فخر ہندوستان ، سکنڈ مدر ٹریزا محترمہ ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی – مظفر نازنین

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں