شہریارکاشماران شعرامیں ہوتاہے جنھوںنے اردوشاعری میں نئے تصورکائنات ،نئے تصور اقدار ،بدلے ہوئے تصورانسان اورنئے طرز احساس کوشعری بوطیقاکاحصہ بنانے میں اہم کردار اداکیا۔ شہریار کاشعری اظہار غزل اور نظم دونوں کو محیط ہے۔ ان کے شعری کائنات کی کلید حاصل کرنے کے لیے ان عصری ارتعاشات کی تفہیم لازمی ہے جوان کی شاعری کی تہہ میں موجزن ہیں۔
بیسویں صدی مختلف نظریات کے Institutionalizedاندازمیں معرض وجودمیں آنے کازمانہ ہے حالانکہ بیشترنظریات اس سے قبل نموپذیرہوچکے تھے۔ شمیم حنفی نے اپنی کتاب’’ جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘‘ میں اس عہد کے متعلق لکھا ہے کہ’’ بیسویں صدی کوبیک وقت کئی مکاتب فکر یانظریوں کی صدی کہنا غلط نہ ہوگا۔ ایچ ۔ جی ویلز بیسویں صدی کو’پریشان خیالی کاعہد‘‘کہتاہے۔ آڈن کے نزدیک یہ اضطراب کاعہد ہے اورفرانز الیکزنڈرکے نزدیک عدم تعقل کاعہد، کوئسلر’ اسے تمنا کاعہد کہتا ہے‘(ص۷۴)
بیسویں صدی سے متعلق اگران تمام تصورات کاتجزیہ کیاجائے تو یہ نتیجہ نکالاجاسکتا ہے کہ یہ عہدDehumaniz- -tionکاعہد ہے۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں مادیت کے طوفان سے زندگی کے اعلیٰ اقدار کے تصورات تبدیل ہوگئے۔ اقدار کاایساانحطاط ہواکہ خیروشر کے معیاربدل گئے ۔مذہب اور سماج کی اقداری حیثیت حاشیہ پرچلی گئی ۔ایسے پرآشوب دور میں انسان کے پاس اپنے داخل میں پناہ گزیں ہونے کے علاوہ فرارکاکوئی اورراستہ نہیں بچتا ہے۔ زندگی گزارنے کے لیے خودکلامی وسیلہ نجات بن جاتی ہے۔ تصورکائنات کی تبدیلی سے اشیاکے سلسلے میں تصورات کابدل جانافطری امرہے۔ اس دور میں اشیاکواپنی ذات کے حوالے سے معنی پہنانے کی سعی کی جاتی ہے۔ انسانی ذات اور اشیاکے مابین رابطے کی وہ نوعیت بدل جاتی ہے جواقدار کے استحکام کے زمانے میں مروج تھے۔ یہ وہ عمومی مسائل ومیلانات ہیں جوعالمی سطح پر بیسویں صدی کے تمام شعراوادبا کی تخلیق میں اظہار پائے ہیں۔ ٹی۔ایس ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ اسی عہد کی یادگارہے۔ (یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کا تفصیلی مطالعہ۔ حصّہ اوّل ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
ان میلانات ورجحانات سے شہریارجیسے حساس فن کار کیوں کر اپنادامن بچاسکتے تھے۔ شہریارنے اپنی غزلوں اورنظموں دونوں اصناف میں انسانی ذات کی کربناکی ، انتشار ،آدرشوں کے زوال اوراقدار کے شکست وریخت کواپنے داخلی تجربے کے طورپر پیش کیا۔ انسان کی داخلی تنہائی ،ازلی پریشانی، آشوب آگہی کواپنی غزلیہ اورنظمیہ متون میں انجذاب کے عمل سے گزارکرایک جمالیاتی معروض میں تبدیل کردیا۔ یوں تو شہریار کی غزلیہ اورنظمیہ شاعری دونوں اپنی اپنی جگہ اہم اورممتاز ہیں۔ سردست ان کی نظمیہ شاعری مطالعہ کاموضوع ہے۔
شہریارکی نظمیہ شاعری ان کی غزلیہ شاعری کے مقابلے میں متعدد اعتبارسے فوقیت رکھتی ہے۔ تصورکائنات کی تبدیلی ، زندگی کے مستحکم اقدارکے ٹوٹنے بکھرنے اوراس پرشاعرکے ردعمل کے اظہاری پیکر میں ڈھلنے کے لیے غزل کی تنگ دامانی کا احساس ایسے موقع پر شدید ہوجاتا ہے ۔شہریارنے نہایت فن کاری کے ساتھ ان موضوعات کوان کے تمام تموجات کے ساتھ نظم کالباس عطا کیا ہے۔
شہریارکی نظموں کی مکمل تفہیم کاکوئی سراتلاش کیا جائے تووہ خواب اورشکست خواب کے حوالے سے تلاش کیا جاسکتا ہے ۔ ان کی نظموں میں خواب اورشکست خواب ایک اہم موتف کے طورپر استعمال ہوتاہوامحسوس ہوتاہے۔ خواب شکست خواب ایک دوسرے کے Binary oppositionکے طورپراستعمال ہوئے ہیں۔ اسم اعظم (۔۔۔) سے لے کر ان کے آخری شعری مجموعہ ’شام ہونے والی ہے‘ تک میں ان کی اکثرنظمیہ شاعری براہ راست یابالواسطہ طورپر خواب اور شکست خواب ہی کے گردگردش کرتی ہیں۔
شہریارکاخواب ایک عینیت پسند نظام سے عبارت ہے۔ ان نظموں کے بطون سے ایک ایسا سماج نموکرتاہوامحسوس ہوتا ہے جواعلیٰ انسانی اقدارپر استوار ہو۔ ’اسم اعظم‘ جوشہریارکاپہلاشعری مجموعہ ہے اس کاآغاز ہی نظم بعنوان ’خواب ‘ سے ہوتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
نغمگی آرزوکی بکھری ہے
رات شرمارہی ہے اپنے سے
ہونٹ امیدکے پھڑکتے ہیں
پاوں حسرت کے لڑکھڑاتے ہیں
دور پلکوںسے آنسووںکے قریب
نیند دامن سمیٹے بیٹھی ہے
خواب تعبیر کے شکستہ دل
آج پھر جوڑنے کوآئے ہیں
زندگی کو بدلنے کی آرزو یعنی امن وانصاف کی آرزو ہے ۔ایک نئے آدرش کے لیے امیدکے ہونٹ پھڑک رہے ہیں۔ اور نظم کے اختتام پر پھرٹوٹے دلوں کوجوڑنے کے لیے شاعرکمربستہ ہے۔ اسم اعظم ہی سے ایک نظم اورسماعت فرمائیے۔ اس کاعنوان ہے ’’خود فریبی‘‘۔
رات کی دیوار اٹھنے دے ابھی
شمع نومیدی کو جلنے دے ابھی
خشک ہونٹوں کی صداآنے کوہے
بھیگی زلفوں کی ہواآنے کوہے
نیند کی کالی گھٹا چھانے کوہے
اس دریچہ کی شکستہ انگلیاں
چھونے ہی والی ہیں گونگی بجلیاں
اپنے دل کو اپنی آنکھوںکو سنبھال
اورخلامیں خواب کا ساغر اچھال
رات کی دیوار اٹھنے دے ابھی
شمع نومیدی کوجلنے دے ابھی
اس نظم میں شاعر نامساعدحالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے خواب کا ساغر اچھالنے کی تلقین کررہاہے اوریہ کہتا ہے کہ امیدکا شمع بھی اسی خواب سے روشن ہوسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شہریار کی غزلوں میں لفظیات کے در و بست – اصغر شمیم )
اس بات کوتسلیم کرنے میں کسی کوکوئی تامل نہیں ہوگاکہ شہریارکے یہاں آدرش کاایک تصورملتا ہے جس کااظہار ان کے یہاں خواب اوران کے تلازمات کے بالواسطہ طرز اظہارسے ہوتاہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ترقی پسند ادب کا پورامنشور ہی مستحکم اقدار حیات کی بازآفرینی پرتھا۔ یہ بات بھی محتاج ثبوت نہیں کہ شہریارکی فکری تربیت ترقی پسند تحریک کے زیر اثرہوئی۔ ان تمام مشترک حالات کے باوجود شہریار کی نظمیہ شاعری ترقی پسندوں کے برعکس اکہرا بیان بننے سے بچی رہتی ہے۔ اس کے متعدد وجوہ ہیں ۔ ترقی پسندوں نے معاشرہ میں تبدیلی لانے کے لیے آدرش کے ظاہری مظاہر کو پیش کرنے پر اکتفا کیا ۔ حقائق کی تہہ میں اترے بغیر سطح آب پرتیرنے والی چیزوں پرتوجہ مرکوز کی۔ شہریارکے بھی مسائل قدرے اختلاف کے ساتھ وہی ہیں جوترقی پسندوں کے تھے، لیکن وہ ان مسائل کی تہہ میں اتر کر اپنی ذات کے حوالے سے مختلف تلازمات کے ساتھ انھیں پیش کرتے ہیں اورقاری کو غور و خوض کی دعوت دیتے ہیں۔ تجربے کو فنی تقلیب کے عمل سے گزار کر نظم کی تشکیل کرتے ہیں۔ نظم دیکھیے ’تلاش حق‘ ؎
ہاتھ کسی چراغ کی
لوکی طرف بڑھے ہوئے
ہونٹ کسی گلاب کو
چومنے کوکھلے ہوئے
آنکھ خلا کے آخری
نقطے کوڈھونڈھتی ہوئی
اس نظم میں چراغ کی لوکی طرف بڑھاہوا ہاتھ اکتساب نورسے کنایہ ہے ،گلاب کوچومنے کوکھلاہوا ہونٹ جذبہ محبت کے اظہارسے عبارت ہے،خلاکے آخری نقطے کوڈھونڈھتی ہوئی آنکھ کائنات کی جستجو کی طرف اشارہ ہے۔ آدرش کاانجام یقینی طورپر موت ہے۔ اِسی نظم کاآخری حصہ دیکھیے کہ ہم کس طرح Climaxسے روبرو ہوتے ہیں۔( یہ بھی پڑھیں شبلی کی استعمار شناسی (سوانح،سفرنامہ اورمقالات کے حوالے سے) – ڈاکٹر معیدالرحمن )
؎ ٹوٹی ہوئی صلیب کے
ساے میں خوںسے تربہ تر
ریل کی پٹریوں پہ اک
لاش ہے پھرپڑی ہوئی
شہریار کاخواب محض جذباتی پناہ گاہ یا من کی ترنگ نہیں ہے انسان کی روحانی اورجذباتی کرب کے حل کاسرچشمہ ہے۔ ان کایہ خواب ماضی سے بھی وابستہ محسوس ہوتاہے۔ نظم کاعنوان ہے’افسون امروز‘
؎ ابھی صبح فرداکے قصے نہ چھیڑو
ابھی دشت امروزمیں خاک اڑتی ہے
بھٹکے ہوئے قافلوں کی
ابھی آنکھ جھپکی نہیں فاصلوں کی
ابھی خیمہ خواب، ناکامی ونامرادی کی چنگاریوں سے
بچاے ہے خودکو
ابھی روح کوجسم کے غارمیں کوئی کھٹکا نہیں ہے
ابھی دل دھڑکتاہے ،آنکھیں ہیں روشن
ابھی صبح فردا کے قصے نہ چھیڑو
اسی قبیل کی ایک نظم اورملاحظہ کیجیے۔نظم کاعنوان ہے’’آرزو‘‘ ؎
سوتے سوتے چونک اٹھی جب پلکوں کی جھنکار
آبادی پرویرانے کاہونے لگاگمان
وحشت نے پر کھول دیے اوردھندلے ہوئے نشان
ہرلمحے کی آہٹ بن گئی سانپوں کی پھنکار
ایسے وقت میں دل کوہمیشہ سوجھاایک اپائے
کاش کوئی بے خواب دریچہ چپکے سے کھل جائے
مقدم الذکر نظم میں ناکامی ونامرادی سے خیمہ خواب کے بچے رہنے پرشاعرنے اطمینان کااظہار کیاہے۔ اسی طرح موخر الذکر نظم میں وحشت کی کیفیت میں شاعرکسی بے خواب دریچہ کے کھلنے کی آرزو کررہاہے۔ دراصل شہریارکوئی محدود رینج کا شاعر نہیں ہے۔ عقلیت پسندی کے غلبہ کے سبب تمام انسانی مسائل کے حل کے لیے عقل کو پیمانہ بنانے پراصرار کیاجانے لگا تووجدان کوایک سرچشمہ علم کی حیثیت سے لوگوں نے پس پشت ڈال دیا۔ روحانی کرب کے ازالہ کے لیے انسانی نفسیات کے اسرارورموز سے سطحی واقفیت حاصل کرکے دانشوروں نے اپنی فتح مندی کااعلان تو کردیا لیکن معاملہ جوں کاتوں رہا۔ خواب، معرفت اوروجدان کے کسی متبادل تک رسائی سے انسانی عقل ابھی تک قاصر ہے۔ ایسے وقت میں شہریار کی یہ دعابہت معنی خیز معلوم ہوتی ہے کہ ؎
چشم خونبار میں خواب اترے کوئی
آخرشب ہے مہتاب ابھرے کوئی
شہریارکاخواب جنوںخیزی کاپیش خیمہ اورمحرک ہے۔ ان کے نزدیک جنون ایک اہم آدرش ہے جسے تعقل پسندوں نے اپنی نام نہادترقی کی راہ میں مزاحم جانااور اسے ٹاٹ باہر کردیا۔ عشق کے فقدان کوشہریار نے کتنے ڈرامائی اورطنزیہ تمثیل کے ساتھ پیش کیا ہے نظم ملاحظہ کیجیے عنوان ہے ’’نئی کہانی ‘‘ ؎
یہ کہانی سنی نہ ہوگی کبھی
یہ فسانہ پڑھانہ ہوگاکبھی
صبح کی آرزو میں ساری رات
سرخ نیلے، ہرے، سیاہ پتنگ
شمع کے گرد رقص کرتے رہے
اورسلامت رہے سبھی کے سر
اورسلامت رہے سبھی کے سر
اورسجل اورسبک سفیدسفید
موم کے مقبرے رہے خالی
اوراس بے مثال منظرکو
صرف دوآنکھیں دیکھنے والی
شہریارنے انفرادی اوراجتماعی Disillusionmentکونہایت فن کاری کے ساتھ مختلف پیکروں اورتلازموں کے ساتھ پیش کیاہے۔ انسانی زندگی کی بے سمتی ،بے چینی ،لاحاصلی کو اپنی ذات کے حوالے سے بیان کیاہے۔نظم دیکھیے ’’وہ آسماں‘‘
؎ آسماں دکھ کے غموں کے آسماں/آسماں سیراب جوکرتے زمیں، دل کی زمیں، کوتھے سدا/جن سے سیکھی ہم نے جینے کی ادا/بے حسی کے بادلوں کی دھندمیں گم ہوگئے /وہ آسماں
اس نظم میں آسمان ایک ایسی قدرکااستعارہ ہے جس سے دل سیراب ہواکرتاتھا جس سے حیات بخش عناصر ملاکرتے تھے لیکن وہ بے حسی کے بادلوں میں گم ہے۔ اس سے اشارہ مذہب کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔
اسی طرح نظم ’’افتاد‘‘ میں شاعر خداکے گیت گانے والوں کی خموشی پرنوحہ کناں ہے ؎
دیکھتے دیکھتے چپ ہوگئے سب /وہ بھی ، جونیند کی شبنم میں نہاکر/کسی نادیدہ حسیں شکل کے دیدارکی لذت کے بھجن گاتے تھے/وہ بھی جوآنکھوں کے طاقوں میں چراغاں کرکے/چیختے تھے کبھی روتے تھے، کبھی ہنستے تھے/وہ بھی جوزخموں کے پھولوں میں لدے/آسمانوں کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے کرتے تھے دعا/کیسی افتاد پڑی آخرشب/دیکھتے دیکھتے چپ ہوگئے سب۔
اسی طرح ’’خطرے کاسائرن ‘‘بھی اقدارکے شکست وریخت پرمبنی نظم ہے۔ اس کے علاوہ مآل، لازوال سکوت ، اب کے برس، نیاامرت، زوال کی حد، رات دن اورپھررات جیسی نظمیں لاحاصلی اوربے سمتی کوبیان کرتی ہیں۔
شہریارکی نظمیں فنی اعتبارسے بہت بلندہیں۔ ان کی نظموں کالہجہ دھیما اورفضاپراسرار ہے۔ غزل کے رمزوایما کی صفت کو انھوں نے اپنی نظموں میں بروئے کارلاکر اپنے منفرد لہجے کومستحکم کیا ہے۔ اس سے ان کی نظموں میں گفتگو کرتی ہوئی خاموشی کااحساس ہوتاہے۔ نظم ملاحظہ کیجیے عنوان ہے ’’بدن کے آس پاس‘‘ ؎
لبوں پہ ریت ہاتھوں میں گلاب/اورکانوں میں کسی ندی کی کانپتی صدا/یہ ساری اجنبی فضا/مرے بدن کے آس پاس آج کون ہے/
شہریارکی نظموں میں پیکروں کی بہتات کی وجہ سے ایک تصویر نموکرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔بصری ،سمعی، حسی تقریبا ہر طرح کے پیکراستعمال ہوئے ہیں۔ مخصوص فضاقائم کرنے کے لیے تلازمات کااستعمال بھی بکثرت کیے گئے ہیں۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ وہ معنوی ولفظی مناسبتوں کااستعمال بھی بحسن وخوبی کرتے ہیں۔ اس طرح شہریار کلاسیکی روایت سے استفادہ اوراس کی توسیع بھی کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ شہریار، پیکروں،تلازمات اورلفظی ومعنوی مناسبتوں کے استعمال سے اپنی نظموں کومکمل طورپر عضویاتی کل میں منقلب کردیتے ہیں۔
شہریارکی نظموں میں خواب، دھند، ریت ،ندی اوراس سے ملتے جلتے تلازمات کے استعمال بہت بامعنی ہیں۔ ان پیکروں سے ایسی تصویر قائم ہوتی ہے جس کی فضادھندلی اورغیرواضح ہوتی ہے۔ ایسالگتا ہے کہ شہریار اس شعوری یاغیر شعوری کوشش کے ذریعہ اپنارشتہ Impressionistic paintingسے استوار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ عالمی سطح پر وجودیت کے زیراثر ادب تخلیق کرنے والوں کے یہاں دھندبھری فضادیکھنے کوملتی ہے۔نظم ملاحظہ کیجیے ۔ عنوان ہے ’’حیران کرنے والی ایک بات‘‘ ؎
ڈوبتی شام کے اس پار
کھڑے تھے جولوگ
ہم نے ان آنکھوں سے دیکھا ہے
کہ ان لوگوں کی
مٹھیاں بند تھیں
یہ ریت کہاںسے آئی
شہریارکی نظموں میں خواب اورشکست خواب یہ دونوں ایسے اہم نکتے ہیں جن کی بنیاد پر ان کی نظموں کی خاطرخواہ تفہیم ممکن ہے۔ خواب اورشکست خواب کے تصادم سے ان کے یہاں آئرنی کی ایک تفکر آمیز فضاملتی ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتاہے کہ شہریارکے یہاں تھکن اور ناامیدی کے رویے غالب ہیں لیکن امرواقعہ اس کے برعکس ہے۔ وہ اس کائنات کی تعمیروتشکیل سے ناامید نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں ’’خواب کادربند ہے‘‘ سے ایک نظم ملاحظہ کیجیے ۔نظم کاعنوان ہے ’’فیصلہ کی گھڑی ‘‘ ؎
بارشیں پھرزمینوں سے ناراض ہیں/اورسمندر بھی سبھی خشک ہیں /کھردری سخت بنجرزمینوں میں کیا بوئیے اور کیا کاٹیے/ آنکھ کی اوس کے چندقطروں سے کیا ان زمینوں کو/سیراب کرپاوگے /گندم وجوکے خوشوں کی خوشبو تمہارا مقدر نہیں/ آسمانوں سے تم کورقابت رہی/اورزمینوں سے تم بے تعلق رہے/ریڑھ کی ایک ہڈی پہ تم کو بہت نازتھا/یہ گماں بھی نہ تھا /ایک دن بے لہو یہ بھی ہوجائے گی/فیصلے کی گھڑی آگئی کچھ کرو/تتلیوں کے سنہرے، ہرے ،سرخ، نیلے، پروں کے لیے/آنکھ کی اوس کے چند قطروں سے بنجرزمین کے /کسی گوشے میں/پھول پھرسے اگانے کی کوشش کرو/
محولہ بالا معروضات کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ شہریارکی نظمیہ شاعری کی تفہیم کے لیے خواب اورشکست خواب کو ایک اہم موتف کے طورپر دیکھاجاسکتا ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری میں خواب متعدد معنوی ابعاد کاحامل ہے۔ ان کی نظموں کابیانیہ بہت گٹھاہوا اور فنی اعتبارسے منفرد ہے۔ شہریار کی نظمیہ شاعری ایک طویل عرصے تک قاری کی مسرت وبصیرت میں اضافہ کرتی رہے گی۔
ڈاکٹرمعیدالرحمن
اسسٹنٹ پروفیسرشعبۂ اردو،
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،علی گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

