اردو زبان کے چند ہی شعراء کو اپنے دور کی نمائندگی کا شرف حاصل ہوا۔ میرؔ، غالبؔ،اقبالؔ اور فیضؔ نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنی نسل کے ترجمان ہیں۔ ترقی پسند تحریک کے بعد ناصرؔ کاظمی، خلیل الرحمان اعظمیؔ اور انشا ؔنے میرؔ کے لب و لہجے میں غمِ روزگار اور شکستِ ذات کی ترسیل کو آفاقی مسائل کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ جدید شاعری کے حوالے سے ظفرؔ اقبال،بانیؔ اور شہریارؔاس راہ پر گامزن رہے۔ اور جدید غزل کی علامت بن گئے۔ شہریار کی ایک مشہور غزل کے چند اشعار ملاحظہ کریں:
زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے
ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے
گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے
اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے
اب جدھر دیکھیے لگتا ہے کہ اس دنیا میں
کہیں کچھ چیز زیادہ ہے کہیں کچھ کم ہے
گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازے جانے کے بعد سامعین سے خطاب کرتے ہوئے شہریا ر نے کہاتھا۔۔”ہماری خوش فہمی ہے کہ ہم ایسی دنیا میں جی رہے اور سانس لے رہے ہیں جہاں سبھی ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرتے اور شریک غم رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے یکساں جذبات محسوس کرتے ہیں۔۔“ انہوں نے کہا کہ ایک فنکار کی ذمہ داری اپنے شاہکار سے دنیا کو خوبصورت اور دلفریب بنانا ہے اور میرا تعلق بھی اس قبیل سے ہے۔ میری دعا ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں یہ فرض انجام دیتا رہوں۔ اور اس موقع پر انہوں نے اپنا یہ شعر پڑھا تھا:
ایک ہی دھن ہے کہ اس رات کو ڈھلتا دیکھوں
اپنی ان آنکھوں سے سورج کو نکلتا دیکھوں
ایک فنکار کی حیثیت سے شہریا ر نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی اور زندگی کو خوبصورت بنانے کی حتی الاامکان کوشش کی لیکن اسی کے ساتھ اس بابت نہ وہ کسی خوش فہمی کا شکار رہے اور نہ اپنے قاری کو کسی دھوکے میں رکھا۔ وہ زندگی کی حقیقتوں کو کھوکھلی آنکھوں سے دیکھنے کے قائل رہے اور یہی تلقین وہ اپنے قاری کو بھی کرتے رہے:
جاگتی آنکھوں سے بھی دیکھو دنیا کو
خوابوں کا کیا ہے وہ تو ہر شب آتے ہیں
شہریار نے اپنی غزلوں میں الفاظ و تراکیب کی جو صورتیں استعمال کی ہیں وہ روایتی غزل اور ترقی پسند غزل سے خاص مختلف نظر آتی ہیں۔ خواب، شہر اور رات جیسے بہت سے الفاظ اور مرکبات ہیں جنہیں شہریار نے اپنے طور پر استعمال کیا ہے۔ چند اشعار دیکھیں : (یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کا تفصیلی مطالعہ۔ حصّہ اوّل ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
تمام خلق خدا دیکھ کے یہ حیراں ہے
کہ سارا شہر میرے خواب سے پریشاں ہے
ماحول میرے شہر کا ہاں پُر سکوں نہ تھا
لیکن بٹا ہوا یہ قبیلوں میں یوں نہ تھا
آنکھوں کو سب کی نیند بھی دی خواب بھی دئے
ہم کو شمار کرتی رہی دشمنوں میں رات
لفظی مرقع نگاری اور خوبصورت الفاظ کے انتخاب میں شہریار نے جس حسن انتخاب اور قرینے کا ثبوت دیا وہ ان کی انفرادیت کی دلیل ہے۔ ان کی شاعری میں سادہ، سلیس اور عام فہم انداز میں جذبات نگاری کی جو شانِ دلربائی ہے وہ قاری کو حیرت زدہ کر دیتی ہے اور اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ اس حوالے سے چند اشعار ملاحظہ کریں :
ہر طرف اپنے کو بکھرا پاؤگے
آئینے کو توڑ کے پچھتاؤگے
جب بدی کے پھول مہکیں گے یہاں
نیکیوں پر اپنی تم شرماؤگے
ایسا نہیں کہ اس کو نہیں جانتے ہو تم
آنکھوں میں میری خواب کی صورت بسے ہو تم
دوری کی کوئی حد، کوئی منزل نہیں ہے کیا
کیسے کہوں کہ یاد بہت آ رہے ہو تم
سائے اور پرچھائیں یہ سب ایک علامت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک لفظ ایک علامت یا ایک رنگ کی مدد سے صد رنگی کیفیت پیدا کرنا شہریار کے کمالِ فن کی دلیل ہے۔ جدید اردو شاعری میں تنہائی کا جو تصور ہے اس میں لفظ پرچھائیں کو شہریار نے گنجینۂ مُعانی کا طلسم بنا دیا :
پہلے تجھے دیکھا تھا پرچھائیں کی صورت میں
پھر جسم ترا میری رگ رگ میں اتر آیا
وہ اُدھر اُس طرف ذرا دیکھو
ایک پرچھائیں اوس سے تر ہے
میرے ہمراہ ابھی تک پر چھائیں ہے
تم نے چاہا تھا بہت مجھکو اکیلا دیکھو
شہریا ر کی شاعری میں ہر لفظ گنجینۂ مُعانی کا طلسم ہے۔ ہر لخط نیا طور نئی برق تجلی کی کیفیت ہے جس کی چکا جوند سے قاری حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں آزادی کے بعد مغربی بنگال میں ممتاز نظم گو شعرا – اصغر شمیم)
شہریا ر کی شاعری سے میں سادگی اور پُرکاری ہے۔ وہ مشکل زبان استعمال نہیں کرتے وہ بڑے سے بڑے واقعہ کو آسان لفظوں میں پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شہریار کی شاعری دل کو چھو کر دماغ تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ شعر دیکھیں :
کیا عجب رسم ہے دستور بھی کیا خوب ہے
آگ بھڑکانے کوئی، کوئی بجھانے آئے
شہریا ر نے اپنی شاعری میں قدیم لفظوں اور اصطلاحوں سے کام لے کر بھی ان میں نئے مفاہیم پیدا کئے ہیں اور قاری کو نئے طور سے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں :
شام کی دہلیز تک آئی ہوا
اور پھر آگے نہ چل پائی ہوا
عہد گل کے سبھی آثار ہوا لے جاتی
زرد پتوں کو بہت دور ہوا لے جاتی
شہر یار نے اپنی غزلوں میں خاص اصطلاحات والفاظ کے ذریعہ کربلا کے واقعہ کو ایک شعری استعارے کی شکل میں پیش کیا ہے۔ اس حوالے سے چند اشعار ملاحظہ کریں:
حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیں
یہ لوگ کیسے ابھی تک گھروں کے اندر ہیں
شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو
میں دیکھتا رہا دریا تیری روانی کو
سرخی ذرا سی خواب کے خنجر پہ دیکھ کر
سب رو رہے ہیں چادر شب سر پہ دیکھ کر
شہریار کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ انہوں نے الفاظ کو اپنے طور پر استعمال کیا ہے یہی سبب ہے ان کی غزلیں دور سے ہی پہچان لی جاتی ہیں انہیں کسی شناخت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی :
مرے حصے کی زمیں بنجر تھی میں واقف نہ تھا
بے سبب الزام میں دیتا رہا برسات کو
سائے پھر سائے ہیں ڈھل جائیں گے سورج کے ساتھ
یہ حقیقت تلخ ہے لیکن اسے سوچو ذرا
آپ شہریار کی غزلوں کو دیکھیں اس میں لفظ خواب اور اس کے تلازمات کا تذکرہ مختلف جہتوں سے تسلسل کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ خواب کے حوالے سے ان کے چند اشعار دیکھیں :
جو چاہتی ہے دنیا وہ مجھ سے نہیں ہوگا
سمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگا
کچھ بھی نہیں تو خواب کی طرح دکھائی دے
کوئی نہیں جو ہم کو جگائے جھنجھوڑ کر
دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہو
خواب دیکھو کہ حقیقت سے پشیمانی نہ ہو
ہر خواب کے مکاں کو مسمار کر دیا ہے
بہتر دنوں کا آنا دشوار کر دیا ہے
شہریار نے لہجے کے دھیمے پن، الفاظ کی آہستہ مزاجی اور فکر کی گہرائی کے امتزاج اور ارتباط کے ذریعے اپنی مخصوص داخلی تہذیب کو ایک واضح شکل دی ہے اور کئی بہترین تخلیقی پیکر تراشے ہیں :
کتنا باقی ہے سفر اہل جنوں کا دیکھ
دشت تو ختم ہوا شہر کا نقشہ دیکھ
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ شہریار الفاظ کو فرغُلوں میں لپیٹ کر پیش نہیں کرتے بلکہ عام فہم انداز میں اپنے جذبات، احساسات اور تجربات کواشعار کے قالب میں ڈھالتے ہیں اور قاری چشم تصور سے ان تمام تجربات کا منظر نامہ دیکھ لیتا ہے۔ شہریار آج ہمارے بیچ موجود نہیں مگر انہوں نے اردو شاعری کو بلند مقام عطا کرنے میں اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔ :
آسماں کچھ نہیں اب تیرے کرنے کے لئے
میں نے سب تیاریاں کرلی ہے مرنے کے لئے
اصغر شمیم، کولکاتا
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

