اٹھارہویں صدی میں مغرب نے مشرق پرسیاسی، فکری اور تہذیبی اعتبار سے جس درجہ کاحاکمانہ تسلط اختیار کرلیا تھا اس کے پس پردہ علمیات کی قوت کارفرما تھی۔ مغرب نے مشرق کو ایک طویل عرصے تک اپنے مطالعہ کاموضوع بنایا۔ یہ مطالعہ مشرق،اس کے علوم وفنون اورتہذیب وسیاست کوجاننے کی غرض سے نہیں کیاگیاتھا بلکہ اس کامقصد ایک ایسی علمیات وضع کرنا تھا جس کامحرک حاکمیت اوراقتدار کافلسفہ تھا۔ مشرق کے بارے میں مغرب کایہ علمیاتی تصور ہمہ گیر اور آفاقی تھا۔ یہ علمیاتی ڈسکورس مشرق کے تصورکائنات، تصورعلم، تصورشخص، تصورتہذیب اورتصور مذہب غرض کہ تمام مظاہرحیات کومحیط تھا۔سوال یہ ہے کہ کیا بالعموم مشرقی اوربالخصوص ہندوستانی دانشور مغرب کے اس علمیاتی ڈسکورس سے نابلدتھے۔ انیسویں صدی میں سرسید، ڈپٹی نذیراحمد، محمدحسین آزاد، حالی، ذکاء اللہ اور شبلی جیسے نابغہ جلوہ افروز تھے۔ کیایہ لوگ اس تبدیلی کے ادراک سے قاصر رہے جو مشرق کی تاریخ اورتہذیب کے حوالے سے رونماہورہی تھی۔کیایہ حضرات اس درجہ ناعاقبت اندیش تھے کہ وہی بولتے،وہی سوچتے،وہی خواب دیکھتے جوانگریز بہادرکامنشاہوتاتھا۔ اس حقیقت سے انکارنہیں کیاجاسکتاکہ 1857 کے قیامت خیز مناظر نے افراد سے سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کرلی تھی۔ اس عہدکے ارباب عقل وخرد ساکت وصامت تھے حالات نے انھیں اس قدر مجبور اورمحتاط بنادیا تھا کہ وہ زندگی کے تمام مظاہر میں انگریزی آقاؤں کی خوشنودی کے حصول کو دانشوروی کا معیار گرداننے لگے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں شبلی، مکاتیبِ شبلی اور ندوۃ العلما – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
ایسی صورت حال میں اس عہد کے دانشوروں کے بارے میں یہ رائے قائم کرناکہ ان افراد نے نوآبادیاتی افکار کو مقبول بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا کس حدتک درست ہے۔ یا انھیں نوآبادیاتی آلہ کار قرار دینا تاریخ کے ایک ہی پہلو کو سامنے رکھ کر فیصلہ دینے کے مترادف تو نہیں۔ شمس الرحمن فاروقی کاکہنا ہے کہ”مولانا محمد حسین آزاد،مولاناحالی، علامہ شبلی، نذیر احمد ان سب بڑے لوگوں نے مغربی یعنی نو آبادیاتی حاکم کے نظام افکار کو مقبول بنانے میں بہت کام کیا۔“ (نوآبادیاتی شعریات اور ہم، مشمولہ دانش، آرٹس فیکلٹی جرنل،2010-2011)
مذکورہ دانشوروں کے بارے میں فاروقی صاحب کی راے جزئی صداقت پرمشتمل محسوس ہوتی ہے۔یہ ایسالگتاہے کہ یہ رائے1857 کے حالات کو مدنظر رکھے بغیرقائم کی گئی ہے۔ ان علما کے بارے میں اس نوع کا نظریہ قائم کرنے میں فاروقی
صاحب تن تنہا نہیں ہیں بلکہ نوآبادیاتی تنقیدکی بنیاد ہی اسی پر استوار ہے۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا سرسید، محمدحسین آزاد، حالی، نذیر احمد اور علامہ شبلی کو مغربی استعمار کے علمیاتی ڈسکورس کا شعور نہیں تھا۔ کیا وہ حضرات اس سے بے خبر تھے کہ مشرق کی تاریخ، تہذیب، سیاست اورمذہب کے بارے میں جس نوع کے افکار فروغ دیے جارہے ہیں اس کے محرکات سیاسی ہیں۔ کیاان لوگوں نے نوآبادکاروں کے ڈسکورس کے قیام میں مزاحم ہونے سے گریز کیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ 1857 کے انیسویں صدی میں موجود دانشوروں میں علامہ شبلی نوآبادیات کے علمیاتی ڈسکورس کا گہراعرفان رکھتے تھے وہ اس کے مضمرات سے بخوبی آگاہ تھے۔ اس کااندازہ شبلی کی غیرتنقیدی تحریروں،سوانح نگاری، سفرنامہ اورمقالات کے مطالعہ سے ہوتاہے۔ شبلی کی تمام غیرتنقیدی تحریریں مشرقی علوم کی عظمت اور مشرقی طرزحکومت کی خصوصیات، مشرقی خلفا، مشرقی فلاسفہ کے کارناموں کی مناظرانہ اندازمیں پیش کش مغرب کے علمیاتی ڈسکورس کے ابطال سے عبارت ہیں۔
نوآبادیاتی ڈسکورس سے شبلی کی واقفیت کا اندازہ لگانے کے لیے ذیل کااقتباس ملاحظہ کیجیے:
”یورپ نے کسی زمانے میں مسلمانوں کے خلاف جوخیالات قائم کرلیے تھے ایک مدت تک وہ علانیہ اس طریقے سے ظاہر کیے جاتے تھے کہ مذہبی تعصب کا رنگ صاف نظر آتا تھا اور اس وقت قبول عام کا یہی بڑاعمدہ ذریعہ تھا لیکن جب یورپ میں مذہب کازورگھٹ گیا اورمذہبی ترانے بالکل بے اثر ہوگئے تو اس پالیسی نے دوسرا پہلو بدلا، اب یہ طریقہ چنداں مفید نہیں سمجھاجاتاکہ مسلمانوں کی نسبت صاف صاف متعصبانہ الفاظ لکھے جائیں بلکہ بجائے اس کے یہ دانش مندانہ طریقہ اختیار کیاگیا ہے کہ اسلامی حکومتوں، اسلامی قوموں، اسلامی معاشرت کے عیوب تاریخی پیرایہ میں ظاہرکیے جاتے ہیں اور عام تصنیفات،قصوں، ناولوں، ضرب المثلوں کے ذریعہ سے وہ لٹریچر میں اس طرح جذب ہوجاتے ہیں کہ تحلیل کیمیاوی سے بھی جدا نہیں ہوسکتے۔“ (سفرنامہ روم ومصروشام،ص14)
نوآباد کار جن ممالک پر اپناتسلط جمانے کے خواہاں ہوتے ہیں،ا ن کاپہلا حربہ یہ ہوتاہے کہ وہ وہاں کی تاریخ کے بیانیہ کو مسخ کردیتے ہیں۔ کتب خانہ اسکندریہ کے حوالے سے شبلی کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
”اگرچہ ایک زمانہ دراز سے یورپ کو مسلمانوں کے حالات سے واقف ہونے کے ذریعہ حاصل ہیں۔ لیکن موجودہ علم تاریخ کی ابتداجس دورسے شروع ہوتی ہے وہ کروسیڈ یعنی صلیبی لڑائیاں ہیں، اس زمانے میں یورپ نے مسلمانوں کو جس حیثیت سے جانا اور پہچانا وہ صرف یہ حیثیت تھی کہ مسلمان جنگجو ہیں، غارت گرہیں،وحشی ہیں اورسب سے بڑھ کر یہ کہ مقدس صلیب اور عیسائیوں کے قبلہ بیت المقدس کے دشمن ہیں۔“(مقالات شبلی،ج/6،ص91) (یہ بھی پڑھیں خطباتِ شبلی کی دانش ورانہ جہت – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
شبلی نے اپنی دوراندیشی اورتبحرعلمی کے سبب استعماری نظام کی حرکیات کو مکمل طورپر اپنی گرفت میں لے لیاتھا۔ وہ نوآبادکاروں کے اس حربے سے واقف تھے کہ نوآبادکار اپنے ایجنڈے کی ترویج واشاعت کے لیے تعلیمی اداروں کو موثر وسیلہ خیال کرتاہے۔ استعماری طاقتوں کے زیر اہتمام علمی اداروں کے قیام کے مضمرات کی تفہیم شبلی کو اپنے معاصرین میں ممتاز بنا دیتی ہے۔اخیر اٹھارھویں صدی کے مستشرقین کے علمی کارناموں کاجائزہ لیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
”یہ وہ زمانہ ہے جب یورپ کی قوت سیاسی، اسلامی ممالک میں پھیلنی شروع ہوگئی، جس نے اورینلسٹ کی ایک کثیر التعدادجماعت پیداکردی، جنھوں نے حکومت کے اشارہ سے السنہ مشرقیہ کے مدارس کھولے، مشرقی کتب خانوں کی بنیادیں ڈالیں، ایشیاٹک سوسائیٹیاں قائم کیں، مشرقی تصنیفات کی طبع واشاعت کے سامان پیداکیے اورینٹل تصنیفات کا ترجمہ شروع کیا۔“ (سیرت النبی،ج1،ص58)
نوآبادکارجس علاقے پر اپنااقتدار قائم کرناچاہتاہے،اس علاقے کے افراد،وہاں کی تاریخ وتہذیب اورمذہب کے بارے میں منفی مفروضات کا ایک نظام وضع کرتا ہے۔ اس کامقصد وہاں کے باشندوں میں احساس کمتری،بیچارگی، اپنے آپ سے نفرت، اپنے اسلاف سے نفرت، اپنی تہذیب اور اپنے مذہب سے نفرت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد نوآبادکار زیرِہدف ممالک کے باشندوں کے سامنے ایک ایسا نظام زندگی پیش کرتاہے جو استعماری ایجنڈے کوبروے کارلانے میں ممدو معاون اور وہاں کے اہالیان کے لیے دلکش ہوتاہے۔ شبلی نے اس استعماری فریب کی بیخ کنی کے لیے ناموران اسلام کی سوانح عمری کا سلسلہ شروع کیا۔المامون (1887)،الفاروق(1889)،سیرۃ النعمان(1889)،الغزالی(1902)، سوانح مولانا روم (1906)،اورنگ زیب عالمگیر پرایک نظر(1909) سیرۃ النبی جلداول(1918)، جلددوم (1918)اسی سلسلۃ الذہب کی یادگار ہیں۔
مذکورہ سوانح عمریاں محض حیات وخدمات کابیانیہ نہیں ہیں بلکہ ان کامقصد اہل مشرق کو نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کی زائیدہ احساس کمتری سے نکالناہے۔ مستشرقین کی جانب سے اسلام اور مشرقی خلفاپر جو الزامات عائدکیے گئے ان کاجواب فراہم کرنا ہے۔ ان سوانح عمریوں کے دیباچے میں موضوع بحث شخصیت کے متعلق مستشرقین کی غلط بیانیوں کاتذکرہ اورتجزیہ کیاگیا ہے ان کی تردیدکے لیے مغرب کے معتبر مورخین کے اقوال نقل کیے گئے ہیں۔
الفاروق کے دیباچے میں یورپ کی اُس طرز تاریخ نویسی کاذکرکیاگیاہے جس پر استعماری نظام کی بنیاد ہے وہ تحریر کرتے ہیں ”اہل یورپ کاعام طرزیہ ہے کہ وہ واقعہ کواپنے اجتہاد کے موافق کرنے کے لیے ایسی ترتیب اوراندازسے لکھتے ہیں واقعہ بالکل ان کے اجتہاد کے قالب میں ڈھل جاتاہے اورکوئی شخص قیاس اوراجتہاد کو واقعہ سے الگ نہیں کرسکتا۔“ (ص،17) (یہ بھی پڑھیں خطۂ اعظم گڑھ کی تعلیمی ترقی میں شبلی کا حصہ – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض)
حضرت عمرفاروق کی فتوحات وسیع وعریض خطہ کو محیط ہیں ان میں اس عہد کی عظیم طاقتوں روم وفارس پر غلبہ بھی شامل ہے۔ ظاہرسی بات ہے کہ اس کے پس پردہ حضرت عمرکی عسکری قوت، انتظامی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کادخل ہے لیکن مغربی مورخین نے حضرت عمرکی فتوحات اور کارناموں کی تخفیف کے لیے یہ بیان کیاہے کہ ان کاروم اورفارس پر غالب آجانا کوئی معرکہ کی بات نہیں تھی کیونکہ”اس وقت فارس وروم دونوں سلطنتیں اوج اقبال سے گرچکی تھیں… دربار کے عمائد وارکان میں سازشیں شروع ہوگئی تھیں۔“(الفاروق،ج2،ص2)
شبلی نے یورپین مورخین کی رائے کی غلطی کے عنوان کے تحت لکھاہے”یہ جواب گو واقعیت سے خالی نہیں لیکن جس قدر واقعیت ہے اس سے زیادہ طرزاستدلال کی ملمع سازی ہے جویورپ کاخاص اندازہے۔بے شبہ اس وقت فارس وروم کی سلطنتیں اصلی عروج پرنہیں رہی تھیں لیکن اس کاصرف اس قدر نتیجہ ہوسکتاتھا کہ وہ پرزورقوی سلطنت کامقابلہ نہ کرسکتیں نہ یہ کہ عرب جیسی بے سروسامان قوم سے ٹکراکر پرزے پرزے ہوجائیں۔ روم وفارس گو کسی حالت میں تھے تاہم فنون جنگ میں ماہر تھے….البتہ اس کے ساتھ اوربھی چیزیں مل گئی تھیں جنھوں نے فتوحات میں نہیں بلکہ قیام حکومت میں مدددی، اس میں سب سے مقدم چیز مسلمانوں کی راست بازی اوردیانت داری تھی۔“(الفاروق،ج2،ص4)
مستشرقین نے پوری دنیاکویہ باورکرایا کہ مسلمان علم دشمن ہیں انھوں نے اسکندریہ کاکتب خانہ جلادیا۔ شبلی لکھتے ہیں:
”اس واقعہ کو یورپ نے جس بلندآہنگی سے مشہورکیا ہے،حقیقت میں وہ نہایت تعجب انگیز ہے، تاریخیں، ناولیں، حکایتیں، مثلیں، افسانے،قصہ طلب حوالے، روزمرہ کے محاورے ایک چیز بھی اس صدا سے خالی نہیں۔ادب اورلٹریچر کاتوکیا ذکرہے منطق وفلسفہ بھی اس کے اثرسے محروم نہ رہے۔“ (مقالات شبلی،ج۶،ص93)
اس واقعہ کی تردیدکے لیے شبلی نے جواسلوب اختیار کیاہے وہ پس نوآبادیاتی تنقیدکے لیے ایک پیش منظرکی حیثیت رکھتاہے۔ شبلی نے مستشرقین کے تاریخی بیانیے کی غلطیوں کی نقاب کشائی کرتے ہوئے لکھاہے:
”تاریخی واقعات کے متعلق یورپ کاجوطرزبحث ہے وہ اکثرکسی پہلوکاقطعی فیصلہ نہیں ہونے دیتا۔ اصل روایت کو چھوڑکردرایت وقیاسات پربحثیں شروع ہوجاتی ہیں اوربہت سی فروعی باتیں بحث طلب قرارپاجاتی ہیں، رفتہ رفتہ ایک بڑا مسئلہ تیارہوجاتاہے۔“ (مقالات شبلی،جلدششم،ص94)
شبلی نے اس تاریخی غلطی کے ازالے کے لیے گبن، کارلائل، گاڈفری، مگنز، باسورتھ، رینان اورسیدیووغیرہ معتبر مغربی مورخین کاحوالہ دیاہے۔
امام ابوحنیفہ کی سوانح تحریرکرتے ہوئے شبلی نے مستشرقین کے اس اعتراض کاجواب دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی قانون پررومی قانون کااثرہے اورفقہ حنفی رومن لاسے ماخوذ ہے۔ شبلی نے مسٹر شیلڈن ایموزکی کتاب Romen civil lawsسے اسلامی قانون پراس کااعتراض نقل کیاہے جو اس طرح ہے:
”مشرق میں دفعتاً ایک بالکل جدیدطبع زاد و قائم بالذات سلسلۂ قانون کاپیداہوجاناجس کی نسبت دعویٰ کیاگیاہے کہ وہ قرآن وحدیث پر مبنی ہے، ایک ایسی عجیب بات ہے کہ خواہ مخواہ یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ شریعت اسلامی کی نسبت جودعویٰ کیا جاتاہے کہ اس کی تاریخی بنیاد کیاہے؟ علاوہ دوسری شہادتوں کے مورخانہ قیاس اس دعوی کے سخت مخالف ہے۔“(حاشیہ سیرۃ النعمان، جلد2، ص159۔ 160)
شبلی نے مدلل اندازمیں اس کی تردیدکرتے ہوئے لکھاہے:
”اسلامی علوم کیوں کرپیداہوئے اوراس وسعت کوکیوں کر پہنچے، آنحضرتﷺ کے زمانے میں تفسیر، حدیث، اصول حدیث، اصول فقہ، اسماء الرجال کے کتنے مسائل پیداہوئے تھے، کیاآج یہ سب علوم جداگانہ فن نہیں ہیں؟ کیاان سے مسلمانوں کی دقت نظر، تیزی طبع، وسعت خیال کا اندازہ نہیں ہوتا؟ کیا یہ علوم وفنون بھی مسلمانوں نے روم ویونان سے سیکھے۔“
(حاشیہ سیرۃ النعمان، ص163)
نوآبادکاروں نے مشرق کے متعلق جہالت کے علاوہ یہ پروپیگنڈہ کیاکہ وہ توہم پرست ہوتے ہیں۔ اشیاکو دیکھنے کے لیے غیر تعقلی رویہ اختیارکرتے ہیں۔استعماری طاقتوں نے اپنے ایجنڈے کی توسیع کے لیے یہ باور کرنے کی کوشش کی کہ عقلیت پسندی صرف مغرب سے مخصوص ہے۔
شبلی نے امام غزالی کی سوانح کے توسط سے یہ ثابت کرنے کافریضہ انجام دیاکہ مشرق میں توہم پرستی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ عقلیت پسندی مشرق کی توانا اورتابندہ روایت رہی ہے۔ شبلی نے الغزالی میں امام صاحب کی تصنیفات اور یورپ کا ایک عنوان قائم کیاہے جس کے تحت تصنیفات غزالی کے ساتھ علماے یورپ کے اعتنا اور ان سے استفادہ کا ذکر ہے ان میں امام صاحب کی کتاب منخول، مقاصد الفلاسفۃ، المنقذ، تہافۃ الفلاسفۃ اور میزان العلم کاتذکرہ ہے۔ ان علماے یورپ کا ذکر ہے جنھوں نے ان کتابوں کا انگریزی ترجمہ کیاان کی شرح لکھی۔شبلی لکھتے ہیں:
”یہ عجیب بات ہے کہ امام صاحب کی تصنیفات کے ساتھ جواعتنا یورپ نے کیاخودمسلمانوں نے نہیں کیا“
آگے چل کرلکھتے ہیں:
”یورپ نے انہی کتابوں کو بڑے اہتمام سے محفوظ رکھاجن میں امام صاحب نے فلسفہ اورشریعت کے اصول میں باہم تطبیق دی تھی یاجن میں عقلیات کے مسائل کو اپنے خاص پیرایہ میں اداکیا تھا۔“ (الغزالی، ص 58)
مذکورہ بالا جملوں کے بین السطورسے شبلی کایہ موقف مترشح ہوتاہے کہ مغرب میں عقلیت پسندی مشرقی علما سے کسبِ فیض کا نتیجہ ہے۔
احیاء العلوم سے مغربی علماکی والہانہ شیفتگی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ شبلی نے تاریخ فلسفہ کے حوالے سے ہنری لوئیس کاقول نقل کیاہے وہ لکھتے ہیں:
”اگرڈی کارٹ (یورپ میں اخلاق کے فلسفہ جدیدکابانی خیال کیاجاتاہے) کے زمانے میں احیاء العلوم کا ترجمہ فرنچ زبان میں ہوچکاہوتاتوہرشخص یہی کہتاہے کہ ڈی کارٹ نے احیاء العلوم کو چرالیا۔“(الغزالی،ص۵۶)
یہ بات محتاج دلیل نہیں کہ استعماری طاقتوں نے سب سے زیادہ اپناہدف مشرق کے ہیرومحمدﷺ کی ذات کو بنایا اور ان کی زندگی کے متعلق ایسے لٹریچر کا انبار لگادیاجوان کی کردارکشی اوران سے متنفر کرنے کے لیے وقف ہو۔شبلی سیرت النبی قلمبند کرنے کے وجوہات بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
”یورپ کے مورخین آنحضرت ﷺ کی جو اخلاقی تصویر کھینچتے ہیں وہ نعوذباللہ ہرقسم کے معائب کا مرقع ہوتی ہے آج کل مسلمانوں کوجدید ضرورتوں نے عربی علوم سے بالکل محروم کردیاہے۔ اس لیے اس گروہ کو اگرکبھی پیغمبر اسلام کے حالات اورسوانح کے دریافت کرنے کا شوق ہوتا ہے تو انھیں یورپ کی تصنیفات کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے اس طرح یہ زہر آلود معلومات آہستہ آہستہ اثر کرجاتی ہیں۔“(مقدم سیرت النبی، حصہ اول،ص5)
شبلی نے سیرت پر مغربی مصنفین کی تحریروں کاتنقیدی تجزیہ کیاہے اور سیرت کے موضوع پر سترہویں اور اٹھارہویں صدی کی دستیاب تصنیفات کابالاستیعاب مطالعہ کیاہے۔ اس ضمن میں انھوں نے 37 مستشرقین کی کتابوں کاذکر کیاہے جن میں جرمنی کے جے۔اے۔مولر، فرانس کے گارساں دی تاسی،انگلستان کے کارلائل، جرمنی کے وان کریمر، انگلستان کے میور، فرانس کے ہنری دی کاستری اور انگلینڈ کے مارگولیتھ نمایاں نام ہیں۔
شبلی نے سیرت پرمستشرقین کے مشترک نکات کاجس طرح احاطہ کیاہے وہ حسب ذیل ہیں:
”1۔آنحضرتﷺ کی زندگی،مکہ معظمہ تک پیغمبرانہ زندگی ہے لیکن مدینہ میں جاکر جب زورو قوت حاصل ہوتی تو دفعتاً پیغمبری بادشاہی سے بدل جاتی ہے اوراس کے جولوازم یعنی لشکرکشی، قتل، انتقام، خوں ریزی خودبخود پیداہوجاتے ہیں۔
2۔کثرت ازدواج اورمیل الی النسا
3۔مذہب کی اشاعت جبر اور زور سے
4۔لونڈی اور غلام بنانے کی اجازت اوراس پرعمل
5۔دنیاداروں کی سی حکمت عملی اوربہانہ جوئی۔“(سیرت النبی حصہ اول،ص72)
شبلی نے 1892 میں روم ومصر وشام اورترکی کا سفرکیا۔ یہ سفرنامہ جن ممالک کومحیط ہے روم کے علاوہ وہ ممالک مشرق کے تہذیبی مراکز کی حیثیت سے معروف ہیں۔ مصر اور ترکی تہذیبی مراکز ہونے کے ماسوا سیاسی اعتبارسے بھی کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ شبلی کایہ سفرنامہ پس نوآبادیاتی زاویے سے دیکھے جانے کامتقاضی ہے۔ سفرنامہ نوآبادیاتی ایجنڈے کی توسیع اور تکمیل کااہم وسیلہ رہاہے۔ سفرنامہ کسی ملک کے بارے میں ایک ایسا تہذیبی، سماجی، سیاسی بیانیہ ہے جس سے سفرنامہ نگارکی راست گوئی کاتاثرسوفی صد قائم ہوتاہے۔ نوآبادکاروں کے ذریعے لکھاگیا سفرنامہ عام طورپر اس ملک کی سیاسی ابتری،معاشی زبوں حالی اورتہذیبی شکست وریخت کے بیان پر مشتمل ہوتاہے۔ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب Orientalism میں Douthy کے سفرنامہ Travels in Arabia Desertaاور Flaubertکے مصری سفرنامہ کا ذکر کیا ہے جو عربوں کی کسمپرسی اور تہذیبی بدحالی کے بیان سے پرہے اس کے علاوہ سعید نے لارینس، بیل، ہوگارٹ، وغیرہ کے سفرناموں کاذکرکیاہے۔ (یہ بھی پڑھیں تہذیبی زوال کا بیانیہ:آخری سواریاں-ڈاکٹرمعیدالرحمن)
شبلی کاسفرنامہ مصر،شام اور ترکی کے بارے میں مغربی مزعومات کی تردید کا اظہار ہے۔ شبلی سفرنامہ کی اس جہت سے واقف تھے جسے استعماری طاقتوں نے اپنے ہدف کی تکمیل کے لیے بروے کار لائیں۔ شبلی کاایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
”غلطی کاایک بڑاسبب یہ ہے کہ جو شخص کسی ملک کا سفر کرتا ہے اس کی نسبت پہلے سے اس کے خیالات دوستانہ یا مخالفانہ ہوتے ہیں، وہاں پہنچ کر اول اول جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے وہ محض سرسری ہوتاہے اور چوں کہ ایسی اجمالی واقفیت،استنباط نتائج کے لیے کافی نہیں ہوتی اور وہ نتیجہ قائم کرنے میں دیرتک انتظارنہیں کرسکتا اس لیے وہ ہرواقعہ کے ساتھ قیاسات کودخل دیتاجاتا ہے….اس قسم کی غلطی کا احتمال اگرچہ دنیاکی تمام قوموں سے متعلق ہے لیکن یورپ والوں کو اس میں ایک خاص ترجیح حاصل ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ استنباط نتائج میں یورپ والوں کوجو بے صبری ہے اورکسی قوم کو نہیں ہے، اسی کا اثر یہ ہے کہ یورپ کاایک عام سیاح یاپالیٹیشین اتفاق سے ہندوستان آنکلتاہے توصرف ہفتہ دوہفتہ کے تجربہ کی بناپر یورپ کے اخباروں اور میگزینوں میں اس دعویٰ کے ساتھ بڑے بڑے آرٹکل شائع کرتاہے کہ گویا ہندوستان کی معاشرت وتمدن کے تمام راز اس پر کھل گئے ہیں۔“(سفرنامہ روم ومصروشام۔ص17)
مغربی مورخین یاسفرنامہ نگاروں نے ترکی کی جس طرح تصویرکشی کی ہے،شبلی ترکی کواس سے مختلف پاتے ہیں اورترکی کے بارے میں مغربی مصنفین کی تحریروں پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”یورپ میں مصنفین کا دائرہ بہت وسیع ہے اوراس وجہ سے ان میں بعض، نیک دل ظاہربیں، دقیق النظر، ہردرجہ اور ہرطبقے کے لوگ ہیں لیکن ترکوں کے ذکرمیں وہ اختلاف مدارج بالکل زائل ہوجاتاہے اور ہر ساز سے وہی ایک صدا نکلتی ہے، مثلاً آج کل سچے سے سچے یورپین مصنف کی راست بیانی یہ ہے کہ وہ ترکی حکومت کے ذکرمیں قرضہ کی گراں باری، صنائع و فنون کا بقدرکافی موجودنہ ہونا، اضلاع میں تعلیم کی عدم وسعت، آلات واسلحہ میں یورپ کی احتیاج،ان تمام امور کو بالکل راست لکھتاہے لیکن جواصلاحیں حال میں ہوئیں ان کے ذکرسے اس طرح دامن بچاتاہے کہ گویااصلاح کاسرے سے وجودہی نہیں، خزانہ کاانتظام،تمام اضلاع میں زراعتی بنکوں کاقائم ہونا وغیرہ…ان واقعات کوبھول کر نہیں کہتا۔“(سفرنامہ روم ومصر وشام، ص15)
شبلی کایہ سفراگرچہ ہیروزآف اسلام کے لیے مواداکٹھاکرنے کے لیے تھالیکن انھوں نے ان علمی، تہذیبی اورسیاسی مراکز کا جس نقطہ نظرسے مشاہدہ کیاوہ نوآبادیاتی ایجنڈوں کوطشت ازبام کرتاہے۔ شبلی کاایک اقتباس ملاحظہ کیجیے۔وہ لکھتے ہیں:
”میں نے اگرچہ اس کتاب میں ترکوں کی تمدنی یاملکی حالت سے کچھ بحث نہیں کی ہے اورنہ اس قسم کی بحث میرے منصب وحالت کے لحاظ سے مناسب تھی تاہم اس کتاب کوپڑھ کر ناظرین کے دل میں ترکوں کی تہذیب وشائستگی کا جو درجہ قائم ہوگا وہ اس سے مختلف ہوگاجویورپ کے عام لٹریچر سے ظاہرہوتاہے۔“(ایضاً،ص14)
استعماری طاقتوں نے اپنے عزائم کوروبہ عمل لانے کے لیے نصاب تعلیم کوایک وسیلہ کے طورپر استعمال کیا۔لارڈ میکالے نے ایک ایسانصاب تعلیم وضع کیا جو ہندوستانیوں کو فکری اعتبارسے استعماری طاقتوں کا آلہ کار بناسکے۔ شبلی نصاب تعلیم کی اہمیت سے واقف تھے۔ نوآبادکاروں کے اس حربے سے بھی آگاہ تھے کہ نوآبادیاتی ممالک کے افرادجب نوآباد کار کے علمیاتی فریب سے آشنا ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے تاریخی ورثے اوراپنی شناخت کے تحفظ کے لیے ماضی میں پناہ گزیں ہوتے ہیں اور ماضی پرستی کایہ رویہ استعماری طاقتوں کواپنے ایجنڈے کی توسیع کے لیے مزید آسانیاں فراہم کرتاہے۔ شبلی استعماری طاقتوں کے سدباب کے لیے محض ماضی کے علمی کارناموں کے احیاکو ثمر آور نہیں گردانا بلکہ نوآبادکار کی حیلہ سازیوں سے واقفیت بہم پہنچانے اور اس سے دوبہ دو مقابلے کے لیے مغربی علوم سے استفادہ کو لازمی قرار دیا۔ نصاب تعلیم کے سلسلے میں شبلی کا موقف امتزاجی ہے۔ وہ قدیم صالح اور جدیدنافع میں اعتدال اورتوازن پیداکرنے کے داعی تھے۔ شبلی کہتے ہیں:
”میں اگرچہ نئی تعلیم کو پسندکرتاہوں اوردل سے پسندکرتاہوں تاہم پرانی تعلیم کاسخت حامی ہوں اور میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کی قومیت قائم رہنے کے لیے پرانی تعلیم ضروری اور سخت ضروری ہے۔“(مقالات شبلی،ج7،ص14)
شبلی کو استعماری تصور تعلیم کے مضمرات کاگہرا ادراک تھا۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ مغربی نصاب تعلیم کا مقصد صرف آفس کاکلرک پیداکرناہے وہ لکھتے ہیں:
”حقیقت یہ ہے کہ جوگروہ علم کوصرف نوکری کی غرض سے پڑھتاہے جس نے معاش کے سیکڑوں اسباب(تجارت، حرفت، صنعت) میں سے صرف نوکری پر قناعت کرلی ہے جویورپین علوم وفنون میں سے بجز چندسطحی باتوں کے کچھ نہیں جانتا جس کوذوق علمی سے کچھ مس نہیں جس نے اعلیٰ تعلیم کے لفظ کو بالکل بیجااستعمال کیا۔، اس کواس بحث میں پڑنے سے کیافائدہ کہ عربی زبان میں علوم وفنون ہیں یانہیں۔“(مقالات شبلی،ج 3،ص175)
مقالات شبلی کے معروضات کو مجموعی طورپر دوحصوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ ایک حصہ وہ ہے جس میں مشرق کے قدیم علمی سرمایوں اورعلمی کارناموں کاذکرہے۔ یہ مستشرقین کے ان الزامات کے ردعمل کااظہار ہے جس میں یہ باور کرانے کی سعی کی گئی ہے کہ مشرق کاعلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لارڈمیکالے کا وہ مقولہ بہت مشہور ہے کہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتاکہ ہندوستان اورعرب کاپوراادب یورپ کی کسی لائبریری کی ایک الماری میں رکھا جاسکتاہے۔
شبلی نے اپنے مقالات کی دوسری جلد میں مشرقی ادبیات کااحاطہ کیاہے اس میں عربی، فارسی،ہندی اورسنسکرت زبانوں کی خصوصیات، ان کے صنائع وبدائع اوران کی شاعری کاذکرہے۔ تیسری جلدمیں مسلمانوں کی گذشتہ طرزتعلیم اور نصاب تعلیم کاذکرہے، درس نظامیہ اور اس کے بانی ملانظام الدین کے مختصر احوال وکوائف کوشامل کیاگیاہے۔ اسی طرح جلد ششم میں عربوں کے یونانی علوم وفلسفہ کے ترجمہ کرنے اوریونانی علوم سے استفادے کابیان ہے،علم ہیئت، جبر، موسیقی، طب وغیرہ علوم میں مسلمانوں نے جوکارنامے انجام دیے ان سب کااجمالی بیان ہے۔
مقالات کے موضوعات کادوسرا حصہ مستشرقین کے ذریعہ عائدکردہ الزامات کو تاریخی حوالوں اورمغربی مورخین کے اقوال سے Deconstructکرنے پرمشتمل ہے۔ ان میں ذمیوں کے حقوق،جزیہ وغیرہ کے مسائل کا ذکر نمایاں ہے۔
استعماری طاقتوں نے مشرقی عورت کی جوتصویر کشی کی ہے وہ حددرجہ مغربی تنگ نظری کی زائیدہ محسوس ہوتی ہے۔ شبلی نے سیرت النبی میں صحابیات کی دلیری، دانشمندی، علم دوستی اور فعالیت کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ اسی طرح جلدپنجم میں حضرت اسماکے حوالے سے عورتوں کی دلیری اورآزادی اظہار کو بیان کیاہے۔ مغل شہزادی اورنگ زیب کی بیٹی زیب النساء کی علمیت اور ادب دوستی کوبھی قدرے تفصیل سے بیان کیاگیاہے۔ہمارے عہدکے معتبر اور مستند پس نوآبادیاتی نقاد ناصرعباس نیر نوآبادیاتی عہدکے دانشوروں پرتبصرہ کرتے ہوئے رقم طرازہیں:
”حقیقت یہ ہے کہ ہرنوآبادیاتی ملک میں کچھ افرادیاگروہ آزاد ذہنی فعالیت کامظاہرہ کرتے ہیں وہ نوآباد کارکی ثقافت کابراہ راست علم حاصل کرتے ہیں، مگراپنی ثقافت سے بیگانگی کی قیمت پر نہیں، دونوں ثقافتوں سے راست اورگہراضبط رکھنے کی وجہ سے وہ حقیقی آفاقی نقطہ نظراختیارکرنے کی اہلیت حاصل کرلیتے ہیں۔ وہ نہ اپنی ثقافت کے سلسلے میں ماضی پرستی اور تعصب کاشکار ہو جاتے ہیں نہ نوآبادکارکی ثقافت سے مرعوب ہوتے ہیں۔ان کاذہنی رشتہ ثقافتوں کے فکری وعملی تخلیقی حاصلات سے قائم ہوجاتاہے۔ چنانچہ وہ دونوں کی خوبیوں کے مداح اوردونوں کی کمزوریوں کے نکتہ چیں ہوتے ہیں اور خوبیوں اور کمزوریوں کاتصوروہ کسی ایک ثقافت سے نہیں مجموعی انسانی ثقافت سے اخذکرتے ہیں یہ نوآبادیاتی صورت حال سے فرار اور ذہنی خانقاہوں میں پناہ گزیں ہونے کاعمل نہیں ہے بلکہ نوآبادیاتی آئیڈیالوجی کاتابع مہمل بننے سے انکاراورحقیقی انسانی علم کی روایت سے وابستہ ہونے کاآزادانہ ذہنی عمل ہے۔“
شبلی کی غیرتنقیدی تحریروں کامطالعہ اگرمذکورہ اقتباس کے تناظر میں کیاجائے تو انیسویں صدی میں موجودتمام دانشوروں میں شبلی ہی کی وہ منفردشخصیت ہے جونوآبادیاتی آئیڈیالوجی کے تابع مہمل بننے سے انکاری محسوس ہوتی ہے۔ اسے حیرت انگیز اتفاق یاشبلی کی انفرادیت سے تعبیرکیاجاسکتاہے شبلی نے جن نامور مغربی مصنفین کے عربی ترجمے کے مطالعے کے توسط سے انیسویں صدی کے ربع آخرمیں نوآبادیاتی مضمرات ومسائل کا شعور حاصل کرلیاتھا، پس نوآبادیاتی تنقید کے باقاعدہ بنیادگزار ایڈورڈ سعید نے اپنی رجحان ساز کتاب Orientalismمطبوعہ 1978میں انہی مغربی مصنفین کے افکارو تصورات پراپنی فکر کی اساس قائم کی ہے۔اخیرمیں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ شبلی کی غیرتنقیدی تحریریں پس نوآبادیاتی طرزفکرکے پیش منظر کے طور پر پڑھی جاسکتی ہیں۔
٭٭٭
اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اردو، اے۔ایم۔یو،علی گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
Achcha mazmoon